• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کے قول "وإذا كنا لا نكفر من عبد القبر..." کی صحیح توضیح شیخ ایمن العنقری حفظہ اللہ کے بیان کی روشنی میں

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
844
ری ایکشن اسکور
227
پوائنٹ
111
امام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کے قول "وإذا كنا لا نكفر من عبد القبر..." کی صحیح توضیح شیخ ایمن العنقری حفظہ اللہ کے بیان کی روشنی میں

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد:

شرک اکبر کے مرتکب کو عذر بالجہل دینے کے مسئلے میں امام محمد بن عبد الوهاب رحمہ اللہ تعالیٰ کے بعض کلمات کو ان کے اصل سیاق و سباق سے الگ کرکے پیش کرنا، اور ان سے ایسا مفہوم اخذ کرنا جو خود شیخ رحمہ اللہ اور ائمہ دعوت نجد کے صریح اقوال کے خلاف ہو، عصر حاضر کے بعض مرجئہ کی معروف روش بن چکی ہے۔ یہ شبہات درحقیقت امام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کے کلام کو صحیح طور پر نہ سمجھنے اور اس کے مقصود سے ناواقف ہونے کا نتیجہ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ہمارے محترم شیخ أيمن بن سعود العنقري حفظہ اللہ (الأستاذ المشارك بقسم العقيدة والمذاهب المعاصرة بجامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية) کو اس شبہے کا نہایت علمی، محققانہ اور مدلل انداز میں ازالہ کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ ہمارے محترم شیخ نے نصوص کی روشنی میں واضح کیا ہے کہ معاصر مرجئہ کا یہ استدلال کس قدر کمزور، سیاق سے ہٹا ہوا اور ائمہ نجد کے مقصود کے خلاف ہے۔

افادہ عام اور طلبہ علم کے استفادے کے پیش نظر ہم شیخ أيمن بن سعود العنقري حفظہ اللہ کے اس علمی بیان کی اردو ترجمانی پیش کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس مختصر خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، اسے حق کی معرفت اور اس پر ثابت قدمی کا ذریعہ بنائے۔


شیخ شیخ أيمن بن سعود العنقري حفظہ اللہ سے سوال کیا گیا:

أحسن الله إليكم شيخنا، جیسا کہ آپ پر مخفی نہیں کہ ہمارے اس زمانے میں شبہات بہت زیادہ پھیل گئے ہیں۔ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اپنے آپ کو سنت اور علمائے اہل سنت کی طرف منسوب کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ انہی ائمہ کی مخالفت کرتے ہیں، بلکہ کبھی ان میں سے بعض کے اقوال سے اور کبھی ان کے مخالفین، جیسے داؤد بن جرجیس، کے کلام سے استدلال کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں کئی شبہات پائے جاتے ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے، ہم ان شبہات میں سے بعض آپ کے سامنے پیش کریں جو ان لوگوں کی طرف سے بیان کیے جاتے ہیں جو شرک اکبر کے مرتکب کو جہالت کا عذر دیتے ہیں اور اسے مسلمان کہتے ہیں۔ ہم نے چند شبہات جمع کیے ہیں، اور ان میں پہلا شبہہ یہ ہے کہ شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کے اس قول کا صحیح مفہوم و شیخ کی مراد کو نہیں سمجھا گیا، جس میں انہوں نے فرمایا:

«وإذا كنا لا نكفر من عبد الصنم الذي على قبة عبد القادر، والصنم الذي على قبر أحمد البدوي، لأجل جهلهم وعدم من ينبههم، فكيف نكفر من لم يهاجر إلينا؟»

یعنی جب ہم اس شخص کی، جو عبدالقادر کی قبر پر قائم بت کی عبادت کرتا ہے، یا احمد بدوی کی قبر پر موجود بت کی عبادت کرتا ہے، ان کی جہالت اور انہیں متنبہ کرنے والے کے نہ ہونے کی وجہ سے تکفیر نہیں کرتے، تو پھر اس شخص کی تکفیر کیسے کر سکتے ہیں جو ہماری طرف ہجرت کرکے نہیں آیا؟

