• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام ابو حنیفہؒ

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,523
پوائنٹ
304
كنا جُلوسًا عِندَ النبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم فأُنزِلَتْ عليه سورةُ الجمُعةِ : { وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ} . قال : قلتُ : مَن هم يا رسولَ اللهِ ؟ فلم يُراجِعْه حتى سأَل ثلاثًا، وفينا سَلمانُ الفارسِيُّ، وضَع رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم يدَه على سَلمانَ، ثم قال : ( لو كان الإيمانُ عِندَ الثُّرَيَّا، لنالَه رجالٌ، أو رجلٌ، من هؤلاءِ ) . حدَّثَنا عبدُ اللهِ بنُ عبدِ الوهَّابِ : حدَّثَنا عبدُ العزيزِ : أخبَرني ثَورٌ، عن أبي الغَيثِ، عن أبي هُريرةَ، عن النبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم : ( لنالَه رجالٌ من هؤلاءِ ) .
الراوي: أبو هريرة المحدث: البخاري - المصدر: صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 4897
خلاصة حكم المحدث: [صحيح]

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَهَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ.
ترجمہ شیخ الاسلام ڈاکٹرمحمد طاہر القادری

''حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پرسورہ جمعہ (کی یہ آیت) نازل ہوئی ''اور اِن میں سے دوسرے لوگوں میں بھی (اِس رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تزکیہ و تعلیم کے لئے بھیجا ہے) جو ابھی اِن لوگوں سے نہیں ملے۔ '' حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یارسول اﷲ! وہ کون حضرات ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب ارشاد نہ فرمایا تو میں نے تین مرتبہ دریافت کیا اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بھی ہمارے درمیان موجود تھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دستِ اقدس حضرت سلمان رضی اللہ عنہ (کے کندھوں) پر رکھ کر فرمایا : اگر ایمان ثریا (یعنی آسمان دنیا کے سب سے اونچے مقام) کے قریب بھی ہوا تو ان (فارسیوں) میں سے کچھ لوگ یا ایک آدمی (راوی کو شک ہے) اسے وہاں سے بھی حاصل کر لے گا۔ ''

لو كان الدينُ عند الثريا لذهب به رجلٌ من فارسٍ - أو قال - من أبناءِ فارسٍ . حتى يتناولَه
الراوي: أبو هريرة المحدث: مسلم - المصدر: صحيح مسلم - الصفحة أو الرقم: 2546
خلاصة حكم المحدث: صحيح

ترجمہ شیخ الاسلام ڈاکٹرمحمد طاہر القادری
''حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر دین ثریا پر بھی ہوتا تب بھی فارس کا ایک شخص اسے حاصل کرلیتا۔ یا فرمایا : فارس (والوں) کی اولاد میں سے ایک شخص اسے حاصل کرلیتا۔ ''



ان احادیث کے اصل مصداق اہل فارس ہیں
کیا ان احادیث کا یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ ایمان کو پانے کے لئے اہل فارس کی طرف رجوع کرنا چاہئے ؟؟؟؟
اس حدیث کے مطابق "اہل علم" اہل فارس میں سے ہو سکتے ہیں - جیسا کہ کہ روایت سے ثابت ہے - لیکن اس سے یہ کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ علم و ایمان کے حصول کے لئے اہل فارس سے ہی رجوع کیا جائے - اگر ایسا ہوتا تو خلفاء راشدین اپنے اپنے دور میں دینی و فقہی مسائل کے لئے اہل فارس سے ہی رجوع کرتے اور اپنے مشیر اہل فارس میں سے ہی رکھتے - لیکن ایسا تاریخی طور پر ثابت نہیں -حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ اور حضرت عمر رضی الله عنہ اپنے دور خلافت میں مسائل کے حل کے لیے حضرت علی رضی الله عنہ کی طرف رجوع کرتے - اور وہی ان کے مشیر خاص بھی تھے -

اس طرح نبی کریم نے حضرت عبدللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے متعلق فرمایا کہ :
وقال ‏"‏ استقرئوا القرآن من أربعة من عبد الله بن مسعود،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وسالم مولى أبي حذيفة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وأبى بن كعب،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ومعاذ بن جبل ‏"‏‏.
اور آپ نے فرمایا کہ قرآن مجید چار آدمیوں سے سیکھو، عبداللہ بن مسعود، ابوحذیفہ کے مولیٰ سالم، ابی بن کعب اور معاذ بن جبل (رضی اللہ عنہم) سے - حدیث نمبر: 3760

اس طرح حضرت ابو ھریرہ رضی الله عنہ کا فقیہہ ہونا ثابت ہے -
ام المومنین حضرت عائشہ رضی الله عنہ بھی اپنے دور کی مشہور فقیہہ تھیں - بڑے بڑے صحابہ کرام و اکابرین نے آپ سے علم قرآن و حدیث حاصل کیا -

