• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام و خطیب مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر تمسخر کا جواب

سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,081
پوائنٹ
1,155
امام و خطیب مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر تمسخر کا جواب

امام مسجد نبوی شیخ علی بن عبدالرحمن الحذیفی حفظہ اللہ سے پچھلے دنوں نماز کے معاملے میں تھوڑی سی سہو ہوئی، لیکن انہوں نے کسی کی پرواہ کئے بغیر حدیث پر عمل کر کے دکھایا، اس بات کو لے کر اہل شرک و بدعت نے امام صاحب کا مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ جس کا جواب محمد عاقل حفظہ اللہ نے دیا ہے
آپ تمام سے گزارش ہے کہ اس ویڈیو کو ضرور دیکھیں اور زیادہ سے زیادہ پھیلائیں۔

 

علی بہرام

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 18، 2013
پیغامات
1,216
ری ایکشن اسکور
163
پوائنٹ
105
اب اس صفائی پیش کرنے بعد بھی چند سوالات قائم ہوتے ہیں،
1۔صفائی پیش کرنے والے کی بات ہی مان لی جائے تو یہ الفاظ انتظروا دقيقه ایسی صورت حال میں کیا سنت رسولﷺ سے ثابت ہیں ؟۔اگر ثابت نہیں تو کیا ایسا کہنا بدعت ہے؟
2۔ اس ویڈیو میں دیکھایا گیا ہے امام صاحب نے تکبیر تحریمہ کہنے کے کچھ دیر بعد انتظروا دقيقه کے الفاظ مائیک پر کہے جب تک تمام مقتدی تکبیر تحریمہ کہہ کر اپنے ہاتھ باندھ چکے تھے لیکن اس کے جواز میں جو احادیث پیش کی گئی ان میں بیان ہوا کہ رسول اللہﷺ نماز شروع نہیں کی تھی بخاری کے الفاظ کے مطابق آپﷺ مصلے پر تشریف لائے اور یہ کہتے ہوئے واپس تشریف لے گئے کہ مكانكم یعنی اپنی جگہ ٹہرے رہو (صحیح بخاری حدیث نمبر275) پھر ان احادیث کو امام صاحب کی صفائی میں کیوں پیش کیا جارہا ہے؟؟
3۔ اس کلیپ میں صفائی پیش کرنے والے نے ایک حدیث رسول پیش کرکے کہا کہ جب بلد التوحید یعنی سعودی عرب میں عبدالوھاب نجدی اور ملک عبد العزیز کی حکومت آئی تو انھوں نے اس حدیث پر عمل کیا آئیں وہ حدیث ملاحظہ کرتے ہیں

قال لي عليُّ بنُ أبي طالبٍ : ألا أبعثُك على ما بعثني عليه رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ ؟ أن لا تدعَ تمثالًا إلا طمستَه . ولا قبرًا مُشرفًا إلا سوَّيتَه . وفي روايةٍ : ولا صورةً إلا طمَسْتَها .
الراوي: علي بن أبي طالب المحدث: مسلم - المصدر: صحيح مسلم - الصفحة أو الرقم: 969
خلاصة حكم المحدث: صحيح

حضرت علی سے روایت اس حدیث کے پہلے حصہ میں بیان ہوا کہ '
کسی تصویر کو مٹائے بغیر نہیں چھوڑنا
کیا نجدی حکمرانوں نے حدیث کے اس حکم پر عمل کیا ؟
نہیں کیا کیوں کہ آج بھی اپنے کرنسی نوٹ پر اپنے تمام نجدی حکمرانوں کی تصاویر چھاپی جارہی ہے یعنی حدیث کے برعکس عمل ، حدیث میں حکم ہے کہ تصویرکو مٹادو اور نجدی حکمران اپنے حکمرانوں کی تصاویر بنارہے ہیں ،
آخر ایسا کیوں ؟؟؟

