• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اللہ کے گھر میں امام مسجد کی سات بچوں کے ساتھ بدفعلی !!!

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,430
پوائنٹ
964
غلط کام تو غلط ہی ہوتا ہے ۔ لیکن ایسا کام جب کسی مولوی کی طرف سے منظر عام پر آتا ہے توسر شرم سے جھک جاتا ہے ۔
ایسے لوگوں کو سخت سے سخت سزا ہونی چاہیے ، اور پولیس وغیرہ اور میڈیا کے ہاتھ لگنے سے پہلے ان کی ٹھیک ٹھاک طبیعت صاف ہونی چاہیے ۔
ایسےمجرموں کو کڑی سزا دیکر نشانہ عبرت بنادیا جائے تاکہ آئندہ لوگ ایسی غلیظ حرکات کرتے وقت اللہ تعالی سے نہ سہی اپنے دنیاوی انجام سے ہی خوف زدہ ہو جائیں ۔
مشہور مثال ہے کہ مولوی ایک صاف ورق کی طرح ہوتا ہے ۔ اس پر جب داغ لگتا ہے تو دور سے نظر آتا ہے ۔ جب کہ کچھ لوگوں کی مثال سیاہ ورق کی سی ہے ، ان کی گندی حرکات کے دھبے ان کی شہرت یا عرف کی سیاہی میں کسی کو نظر نہیں آتے ۔
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
انتظامیہ سے درخواست ہے کہ یہ ویڈیو اور دھاگہ ختم کر دیا جائے
رہنے دیجیے۔ جو ہے اور جیسے ہے، ہے تو حقیقت ہی۔ کیا حرج ہے اگر یہ یہاں موجود رہے۔
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,401
پوائنٹ
562
آپ کے پاس اس کا کوئی ثبوت ہے یا یونہی بہتان لگارہے ہیں۔ اس قسم کے جرائم دنیا بھر میں ہوتے ہیں۔ ان کے مصدقہ اعداد و شمار کا انڈیکس حاصل کیجئے اور پھر تجزیہ کیجئے کہ کتنے فیصد مسلمان یا عالم ہیں اور کتنے فیصد دیگر لوگ۔
اللہ ہمیں اس قسم کے دھاگوں اور ایسے بہتان والے تبصروں سے محفوظ رکھے آمین

law.jpg
 

ابو عبدالله

مشہور رکن
شمولیت
نومبر 28، 2011
پیغامات
722
ری ایکشن اسکور
448
پوائنٹ
135
انا للہ وانا الیہ راجعون۔

غلط کام تو غلط ہی ہوتا ہے ۔ لیکن ایسا کام جب کسی مولوی کی طرف سے منظر عام پر آتا ہے توسر شرم سے جھک جاتا ہے ۔
ایسے لوگوں کو سخت سے سخت سزا ہونی چاہیے ، اور پولیس وغیرہ اور میڈیا کے ہاتھ لگنے سے پہلے ان کی ٹھیک ٹھاک طبیعت صاف ہونی چاہیے ۔
ایسےمجرموں کو کڑی سزا دیکر نشانہ عبرت بنادیا جائے تاکہ آئندہ لوگ ایسی غلیظ حرکات کرتے وقت اللہ تعالی سے نہ سہی اپنے دنیاوی انجام سے ہی خوف زدہ ہو جائیں ۔
مشہور مثال ہے کہ مولوی ایک صاف ورق کی طرح ہوتا ہے ۔ اس پر جب داغ لگتا ہے تو دور سے نظر آتا ہے ۔ جب کہ کچھ لوگوں کی مثال سیاہ ورق کی سی ہے ، ان کی گندی حرکات کے دھبے ان کی شہرت یا عرف کی سیاہی میں کسی کو نظر نہیں آتے ۔
متفق۔
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,401
پوائنٹ
562
یہ تو بہت زیادہ بلکہ زمین و آسمان کا فرق ہے ۔
یوسف ثانی صاحب ان معلومات کا مصدر کیا ہے ؟
میرے پاس اس وقت تو اس جدول کا حوالہ موجود نہیں ہے۔ لیکن ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اپنے متعدد لکچرز میں اسی سے ملتے جلتے اعداد و شمار امریکہ کی سرکاری اور شائع شدہ دستاویزات کے حوالہ سے پیش کرچکے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ مغربی میڈیا (اور پاکستان کا مغرب پرست میڈیا) ان اعدادو شمار کی تو پردہ پوشی کرتا ہے۔لیکن پاکستان یا اسلامی ممالک میں ایسے اکا دکا جرائم کی خوب خوب تشہیر کرتا ہے۔ اسلامی ممالک کے میڈیا ہاؤسز اور صحافیوں کو ایسی خبروں کی ”ٹیکنیکل تشہیر“ کے لئے مختلف پروجیکٹس کے تحت ریگولر ”فنڈز“ بھی فراہم کئے جاتے ہیں جو اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔
 