والسلام-
 

علی بہرام

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 18، 2013
پیغامات
1,216
ری ایکشن اسکور
163
پوائنٹ
105
اس حدیث کے مطابق "اہل علم" اہل فارس میں سے ہو سکتے ہیں - جیسا کہ کہ روایت سے ثابت ہے - لیکن اس سے یہ کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ علم و ایمان کے حصول کے لئے اہل فارس سے ہی رجوع کیا جائے - اگر ایسا ہوتا تو خلفاء راشدین اپنے اپنے دور میں دینی و فقہی مسائل کے لئے اہل فارس سے ہی رجوع کرتے اور اپنے مشیر اہل فارس میں سے ہی رکھتے - لیکن ایسا تاریخی طور پر ثابت نہیں -حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ اور حضرت عمر رضی الله عنہ اپنے دور خلافت میں مسائل کے حل کے لیے حضرت علی رضی الله عنہ کی طرف رجوع کرتے - اور وہی ان کے مشیر خاص بھی تھے -
یعنی مطلب یہ کہ ایمان کو پانے کے لئے اہل فارس سے رجوع نہیں کیا جائے گا بلکہ اہل فارس کے امام حضرت علی کی طرف رجوع کیا جائے گا کیونکہ یہ حضرت ابوبکر و عمر کی سنت ہے اور ان کی سنت کو دانتوں سے پکڑے رکھنے کے عقیدے پر اہل سنت قائم ہیں
لیکن معاف کیجئے گا یہ بات تو مسلم ہے علم کے حصول کے لئے مدینۃ علم میں داخل ہونے کے لئے باب مدینۃ العلم پر حاضر ہونا ہی پڑتا ہے جیسا کہ بقول آپ کے حضرت ابوبکر و عمر اس باب پر حاضر ہوا کرتے تھے لیکن یہاں ہم بات کررہے ہیں ایمان کی نہ کہ علم کی
اس طرح نبی کریم نے حضرت عبدللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے متعلق فرمایا کہ :
وقال ‏"‏ استقرئوا القرآن من أربعة من عبد الله بن مسعود،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وسالم مولى أبي حذيفة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وأبى بن كعب،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ومعاذ بن جبل ‏"‏‏.
اور آپ نے فرمایا کہ قرآن مجید چار آدمیوں سے سیکھو، عبداللہ بن مسعود، ابوحذیفہ کے مولیٰ سالم، ابی بن کعب اور معاذ بن جبل (رضی اللہ عنہم) سے - حدیث نمبر: 3760

اس طرح حضرت ابو ھریرہ رضی الله عنہ کا فقیہہ ہونا ثابت ہے -
ام المومنین حضرت عائشہ رضی الله عنہ بھی اپنے دور کی مشہور فقیہہ تھیں - بڑے بڑے صحابہ کرام و اکابرین نے آپ سے علم قرآن و حدیث حاصل کیا -
والسلام-
یہ تمام دلیلیں بھی علم پر ہی ہیں نہ کہ ایمان پر
ایمان اور علم کے الگ ہونے کی دلیل یہ کہ امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری میں ایمان اور علم کو علیحدہ عنوان کے تحت بیان کیا ہے یعنی پہلے امام بخاری نے" كتاب الإيمان" کا عنوان قائم کیا اور اس کے بعد " كتاب العلم" کا
اور میں ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا یہ کہا جا سکتاہے کہ علم کے لئے بھی اہل فارس کے امام حضرت علی کی طرف رجوع کرنا پڑے گا جیسا کہ بقول آپ کے ابوبکر و عمر رجوع کیا کرتے تھے اور ایمان کے لئے بھی اہل فارس کے امام حضرت علی کی جانب رجوع کرنا پڑے گا ؟
والسلام
 

Dua

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 30، 2013
پیغامات
2,579
ری ایکشن اسکور
4,430
پوائنٹ
463
عبدالقیوم بھائی ، میں نے پچھلی پوسٹ میں خضر حیات بھائی کو اس موضوع پر ٹیگ کیا تھا۔تاکہ وہ راہنمائی کریں۔
مجھے سمجھ نہیں آئی کہ آپ نے غیر متفق کس وجہ سے کر دیا۔
محترم بھائی پلیز وضاحت کر دیں۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,329
پوائنٹ
800
اہل فارس کے امام سیدنا علی؟؟!!
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,523
پوائنٹ
304
یعنی مطلب یہ کہ ایمان کو پانے کے لئے اہل فارس سے رجوع نہیں کیا جائے گا بلکہ اہل فارس کے امام حضرت علی کی طرف رجوع کیا جائے گا کیونکہ یہ حضرت ابوبکر و عمر کی سنت ہے اور ان کی سنت کو دانتوں سے پکڑے رکھنے کے عقیدے پر اہل سنت قائم ہیں
لیکن معاف کیجئے گا یہ بات تو مسلم ہے علم کے حصول کے لئے مدینۃ علم میں داخل ہونے کے لئے باب مدینۃ العلم پر حاضر ہونا ہی پڑتا ہے جیسا کہ بقول آپ کے حضرت ابوبکر و عمر اس باب پر حاضر ہوا کرتے تھے لیکن یہاں ہم بات کررہے ہیں ایمان کی نہ کہ علم کی

