• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کبار ائمہ دین اور جلیل القدر فقہاء میں سے ہیں: ان کے خلاف زبان درازی کرنے والوں کے لیے شیخ صالح الفوزان کی نصیحت

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
870
ری ایکشن اسکور
229
پوائنٹ
111
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کبار ائمہ دین اور جلیل القدر فقہاء میں سے ہیں: ان کے خلاف زبان درازی کرنے والوں کے لیے شیخ صالح الفوزان کی نصیحت

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم، وعلی آلہ وصحبہ أجمعین۔ أما بعد!

آئمہ دین کے ساتھ حسن ادب، ان کے مقام و مرتبہ کی معرفت اور ان کی علمی خدمات کا اعتراف اہل سنت کے منہج کا ایک نمایاں اصول ہے۔ ائمہ بشر ہیں، معصوم نہیں؛ ان سے اجتہاد میں صواب بھی ہوتا ہے اور خطا بھی، مگر ان کی کسی اجتہادی لغزش کو بنیاد بنا کر ان کی تنقیص، تحقیر اور زبان درازی کرنا نہ علمی دیانت ہے، نہ علماء کا طریقہ۔

خصوصا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں بعض متعصب لوگوں نے ایسا طرز کلام اختیار کر رکھا ہے کہ گویا فقہ اسلامی کی تاریخ میں ان کا کوئی مقام ہی نہیں، یا ان کا تمام علمی سرمایہ محض ’’رائے‘‘ پر قائم تھا اور وہ کتاب و سنت سے بے نیاز تھے۔ یہ طرز فکر جہالت، تعصب اور تاریخی ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔

اسی لیے سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ صالح الفوزان سے جب امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مذہب کے بارے میں سوال کیا گیا کہ کیا ان کے مذہب سے فقہی احکام لیے جائیں، جبکہ ان کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ان کا مذہب رائے پر قائم ہے، دلیل پر اعتماد نہیں کرتا، اور ان پر ارجاء کی تہمت بھی لگائی گئی ہے، تو شیخ نے نہایت واضح اور دوٹوک جواب دیا۔


شیخ صالح الفوزان فرماتے ہیں: «يا إخوان اتركوا الأئمة لا تتعرضوا لهم» یعنی: ’’اے بھائیو! ائمہ کو چھوڑ دو، ان کے درپے نہ ہو۔‘‘ یہ ان لوگوں کے لیے تنبیہ ہے جو اپنے آپ کو اہل حدیث کہہ کر ائمہ اربعہ کی عزت و حرمت پامال کرنے کو علم و سنت کی خدمت سمجھ بیٹھے ہیں۔ اہل حدیث ہونا یہ نہیں کہ آدمی ائمہ اربعہ کی تحقیر شروع کر دے، بلکہ اہل حدیث کا منہج یہ ہے کہ کتاب و سنت کو اصل حجت مانتے ہوئے ائمہ کے اجتہادات کو دلیل کے میزان پر پرکھا جائے اور ان کی علمی قدر و منزلت بھی ملحوظ رکھی جائے۔

شیخ صالح الفوزان نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مقام بیان کرتے ہوئے فرمایا: «أبو حنيفة من كبار الأئمة» یعنی: ’’ابو حنیفہ کبار ائمہ میں سے ہیں۔‘‘ ذرا غور کیا جائے! یہ امت کے ان عظیم ائمہ میں سے ایک کے بارے میں ہے جن کے علمی اثرات صدیوں سے امت کے فقہی ذخیرے میں موجود ہیں۔ لہٰذا جو شخص امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو مطعون کرنے، ان کی اہانت کرنے یا ان کے علمی مقام کو گھٹانے کی کوشش کرتا ہے، اسے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ وہ کس عظیم امام کے بارے میں زبان کھول رہا ہے۔

شیخ صالح الفوزان نے فرمایا: «وهو أقدم الأئمة الأربعة» یعنی: ’’وہ چاروں ائمہ میں سب سے قدیم ہیں۔‘‘ اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے طبقے کے متعلق فرمایا: «وهو من أتباع التابعين» یعنی: ’’وہ اتباع تابعین میں سے ہیں۔‘‘

