• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عورت سے راستہ میں ملنا

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
السلام علیکم

آج ایک کتاب ہندی میں ڈاونلوڈ کیا اور پڑھ رہا تھا تبھی صحیح مسلم کی یہ حدیث نظروں سے گزری جو اس طرح ہے

"انس بن مالک رضی الله عنه کہتے ہے : مدینہ کی ایک عورت جس کی عقل برابر نہیں تھی، اس نے کہا : اے الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم ! آپ سے میری ضرورت ہے، آپ نے کہا: "اے فلاں کی ماں! تو جس گلی میں چاہے میں چل کر تیری ضرورت پوری کرنے کے لیا تیار ہوں" چنانچہ آپ اسکے ساتھ کسی گلی (راستے) میں اکیلے میں ملے یہاں تک کہ وہ اپنی ضرورت سے فارغ ہو گئی۔ (صحیح مسلم)

مجھے اس حدیث کی مختصر یا پھر جامع تشریح بتا دیجئے کہ اس کا مطلب کیا ہے ،۔

شکریہ
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
5,006
ری ایکشن اسکور
9,809
پوائنٹ
773
امام مسلم رحمه الله (المتوفى261)نے کہا:
حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، عن حماد بن سلمة، عن ثابت، عن أنس، أن امرأة كان في عقلها شيء، فقالت: يا رسول الله إن لي إليك حاجة، فقال: «يا أم فلان انظري أي السكك شئت، حتى أقضي لك حاجتك» فخلا معها في بعض الطرق، حتى فرغت من حاجتها[صحيح مسلم 3/ 1812]


اس حدیث کا مفہوم یہی ہے کہ ایک عورت کو کوئی پرسنل سوال کرنا تھا اور وہ سب کے سامنے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال نہیں کرنا چاہتی تھی تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے کہا کہ وہ کسی راستہ پر کھڑی ہوجائے جہاں سے لوگ آتے جاتے ہیں تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس راہ سے گذرتے ہوئے اس کے سوال کا جوب دے دیں گے ۔
چنانچہ وہ عورت ایک راستہ میں کھڑی ہوگئی اوراللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پہنچ کراس کے سوال جواب دے دیا ۔

اس حدیث میں دوچیزیں اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے :
پہلی چیز یہ کہ : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے ایسی جگہ ملاقات نہیں کی تھی جہاں اس عورت اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی نہ تھا بلکہ آپ نے ایک عام راستہ پر اس عورت سے ایسی جگہ ملاقات کی جہاں لوگ دیکھ تو رہے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور اس عورت کی آواز نہیں سن سکتے تھے۔
چنانچہ مسلم ہی کی حدیث میں صراحت ہے کہ ” في بعض الطرق“ یعنی ایک راستے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے ملاقات کی تھی۔

دوسری چیز یہ کہ: جس ضرورت کے تحت وہ عورت آپ سے اس طرح ملنا چاہتی تھی وہ ضرورت کوئی پرسنل سوال پوچھنے کی تھی ۔چنانچہ بعض روایات میں صراحت بھی ہے کہ جب راستے میں یہ عورت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملی تو اس نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ پوچھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب دیا ۔
چنانچہ مسند أبي يعلى الموصلي (6/ 230) کی روایت میں ہے:”فَقَامَ مَعَهَا يُنَاجِيهَا حَتَّى قَضَتْ حَاجَتَهَا “یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس عو رت کے ساتھ کھڑے ہوکر بات کرتے رہے یہاں تک کہ اس عورت کی ضرورت پوری ہوئی ،یعنی اسے اپنے مسئلہ کا جواب مل گیا۔

امام نووي رحمه الله (المتوفى676) مسلم کی شرح میں اس حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں:
(خلا معها في بعض الطرق) أي وقف معها في طريق مسلوك ليقضي حاجتها ويفتيها في الخلوة ولم يكن ذلك من الخلوة بالأجنبية فإن هذا كان في ممر الناس ومشاهدتهم إياه وإياها لكن لا يسمعون كلامها لأن مسألتها مما لا يظهره
حدیث کے الفاظ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس عورت کے ساتھ ایک راستے میں تنہا ملے“اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک عام راستے جس سے لوگ آتے جاتے تھے وہاں پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم اس عورت کے ساتھ کھڑے ہوگئے تاکہ وہ اپنا مسئلہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تنہائی میں اسے فتوی دے دیں۔یہ اجنبی عورت کے ساتھ خلوت والی صورت نہیں تھی کیونکہ یہ ایسی جگہ کی بات ہے جہاں لوگ آجارہے تھے اورآپ کو اور اس عورت کو دیکھ رہے تھےلیکن اس عورت کی بات نہیں سن سکتے تھے۔کیونکہ اس کا مسئلہ ظاہر کرنے کے لائق نہیں تھا۔[شرح النووي على مسلم 15/ 83]
 
Last edited:
Top