4۔ احادیث کی صحت و سقم سے صرف نظر کرتے ہوئے یہ بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ان احادیث میں بیان ہوا کہ رسول اللہﷺ نماز سے فراغت کے بعد اپنے اس طرح واپس تشریف لے جانے کی وجہ بیان فرمائی لیکن اس وڈیو کلیپ میں امام صاحب کی جانب سے اس طرح واپس جانے کی وجہ امام صاحب نے بیان کی یا نہیں اس بات کا کوئی ذکر نہیں اگر ہے تو وہ عنایت فرمادیں ،
والسلام
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,523
پوائنٹ
304
اب اس صفائی پیش کرنے بعد بھی چند سوالات قائم ہوتے ہیں،
1۔صفائی پیش کرنے والے کی بات ہی مان لی جائے تو یہ الفاظ انتظروا دقيقه ایسی صورت حال میں کیا سنت رسولﷺ سے ثابت ہیں ؟۔اگر ثابت نہیں تو کیا ایسا کہنا بدعت ہے؟
2۔ اس ویڈیو میں دیکھایا گیا ہے امام صاحب نے تکبیر تحریمہ کہنے کے کچھ دیر بعد انتظروا دقيقه کے الفاظ مائیک پر کہے جب تک تمام مقتدی تکبیر تحریمہ کہہ کر اپنے ہاتھ باندھ چکے تھے لیکن اس کے جواز میں جو احادیث پیش کی گئی ان میں بیان ہوا کہ رسول اللہﷺ نماز شروع نہیں کی تھی بخاری کے الفاظ کے مطابق آپﷺ مصلے پر تشریف لائے اور یہ کہتے ہوئے واپس تشریف لے گئے کہ مكانكم یعنی اپنی جگہ ٹہرے رہو (صحیح بخاری حدیث نمبر275) پھر ان احادیث کو امام صاحب کی صفائی میں کیوں پیش کیا جارہا ہے؟؟
3۔ اس کلیپ میں صفائی پیش کرنے والے نے ایک حدیث رسول پیش کرکے کہا کہ جب بلد التوحید یعنی سعودی عرب میں عبدالوھاب نجدی اور ملک عبد العزیز کی حکومت آئی تو انھوں نے اس حدیث پر عمل کیا آئیں وہ حدیث ملاحظہ کرتے ہیں

قال لي عليُّ بنُ أبي طالبٍ : ألا أبعثُك على ما بعثني عليه رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ ؟ أن لا تدعَ تمثالًا إلا طمستَه . ولا قبرًا مُشرفًا إلا سوَّيتَه . وفي روايةٍ : ولا صورةً إلا طمَسْتَها .
الراوي: علي بن أبي طالب المحدث: مسلم - المصدر: صحيح مسلم - الصفحة أو الرقم: 969
خلاصة حكم المحدث: صحيح

حضرت علی سے روایت اس حدیث کے پہلے حصہ میں بیان ہوا کہ '
کسی تصویر کو مٹائے بغیر نہیں چھوڑنا


کیا نجدی حکمرانوں نے حدیث کے اس حکم پر عمل کیا ؟
نہیں کیا کیوں کہ آج بھی اپنے کرنسی نوٹ پر اپنے تمام نجدی حکمرانوں کی تصاویر چھاپی جارہی ہے یعنی حدیث کے برعکس عمل ، حدیث میں حکم ہے کہ تصویرکو مٹادو اور نجدی حکمران اپنے حکمرانوں کی تصاویر بنارہے ہیں ،