پھر شیخ نے اس مسئلے میں اہل علم کے اختلاف کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ بعض علماء انہیں تابعین میں شمار کرتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک انہوں نے بعض صحابہ کو پایا، لیکن شیخ صالح الفوزان نے صحیح قول یہ قرار دیا کہ انہوں نے صحابہ کو نہیں پایا بلکہ تابعین کو پایا، لہٰذا وہ اتباع تابعین میں سے ہیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کوئی متاخر زمانے کے شخص نہیں تھے جس نے اپنی طرف سے دین کا ایک نیا فقہی نظام قائم کر لیا ہو، بلکہ وہ سلف کے ابتدائی ادوار کے جلیل القدر امام تھے اور تابعین کے علمی دور سے وابستہ تھے۔

شیخ صالح الفوزان نے ان کے علمی مقام کو مزید واضح کرتے ہوئے فرمایا: «فهو فقيه» یعنی: ’’وہ فقیہ ہیں۔‘‘ اور فقہ کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا: «والفقه هو الفهم في كتاب الله وسنة رسوله صلى الله عليه وسلم» یعنی: ’’فقہ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی سمجھ کا نام ہے۔‘‘

یہاں ان لوگوں کے لیے بڑا سبق ہے جو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نام کے ساتھ ’’فقیہ‘‘ کا لفظ بھی سننا گوارا نہیں کرتے۔ شیخ صالح الفوزان خود فقہ کی حقیقت بیان کرنے کے بعد امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو ’’فقیہ‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ پس امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو محض ’’اہل الرائے‘‘ کہہ کر کتاب و سنت سے بے تعلق ثابت کرنا صریح زیادتی ہے۔

البتہ اہل سنت کا منہج غلو سے پاک ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ عظیم امام ہونے کے باوجود معصوم نہیں تھے۔ شیخ صالح الفوزان نے نہایت متوازن اصول بیان فرمایا: «ولكن هو وغيره يجتهدون فيصيبون ويخطئون» یعنی: ’’لیکن وہ اور دوسرے ائمہ اجتہاد کرتے ہیں، پس کبھی درست کرتے ہیں اور کبھی خطا کرتے ہیں۔‘‘

یہی اہل سنت کا انصاف ہے۔ نہ ائمہ اربعہ کو معصوم بنایا جائے اور نہ ان کی خطاؤں کو بنیاد بنا کر ان کی پوری شخصیت کو مطعون کیا جائے۔ ان کے اجتہاد میں جو بات درست ہو اسے قبول کیا جائے اور جو کتاب و سنت کے خلاف ہو اسے ترک کیا جائے۔

چنانچہ شیخ صالح الفوزان نے اصول واضح کرتے ہوئے فرمایا: «فيؤخذ من اجتهادهم وفقههم ما يوافق الدليل» یعنی: ’’ان کے اجتہاد اور فقہ میں سے وہی لیا جائے گا جو دلیل کے موافق ہو۔‘‘ اور اس اصول کو صرف امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تک محدود نہیں رکھا، بلکہ فرمایا: «أبو حنيفة وغيره يؤخذ من اجتهاده ما وافق الدليل، ليس هذا خاصا بأبي حنيفة» یعنی: ’’ابو حنیفہ اور ان کے علاوہ دیگر ائمہ کے اجتہاد میں سے وہی لیا جائے گا جو دلیل کے موافق ہو، یہ صرف ابو حنیفہ کے ساتھ خاص نہیں۔‘‘

یہ ان متعصب لوگوں کے لیے ایک واضح جواب ہے جو ہر جگہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ہی کو نشانہ بناتے ہیں۔ اگر کسی امام کا قول دلیل کے خلاف ہو تو اسے چھوڑنا اہل سنت کے نزدیک اصولی بات ہے؛ لیکن یہی اصول تمام ائمہ کے ساتھ ہے۔ لہٰذا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے کسی اجتہادی قول کو دلیل کے خلاف ہونے کی صورت میں رد کرنا ایک چیز ہے، اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی ذات، علم، فقاہت اور دینی مقام پر طعن کرنا بالکل دوسری چیز۔

