• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام النووی كا ریاض الصالحین كی ایك حدیث كے بارے میں قول

شمولیت
دسمبر 29، 2011
پیغامات
91
ری ایکشن اسکور
82
پوائنٹ
63
نہیں ، امام نووی بھی دوسرے علماء کی طرح اس کو ضعیف سمجھتے ہیں ۔ لیکن استدلال بھی کرتے ہیں ۔
تو پھر کیا وجہ ہے صحیح کا حکم لگانے کی؟
ہ حدیث پر حکم لگانے میں نرمی برتتے ہیں
بالخصوص جب حدیث فضائل اعمال کے موضوع پر ہو ۔
اس بات سے تو میں یہی سمجھا ہوں کے امام النووی فضائل الاعمال کے موضوع والی احادیث پر حکم لگانے میں نرمی برتتے ہیں۔
 
شمولیت
دسمبر 29، 2011
پیغامات
91
ری ایکشن اسکور
82
پوائنٹ
63
رياض الصالحين میں! یہی تو بات ہو رہی ہے پہلی پوسٹ سے! (ابتسامہ)
اور امام النووی کا بھی قول پیش کیا ہے اس راوی پر.
ملاحظہ فرمائیں:
 

اٹیچمنٹس

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,514
پوائنٹ
964
اس بات سے تو میں یہی سمجھا ہوں کے امام النووی فضائل الاعمال کے موضوع والی احادیث پر حکم لگانے میں نرمی برتتے ہیں۔
کسی دفتر میں کچھ ملازمین کی ضرورت تھی ، اعلان ہوا ، لوگ آئے ، ایک نابینا شخص بھی آگیا ، ان کا انٹرویو کرنے والے دو الگ الگ آدمی تھے ، ایک آدمی نے نابینے کو یہ کہہ کر رد کردیا ، کہ آب نابینے ہیں ، ہماری شرائط پر پورا نہیں اترتے ، لہذا آپ تشریف لے جائیں ۔
دوسرے آدمی نے اسی نابینا کو رکھ لیا اور کہا کہ کوئی بات نہیں ، آپ آجائیں گو آپ آنکھوں کی نعمت سے محروم ہیں لیکن ہمارے کام کی نوعیت ایسی ہے کہ آپ بھی اس میں شرکت کرسکتے ہیں ۔
آپ کے خیال میں اس آخری آدمی نے اس شخص کو ’’ نابینا ‘‘ نہیں سمجھا ؟
یہی طریقہ کار ضعیف احادیث سے استدلال کرنے والے کچھ علماء کا ہے ۔ ان کا احادیث کو پیش کرنے سے یہ نہیں اخذ کیا جاسکتا کہ وہ ان کو بالکل صحیح سمجھتے ہیں ، یا انہوں نے اگر کسی جگہ اس کو ضعیف کہا ، پھر کسی جگہ بطور استدلال پیش کیا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہوں نے اپنی تضعیف کی مخالفت کرتے ہوئے اس حدیث کی تصحیح کردی ہے ۔
 
Last edited:

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,514
پوائنٹ
964
تو پھر کیا وجہ ہے صحیح کا حکم لگانے کی؟
کہاں لگایا صحیح کا حکم ؟
رياض الصالحين میں! یہی تو بات ہو رہی ہے پہلی پوسٹ سے! (ابتسامہ)
اور امام النووی کا بھی قول پیش کیا ہے اس راوی پر.
ملاحظہ فرمائیں:
اصل میں امام نووی کا صحیح کہنا ، میری نظر سے نہیں گزرا ، میں نے اس بنیاد پر کہا تھا ، اگر انہوں نے واقعتا اس کو ’’ صحیح ‘‘ قرار دیا ہے ، تو یہ بات خود ان کے قول کے خلاف ہے کہ وہ عاصم بن عبید اللہ کو ضعیف قرار دے چکے ہیں ۔
 
شمولیت
دسمبر 29، 2011
پیغامات
91
ری ایکشن اسکور
82
پوائنٹ
63
کیا ریاض الصالحین میں حدیث کا لانا یہ نہیں بتاتا کے ان کے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے؟
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,514
پوائنٹ
964
کیا ریاض الصالحین میں حدیث کا لانا یہ نہیں بتاتا کے ان کے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے؟
امام صاحب کتاب کے مقدمہ میں فرماتے ہیں :
فَرَأَيتُ أَنْ أَجْمَعَ مُخْتَصَراً منَ الأحاديثِ الصَّحيحَةِ, مشْتَمِلاً عَلَى مَا يكُونُ طريقاً لِصَاحبهِ إِلى الآخِرَةِ , ومُحَصِّلاً لآدَابِهِ البَاطِنَةِ وَالظَاهِرَةِ, جَامِعاً للترغيب والترهيب وسائر أنواع آداب السالكين: من أحاديث الزهد , ورياضات النُّفُوسِ , وتَهْذِيبِ الأَخْلاقِ, وطَهَارَاتِ القُلوبِ وَعِلاجِهَا, وصِيانَةِ الجَوَارحِ وَإِزَالَةِ اعْوِجَاجِهَا, وغَيرِ ذلِكَ مِنْ مَقَاصِدِ الْعارفِينَ.
وَألتَزِمُ فيهِ أَنْ لا أَذْكُرَ إلاّ حَدِيثاً صَحِيحاً مِنَ الْوَاضِحَاتِ, مُضَافاً إِلى الْكُتُبِ الصَّحِيحَةِ الْمَشْهُوراتِ ۔

اس میں انہوں نے صراحت کےساتھ کہا ہے کہ میں صرف صحیح احادیث ہی ذکر کروں گا ، لہذا آپ کی بات درست معلوم ہوتی ہے کہ کتاب کی تمام احادیث ان کے نزدیک صحیح ( مقبول : صحیح اور حسن لذاتہ و لغیرہ ) ہیں ۔
 
Top