• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام ابو حنیفہ کا مبلغ علم

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,515
پوائنٹ
964
تین فیصلہ کن صورتوں میں سے ایک صورت کا مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے ہو سکتا ہے کہ
امام صاحب نے پورا قرآن پڑھا ہو لیکن مسئلہ استنباط کرتے ہوئے آیت کا استحضار نہ ہو ۔
ایسا ہو سکتا ہے کوئی عجیب بات نہیں ۔
لیکن ظاہر ہے اس طرح کی توجیہات اور اعذاربعض ہمارے بھائی کسی ایسے امام کے حق میں قبول نہیں کر سکیں گے جس کا دین و ایمان ہی ان کے نزدیک مشتبہ ہو ۔
بلکہ میں نے تو بعض دفعہ دیکھا ہے کہ کسی امام صاحب کے بارے میں یہ عذر تلاش کرنا کہ ہو سکتا ہے کہ ’’ ان کو قرآن کی مطلوبہ نص کا استحضار نہ ہو یا کوئی حدیث نہ پہنچی ہو ‘‘
اس بات پر ان کے مقلدین ہی بہت احتجاج کرنا شروع کردیتے ہیں گویا اس طرح کا عذر تلاش کرنا ان کے نزدیک امام صاحب کی گستاخی ہوتا ہے ۔
بہر صورت ایسی باتیں پہلے علماء نے بیان کی ہیں خصوصا شیخ الاسلام بن تیمیہ رحمہ اللہ نے رفع الملام میں اس کی وضاحت کی ہے ۔
اگرچہ یہ توجیہ متشدد مخالفین کے ہاں سائغ ہے اور نہ ہی غالی معتقدین کے ہاں جائز ۔
 
Top