عبدالرحیم رحمانی
سینئر رکن
- شمولیت
- جنوری 22، 2012
- پیغامات
- 1,129
- ری ایکشن اسکور
- 1,055
- پوائنٹ
- 234
اللہ کے پاس آپ کے لیے کیا ہے ؟
عادل سہیل
بِسّمِ اللہ الرّ حمٰنِ الرَّحیم
اِن اَلحَمدَ لِلِّہِ نَحمَدہ، وَ نَستَعِینہ، وَ نَستَغفِرہ، وَ نَعَوذ بَاللَّہِ مِن شرورِ أنفسِنَا وَ مِن سِیَّأاتِ أعمَالِنَا ، مَن یَھدِ ہ اللَّہُ فَلا مُضِلَّ لَہ ُ وَ مَن یُضلِل ؛ فَلا ھَاديَ لَہ ُ، وَ أشھَد أن لا إِلٰہَ إِلَّا اللَّہ وَحدَہ لا شَرِیکَ لَہ ، وَ أشھَد أن مُحمَداً عَبدہ، وَ رَسو لہ،
بے شک خالص تعریف اللہ کے لیے ہے ، ہم اُس کی ہی تعریف کرتے ہیں اور اُس سے ہی مدد طلب کرتے ہیں اور اُس سے ہی مغفرت طلب کرتے ہیں اور اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں اپنی جانوں کی بُرائی سے اور اپنے گندے کاموں سے ، جِسے اللہ ہدایت دیتا ہے اُسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا ، اور جِسے اللہ گُمراہ کرتا ہے اُسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اللہ کے عِلاوہ کوئی سچا اور حقیقی معبود نہیں اور وہ اکیلا ہے اُس کا کوئی شریک نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمد اللہ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں :
میرے ایک مضمون میںسے ایک اقتباس پیش خدمت ہے :::
ہر وہ مسلمان جو اللہ کے حق کے مطابق اس کی قدر کرتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اپنی سوچ و فِکر کو یکجااور یک جہت رکھے ، اپنے آخری راستے کی طرف اور وہ راستہ جس دائمی ٹھکانے کی طرف جاتا ہے اُس ٹھکانے کی طرف ، اور ایسے کاموں کی طرف اتنی توجہ نہ دے جو اُس ٹھکانے کی کیفیات کو خوفناکی اور اذیت میں بدلنے کے اسباب ہیں ، اللہ کی قدر کرنے کے مطابق ہی اُس بندے کو اللہ تعالیٰ آخرت میں عطا کرے گا ، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اِس فرمان مبارک میں بتایا گیا کہ ((((( مَن أراد أن يَعلمَ مَالَه ُعِندَ اللهِ فَليَنظُرُ مَا لِلَّهِ عِندَہُ ::: جو یہ چاہے کہ یہ جان سکے کہ اُس کے لیے اللہ کے پاس کیا ہے تو وہ یہ دیکھے کہ اُس کے پاس اللہ کے لیے کیا ہے )صحیح الجامع الصغیر و زیادتہُ /حدیث 6006)
جِس کے پاس اللہ کے لیے سب سے بلند رتبہ ہو گا اُسے توہمیشہ اور ہر کام میں اللہ کی رضا حاصل کر سکنے کی فِکر ہو گی ، پس اُسے کسی کو ملنے والی اور خود کو نہ ملنے والی نعمتوں کی پرواہ نہ ہوگی ،اُس خود پر پڑنے والی مصیبتوں کا بھی غم نہ ہوگا ، اسے یہ یاد رہے گا کہ اگر اُس نے اپنے رب اللہ تعالیٰ کوخوشی اور آسانی والے حالات میں یاد رکھاتو اُس کا رب اُسےاُس کی پریشانی اور سختی والے حالات میں یاد رکھے گا ( تَعَرَّف إليه في الرَّخَاءِ يَعرِفكَ في الشِّدَّةِ :::اللہ کو(تُمہاری)آسانی(والی حالت)میں یاد رکھو وہ تُمہیں (تُمہاری)سختی کی حالت میں یاد رکھے گا )المُستدرک الحاکم /حدیث 6303/کتاب معرفۃ الصحابہ ، معجم الکبیر/حدیث 11243،مُسنداحمد /حدیث 2804،صحیح الجامع الصغیر و زیادتہُ /حدیث2961 )