رہا یہ کہنا کہ ’’ان پر ارجاء کی تہمت لگائی گئی‘‘ تو شیخ صالح الفوزان نے اسی مقام پر ایسے طرز کلام پر سخت نکیر کرتے ہوئے فرمایا: «كان تقول إنه رمي بالإرجاء، اللي باعث لهذا تبعث هذه الأمور هذه في جانب إمام جليل من أئمة المسلمين؟» یعنی مفہوم یہ ہے کہ: ’’تم یہ کہتے ہو کہ ان پر ارجاء کی تہمت لگائی گئی؛ آخر ایک عظیم امام کے بارے میں ایسی باتیں اٹھانے کی ضرورت ہی کیا ہے؟‘‘

یہاں اصل سبق یہ ہے کہ ائمہ اسلام کے بارے میں تاریخی منقولات اور نسبتوں کو تعصب کی عینک سے نہیں دیکھا جائے گا۔ کسی امام کے بارے میں کوئی قول منقول ہو، کسی نے کوئی الزام لگایا ہو، یا کسی مسئلے میں ان سے اختلاف ہوا ہو، تو محض اسے نقل کر کے امام کی تنقیص شروع کر دینا اہل علم کا طریقہ نہیں۔

اور اگر ’’ارجاء‘‘ کے مسئلے میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں منقول اقوال کی بحث کی جائے تو اس میں بھی تفصیل، تحقیق اور اہل علم کے اقوال کی رعایت ضروری ہے۔ محض ایک متنازع نسبت کو لے کر یہ تاثر دینا کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اہل سنت سے خارج تھے، ایک غیر علمی اور غیر منصفانہ رویہ ہے۔

یہاں برصغیر کے بعض متعصب مولویوں سے خاص طور پر عرض ہے کہ اہل حدیث ہونے کا مطلب ائمہ کی اہانت نہیں ہے۔ اہل حدیث کا امتیاز کتاب و سنت کی اتباع ہے، نہ کہ ائمہ اربعہ کے خلاف بدزبانی۔ اگر کسی حنفی نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید میں غلطی کی ہے تو اس غلطی کا رد دلیل سے کیا جائے؛ لیکن اس کے جواب میں خود امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو برا کہنا، ان کی فقاہت کا مذاق اڑانا، ان کے علم کو حقیر سمجھنا اور ان کے بارے میں سوقیانہ زبان استعمال کرنا کون سا علمی منہج ہے؟

ائمہ اربعہ کے اقوال کو دلیل پر پیش کرنا اور دلیل کو امام کے قول پر مقدم رکھنا درست ہے؛ مگر اس اصول کو ائمہ اربعہ کی تحقیر کا ہتھیار بنا لینا درست نہیں۔ برصغیر کے اکابر اہل حدیث کا علمی مزاج یہی تھا کہ کتاب و سنت کی پیروی کی جائے، تقلید جامد سے بچا جائے، مگر ائمہ اربعہ کی عزت و حرمت بھی برقرار رکھی جائے۔ علم کا تقاضا یہ ہے کہ اختلاف ہو تو دلیل کے ساتھ ہو، اور زبان پر ادب کی لگام ہو۔

پس جو شخص امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے خلاف زبان درازی کرتا ہے، اسے شیخ صالح الفوزان کی یہ نصیحت اپنے سامنے رکھنی چاہیے: «اتركوا الأئمة لا تتعرضوا لهم» ’’ ائمہ کو چھوڑ دو، ان کے درپے نہ ہو۔‘‘ اور یہ بھی: «أبو حنيفة من كبار الأئمة» ’’ابو حنیفہ کبار ائمہ میں سے ہیں۔‘‘

لہٰذا انصاف یہی ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو نہ معصوم سمجھا جائے اور نہ مطعون و مردود؛ ان کے صحیح اجتہادات کو قبول کیا جائے، ان کی خطاؤں کو دلیل کی روشنی میں چھوڑا جائے، ان کی فقاہت اور علمی مقام کا اعتراف کیا جائے، اور ان کے بارے میں بے بنیاد تہمتوں اور متعصبانہ زبان سے اجتناب کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھ کر قبول کرنے، باطل کو باطل سمجھ کر چھوڑنے، اور ائمہ اربعہ کے ساتھ عدل و ادب کا معاملہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔
 
Top