تین فیصلہ کن صورتوں میں سے ایک صورت کا مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے ہو سکتا ہے کہ
امام صاحب نے پورا قرآن پڑھا ہو لیکن مسئلہ استنباط کرتے ہوئے آیت کا استحضار نہ ہو ۔
ایسا ہو سکتا ہے کوئی عجیب بات نہیں ۔
لیکن ظاہر ہے اس طرح کی توجیہات اور اعذاربعض ہمارے بھائی کسی ایسے امام کے حق میں قبول نہیں کر سکیں گے جس کا دین و ایمان ہی ان کے نزدیک مشتبہ ہو ۔
بلکہ میں نے تو بعض دفعہ دیکھا ہے کہ کسی امام صاحب کے بارے میں یہ عذر تلاش کرنا کہ ہو سکتا ہے کہ ’’ ان کو قرآن کی مطلوبہ نص کا استحضار نہ ہو یا کوئی حدیث نہ پہنچی ہو ‘‘
اس بات پر ان کے مقلدین ہی بہت احتجاج کرنا شروع کردیتے ہیں گویا اس طرح کا عذر تلاش کرنا ان کے نزدیک امام صاحب کی گستاخی ہوتا ہے ۔
بہر صورت ایسی باتیں پہلے علماء نے بیان کی ہیں خصوصا شیخ الاسلام بن تیمیہ رحمہ اللہ نے رفع الملام میں اس کی وضاحت کی ہے ۔
اگرچہ یہ توجیہ متشدد مخالفین کے ہاں سائغ ہے اور نہ ہی غالی معتقدین کے ہاں جائز ۔