اس بات سے تو میں یہی سمجھا ہوں کے امام النووی فضائل الاعمال کے موضوع والی احادیث پر حکم لگانے میں نرمی برتتے ہیں۔
کسی دفتر میں کچھ ملازمین کی ضرورت تھی ، اعلان ہوا ، لوگ آئے ، ایک نابینا شخص بھی آگیا ، ان کا انٹرویو کرنے والے دو الگ الگ آدمی تھے ، ایک آدمی نے نابینے کو یہ کہہ کر رد کردیا ، کہ آب نابینے ہیں ، ہماری شرائط پر پورا نہیں اترتے ، لہذا آپ تشریف لے جائیں ۔
دوسرے آدمی نے اسی نابینا کو رکھ لیا اور کہا کہ کوئی بات نہیں ، آپ آجائیں گو آپ آنکھوں کی نعمت سے محروم ہیں لیکن ہمارے کام کی نوعیت ایسی ہے کہ آپ بھی اس میں شرکت کرسکتے ہیں ۔
آپ کے خیال میں اس آخری آدمی نے اس شخص کو ’’ نابینا ‘‘ نہیں سمجھا ؟
یہی طریقہ کار ضعیف احادیث سے استدلال کرنے والے کچھ علماء کا ہے ۔ ان کا احادیث کو پیش کرنے سے یہ نہیں اخذ کیا جاسکتا کہ وہ ان کو بالکل صحیح سمجھتے ہیں ، یا انہوں نے اگر کسی جگہ اس کو ضعیف کہا ، پھر کسی جگہ بطور استدلال پیش کیا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہوں نے اپنی تضعیف کی مخالفت کرتے ہوئے اس حدیث کی تصحیح کردی ہے ۔