شیخ أيمن بن سعود العنقري حفظہ اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں فرماتے ہیں:

اس شبہے کے جواب میں، جس سے بعض معاصرین استدلال کرتے ہیں، جو شرک اکبر کرنے والے کو جہالت کی بنا پر عذر دیتے ہیں اور اسے مسلمان کہتے ہیں، اور جو کہ الإمام المجدد الشيخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کے مذکورہ بالا قول کے صحیح مفہوم کو نہ سمجھنے پر مبنی ہے، میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتے ہوئے اس شبہے کا جواب عرض کرتا ہوں۔

پہلی بات یہ ہے کہ یہ نص شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کے کلام میں وارد ہوئی ہے۔ اسے مؤرخ الدعوة شیخ حسین بن غنام رحمہ اللہ نے اپنی کتاب تاریخ نجد (جلد اول، صفحہ ٤٥٥) میں اس لفظ کے ساتھ نقل کیا ہے:

«وإذا كنا لا نكفر من عبد الصنم الذي على قبر عبد القادر، والصنم الذي على قبر أحمد البدوي وأمثالهما، لأجل جهلهم وعدم من يفهمهم، فكيف نكفر من لم يشرك بالله إذا لم يهاجر إلينا؟»

جب ہم عبدالقادر کی قبر پر موجود بت اور احمد بدوی کی قبر پر موجود بت کی عبادت کرنے والوں کی ان کی جہالت اور انہیں سمجھانے والے کے نہ ہونے کی وجہ سے تکفیر نہیں کرتے، تو پھر اس شخص کی کیسے تکفیر کریں جو اللہ کے ساتھ شرک کرنے والا نہیں ہے لیکن وہ ہماری طرف ہجرت نہیں کرتا؟

اسی طرح مؤلفات الشيخ محمد بن عبد الوهاب، القسم الثالث (الفتاوى)، صفحة (٣٧) میں یہ الفاظ ہیں:

«وإذا كنا لا نكفر من يعبد قبة الكواز لعدم من ينبههم، فكيف نكفر من لم يهاجر إلينا؟» جب ہم قبة الکواز کی عبادت کرنے والے کی اس لیے تکفیر نہیں کرتے کہ اسے تنبیہ کرنے والا کوئی نہیں، تو پھر اس شخص کی کیسے تکفیر کریں جو ہماری طرف ہجرت نہیں کرتا؟

اور ایک دوسری جگہ یہ الفاظ ہیں:

«وإذا كنا لا نقاتل من يعبد قبة الكواز حتى نتقدم بدعوته إلى إخلاص الدين لله، فكيف نكفر من لم يهاجر إلينا إذا كان موحدًا؟» جب ہم قبة الکواز کی عبادت کرنے والے سے اس وقت تک قتال نہیں کرتے جب تک ہم اسے اخلاص دین کی دعوت نہ پہنچا دیں، تو پھر اس شخص کی کیسے تکفیر کریں جو موحد ہونے کے باوجود ہماری طرف ہجرت نہیں کرتا؟

شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کے اس کلام کی مختلف روایات اور مختلف الفاظ کو جاننے سے ان کی مراد سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

اس شبہے کے رد میں پہلی بات یہ ہے کہ اس عبارت کو اس کے اصل سیاق و سباق سے الگ کرکے پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ شیخ نے یہ بات ایک خاص سبب سے فرمائی تھی، اور وہ سبب یہ تھا کہ ان پر یہ الزام لگایا جا رہا تھا کہ وہ تکفیر بالعموم کرتے ہیں۔

خود شیخ نے اپنے کلام کے آغاز میں اس الزام کا ذکر کیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے فرمایا: «وأما الكذب والبهتان، فمثل قولهم: إنا نكفر بالعموم...» جھوٹ اور بہتان میں سے ایک یہ بات بھی ہے کہ لوگ کہتے ہیں: ہم سب کی تکفیر بالعموم کرتے ہیں...

شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کے پوتے، شیخ اسحاق بن عبد الرحمن بن حسن رحمہ اللہ نے اپنے رسالے "حكم تكفير المعين" میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: «ونذكر أولًا مساق الجواب وما الذي سيق لأجله، وهو أن الشيخ محمد رحمه الله، ومن حكى عنه هذه القصة، يذكرون ذلك معذرة له عما يدعيه خصومه عليه من تكفير المسلمين.»

یعنی ہم پہلے اس جواب کا سیاق اور وہ سبب بیان کرتے ہیں جس کی بنا پر یہ جواب دیا گیا، اور وہ یہ ہے کہ شیخ محمد رحمہ اللہ اور جن لوگوں نے ان سے یہ واقعہ نقل کیا ہے، وہ اس بات کو اس لیے ذکر کرتے ہیں تاکہ شیخ پر ان کے مخالفین کی طرف سے لگائے گئے اس الزام کا جواب دیا جا سکے کہ وہ مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں۔

لہٰذا اس شبہے کے رد میں پہلی وجہ یہی ہے کہ شیخ رحمہ اللہ نے یہ بات اپنی دعوت کے مخالفین، جیسے ابن سحیم، سلیمان بن سحیم اور دیگر لوگوں کی طرف سے لگائے گئے اس الزام کے جواب میں فرمائی تھی کہ وہ تمام مسلمانوں کی عمومی طور پر تکفیر کرتے ہیں۔ شیخ نے اس الزام کی نفی کرتے ہوئے یہ عبارت ذکر فرمائی۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کے کلام میں غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ أن النفي للتكفير الذي ترتب عليه القتال والهجرة یعنی انہوں نے جس تکفیر کی نفی کی ہے، وہ وہ تکفیر ہے جس پر قتال اور ہجرت جیسے احکام مرتب ہوتے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک اور اہل سنت کے ائمہ کے نزدیک یہ احکام اس وقت تک نافذ نہیں ہوتے جب تک حجت رسالت قائم نہ ہو جائے۔

یہ معلوم نہیں کہ عبدالقادر یا احمد بدوی کی قبر پر موجود قبوں کی عبادت کرنے والے تمام افراد میں سے ہر ہر شخص پر حجت قائم ہوئی تھی یا نہیں۔ ونفي التكفير ليس معناه تسميته مسلمًا، لا، بل هو مشرك جاهل، فالجهل مانع من التكفير الذي يترتب عليه القتال والهجرة والتعذيب في الآخرة لمن لم تبلغه الحجة، لكن ليس مانعًا من تسميته مشركًا في أحكام الدنيا، في الحكم الظاهر.

لہٰذا تکفیر کی نفی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اسے مسلمان کہا جائے، بلکہ وہ ایک جاہل مشرک ہے۔ اس کی جہالت اس تکفیر سے مانع ہے جس پر قتال، ہجرت اور آخرت کا عذاب مرتب ہوتا ہے، اگر اس تک رسول کی حجت نہ پہنچی ہو۔ البتہ یہ جہالت اسے دنیاوی ظاہری احکام میں مشرک کہلانے سے مانع نہیں بنتی۔

اس کی دلیل یہ ہے کہ خود شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے ان لوگوں کو غیر اللہ کا عبادت گزار قرار دیا اور فرمایا: «عبد الصنم الذي على قبر عبد القادر، والصنم الذي على قبر البدوي.» وہ شخص جو عبدالقادر کی قبر پر موجود بت کی عبادت کرتا ہے، اور وہ جو احمد بدوی کی قبر پر موجود بت کی عبادت کرتا ہے۔

پس شیخ نے انہیں غیر اللہ کا عبادت کرنے والا کہا، ومن عبد غير الله لا يسمى مسلمًا، بل هو مشرك. اور جو غیر اللہ کی عبادت کرے، اسے مسلمان نہیں کہا جاتا بلکہ وہ مشرک ہوتا ہے۔ اس لیے رسالت سے پہلے کے اسماء و احکام، اور رسالت کے بعد کے احکام میں فرق ہے۔

