• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام ابو حنیفہؒ

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,149
ری ایکشن اسکور
6,343
پوائنٹ
437
بشارتِ نبویﷺ

ایک حدیث میں نبیﷺ نے فرمایا: لوکان الا یمان عند الثریا لاتنالہ العرب لتناولہ رجل من ابناء فارس۔
اگر ایمان ثریا ستارہ کے پاس بھی ہو اور عرب ا س کو نہ پاسکتے ہوں تو بھی اس کو ایک فارسی آدمی پالے گا۔
جلیل القدر عالم و حافظ علامہ جلال الدین سیوطیؒ اس حدیث سے قطعی طور پر امام ابو حنیفہؒ کو مراد لیتے ہیں اس لئے کہ کوئی بھی فارس کا رہنے والا امام صاحبؒ کے برابر علم والا نہیں ہو سکا۔
کیا حافظ علامہ جلال الدین سیوطیؒ کی رائے درست ہے؟؟؟۔۔۔
 

Dua

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 30، 2013
پیغامات
2,579
ری ایکشن اسکور
4,430
پوائنٹ
463
اس کا کوئی حوالہ ملے گا؟
مفسر قرآن شیخ جلال الدین سیوطی شافعی مصری ٭849ھ۔911ھ٭ نے اپنی کتاب "تبییض الصحیفۃ فی مناقب الامام ابی حنیفۃ" میں کتب حدیث میں وارد نبی کریم ﷺ کے اقوال نوٹ کیئے ہیں۔"اگر ایمان ثریا ستارے کے قریب بھی ہو گا تو اہل فارس میں سے بعض لوگ اس کو حاصل کر لیں گے"۔٭صحیح بخاری،صحیح مسلم وطبرانی٭
یہ ذکر کرنے کے بعد جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے تحریر فرمایاہے کہ:"میں کہتا ہوں کہ حضور اکرم ﷺ نے امام ابو حنیفہ شیخ نعمان بن ثابت کے بارے میں ان احادیث میں بشارت دی ہے،اور یہ احادیث امام صاحب کی بشارت وفضیلت کے بارے میں ایسی صریح ہیں کہ ان پر مکمل اعتماد کیا جا سکتا ہے"۔
شیخ حجر الہیتمی المکی الشافعی رحمہ اللہ ٭909ھ۔173ھ٭ نے اپنی مشہور کتاب "الخیرات الحسان فی مناقب امام ابی حنیفۃ"میں تحریر کیا ہے کہ شیخ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کے بعض تلامذہ نے فرمایا اور جس پر مشائخ نے بھی اعتماد کیا ہے کہ ان احادیث کی مراد بلاشبہ امام ابو حنیفہ ہیں۔اس لیے کہ اہل فارس میں ان کے معاصرین میں سے کوئی بھی علم کے اس درجہ کو نہیں پہنچا،جس پر امام صاحب فائز تھے۔
واللہ اعلم
 

محمد وقاص گل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 23، 2013
پیغامات
1,033
ری ایکشن اسکور
1,707
پوائنٹ
310
یہ کوئی ختمی بات نہیں ہے کہ اس سے مراد فلاں شخص ہے ۔۔۔۔۔
کیونکہ اس کا مصداق قران و حدیث سے مضبوط تعلق والا ہی ہو سکتا ہے بعض علماء نے ابو حنیفہ رح کو بھی اسکا مصداق ٹھرایا ہے ۔۔۔۔۔
اور اکثر علماء نے امام بخاری رحمہ اللہ کو ہی اسکا صحیح مصداق ٹھہرایا ہے۔۔
اور اس سے یہ مراد بھی نہیں کہ اگر ایک شخص ہو گیا ایسا تو پھر کوئی نہیں آسکتا کیونکہ ایسا سمجھا جائے تو پھر تو جھگڑا ہی ختم ہو جاتا ہے کیونکہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ہی اسکے پہلے اور صحیح مصداق ہیں۔

کچھ معلومات کیلئے۔۔۔
http://ur.wikipedia.org/wiki/امام_بخاری
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
745
پوائنٹ
290
یہ کوئی ختمی بات نہیں ہے کہ اس سے مراد فلاں شخص ہے ۔۔۔۔۔
کیونکہ اس کا مصداق قران و حدیث سے مضبوط تعلق والا ہی ہو سکتا ہے بعض علماء نے ابو حنیفہ رح کو بھی اسکا مصداق ٹھرایا ہے ۔۔۔۔۔
اور اکثر علماء نے امام بخاری رحمہ اللہ کو ہی اسکا صحیح مصداق ٹھہرایا ہے۔۔
اور اس سے یہ مراد بھی نہیں کہ اگر ایک شخص ہو گیا ایسا تو پھر کوئی نہیں آسکتا کیونکہ ایسا سمجھا جائے تو پھر تو جھگڑا ہی ختم ہو جاتا ہے کیونکہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ہی اسکے پہلے اور صحیح مصداق ہیں۔

کچھ معلومات کیلئے۔۔۔
http://ur.wikipedia.org/wiki/امام_بخاری
جزاک اللہ خیرا۔
اکثر احادیث میں یہاں جمع "رجال" کا لفظ آیا ہے اور "قوم" کا بھی۔ اس سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ اہل فارس میں بشمول ابو حنیفہ رح کئی ایسے لوگ ہوں گے جو دین کی یہ خدمات کریں گے۔ صرف ابو حنیفہ رح کے ساتھ خاص نہیں ہونا چاہیے۔ علامہ انور شاہ کشمیری رح نے بھی تقریبا یہی بات مختصرا کہی ہے۔
البتہ ابن حجر شافعی رح کا یہ کہنا کہ کوئی ان کے درجہ کو نہیں پہنچا اور سیوطی شافعی رح کا ابو حنیفہ کو مراد لینا یہ بتاتا ہے کہ اس فہرست سے ابو حنیفہ رح کا استثناء نہیں کر سکتے۔
واللہ اعلم
 
Top