• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام البانی تراویح

شمولیت
مئی 30، 2017
پیغامات
93
ری ایکشن اسکور
15
پوائنٹ
52
السلام علیکم

امام البانی رح کا تراویح پر کیا موقف ہے ؟؟؟
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,474
پوائنٹ
791
السلام علیکم
امام البانی رح کا تراویح پر کیا موقف ہے ؟؟؟
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
علامہ ناصر الدین البانیؒ کا تراویح کی رکعات کی تعداد اور صفت تراویح پر وہی موقف ہے جو اہل الحدیث کا ہے
تفصیل کیلئے ان کی تراویح پر کتاب پڑھیں
کتاب صلاۃ التراویح مترجم اردو
صلاة التراويح عربي
 
شمولیت
مارچ 20، 2018
پیغامات
166
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
37

نبی پاک ﷺ سے ۲۰ رکعت تراویح کا ثبوت

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ حَمْزَۃُ بْنُ یُوْسُفَ السَّھْمِیُّ حَدَّثَنَا اَبُوْالْحَسَنِ عَلِّیُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اَحْمَدَ الْقَصْرِیُّ اَلشَّیْخُ الصَّالِحُ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ عَبْدِ الْمُؤمِنِ اَلْعَبْدُ الصَّالِحُ قَالَ؛ اَخْبَرَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ حُمَیْدِ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ہَارُوْنَ حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ الْحَنَّازِعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عَتِیْکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ خَرَجَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فِیْ رَمَضَانَ فَصَلَّی النَّاسَ اَرْبَعَۃً وَّعِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَاَوْتَرَ بِثَلَاثَۃٍ. (تاریخ جرجان لحافظ حمزۃ بن یوسف السھمی ص146)
اعتراض:
محمد بن حمید الرازی اور عمر بن ہارون البلخی ضعیف ہیں۔ (ضرب حق: جولائی 2012ء مضمون زبیر علیزئی
جواب:
۱۔ امام ابن ماجہ رحمة اللہ علیہ نے ایک حدیث نقل کی ہے جس میں محمد بن حمید راوی ہیں اور اس کو صحیح کہا ہے اور البانی نے بھی اس پر صحیح کا حکم لگایا ہے
(۱۳۰۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الزُّرَقِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ كَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى الْعِيدِ رَجَعَ فِي غَيْرِ الطَّرِيقِ الَّذِي أَخَذَ فِيهِ .
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عیدین کے لیے نکلتے تو اس راستہ کے سوا دوسرے راستہ سے لوٹتے جس سے شروع میں آئے تھے۔ابن ماجہ (صحیح عند ابن ماجہ و البانی وفیھا راوی محمد بن حمید)
۲۔عمر بن ہارون کے بارے میں امام ترمذی، امام بخاری اور دیگر محدثین کی رائے ملاحظہ فرمائیں۔

(شرح۲۷۶۲) ، ‏‏‏‏‏‏وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ عُمَرُ بْنُ هَارُونَ:‏‏‏‏ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏لَا أَعْرِفُ لَهُ حَدِيثًا لَيْسَ لَهُ أَصْلٌ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ يَنْفَرِدُ بِهِ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُ مِنْ لِحْيَتِهِ مِنْ عَرْضِهَا وَطُولِهَا لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ هَارُونَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَأَيْتُهُ حَسَنَ الرَّأْيِ فِي عُمَرَ بْنِ هَارُونَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَسَمِعْتُ قُتَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ عُمَرُ بْنُ هَارُونَ كَانَ صَاحِبَ حَدِيثٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يَقُولُ:‏‏‏‏ الْإِيمَانُ قَوْلٌ وَعَمَلٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا، ‏‏‏‏‏‏وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصَبَ الْمَنْجَنِيقَ عَلَى أَهْلِ الطَّائِفِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ قُتَيْبَةُ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِوَكِيعٍ:‏‏‏‏ مَنْ هَذَا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ صَاحِبُكُمْ عُمَرُ بْنُ هَارُونَ.(ترمذی)
امام ترمذی کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے: عمر بن ہارون مقارب الحدیث ہیں۔ میں ان کی کوئی ایسی حدیث نہیں جانتا جس کی اصل نہ ہو، یا یہ کہ میں کوئی ایسی حدیث نہیں جانتا جس میں وہ منفرد ہوں، سوائے اس حدیث کے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ڈاڑھی کے طول و عرض سے کچھ لیتے تھے۔ میں اسے صرف عمر بن ہارون کی روایت سے جانتا ہوں۔ میں نے انہیں ( یعنی بخاری کو عمر بن ہارون ) کے بارے میں اچھی رائے رکھنے والا پایا ہے، ۳- میں نے قتیبہ کو عمر بن ہارون کے بارے میں کہتے ہوئے سنا ہے کہ عمر بن ہارون صاحب حدیث تھے۔ اور وہ کہتے تھے کہ ایمان قول و عمل کا نام ہے، ۴- قتیبہ نے کہا: وکیع بن جراح نے مجھ سے ایک شخص کے واسطے سے ثور بن یزید سے بیان کیا ثور بن یزید سے اور ثور بن یزید روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل طائف پر منجنیق نصب کر دیا۔ قتیبہ کہتے ہیں میں نے ( اپنے استاد ) وکیع بن جراح سے پوچھا کہ یہ شخص کون ہیں؟ ( جن کا آپ نے ابھی روایت میں «عن رجل» کہہ کر ذکر کیا ہے ) تو انہوں نے کہا: یہ تمہارے ساتھی عمر بن ہارون ہیں
واللہ اعلم
- ابوحنظلہ
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,474
پوائنٹ
791
نبی پاک ﷺ سے ۲۰ رکعت تراویح کا ثبوت

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ حَمْزَۃُ بْنُ یُوْسُفَ السَّھْمِیُّ حَدَّثَنَا اَبُوْالْحَسَنِ عَلِّیُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اَحْمَدَ الْقَصْرِیُّ اَلشَّیْخُ الصَّالِحُ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ عَبْدِ الْمُؤمِنِ اَلْعَبْدُ الصَّالِحُ قَالَ؛ اَخْبَرَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ حُمَیْدِ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ہَارُوْنَ حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ الْحَنَّازِعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عَتِیْکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ خَرَجَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فِیْ رَمَضَانَ فَصَلَّی النَّاسَ اَرْبَعَۃً وَّعِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَاَوْتَرَ بِثَلَاثَۃٍ. (تاریخ جرجان لحافظ حمزۃ بن یوسف السھمی ص146)
مقلد بھائی !
اس روایت کا ترجمہ تو کریں ، اس میں بیس رکعات نہیں ہیں ۔
 
Top