فاسم المشرك يثبت قبل الرسالة، وأما ما يترتب عليه من وعيد الآخرة وهو العذاب فلا، حتى تقوم عليه الحجة الرسالية. یعنی مشرک کا اسم تو شرک کرنے والے پر رسالت سے قبل ہی ثابت ہو جاتا ہے، لیکن آخرت کے عذاب کا استحقاق اس وقت تک ثابت نہیں ہوتا جب تک اس پر رسول کی حجت قائم نہ ہو جائے۔

یہاں شیخ الاسلام ابو العباس ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے "الفتاوى" (جلد ٢٠، صفحات ٣٧-٣٨) میں ایک نہایت اہم نص موجود ہے۔ وہ فرماتے ہیں: وقد فرَّق الله بين ما قبل الرسالة وما بعدها في الأسماء والأحكام، وجمع بينهما في أسماء وأحكام. اللہ تعالیٰ نے رسول کی بعثت سے پہلے اور اس کے بعد کے اسماء و احکام میں فرق رکھا ہے، اگرچہ بعض اعتبار سے ان میں اشتراک بھی ہے۔

فإنه سماهم ظالمين وطاغين ومفسدين
یعنی رسول کی آمد سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ نے بعض لوگوں کو ظالم، طاغی اور فساد برپا کرنے والا قرار دیا، جیسا کہ فرعون کے بارے میں فرمایا: ﴿اذهب إلى فرعون إنه طغىفرعون کے پاس جاؤ، بے شک وہ سرکش ہو گیا ہے۔

اور فرمایا: ﴿وإذ نادى ربك موسى أن ائت القوم الظالميناور جب آپ کے رب نے موسیٰ کو پکارا کہ ظالم قوم کے پاس جاؤ۔ اور فرمایا: ﴿إن فرعون علا في الأرض وجعل أهلها شيعًا يستضعف طائفةً منهم يذبح أبناءهم ويستحيي نساءهم إنه كان من المفسدين﴾. بے شک فرعون نے زمین میں سرکشی کی، اور اس کے باشندوں کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیا، ان میں سے ایک گروہ کو کمزور بناتا تھا، ان کے بیٹوں کو قتل کرتا اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا، یقینا وہ فساد کرنے والوں میں سے تھا۔

فأخبر أنه ظالم وطاغٍ ومفسد هو وقومه، وهذه أسماء ذم، والذم إنما يكون في الأفعال السيئة القبيحة
یعنی اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کو ظالم، سرکش اور مفسد قرار دیا۔ یہ سب مذمت کے اسماء ہیں، اور مذمت صرف برے اور قبیح افعال پر ہوتی ہے۔

فدلَّ ذلك على أن الأفعال تكون مذمومة قبل مجيء الرسول إليهم، لا يستحقون العذاب إلا بعد إتيان الرسول إليهم
یعنی اس سے معلوم ہوا کہ رسول کی آمد سے پہلے بھی بعض اعمال برے اور قابل مذمت ہوتے ہیں، لیکن ان اعمال پر آخرت کا عذاب اس وقت تک نہیں دیا جاتا جب تک ان کے پاس رسول نہ بھیج دیا جائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وما كنا معذبين حتى نبعث رسولًا﴾. اور ہم کسی کو عذاب نہیں دیتے جب تک ایک رسول نہ بھیج دیں۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت ہود علیہ السلام کا یہ قول نقل فرمایا: ﴿اعبدوا الله ما لكم من إله غيره إن أنتم إلا مفترون اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تم تو محض بہتان باندھنے والے ہو۔

فجعلهم مفترين قبل أن يحكم بحكم يخالفونه؛ لكونهم جعلوا مع الله إلها آخر
یعنی اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو رسول کی مکمل مخالفت کا حکم صادر ہونے سے پہلے ہی بہتان باندھنے والے قرار دیا، کیونکہ انہوں نے اللہ کے ساتھ دوسرے معبود بنا لیے تھے۔

پھر شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

فاسم المشرك ثبت قبل الرسالة، فإنه يشرك بربه، ويعدل به، ويجعل معه آلهةً أخرى، ويجعل له أندادًا قبل الرسول. وكذلك اسم الجهل والجاهلية، يقال: جاهلية وجاهلًا قبل مجيء الرسول. وأما التعذيب في الآخرة فلا، حتى تقوم عليه الحجة الرسالية.