ماریہ انعام

مشہور رکن
شمولیت
نومبر 12، 2013
پیغامات
498
ری ایکشن اسکور
372
پوائنٹ
164
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اسلام کے نظامِ جرم وسزا کا اگر ہم مطالعہ کریں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اسلام کا مقصود جرم نہیں بلکہ سزا کی تشہیر ہے۔۔۔۔یعنی اگر کسی جگہ کوئی ایسا واقعہ پیش آئے تو معاشرے میں اس کو مشہور کرنے کی بجائے اس کی سزا پر فوری عمل درآمد ہو اور اس وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے اور ان کی موجودگی میں مجرم کو سزا دی جائے۔۔۔۔حدود کے نفاذ کے لیے ایک شرط یہ بھی ہے کہ اس موقع پر مسلمانوں کا ایک گروہ حاضر ہو

الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ ۖ وَلَا تَأْخُذْكُم بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ ﴿٢

زناکار عورت و مرد میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ۔ ان پر اللہ کی شریعت کی حد جاری کرتے ہوئے تمہیں ہرگز ترس نہ کھانا چاہیئے، اگر تمہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہو۔ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت موجود ہونی چاہیئے (2)

اگر ہم احادیث کا مطالعہ کریں تو ہمیں کوئی ایسا واقعہ نہیں ملتا جس میں جرم تو لوگوں کو معلوم ہو اور اس کی سزا کا ذکر نہ ہو
اوراس سارے اہتمام کا مقصد یہ ہے کہ جب لوگ ایک جرم پر مطلع ہوں تو ساتھ ہی اس کی سزا کا عینی مشاہدہ کرلیں تاکہ ان کے دل میں اس کی ہیبت طاری ہو اور آئندہ کسی کے دل میں اس کا کوئی خیال ہی پیدا نہ ہو۔۔۔۔

پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں سزاؤں کی نہیں بلکہ جرائم کی خوب خوب تشہیر کی جاتی ہے ۔۔۔سزا اوّل تو کسی کو ملتی ہی نہیں اور اگر خوش قسمتی سے کسی کو دی بھی جائے تو اخبارمیں اس کی ایک یا دو کالمی سرخی لگا دی جاتی ہے اوروہ بھی کئی سالوں بعد ۔۔۔جرم کی خبر اگر ایک نسل پڑھتی ہے تو اس کی سزا کی خبراگلی نسل۔۔۔اور جرم کے لیے تو چار یا پانچ کالمی خبر اور بعض اخبارات میں ہیڈ لائن جبکہ سزا کی ایک یا دو کالمی خبر۔۔۔الیکٹرانک میڈیا کا اگر جائزہ لیں تو صورتحال اس سے کہیں خراب ہے ۔۔۔جرم و سزا پر مشتمل پروگرام ایسے پیش کئے جاتے ہیں گویا یہ کوئی مزیدار کہانی ہو۔۔۔ میوزک ساؤنڈ ایفکٹ کے ساتھ متاثرہ لڑکی اور اس کے اہلِ خانہ کی تصاویر اور ان کے بیانات۔۔۔وہ کمرہ جہاں جرم کیا گیا ہو ۔۔۔اور اگر جرم کی کوئی ویڈیو کلپ مل جائے تو سونے پر سہاگہ ۔۔۔مجرم کی پلاننگ اور تو اور اس کو پکڑنے کے طریقے ۔۔۔۔سب کچھ ہی ان میں شامل ہوتا ہے سوائے اس کی سزا کے۔۔۔ایک ڈیڑھ گھنٹے کا یہ پروگرام دیکھ کر اٹھنے والا کوئی بھی شخص اس سے کیا تاثر لیتا ہے۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟ یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے
 
شمولیت
جولائی 01، 2017
پیغامات
401
ری ایکشن اسکور
155
پوائنٹ
47
عبدالقيوم صاحب کی بات سے اتفاق!