یہ تمام دلیلیں بھی علم پر ہی ہیں نہ کہ ایمان پر
ایمان اور علم کے الگ ہونے کی دلیل یہ کہ امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری میں ایمان اور علم کو علیحدہ عنوان کے تحت بیان کیا ہے یعنی پہلے امام بخاری نے" كتاب الإيمان" کا عنوان قائم کیا اور اس کے بعد " كتاب العلم" کا
اور میں ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا یہ کہا جا سکتاہے کہ علم کے لئے بھی اہل فارس کے امام حضرت علی کی طرف رجوع کرنا پڑے گا جیسا کہ بقول آپ کے ابوبکر و عمر رجوع کیا کرتے تھے اور ایمان کے لئے بھی اہل فارس کے امام حضرت علی کی جانب رجوع کرنا پڑے گا ؟
والسلام
محترم -

یہ اصطلاح تو میں پہلی بار سن رہا ہوں . اہل فارس کے امام حضرت علی رضی الله عنہ ؟؟؟-مطلب یہ کہ اہل عرب جن کے درمیان حضرت علی رضی الله عنہ پلے بڑھے او جہاں آپ رضی الله عنہ نے نبی کریم کے زیر سایہ اپنے ایمان و علم کی تجدید کی- ان کو چھوڑ کر وہ اہل فارس کے امام بن گئے؟؟ - اور پھر اگر اہل فارس کے امام علی رضی الله عنہ ہیں تو حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ کی ان کے سامنے کیا حثیت ہے؟؟- جب کہ آپ خود یہ حدیث پیش کر چکے ہیں کہ :

وضَع رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم يدَه على سَلمانَ، ثم قال : ( لو كان الإيمانُ عِندَ الثُّرَيَّا، لنالَه رجالٌ، أو رجلٌ، من هؤلاءِ )
یعنی دونوں شخصیات میں پھر حصول ایمان کے لئے کون بہتر ہے ؟؟؟

جہاں تک علم کا معامله ہے تو بھی اگرچہ حضرت علی رضی الله عنہ کا علم و فہم کسی سے کم نہ تھا - لیکن مدینہ میں صرف وہ اکیلے ہی اس خاصیت کے حامل نہ تھے - بہت سے دوسرے صحابہ کرام رضوان الله اجمعین بھی علم و فضل میں اپنی شخصیت میں آپ ممتاز تھے- ورنہ اگر باب العلم والی روایت صحیح ہوتی تو ہر صحابی پر یہ واجب ہوتا کہ وہ دین کےعلم کے لئے حضرت علی رضی الله عنہ سے رابطہ کرے - ورنہ دوسری صورت میں وہ گناہ گار اور نبی کریم کا نا فرمان تصور کیا جائے گا - لیکن تاریخی اعتبار سے یہ کہیں ثابت نہیں کہ کسی نے علم و ایمان کے لئے ہر صورت میں حضرت علی رضی الله عنہ سے ہی رجوع کیا ہو -اور نا ہی حضرت علی رضی الله عنہ نے کسی سے یہ فرمایا کہ چوں کہ میں باب العلم ہوں تو ہر کوئی مجھ سے ہی علم و ایمان کی تجدید کرواے -

والسلام
 
شمولیت
مئی 05، 2014
پیغامات
196
ری ایکشن اسکور
40
پوائنٹ
81
بہرام صاحب : اپنی پیش کردہ احادیث کے ترجمہ کے ان الفاظ کو مد نظر رکھیں ،
  • اگر ایمان ثریا (یعنی آسمان دنیا کے سب سے اونچے مقام) کے قریب بھی ہوا تو ان (فارسیوں) میں سے کچھ لوگ یا ایک آدمی (راوی کو شک ہے) اسے وہاں سے بھی حاصل کر لے گا۔ ''

