• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام بخاری کے ایک اصول پر سوال

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,583
پوائنٹ
384
امام بخاری نے جز رفع الیدین میں ایک اصول بیان کیا ہے کہ: اگر ایک شخص کہتا ہے کہ فلاں شخص نے یہ کام کیا ہے، اور دوسرا شخص کہتا ہے کہ اس نے یہ کام نہیں کیا، تو امام بخاری کہتے ہیں کہ جو شخص کہتا کہ اس نے یہ کام کیا ہے، تو اس کی بات قابل قبول ہو گی، کیونکہ اس نے اسے محفوظ رکھا ہے، اور دوسرا شخص جس نے کہا کہ اس نے یہ کام نہیں کیا، اس نے اسے محفوظ نہیں رکھا، اور اس کی بات قبول نہیں ہو گی۔

کیا یہ اصول جمہور محدثین سے ثابت ہے؟؟ اگر ہے تو ان کے اقوال سے ثابت کریں۔ جزاک اللہ خیراً
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
میری اپنے بھائیوں سے گزارش ہے کہ اپنا سوال باحوالہ مکمل ذکر کیا کریں۔ مذکورہ بالا سوال میں امام بخاری رحمہ اللہ کی عبارت مذکورہ باحوالہ نقل کی جائے ، چاہے اصل کتاب سے ہو یا کسی ثانوی مصدر ہی سے ہو۔ کیونکہ اس طرح آپ مجیب پر دوہرا بوجھ ڈال رہے ہوتے ہیں کہ وہ پہلے آپ کا سوال تلاش کرے اور پھر اس کا جواب دے۔
اور یہ بھی امکان ہو سکتا ہے کہ مجیب نے جزء رفع الیدین سے جو عبارت آپ کے سوال سے متعلق سمجھی ہو، وہ اس سے مختلف ہو جو عبارت آپ کے سوال کی بنیا دہو۔
لہذا جب بھی سوال ہو توسوال متعین ہو۔
اس تکلیف کے لیے ہم معذرت خوا ہ ہیں ۔
جزاکم اللہ خیرا۔
 

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,583
پوائنٹ
384
بھائی جان میں نے حوالہ دوسری پوسٹ میں ڈال دیا تھا، چلیں آپ کے کہنے پر ایک بار پھر ڈال دیتا ہوں۔

یہ اصول امام بخاری نے دلائل کے ساتھ جز رفع الیدین میں بتایا ہے۔

یہ رہی جز رفع الیدین، آپ یہ اصول صفحہ نمبر 41 اور 42 میں حدیث نمبر ١١ کے نیچے دیکھ سکتے ہیں

http://ahlulhadeeth.net/book/Juzz_rafa_ul_Yadain.pdf

جزاک اللہ خیراً
 

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,583
پوائنٹ
384
میں نے ایک جگہ نورالعینین فی مسئلہ رفع الیدین میں بھی کہیں دیکھا تھا جس میں امام نووی بھی امام بخاری سے ملتی جلتی بات کہ رہے تھے۔ لیکن مجھے مکمل حوالہ نہیں پتا۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
١۔یہ قاعدہ کہ
مثبت کو نافی پر مقدم کیا جائے گا،
امام بخاری اور ان کے شیخ حمیدی رحمہما اللہ کا ہےاور امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کے جوازمیں کچھ آثار اور احادیث کا حوالہ بھی اپنی کتاب جزء رفع الیدین میں دیا ہے۔
٢۔آپ کا متعین سوال جمہور محدثین کے حوالہ سے تھا کہ وہ اس کے قائل ہیں یا نہیں؟
امام زرکشی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ جمہور فقہاء کا موقف یہی ہے۔اسی طرح امام ابن حجر رحمہ اللہ نے اس قاعدہ کو اکثر اہل علم کا قول کہا ہے اور اس کے مخالف رائے کو شاذ کہا ہے۔
پس جمہور اہل علم کے نزدیک یہ قاعدہ درست ہے لیکن بعض اہل علم نے وضاحت کی ہے کہ اس قاعدہ کا مطلق طور پر ہونا درست نہیں ہے یعنی اس کی کچھ شرائط اور قیود بھی ہیں۔
تفصیل کے لیے یہ لنک ملاحظہ فرمائیں:
قاعدة "المثبِت مقدم على النافي" ليست على إطلاقها، وذكر بعض قيودها - ملتقى أهل الحديث
 

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,583
پوائنٹ
384
بہت شکریہ، بھائی جان اس اصول کے مطابق امام ابن حبان کا قول جو دوسری پوسٹ میں موجود ہے، کیا وہ صحیح ثابت ہوتا ہے یا نہیں؟؟

جزاک اللہ خیراً
 

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,583
پوائنٹ
384
اور ساتھ ہی ساتھ اگر ہو سکے تو وہ شرائط و قیود بھی بتا دیں جن سے مثبت کو نافی پر مقدم کیا جاتا ہے، چونکہ میری عربی اچھی نہیں ہے اس لئے میں آپ کی بیان کردا پوسٹ پڑھ نہیں سکتا، لیکن اگر وہ شرائط لمبی تازی ہیں تو آپ کو بتانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اس کے ترجمہ میں ہی آپ کا بہت سا قیمتی وقت ضائع ہو جائے گا۔

جزاک اللہ خیراً
 
Top