ماضي قریب ٢٠١٢ میں
《the Guardians newspaper》

کے سابقہ جرمن صحافی
(Eric Addams investigative journalist)

کی مرتب کردا رپورٹ جو کے یورپ سمیت کئی عرب ممالک کے اخبارات اور electronic media
نے بهرپور coverage دی.
جیسے ک

(The Guardians)

(LA Times)

(USA today)

(The Washington Post)

(Eram news)

(Non stop news paper)

(Khaleej Times)

(The Indian Express)

(The Indiana times (USA)

(Sunday News UK)
کو انگلستان کی حکومت نے
پابندی لگا دی تھی.

نے رپورٹ میں جو انکشافات سامنے آئے ہیں وہ نہایت خوفناک ہیں اور دل دہلا دینے والے ہیں
رپورٹ کے ابتدائی صفحات پر ان
(نوعمر teenager's) کا ذکر ہے

جو (ذہنی یا جسمانی) طور پر معذور تهے کی تعداد 1967-تا-2000ء
تک بارہ ہزار سات سو اسی 12780
(معذور بچوں کی ہے جو Bishop archbishop fathers آرچ پیشپ پیشپ یا فادر کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے)

یہ تعداد تو صرف معذور بچوں کی ہے
"تحریر" محمد المالکی

جاری ہے
 
شمولیت
جولائی 01، 2017
پیغامات
401
ری ایکشن اسکور
155
پوائنٹ
47
"یہ لو ایک اور ڈرامائی موڑ"
انا لله و انا اليه راجعون!

یا الله ان معصوم بچوں کی حفاظت فرما لوطي قوم سے یہ خبیث لوگ کب تک ان نوجوان لڑکوں کا ریپ کرتے ریهنگے


A Vatican diplomat in Washington has been recalled to Rome after the US state department said the priest may have violated laws related to child sex abuse images.

The US state department notified the Holy See last month of a possible violation of laws. American prosecutors said they wanted the Vatican to voluntarily lift the official’s diplomatic immunity so that he could face charges, according to several reports, but the Vatican refused. The request was made on 21 August.

The Vatican said an investigation had been opened and the church was seeking “international collaboration to obtain elements relative to the case”, and it would be handled confidentially on a preliminary basis. It said the priest had already returned to Vatican City.


The Vatican said its decision to recall the priest was in line with normal diplomatic practices.

The information was transmitted by the state department to the Vatican’s secretariat of state, Pietro Parolin, the Vatican said, who in turn has turned the matter over to the Vatican’s top justice official.

The Associated Press, quoting an official familiar with the case, said the priest was a senior member of the Vatican embassy staff.

As a member of the Vatican’s diplomatic corps, the priest could not be prosecuted in the US, though he could have been expelled.

It is not the first time the Vatican has been forced to recall a diplomatic official. In 2013, it recalled the Vatican’s then ambassador to the Dominican Republic following allegations that he sexually abused minors. Józef Wesołowski was defrocked but died before a Vatican trial against him commenced. He never faced a court in the Dominican Republic.

Pope Francis has consistently said he has zero tolerance of child sexual abuse. But the Argentinian pope has also been criticised for not doing enough to pursue officials who commit such crimes.


The Vatican has announced other allegations involving child abuse images in the past, including two cases in 2014.

The possession of child abuse images is considered a “canonical crime” in the church, and in 2010 Pope Benedict XVI added it to the list of “most grave delicts”, according to the Catholic News Agency, a Catholic news outlet. That means it is a crime that can lead to a priest being dismissed.

جاری ہے
 
Top