  • ''حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر دین ثریا پر بھی ہوتا تب بھی فارس کا ایک شخص اسے حاصل کرلیتا۔ یا فرمایا : فارس (والوں) کی اولاد میں سے ایک شخص اسے حاصل کرلیتا۔ ''
یہ احادیث تو صاف صاف واضع اعلان کر رہی ہیں کہ " اہل فارس " کا ایک شخص یا کئی افراد اس سے مراد ہیں " غیر فارسی "نہیں؟اور رسول اللہ ﷺ نے یہاں کسی شخص کو نام لیکر متعین بھی نہیں کیا؟
اور جناب نے خود بھی اِن احادیث کو نقل کرنے کے بعد لکھا تھا کہ "ان احادیث کے اصل مصداق اہل فارس ہیں "
تو اب جناب نے ان احادیث مبارکہ اور خود کے اقرار کے خلاف یہ کیسے لکھ دیا کہ (1)"یعنی مطلب یہ کہ ایمان کو پانے کے لئے اہل فارس سے رجوع نہیں کیا جائے گا بلکہ اہل فارس کے امام حضرت علی کی طرف رجوع کیا جائے گا "(2)"ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا یہ کہا جا سکتاہے کہ علم کے لئے بھی اہل فارس کے امام حضرت علی کی طرف رجوع کرنا پڑے گا"(3)"اور ایمان کے لئے بھی اہل فارس کے امام حضرت علی کی جانب رجوع کرنا پڑے گا ؟"
اگر جناب اس حدیث کا مصداق حضرت علی کو بنانا چاہتے ہیں تو اس کے لئے دلیل چاہئیے ،ہمت سے کام لیں اور کوئی واضع نص پیش کریں،ورنہ تو خود جناب تسلیم کر چکے ہیں کہ ان احادیث کے اصل مصداق تو اہل فارس ہیں؟
جناب نے دو مرتبہ اپنی تحریر میں حضرت علی کو "اہل فارس "کا امام لکھا ہے۔ صرف فارسیوں کا "امام" کہ کر جناب نے اپنے مذہب کی بنیاد (عقیدہ امامت )کو زمین بوس کر دیا ہے ۔ مباک ہو جناب کو یہ نیا عقیدہ ۔۔۔۔۔۔ہم اہل سنت حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلفاء ثلاثہ (امام ابوبکر صدیق ،امام عمر فاروق ، امام عثمان بن عفان )رضوان اللہ علیہم کے بعد باقی اُمت کا امام تسلیم کرتے ہیں لیکن جناب نے حضرت علی کو صرف فارسیوں کا امام بنا کر اُن کی توہین کی ہے اور اُن کے مقام و مرتبہ کو گرایا ہے ،یہ بھی جناب کو مبارک ہو
 

علی بہرام

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 18، 2013
پیغامات
1,216
ری ایکشن اسکور
163
پوائنٹ
105
بہرام صاحب : اپنی پیش کردہ احادیث کے ترجمہ کے ان الفاظ کو مد نظر رکھیں ،
  • اگر ایمان ثریا (یعنی آسمان دنیا کے سب سے اونچے مقام) کے قریب بھی ہوا تو ان (فارسیوں) میں سے کچھ لوگ یا ایک آدمی (راوی کو شک ہے) اسے وہاں سے بھی حاصل کر لے گا۔ ''

  • ''حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر دین ثریا پر بھی ہوتا تب بھی فارس کا ایک شخص اسے حاصل کرلیتا۔ یا فرمایا : فارس (والوں) کی اولاد میں سے ایک شخص اسے حاصل کرلیتا۔ ''
یہ احادیث تو صاف صاف واضع اعلان کر رہی ہیں کہ " اہل فارس " کا ایک شخص یا کئی افراد اس سے مراد ہیں " غیر فارسی "نہیں؟اور رسول اللہ ﷺ نے یہاں کسی شخص کو نام لیکر متعین بھی نہیں کیا؟

اور جناب نے خود بھی اِن احادیث کو نقل کرنے کے بعد لکھا تھا کہ "ان احادیث کے اصل مصداق اہل فارس ہیں "
تو اب جناب نے ان احادیث مبارکہ اور خود کے اقرار کے خلاف یہ کیسے لکھ دیا کہ (1)"یعنی مطلب یہ کہ ایمان کو پانے کے لئے اہل فارس سے رجوع نہیں کیا جائے گا بلکہ اہل فارس کے امام حضرت علی کی طرف رجوع کیا جائے گا "(2)"ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا یہ کہا جا سکتاہے کہ علم کے لئے بھی اہل فارس کے امام حضرت علی کی طرف رجوع کرنا پڑے گا"(3)"اور ایمان کے لئے بھی اہل فارس کے امام حضرت علی کی جانب رجوع کرنا پڑے گا ؟"
اگر جناب اس حدیث کا مصداق حضرت علی کو بنانا چاہتے ہیں تو اس کے لئے دلیل چاہئیے ،ہمت سے کام لیں اور کوئی واضع نص پیش کریں،ورنہ تو خود جناب تسلیم کر چکے ہیں کہ ان احادیث کے اصل مصداق تو اہل فارس ہیں؟
ایک تو آپ کی عادت ہے آپ دھاگے کو اچھی طر ح پڑھے بغیر ہی اپنا تبصرہ فرمانا شروع کردیتے ہیں
میں نے پہلے یہ عرض کی تھی کہ ان احادیث کا اصل مصداق اہل فارس ہیں جس کے جواب محمد علی صاحب نے ارشاد فرمایا کہ
اس حدیث کے مطابق "اہل علم" اہل فارس میں سے ہو سکتے ہیں - جیسا کہ کہ روایت سے ثابت ہے - لیکن اس سے یہ کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ علم و ایمان کے حصول کے لئے اہل فارس سے ہی رجوع کیا جائے - اگر ایسا ہوتا تو خلفاء راشدین اپنے اپنے دور میں دینی و فقہی مسائل کے لئے اہل فارس سے ہی رجوع کرتے اور اپنے مشیر اہل فارس میں سے ہی رکھتے - لیکن ایسا تاریخی طور پر ثابت نہیں -حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ اور حضرت عمر رضی الله عنہ اپنے دور خلافت میں مسائل کے حل کے لیے حضرت علی رضی الله عنہ کی طرف رجوع کرتے - اور وہی ان کے مشیر خاص بھی تھے -
اس ارشاد عالیہ پر میں نے یہ عرض کیا کہ