اسم مشرک تو رسول کی آمد سے پہلے بھی ثابت ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ اپنے رب کے ساتھ شرک کرتا ہے، اس کے برابر دوسروں کو ٹھہراتا ہے، اس کے ساتھ دوسرے معبود بناتا ہے اور اس کے شریک مقرر کرتا ہے۔ اسی طرح جہالت اور جاہلیت کا نام بھی رسول کی آمد سے پہلے بولا جاتا ہے۔ البتہ آخرت کا عذاب اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک اس پر رسول کی حجت قائم نہ ہو جائے۔


تیسری بات یہ ہے کہ المراد بنفي التكفير في كلام الشيخ محمد بن عبد الوهاب التكفيرُ الموجبُ لاعتبار دارهم دارَ حربٍ وقتالهم یعنی شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کے کلام میں تکفیر کی نفی سے مراد وہ تکفیر ہے جس کے نتیجے میں کسی علاقے کو دار الحرب قرار دیا جائے اور وہاں کے لوگوں سے قتال کیا جائے۔

اس کی دلیل یہ ہے کہ شیخ کا یہ کلام اسی سیاق میں آیا ہے کہ: "لا نكفرهم ونقاتلهم" ہم ان کی تکفیر کر ان سے قتال نہیں کرتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ أن المنفي هو التكفير بالعموم الذي يترتب عليه القتال. یہاں جس تکفیر کی نفی کی جا رہی ہے، وہ تکفیر بالعموم ہے جس پر قتال کے احکام مرتب ہوتے ہیں۔ اسی بات کی تائید شیخ کے اس پہلے گزرے ہوئے قول سے بھی ہوتی ہے:"لا نقاتل من يعبد قبة الكواز". ہم قبة الكواز کی عبادت کرنے والوں سے اس وقت تک قتال نہیں کرتے۔

شیخ عبد اللطیف بن عبد الرحمن بن حسن بن محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ جو اپنے دادا شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کے مقصود کو سب سے زیادہ سمجھنے والوں میں سے تھے انہوں نے اپنی نہایت اہم کتاب "منهاج التأسيس والتقديس في الرد على شبه داود بن جرجيس" یہ بیان کیا ہے کہ أن عباد القبور لا يحكم بإسلامهم، قامت عليهم الحجة أم لا.. قبروں کی عبادت کرنے والوں کے اسلام کا حکم نہیں لگایا جاتا، خواہ ان پر حجت قائم ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔

شیخ عبد اللطیف رحمہ اللہ "المنهاج" من الطبعة المحققة کے صفحہ ٢٣٠ پر فرماتے ہیں: «وكلا النوعين لا يُحكم بإسلامهم». دونوں قسم کے لوگوں کے اسلام کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔

ان کی مراد دو قسم کے مشرک ہیں: المشرك الجاهل، والمشرك المعاند یعنی وہ مشرک جو جاہل ہے اور وہ مشرک جو حق معلوم ہونے کے باوجود ضد اور عناد کرتا ہے۔

پھر وہ فرماتے ہیں: «لا يحكم بإسلامهم، ولا يدخلون في مسمى المسلمين، حتى عند من لم يكفر بعضهم» ان دونوں کے اسلام کا حکم نہیں لگایا جائے گا، اور نہ ہی انہیں مسلمانوں میں شمار کیا جائے گا، حتیٰ کہ ان علماء کے نزدیک بھی جو ان میں سے بعض کی آخرت والی تکفیر میں اختلاف کرتے ہیں۔

یہاں شیخ عبد اللطیف رحمہ اللہ کے اس جملے: "حتى عند من لم يكفر بعضهم" سے مراد اہل فترت کے بارے میں علماء کے درمیان موجود اختلاف ہے، یعنی وہ لوگ جو دو رسولوں کے درمیانی زمانے میں تھے۔

بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ لم يجزم بكفرهم الكفر الموجب للخلود في النار، ويرى أنهم يمتحنون ایسے لوگوں پر وہ کفر ثابت نہیں کیا جائے گا جو ہمیشہ جہنم میں رہنے کا موجب ہو، بلکہ قیامت کے دن ان کا امتحان لیا جائے گا۔

جبکہ دوسرے علماء کا موقف یہ ہے کہ يقول بكفرهم وخلودهم في النار، لقيام الحجة بالميثاق ودلائل العقول على قبح الشرك واتخاذ آلهة مع الله یعنی وہ کافر ہیں اور ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، کیونکہ ان پر اللہ کے عہد (میثاق) اور عقل کی واضح دلیلوں کے ذریعے شرک کی قباحت کی حجت قائم ہو چکی تھی۔

شیخ عبد اللطیف رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«وأما الشرك فإنه يصدق عليهم، فهو يصدق عليهم، واسمه يتناولهم، وأي إسلام يبقى مع مناقضة أصله وقاعدته الكبرى: شهادة أن لا إله إلا الله؟! وبقاء الإسلام ومسماه مع بعض ما ذكر الفقهاء في باب حكم المرتد أظهر من بقائه مع عبادة الصالحين ودعائهم.»

رہا شرک، تو یہ ان لوگوں پر یقینا صادق آتا ہے، اسم شرک ان پر لاگو ہوتا ہے۔ آخر اس شخص کے پاس اسلام کا کون سا حصہ باقی رہ جاتا ہے جو اسلام کی اصل اور اس کی سب سے بڑی بنیاد، یعنی شہادت 'لا إله إلا الله' ہی کی مخالفت کر بیٹھے؟ بلکہ فقہاء نے باب مرتد میں جن بعض امور کا ذکر کیا ہے، ان کے باوجود اسلام کا باقی رہنا، صالحین کی عبادت کرنے اور انہیں پکارنے کے باوجود اسلام کے باقی رہنے سے زیادہ قابل تصور ہے۔ (انتهى كلامه)

میں کہتا ہوں کہ شیخ عبد اللطیف رحمہ اللہ کے کلام سے واضح ہوتا ہے کہ مشرک دو قسم کے ہوتے ہیں۔

پہلی قسم: من وقع في الشرك وهو جاهل، ولم تبلغه الحجة، فيسمى مشركًا في الظاهر من حاله، وتترتب عليه أحكام المشرك، فلا يصلى خلفه إن كان إمامًا، وإذا مات لا يصلى عليه، ولا يترحم عليه، ولا يرثه أقاربه، ولا يضحى عنه، وأمره في الآخرة إلى الله، كحال أهل الفترة، فإنه يمتحن يوم القيامة.

وہ شخص جو شرک میں مبتلا ہو گیا، لیکن جاہل تھا اور اس تک شرعی حجت نہیں پہنچی۔ ایسے شخص کو ظاہری اعتبار سے مشرک کہا جائے گا اور اس پر مشرکوں کے ظاہری احکام جاری ہوں گے۔ لہٰذا اگر وہ امام ہو تو اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جائے گی، اگر وہ فوت ہو جائے تو اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی، اس کے لیے رحمت کی دعا نہیں کی جائے گی، اس کے مسلمان رشتہ دار اس کے وارث نہیں ہوں گے، اس کی طرف سے قربانی نہیں کی جائے گی۔ البتہ آخرت میں اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے، اور اس کا حکم اہل فترت کی طرح ہوگا، جن کا قیامت کے دن امتحان لیا جائے گا۔

دوسری قسم: من بلغته الحجة، وأصر وعاند، فهو كافر ظاهرًا وباطنًا، وهو الكفر المستوجب للعقوبة في الدنيا بإقامة الحد، والعذاب في الآخرة، لقوله جل وعلا: ﴿وما كنا معذبين حتى نبعث رسولًا﴾.

