• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر صحیح حدیث کی مخالفت کا الزام اور شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا فیصلہ کن جواب

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
880
ری ایکشن اسکور
229
پوائنٹ
111
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر صحیح حدیث کی مخالفت کا الزام اور شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا فیصلہ کن جواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام على سید الأنبیاء والمرسلین، وعلى آلہ وصحبہ أجمعین۔ أما بعد!

اہل سنت کے ائمہ اور فقہائے اسلام کے بارے میں کلام کرتے وقت عدل و انصاف لازم ہے۔ افسوس کہ ہمارے زمانے میں بعض ایسے لوگ پیدا ہوگئے ہیں جو چند فقہی مسائل کو بنیاد بنا کر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی شان میں زبان درازی کرتے، ان پر حدیث کی مخالفت کا الزام لگاتے اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ گویا امام صاحب رحمہ اللہ نصوص شرعیہ کے مقابلے میں محض اپنی رائے اور قیاس کو ترجیح دیتے تھے۔

اس باب میں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ جیسے ناقد بصیرت اور وسیع النظر عالم کا کلام نہایت فیصلہ کن ہے، کیونکہ انہوں نے محض امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا دفاع نہیں کیا بلکہ اس غلط تصور کی جڑ ہی کاٹ دی ہے کہ ائمہ کبھی جان بوجھ کر صحیح حدیث کی مخالفت کرتے تھے۔

11287.jpg

11426.jpg

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«قَالَ أَبُو يُوسُفَ - رَحِمَهُ اللَّهُ وَهُوَ أَجَلُّ أَصْحَابِ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَوَّلُ مَنْ لُقِّبَ قَاضِي الْقُضَاةِ» امام ابو یوسف رحمہ اللہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے اصحاب میں سب سے جلیل القدر تھے، نیز سب سے پہلے وہ شخص تھے جنہیں قاضی القضاۃ کا لقب دیا گیا۔

امام ابو یوسف رحمہ اللہ کو امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے "أَجَلُّ أَصْحَابِ أَبِي حَنِيفَةَ" یعنی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے جلیل ترین اصحاب میں شمار کیا۔ یہ معمولی بات نہیں، کیونکہ ابو یوسف رحمہ اللہ کوئی عام طالب علم نہ تھے؛ وہ اپنے زمانے کے بڑے فقہاء میں سے تھے، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے طویل عرصے تک شاگرد رہے اور فقہ حنفی کی تدوین و نشر میں ان کا عظیم حصہ ہے۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ امام مالک رحمہ اللہ سے ابو یوسف رحمہ اللہ کی ملاقات کا واقعہ ذکر کرتے ہیں:

«لَمَّا اجْتَمَعَ بِمَالِكِ وَسَأَلَهُ عَنْ هَذِهِ الْمَسَائِلِ وَأَجَابَهُ مَالِكٌ بِنَقْلِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ الْمُتَوَاتِرِ رَجَعَ أَبُو يُوسُفَ إلَى قَوْلِهِ» یعنی جب ابو یوسف رحمہ اللہ امام مالک رحمہ اللہ سے ملے، بعض مسائل دریافت کیے اور امام مالک رحمہ اللہ نے اہل مدینہ کی متواتر نقل سے جواب دیا تو ابو یوسف رحمہ اللہ اپنے قول سے رجوع کرگئے۔

یہاں ایک نہایت اہم اصول سامنے آیا کہ جب کوئی صحیح حدیث مل جائے تو اسے قبول کیا جائے گا۔ پھر ابو یوسف رحمہ اللہ نے اپنے استاد امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے متعلق فرمایا: «لَوْ رَأَى صَاحِبِي مِثْلَ مَا رَأَيْت لَرَجَعَ مِثْلَ مَا رَجَعْت.» اگر میرے صاحب، یعنی ابو حنیفہ رحمہ اللہ، بھی وہی چیز دیکھتے جو میں نے دیکھی ہے تو وہ بھی اسی طرح رجوع کرتے جس طرح میں نے رجوع کیا ہے۔

ذرا انصاف کیجیے! یہ ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے اپنے شاگرد ابو یوسف رحمہ اللہ کی گواہی ہے۔ وہ اپنے استاد کو ایسا متعصب شخص نہیں سمجھتے تھے جو دلیل سامنے آجانے کے بعد بھی محض اپنے قول کی خاطر حق کو چھوڑ دے۔ لیکن آج بعض کم علم لوگ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف وہ چیز منسوب کرتے ہیں جس سے ان کے جلیل القدر شاگرد بھی انہیں بری سمجھتے تھے۔ اس سے بڑھ کر ظلم کیا ہوگا؟