یعنی مطلب یہ کہ ایمان کو پانے کے لئے اہل فارس سے رجوع نہیں کیا جائے گا بلکہ اہل فارس کے امام حضرت علی کی طرف رجوع کیا جائے گا کیونکہ یہ حضرت ابوبکر و عمر کی سنت ہے اور ان کی سنت کو دانتوں سے پکڑے رکھنے کے عقیدے پر اہل سنت قائم ہیں
لیکن معاف کیجئے گا یہ بات تو مسلم ہے علم کے حصول کے لئے مدینۃ علم میں داخل ہونے کے لئے باب مدینۃ العلم پر حاضر ہونا ہی پڑتا ہے جیسا کہ بقول آپ کے حضرت ابوبکر و عمر اس باب پر حاضر ہوا کرتے تھے لیکن یہاں ہم بات کررہے ہیں ایمان کی نہ کہ علم کی
والسلام
امید ہے اب میری ان معروضات کا اصل مدعا آپ کے علم میں آیا ہوگا
جناب نے دو مرتبہ اپنی تحریر میں حضرت علی کو "اہل فارس "کا امام لکھا ہے۔ صرف فارسیوں کا "امام" کہ کر جناب نے اپنے مذہب کی بنیاد (عقیدہ امامت )کو زمین بوس کر دیا ہے ۔ مباک ہو جناب کو یہ نیا عقیدہ ۔۔۔۔۔۔ہم اہل سنت حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلفاء ثلاثہ (امام ابوبکر صدیق ،امام عمر فاروق ، امام عثمان بن عفان )رضوان اللہ علیہم کے بعد باقی اُمت کا امام تسلیم کرتے ہیں لیکن جناب نے حضرت علی کو صرف فارسیوں کا امام بنا کر اُن کی توہین کی ہے اور اُن کے مقام و مرتبہ کو گرایا ہے ،یہ بھی جناب کو مبارک ہو
یہ تو بہت اچھی بات ہے آپ حضرت علی کو امام مانتے ہیں آپ کو مبارک ہو
اور یہ جو حضرت علی کو اہل فارس کے امام کہا گیا اور اس سے جناب نے یہ سمجھا کہ صرف اہل فارس امام تو یہ میرا مطلب تھا ہی نہیں یہ تو جناب نے اپنے طور سے یہ معنی اخذ کرلیا ہے جس پر بندہ کیا عرض کرسکتا ہے !!!
 