وہ شخص جس تک شرعی حجت پہنچ چکی ہو، پھر بھی وہ اپنے شرک پر اصرار کرے اور عناد اختیار کرے۔ ایسا شخص ظاہر اور باطن دونوں اعتبار سے کافر ہے، اور یہی وہ کفر ہے جو دنیا میں شرعی سزا اور آخرت میں عذاب کا مستحق بناتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "اور ہم کسی کو عذاب نہیں دیتے جب تک ایک رسول نہ بھیج دیں۔"

چوتھی بات جو اس شبہے کے رد میں پیش کی جاتی ہے، وہ یہ ہے کہ شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے اس اہم مسئلے پر ایک مستقل کتاب تصنیف فرمائی، جس کا نام ہے: "مفيد المستفيد في كفر تارك التوحيد"۔ اس کتاب کے مقدمے میں شیخ رحمہ اللہ نے حضرت عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے جسے امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔

حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

«كُنتُ وأنا في الجاهِليَّةِ أظُنُّ أنَّ النَّاسَ على ضَلالةٍ، وأنَّهُم لَيسوا على شيءٍ وهم يَعبُدونَ الأوثانَ، فسَمِعتُ برَجُلٍ بمَكَّةَ يُخبِرُ أخبارًا، فقَعَدتُ على راحِلَتي، فقدِمتُ عليه، فإذا رَسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم مُستَخفيًا جُرَآءُ عليه قَومُه، فتَلَطَّفتُ حتَّى دَخَلتُ عليه بمَكَّةَ، فقُلتُ له: ما أنتَ؟ قال: أنا نَبيٌّ، فقُلتُ: وما نَبيٌّ؟ قال: أرسَلَني اللهُ، فقُلتُ: وبِأيِّ شَيءٍ أرسَلَكَ؟ قال: أرسَلَني بصِلةِ الأرحامِ، وكَسرِ الأوثانِ، وأن يوحَّدَ اللهُ لا يُشرَكُ به شَيءٌ»

میں زمانہ جاہلیت میں یہ سمجھتا تھا کہ لوگ گمراہی پر ہیں اور کسی صحیح دین پر نہیں، کیونکہ وہ بتوں کی عبادت کرتے تھے۔ پھر میں نے سنا کہ مکہ میں ایک شخص نئی باتیں بیان کر رہا ہے۔ چنانچہ میں اپنی سواری پر سوار ہو کر اس کے پاس پہنچا۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کے ظلم کی وجہ سے پوشیدہ طور پر دعوت دے رہے ہیں۔ میں نرمی اور احتیاط سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: آپ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نبی ہوں۔ میں نے پوچھا: نبی کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے مجھے بھیجا ہے۔ میں نے عرض کیا: اللہ نے آپ کو کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صلہ رحمی قائم کرنے، بتوں کو توڑنے، اور اس بات کی دعوت دینے کے لیے کہ صرف اللہ کی عبادت کی جائے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔

اس حدیث میں غور کیجیے کہ حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ مکہ سے بہت دور دیہاتی علاقے میں رہتے تھے۔ جب انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر پہنچی تو وہ اپنی سواری پر سوار ہو کر خود مکہ آئے تاکہ دین سیکھ سکیں۔

شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ اس حدیث سے یہ اصول بیان کرتے ہیں کہ أن كل من بلغه خبر الرسول ﷺ ويستطيع أن يفعل فعل عمرو بن عبسة فقد قامت عليه الحجة. یعنی جس شخص تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر پہنچ جائے، اور وہ حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کی طرح حق کی تلاش کے لیے آنے کی استطاعت بھی رکھتا ہو، تو اس پر حجت قائم ہو جاتی ہے۔

اسی لیے شیخ رحمہ اللہ نے "مفيد المستفيد" میں اس حدیث سے حاصل ہونے والے فوائد بیان کرتے ہوئے فرمایا:

«فمما فيه من الاعتبار أن هذا الأعرابي الجاهلي لما ذكر له أن رجلًا بمكة يتكلم في الدين بما يخالف الناس، لم يصبر حتى ركب راحلته، فقدم عليه، وعلم ما عنده، لما في قلبه من محبة الدين والخير. وهذا فسر به قوله تعالى: ﴿ولو علم الله فيهم خيرًا لأسمعهم﴾ أي: حرصًا على تعلم الدين، لأسمعهم، أي: أفهمهم.»