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ آگے فرماتے ہیں: «فَقَدْ نَقَلَ أَبُو يُوسُفَ أَنَّ مِثْلَ هَذَا النَّقْلِ حُجَّةٌ عِنْدَ صَاحِبِهِ أَبِي حَنِيفَةَ كَمَا هُوَ حُجَّةٌ عِنْدَ غَيْرِهِ» یعنی ابو یوسف رحمہ اللہ نے نقل کیا کہ اس قسم کی نقل امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک بھی حجت تھی، جس طرح دوسرے ائمہ کے نزدیک حجت ہے۔

پس امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو نقل و حدیث سے بے اعتناء قرار دینا صریح ظلم ہے۔ وہ نقل کو حجت مانتے تھے؛ اختلاف اس بات میں ہوسکتا ہے کہ کون سی روایت ان تک پہنچی، کون سی صحیح ثابت ہوئی، کس روایت کو کس دلیل سے ترجیح دی گئی اور کس حدیث کا حکم کس مسئلے پر منطبق ہوتا ہے۔

پھر شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اصل حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: «لَكِنْ أَبُو حَنِيفَةَ لَمْ يَبْلُغْهُ هَذَا النَّقْلُ كَمَا لَمْ يَبْلُغْهُ وَلَمْ يَبْلُغْ غَيْرَهُ مِنْ الْأَئِمَّةِ كَثِيرٌ مِنْ الْحَدِيثِ» امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تک یہ نقل پہنچی ہی نہیں تھی، جس طرح بہت سی احادیث خود دوسرے ائمہ تک بھی نہیں پہنچی تھیں۔

یہی وہ حقیقت ہے جسے نظر انداز کرکے بعض لوگ ائمہ کے خلاف زبان درازی کرتے ہیں۔ آج کسی حدیث کا کسی مجموعہ حدیث میں موجود ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ حدیث امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تک بھی اسی طرح پہنچ چکی تھی۔ ائمہ کے ادوار میں حدیث کے نسخے، اسناد، رواۃ، شہروں اور علمی مراکز کا پھیلاؤ آج جیسا نہ تھا۔ ایک امام کے پاس کوئی روایت پہنچی، دوسرے کے پاس نہ پہنچی؛ ایک کے نزدیک سند صحیح ہوئی، دوسرے کے نزدیک اس میں کلام ہوا؛ ایک کو ناسخ و منسوخ کا علم تھا، دوسرے کو نہ تھا۔ یہی اجتہاد کا میدان ہے۔

اسی لیے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے صاف فیصلہ کردیا: «فَلَا لَوْمَ عَلَيْهِمْ فِي تَرْكِ مَا لَمْ يَبْلُغْهُمْ عِلْمُهُ.» جس چیز کا علم ان تک پہنچا ہی نہیں، اس کے ترک کرنے پر ان کو ملامت نہیں۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا یہ فرمان ان لوگوں کے لیے تازیانہ ہے جو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے خلاف یہ شور مچاتے ہیں کہ فلاں حدیث موجود تھی، پھر ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اس پر عمل کیوں نہ کیا؟ پہلے یہ ثابت کرو کہ وہ حدیث امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تک پہنچی بھی تھی! اگر پہنچی ہی نہیں تو مخالفت کا الزام کیسا؟

پھر امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «وَكَانَ رُجُوعُ أَبِي يُوسُفَ إلَى هَذَا النَّقْلِ كَرُجُوعِهِ إلَى أَحَادِيثَ كَثِيرَةٍ اتَّبَعَهَا هُوَ وَصَاحِبُهُ مُحَمَّدٌ وَتَرَكَا قَوْلَ شَيْخِهِمَا» ابو یوسف رحمہ اللہ کا اس نقل کی طرف رجوع ایسا ہی تھا جیسے بہت سی احادیث کی طرف ان کا اور محمد رحمہ اللہ کا رجوع، جن پر انہوں نے عمل کیا اور اپنے شیخ کا قول چھوڑ دیا۔

یہاں بھی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے منہج کی ایک روشن حقیقت سامنے آتی ہے۔ ان کے شاگردوں نے بعض مسائل میں حدیث کی بنا پر اپنے استاد کے قول کو چھوڑا، اور یہ بات ان کے علمی حلقے میں کوئی قابل مذمت چیز نہ تھی۔ کیوں؟کیونکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اپنے شاگردوں کو یہ نہیں سکھایا تھا کہ میرا قول ہر حال میں لازم پکڑو، خواہ صحیح دلیل اس کے خلاف آجائے۔

بلکہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ خود آگے فرماتے ہیں: «لِعِلْمِهِمَا بِأَنَّ شَيْخَهُمَا كَانَ يَقُولُ: إنَّ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ أَيْضًا حُجَّةٌ إنْ صَحَّتْ لَكِنْ لَمْ تَبْلُغْهُ.» یعنی ابو یوسف اور محمد رحمہما اللہ جانتے تھے کہ ان کے شیخ فرمایا کرتے تھے "یہ احادیث بھی حجت ہیں اگر صحیح ہوں، لیکن وہ مجھے پہنچی نہیں ہیں۔"

اب اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو دانستہ حدیث کا مخالف کہتا ہے تو وہ دراصل کس چیز کی بنیاد پر یہ دعویٰ کرتا ہے؟ کیا اس کے پاس امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی نیت کا کوئی علم ہے؟ کیا اس کے پاس ان تمام احادیث کا مکمل علم ہے جو امام صاحب رحمہ اللہ کے سامنے تھیں؟ کیا اسے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے تمام اصول استدلال معلوم ہیں؟ اگر نہیں تو پھر ایسی باتیں علم کی زبان میں نہیں بلکہ گمان اور خواہش کی زبان میں شمار ہوں گی۔

اور یہی وجہ ہے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نہایت صریح الفاظ میں بیان کرتے ہیں: «وَمَنْ ظَنَّ بِأَبِي حَنِيفَةَ أَوْ غَيْرِهِ مِنْ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ أَنَّهُمْ يَتَعَمَّدُونَ مُخَالَفَةَ الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ لِقِيَاسِ أَوْ غَيْرِهِ فَقَدْ أَخْطَأَ عَلَيْهِمْ» یعنی جو شخص امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ یا دوسرے ائمہ کے بارے میں یہ گمان کرے کہ وہ جان بوجھ کر صحیح حدیث کی مخالفت قیاس یا کسی دوسری وجہ سے کرتے تھے، تو اس نے ان ائمہ کے بارے میں غلطی کی۔

یہاں لفظ "يَتَعَمَّدُونَ" قابل غور ہے۔ بات کسی اجتہادی خطا کی نہیں، بلکہ دانستہ مخالفت کی ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس الزام کو رد کر رہے ہیں۔ پھر فرماتے ہیں: «وَتَكَلَّمَ إمَّا بِظَنِّ وَإِمَّا بِهَوَى» یعنی ایسا شخص یا تو گمان کی بنیاد پر بات کررہا ہے یا خواہش نفس کی پیروی کررہا ہے۔ یہ الفاظ ان لوگوں کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی دعوت دیتے ہیں جو ائمہ اربعہ کے خلاف زبان درازی کرتے ہیں۔

پھر شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے عمل سے دلیل قائم کرتے ہیں کہ «فَهَذَا أَبُو حَنِيفَةَ يَعْمَلُ بِحَدِيثِ التوضي بِالنَّبِيذِ فِي السَّفَرِ مُخَالَفَةً لِلْقِيَاسِ» یہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ہیں کہ سفر میں نبیذ سے وضو کے متعلق حدیث پر عمل کرتے ہیں، حالانکہ وہ قیاس کے خلاف ہے۔

یعنی اگر امام صاحب رحمہ اللہ کا اصول یہ ہوتا کہ قیاس ہر حال میں حدیث پر مقدم ہے تو وہ ایسی روایت پر عمل نہ کرتے جو ان کے نزدیک قیاس کے خلاف ہو۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اسی طرح امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «وَبِحَدِيثِ الْقَهْقَهَةِ فِي الصَّلَاةِ مَعَ مُخَالَفَتِهِ لِلْقِيَاسِ» اور نماز میں قہقہہ کے متعلق حدیث پر بھی عمل کیا، حالانکہ وہ قیاس کے خلاف تھی۔

پھر شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے دونوں مثالوں کی بنیاد بھی واضح کردی کہ «لِاعْتِقَادِهِ صِحَّتَهُمَا وَإِنْ كَانَ أَئِمَّةُ الْحَدِيثِ لَمْ يُصَحِّحُوهُمَا.» یعنی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے ان دونوں پر اس لیے عمل کیا کہ ان کے نزدیک یہ صحیح تھیں، اگرچہ ائمہ حدیث نے انہیں صحیح قرار نہیں دیا تھا۔

[مجموع الفتاوى، ج : ٢٠، ص : ٣٠٤-٣٠٥]