شمولیت
مئی 05، 2014
پیغامات
196
ری ایکشن اسکور
40
پوائنٹ
81
بہرام میاں نے لکھا ہے کہ"ایک تو آپ کی عادت ہے آپ دھاگے کو اچھی طر ح پڑھے بغیر ہی اپنا تبصرہ فرمانا شروع کردیتے ہیں" بندہ نے تو اس دھاگہ کو اچھی طرح پڑھ کر ہی تبصرہ لکھا ہے لیکن جناب کی عادت ہے بے سوچے سمجھے لکھنے کی۔ائیے دیکھتے ہیں کہ جناب ایسا کیوں کرتے ہیں ۔
اس دھاگہ کا اصل موضوع تھا کہ اس حدیث کا مصداق کو ن سی شخصیت ہے یا کون سے لوگ ہیں؟ احناف اس کا مصداق "امام ابوحنیفہ " کوسمجھتے ہیں ،بعض شوافع بھی اُن کے ساتھ ہیں ،دیگر محدثین اس سے اہل فارس کو مراد لیتے ہیں اور بعض محدثین اس کا مصداق "امام بخاری" کو سمجھتے ہیں ۔
"شخصِ معین " کی تعیین میں اختلاف ہے ،ہر ایک نے اپنے علمی ذوق کے مطابق اس کا مصداق جس کو سمجھا ذکر کر دیا، اس سے یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ حدیث رسول میں "معین شخص " کا سرے سے ذکر نہیں ہے​
یہ سب بحث ہو جانے کے بعد جناب اس دھاگہ میں "اٰن وارد "ہوئے اور یہی دو احادیث لکھ کر جناب نے لکھا کہ "ان احادیث کے اصل مصداق اہل فارس ہیں" "کیا ان احادیث کا یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ ایمان کو پانے کے لئے اہل فارس کی طرف رجوع کرنا چاہئے ؟؟؟؟​
اس کے جواب میں بھائی جواد نے لکھا تھا کہ
  • اس حدیث کے مطابق "اہل علم" اہل فارس میں سے ہو سکتے ہیں - جیسا کہ کہ روایت سے ثابت ہے - لیکن اس سے یہ کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ علم و ایمان کے حصول کے لئے اہل فارس سے ہی رجوع کیا جائے - اگر ایسا ہوتا تو خلفاء راشدین اپنے اپنے دور میں دینی و فقہی مسائل کے لئے اہل فارس سے ہی رجوع کرتے اور اپنے مشیر اہل فارس میں سے ہی رکھتے - لیکن ایسا تاریخی طور پر ثابت نہیں -حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ اور حضرت عمر رضی الله عنہ اپنے دور خلافت میں مسائل کے حل کے لیے حضرت علی رضی الله عنہ کی طرف رجوع کرتے - اور وہی ان کے مشیر خاص بھی تھے -
  • اس طرح نبی کریم نے حضرت عبدللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے متعلق فرمایا کہ :
    وقال ‏"‏ استقرئوا القرآن من أربعة من عبد الله بن مسعود،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وسالم مولى أبي حذيفة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وأبى بن كعب،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ومعاذ بن جبل ‏"‏‏.
    اور آپ نے فرمایا کہ قرآن مجید چار آدمیوں سے سیکھو، عبداللہ بن مسعود، ابوحذیفہ کے مولیٰ سالم، ابی بن کعب اور معاذ بن جبل (رضی اللہ عنہم) سے - حدیث نمبر: 3760
(جواد بھائی کی ان باتوں کا جواب جناب نے نہیں دیا آخر کیوں؟)
  • بلکہ بے سوچے یہ لکھادیا کہ "یعنی مطلب یہ کہ ایمان کو پانے کے لئے اہل فارس سے رجوع نہیں کیا جائے گا بلکہ اہل فارس کے امام حضرت علی کی طرف رجوع کیا جائے گا"
  • یہ تمام دلیلیں بھی علم پر ہی ہیں نہ کہ ایمان پر
    ایمان اور علم کے الگ ہونے کی دلیل یہ کہ امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری میں ایمان اور علم کو علیحدہ عنوان کے تحت بیان کیا ہے یعنی پہلے امام بخاری نے" كتاب الإيمان" کا عنوان قائم کیا اور اس کے بعد " كتاب العلم" کا
    اور میں ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا یہ کہا جا سکتاہے کہ علم کے لئے بھی اہل فارس کے امام حضرت علی کی طرف رجوع کرنا پڑے گا جیسا کہ بقول آپ کے ابوبکر و عمر رجوع کیا کرتے تھے اور ایمان کے لئے بھی اہل فارس کے امام حضرت علی کی جانب رجوع کرنا پڑے گا ؟
    (ریڈ کلر میں جن باتوں کو ظاہر کیا گیا ہے یہ جناب کا "گھڑنتو " مطلب کس دلیل سے ثابت ہے پیش تو کیجئے؟؟؟کیونکہ جناب کی پیش کردہ احادیث میں شخص معین کا نام نہیں ہے؟)
اہل فارس کے امام حضرت علی کی نئی اصلاح کو پڑھ کر محترم بھائی انس نضر صاحب نے اظہار تعجب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ "اہل فارس کے امام سیدنا علی؟؟!!
اور بھائی جواد نے لکھا تھا کہ "یہ اصطلاح تو میں پہلی بار سن رہا ہوں . اہل فارس کے امام حضرت علی رضی الله عنہ ؟؟؟
ان سب باتوں کے بعد بندہ نے لکھا تھا کہ
  • بہرام صاحب : اپنی پیش کردہ احادیث کے ترجمہ کے ان الفاظ کو مد نظر رکھیں ،
  • اگر ایمان ثریا (یعنی آسمان دنیا کے سب سے اونچے مقام) کے قریب بھی ہوا تو ان (فارسیوں) میں سے کچھ لوگ یا ایک آدمی (راوی کو شک ہے) اسے وہاں سے بھی حاصل کر لے گا۔ ''
  • ''حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر دین ثریا پر بھی ہوتا تب بھی فارس کا ایک شخص اسے حاصل کرلیتا۔ یا فرمایا : فارس (والوں) کی اولاد میں سے ایک شخص اسے حاصل کرلیتا۔ ''
  • یہ احادیث تو صاف صاف واضع اعلان کر رہی ہیں کہ " اہل فارس " کا ایک شخص یا کئی افراد اس سے مراد ہیں " غیر فارسی "نہیں؟اور رسول اللہ ﷺ نے یہاں کسی شخص کو نام لیکر متعین بھی نہیں کیا؟
    اور جناب نے خود بھی اِن احادیث کو نقل کرنے کے بعد لکھا تھا کہ "ان احادیث کے اصل مصداق اہل فارس ہیں "
    تو اب جناب نے ان احادیث مبارکہ اور خود کے اقرار کے خلاف یہ کیسے لکھ دیا کہ (1)"یعنی مطلب یہ کہ ایمان کو پانے کے لئے اہل فارس سے رجوع نہیں کیا جائے گا بلکہ اہل فارس کے امام حضرت علی کی طرف رجوع کیا جائے گا "(2)"ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا یہ کہا جا سکتاہے کہ علم کے لئے بھی اہل فارس کے امام حضرت علی کی طرف رجوع کرنا پڑے گا"(3)"اور ایمان کے لئے بھی اہل فارس کے امام حضرت علی کی جانب رجوع کرنا پڑے گا ؟"
    اگر جناب اس حدیث کا مصداق حضرت علی کو بنانا چاہتے ہیں تو اس کے لئے دلیل چاہئیے ،ہمت سے کام لیں اور کوئی واضع نص پیش کریں،ورنہ تو خود جناب تسلیم کر چکے ہیں کہ ان احادیث کے اصل مصداق تو اہل فارس ہیں؟
    جناب نے دو مرتبہ اپنی تحریر میں حضرت علی کو "اہل فارس "کا امام لکھا ہے۔ صرف فارسیوں کا "امام" کہ کر جناب نے اپنے مذہب کی بنیاد (عقیدہ امامت )کو زمین بوس کر دیا ہے ۔ مباک ہو جناب کو یہ نیا عقیدہ ۔۔۔۔۔۔ہم اہل سنت حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلفاء ثلاثہ (امام ابوبکر صدیق ،امام عمر فاروق ، امام عثمان بن عفان )رضوان اللہ علیہم کے بعد باقی اُمت کا امام تسلیم کرتے ہیں لیکن جناب نے حضرت علی کو صرف فارسیوں کا امام بنا کر اُن کی توہین کی ہے اور اُن کے مقام و مرتبہ کو گرایا ہے ،یہ بھی جناب کو مبارک ہو
(میری ان باتوں کا جواب بھی جناب نے نہیں لکھا ،بس چونکہ چوناچے سے کام چلانے کی کوشش میں لگے رہئے)