اس حدیث سے ایک اہم سبق یہ ملتا ہے کہ جب اس دیہاتی جاہلی شخص نے سنا کہ مکہ میں ایک آدمی ایسا دین پیش کر رہا ہے جو لوگوں کے دین کے خلاف ہے، تو وہ صبر نہ کر سکا بلکہ فورا اپنی سواری پر سوار ہو کر اس کے پاس پہنچ گیا، اور اس نے اس سے دین سیکھا، کیونکہ اس کے دل میں دین اور خیر کی محبت موجود تھی۔ اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر کی گئی ہے: ﴿ولو علم الله فيهم خيرًا لأسمعهم﴾ یعنی اگر اللہ ان کے دلوں میں دین سیکھنے کی سچی رغبت دیکھتا تو انہیں سمجھنے کی توفیق دیتا۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آج بہت سے لوگوں کا حق کو نہ سمجھ پانا اللہ تعالیٰ کے عدل کے مطابق ہے، کیونکہ اللہ ان کے دلوں میں دین سیکھنے کی سچی رغبت نہیں دیکھتا۔

شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کا مقصود یہ ہے کہ جس شخص تک علم پہنچ جائے، اور وہ اسے حاصل کرنے کی استطاعت بھی رکھتا ہو، تو اس پر حجت قائم ہو جاتی ہے، جیسا کہ حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ پر ہوئی۔ اسی حدیث سے شیخ رحمہ اللہ نے استدلال کیا کہ علم کا پہنچ جانا، استطاعت کے ساتھ، حجت قائم ہونے کے لیے کافی ہے۔

رہے وہ لوگ جو نہ خود حق سیکھنے کے لیے آئے، نہ توحید اور اس کے مخالف امور کو جاننے کی کوشش کی، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں سننے کی صلاحیت تو دی، لیکن سمجھنے کی توفیق نہیں دی، جیسا کہ فرمایا: ﴿ولو علم الله فيهم خيرًا لأسمعهم﴾ کیونکہ انہوں نے اصل میں حق سیکھنے کا ارادہ ہی نہیں کیا تھا، اسی وجہ سے انہیں صحیح سمجھ عطا نہیں ہوئی۔

لہٰذا یہ چاروں وجوہ واضح کرتی ہیں کہ شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کے اس کلام سے ان لوگوں کا استدلال درست نہیں جو شرک اکبر کے مرتکب شخص کو جہالت کا عذر دے کر مسلمان کہتے ہیں۔ ایسی غلط فہمی کی بنیادی وجہ شیخ کے کلام کو صحیح طور پر نہ سمجھنا اور اس کے مقصود کا صحیح ادراک نہ ہونا ہے۔

وبالله التوفيق، وجزاكم الله خيرًا، وبارك الله فيكم۔

یہ تھی ہمارے محترم شیخ أيمن بن سعود العنقري حفظہ اللہ تعالیٰ کے اس علمی درس کی اردو ترجمانی، جس میں انہوں نے امام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کے کلام کے متعلق پھیلائے جانے والے اس مشہور شبہے کا واضح نصوص کی روشنی میں مدلل جواب پیش فرمایا۔

ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ شیخ محترم کو جزائے خیر عطا فرمائے، ان کے علم، عمل اور دعوت میں برکت عطا فرمائے۔ آمین

اگر اس ترجمہ میں کوئی درستی، خوبی یا فائدہ ہے تو وہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہے، اور اگر کوئی لغزش یا کوتاہی رہ گئی ہو تو وہ میری اپنی خطا ہے، جس سے اللہ تعالیٰ سے معافی کا طالب ہوں۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم وبارك على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين۔
 
Top