یہاں غور کرو! امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اپنے علم کے مطابق روایت کو صحیح سمجھا تو اس پر عمل کیا، اگرچہ قیاس اس کے خلاف تھا۔ پس یہ کہنا کہ "ابو حنیفہ حدیث کے مقابلے میں قیاس کو مقدم کرتے تھے" ایک ایسا مطلق دعویٰ ہے جسے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ پہلے ہی رد کر چکے ہیں۔

اصل مسئلہ کیا ہے؟ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے کسی مسئلے میں حدیث کے خلاف قول کیوں منقول ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ حدیث امام صاحب رحمہ اللہ تک پہنچی تھی یا نہیں؟ اگر پہنچی نہ تھی تو الزام باطل۔ اگر پہنچی تھی مگر امام صاحب رحمہ اللہ کے نزدیک صحیح نہ تھی تو پھر یہ اجتہادی بحث ہے۔

اگر صحت تسلیم تھی مگر دلالت مختلف سمجھی گئی تو یہ فقہی استنباط کا مسئلہ ہے۔ اگر دو دلائل میں تعارض محسوس ہوا تو جمع، ترجیح، نسخ اور دیگر اصول زیر بحث آئیں گے۔ لیکن ان سب علمی احتمالات کو چھوڑ کر فورا یہ کہنا کہ "امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے صحیح حدیث کو جان بوجھ کر چھوڑ دیا" انتہائی غیر منصفانہ طرز عمل ہے۔

ائمہ مجتہدین کے ساتھ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ان کے اجتہاد کو ان کے علمی مقام اور اپنے زمانے کے علمی حالات کے مطابق سمجھا جائے۔ لہٰذا جو لوگ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی تنقیص کرتے اور ان کی شان میں طعن کرتے ہیں، ان سے ہم یہ نہیں کہتے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو معصوم سمجھو۔ نہیں!

ائمہ معصوم نہیں۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ بھی بشر تھے، مجتہد تھے، ان سے اجتہادی خطا کا امکان تھا، جیسے دوسرے ائمہ سے اجتہادی خطا کا امکان تھا۔ لیکن اجتہادی خطا کو دانستہ مخالفت حدیث قرار دینا اور اس بنیاد پر امام کی تحقیر کرنا انصاف نہیں۔

یہ فرق سمجھنا ضروری ہے کہ خطا ہو سکتی ہے، مگر خیانت لازم نہیں۔ اجتہاد میں غلطی ہوسکتی ہے، مگر نص سے عناد ثابت نہیں ہوتا۔ کسی حدیث کا نہ پہنچنا ممکن ہے، مگر اس سے حدیث دشمنی لازم نہیں آتی۔ یہی وہ عدل ہے جو اہل سنت کے ائمہ کے بارے میں اختیار کرنا چاہیے۔

اہل حدیث کا منہج یہ نہیں کہ ائمہ دین کی توہین کریں، بلکہ حدیث کی اتباع کے ساتھ ائمہ کے اجتہاد کو سمجھنا بھی اہل علم کا طریقہ ہے۔ جو شخص ابو حنیفہ، مالک، شافعی اور احمد رحمہم اللہ جیسے ائمہ کی تحقیر کرتا ہے، اسے اپنے منہج پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی یہ عبارت اسی لیے نہایت اہم ہے کہ وہ ایک طرف دلیل کی عظمت قائم رکھتے ہیں اور دوسری طرف ائمہ پر بے بنیاد الزامات کا دروازہ بند کرتے ہیں۔

پس امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ انہیں ایک عظیم امام اور مجتہد مانا جائے، ان کی علمی خدمات کا اعتراف کیا جائے، ان کے اجتہادات کو علمی اصولوں کی روشنی میں سمجھا جائے، اور جہاں ان سے اجتہادی خطا ثابت ہو وہاں ادب کے ساتھ اس کی نشان دہی کی جائے۔ محض چند مسائل دیکھ کر ایک جلیل القدر امام کی شخصیت پر حملہ کرنا، انہیں حدیث کا مخالف کہنا اور ان کی تحقیر کرنا نہ انصاف ہے نہ اہل حدیث کا منہج۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ائمہ دین کے بارے میں عدل و انصاف، حسن ظن اور ادب اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے، حق کو حق سمجھ کر اختیار کرنے اور باطل کو باطل سمجھ کر چھوڑنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں اہل علم کی شان میں بے جا زبان درازی اور تعصب سے محفوظ رکھے۔ آمین

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔
 
Last edited:
Top