اب جناب ہی بتائیں کہ یہ جو کچھ بندہ نے لکھا تھا ایسے ہی بے پڑھے لکھ دیا تھا یا سب پڑھ کر پھر لکھا تھا ؟؟
اب جناب نے ایک نئی بات لکھی ہے کہ "میں نے پہلے یہ عرض کی تھی کہ ان احادیث کا اصل مصداق اہل فارس ہیں "(یعنی اب جناب اس بات کے منکر ہو گئے ہیں ؟)تو بتائیے کہ اس کا اصل مصداق کون ہے ؟؟؟
جناب نے جو حضرت علی کو اہل فارس کا امام لکھا تھا اس سے ابھی تک جناب نے رجوع نہیں کیا ہے ورنہ ضرور لکھتے کہ اس سے میری یہ مراد ہے؟ ماننا پڑے گا کہ اب بھی جناب کے نذدیک حضرت علی صرف اہل فارس کے امام ہیں!
جناب نے لکھا ہے کہ "یہ تو بہت اچھی بات ہے آپ حضرت علی کو امام مانتے ہیں آپ کو مبارک ہو" یہاں بھی جناب نے مجھے مبارک باد دے کر اپنے پاؤں پہ کلہاڑا مارا ہے۔
اگر میری یہ بات غور سے پڑھتے تو ہر گز مبارک نہ دیتے
"ہم اہل سنت حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلفاء ثلاثہ (امام ابوبکر صدیق ،امام عمر فاروق ، امام عثمان بن عفان )رضوان اللہ علیہم کے بعد باقی اُمت کا امام تسلیم کرتے ہیں"
مبارک باد کے تو جناب مستحق ہیں کہ شیعہ مذہب کی دیوار گرا کر جناب نے میری یہ بات مان لی کہ حضرت علی کا چوتھا نمبر ہے۔(اور امام بمعنی یہاں خلیفہ ہونا ہے ۔)
تھیں میری اور رقیب کی راہیں جُدا جُدا
آخر کو دونوں درِ جاناں پہ آملے​
اگر جناب ان احادیث سے شخصِ معین حضرت علی کو مراد لینا چاہتے ہیں تو اس کے لئے دلیل چاہئیے ، اور جناب کا دامن اس سے بلکل خالی ہے،دلیل لائیے اگر ہے تو؟
 
شمولیت
مئی 12، 2014
پیغامات
226
ری ایکشن اسکور
66
پوائنٹ
42
علی بہرام صاحب : کیوں اپنے مذہب کے ماتھے پر "کَلَنک" کا داغ لگانے پر تُلے ہو ؟
جناب نے تکرار کے ساتھ یہ بات لکھی ہے
  • "کہ ایمان کو پانے کے لئے اہل فارس سے رجوع نہیں کیا جائے گا بلکہ اہل فارس کے امام حضرت علی کی طرف رجوع کیا جائے گا "
  • "اور میں ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا یہ کہا جا سکتاہے کہ علم کے لئے بھی اہل فارس کے امام حضرت علی کی طرف رجوع کرنا پڑے گا "
  • "اور ایمان کے لئے بھی اہل فارس کے امام حضرت علی کی جانب رجوع کرنا پڑے گا ؟"
علی بہرم صاحب تکرار کے ساتھ جناب نے حضرت علی کو اہل فارس کا امام بنانے کوشش کی ہے، میں پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ چودہ صدیوں میں ان احادیث کے پیش نظر اہل سنت یا اہل رفض کے کسی مسلمہ محدث نے حضرت علی کو "اہل فارس " کا امام کہا ہو؟یا یہ کہا ہو کہ علم و ایمان حاصل کرنے کے لئےاہل فارس کے امام حضرت علی کی طرف رجوع کیا جائے؟اگر کہا ہے تو دلیل پیش کریں اور اگر نہیں کہا! اور یقینا نہیں کہا تو جناب کس منہ سے یہ بات کہنا اور منوانا چاہتے ہیں؟
ان احادیث میں تو صاف صاف" اہل فارس " کا ذکر ہے ، کیا (نعوذ باللہ )حضرت علی فارسی النسل تھے؟؟؟یقینا نہیں ! تو ان احادیث کا مصداق کیسے ہوئے؟
علی معاویہ بھائی نے جناب پر ایک اعتراض کیا تھا کہ
جناب نے دو مرتبہ اپنی تحریر میں حضرت علی کو "اہل فارس "کا امام لکھا ہے۔ صرف فارسیوں کا "امام" کہ کر جناب نے اپنے مذہب کی بنیاد (عقیدہ امامت )کو زمین بوس کر دیا ہے ۔ مباک ہو جناب کو یہ نیا عقیدہ ۔۔۔۔۔۔ہم اہل سنت حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلفاء ثلاثہ (امام ابوبکر صدیق ،امام عمر فاروق ، امام عثمان بن عفان )رضوان اللہ علیہم کے بعد باقی اُمت کا امام تسلیم کرتے ہیں لیکن جناب نے حضرت علی کو صرف فارسیوں کا امام بنا کر اُن کی توہین کی ہے اور اُن کے مقام و مرتبہ کو گرایا ہے ،یہ بھی جناب کو مبارک ہو"
آج مورخہ 14۔5۔26 تک جناب نے اسکا کوئی جواب نہیں دیا ۔ اسکا صاف صاف مطلب تو یہی ہوا کہ جناب کے نذدیک حضرت علی صرف اہل فارس کے امام ہیں یہی حضرت علی کی توہین ہے جس کے جناب ابھی تک مرتکب ہیں اور اسے ہی شیعہ مذہب کے بنیاد" عقیدہ امامت " کو مسمار کرنے سے علی معاویہ بھائی نے تعبیر کیا ہے ۔توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے جناب نے اگر "عقیدہ امامت " سے توبہ کر لی ہے تو مبارک ہو لیکن "توبۃ النصوح" کریں ،حضرت علی رضی اللہ عنہ کو صرف اہل فارس کا امام نہ سمجھیں بلکہ اہل سنت کی طرح درجہ کے لحاظ سے خلفاء ثلاثہ کے بعد اس اُمت کا امام مان لیں یہی جناب کی "توبۃ النصوح " ہوگی
 

عبدالرحمن بھٹی

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 13، 2015
پیغامات
2,435
ری ایکشن اسکور
287
پوائنٹ
165
اگر بالفرض محال ابوحنیفہ کو فارسی بھی ثابت کردیا جائے پھر بھی ابوحنیفہ اس حدیث کا مصداق نہیں بن سکتے کیونکہ مذکورہ حدیث میں ایمان پانے کی بات ہے اور ایمان سے جو مفہوم اور مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی تھی ابوحنیفہ کی مراد اس سے قطعا مختلف ہے۔ مسلمانوں کے نزدیک ایمان، زبان سے اقرار، دل سے تصدیق اور عمل سے اظہار کا نام ہے۔جبکہ ابوحنیفہ کے نزدیک ایمان میں عمل شامل نہیں یعنی ابوحنیفہ کا ایمان اور ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ اور مسلمانوں کا ایمان کچھ اور ہے۔ لہٰذا جو چیز ابوحنیفہ کے نزدیک ایمان ہی نہیں تو وہ اسے پانے کی کوشش کیونکر کرے گا؟ اس حدیث کا مصداق بننے والی مبارک ہستیوں کی فہرست سے ابوحنیفہ کا نام ہمیشہ کے لئے خارج ہے۔
یہ ہوئی نا بات۔۔۔ سب کو پچھاڑ دیا ۔۔۔ لگے ہاتھوں حنفیوں کے مشرک ہونے کے ثبوت ۔۔۔ بھی فراہم فرمادیں تو سونے پہ سہاگہ ہوجائے۔۔۔
 
Top