آخر ایسا کیوں ؟؟؟

4۔ احادیث کی صحت و سقم سے صرف نظر کرتے ہوئے یہ بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ان احادیث میں بیان ہوا کہ رسول اللہﷺ نماز سے فراغت کے بعد اپنے اس طرح واپس تشریف لے جانے کی وجہ بیان فرمائی لیکن اس وڈیو کلیپ میں امام صاحب کی جانب سے اس طرح واپس جانے کی وجہ امام صاحب نے بیان کی یا نہیں اس بات کا کوئی ذکر نہیں اگر ہے تو وہ عنایت فرمادیں ،
والسلام
چلیں مان لیا کہ نجدی حکمرانوں نے غلط کیا کہ اپنے کرنسی نوٹوں سے حکمرانوں کی تصویر نہیں ہٹائی - لیکن معاف کیجیے گا آپ لوگ جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نام لیوا ہیں آپ لوگوں نے کبھی حضرت علی رضی الله عنہ سے مروی اسی حدیث کے دوسرے حکم یعنی . ولا قبرًا مُشرفًا إلا سوَّيتَه .(اور نہ چھوڑو قبروں کو مگر زمین کے برابر کردو ) پر عمل کیا ہے -کیا حضرت علی رضی الله عنہ اور حضرت حسین رضی الله عنہ اور اہل بیت کے بڑے بڑے مزارات بنانے اوران مزارات کی زیارت اور پوجا کا حکم نبی کریم صل الله علیہ وآ لہ وسلم نے یا پھر خود ان پاک ہستیوں نے دیا تھا آپ کو ؟؟؟
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,329
پوائنٹ
800
امام و خطیب مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر تمسخر کا جواب

امام مسجد نبوی شیخ علی بن عبدالرحمن الحذیفی حفظہ اللہ سے پچھلے دنوں نماز کے معاملے میں تھوڑی سی سہو ہوئی، لیکن انہوں نے کسی کی پرواہ کئے بغیر حدیث پر عمل کر کے دکھایا، اس بات کو لے کر اہل شرک و بدعت نے امام صاحب کا مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ جس کا جواب محمد عاقل حفظہ اللہ نے دیا ہے
آپ تمام سے گزارش ہے کہ اس ویڈیو کو ضرور دیکھیں اور زیادہ سے زیادہ پھیلائیں۔

اس کو کہتے ہیں کہ بات کا بتنگڑ بنانا۔ امام صاحب نے عین سنت پر عمل کیا ہے اور ائمہ حرمین کے دشمن باور کرا رہے ہیں کہ امام صاحب کا فون آگیا ہے اور وہ سب کی نماز توڑ کر فون سننے جا رہے ہیں۔ إنا لله وإنا إليه راجعون! سمجھ نہیں آتی کہ ایسے لوگوں کیلئے ہدایت کی دُعا کی جائے یا ۔۔۔

یہ واقعہ میری موجودگی میں پیش آیا۔ میں اس وقت مسجد نبوی میں ہی موجود تھا۔ بڑی خوشی ہوئی تھی کہ امام صاحب نہ ہزاروں لوگوں کی متوقع تنقید سے ڈرے، نہ نماز کی لائیو ریکارڈنگ کو بہانہ بنانا بلکہ صرف اللہ وحدہٗ لا شریک سے ڈرتے ہوئے (کذا احسبہ واللہ حسیبہ) سنت مبارکہ پر عمل کرتے ہوئے جا کر وضو کیا اور پھر لوگوں کو نماز پڑھائی۔

اللہ تعالیٰ ہماری اصلاح فرمائیں!
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,329
پوائنٹ
800
اب اس صفائی پیش کرنے بعد بھی چند سوالات قائم ہوتے ہیں،
1۔صفائی پیش کرنے والے کی بات ہی مان لی جائے تو یہ الفاظ انتظروا دقيقه ایسی صورت حال میں کیا سنت رسولﷺ سے ثابت ہیں ؟۔اگر ثابت نہیں تو کیا ایسا کہنا بدعت ہے؟
2۔ اس ویڈیو میں دیکھایا گیا ہے امام صاحب نے تکبیر تحریمہ کہنے کے کچھ دیر بعد انتظروا دقيقه کے الفاظ مائیک پر کہے جب تک تمام مقتدی تکبیر تحریمہ کہہ کر اپنے ہاتھ باندھ چکے تھے لیکن اس کے جواز میں جو احادیث پیش کی گئی ان میں بیان ہوا کہ رسول اللہﷺ نماز شروع نہیں کی تھی بخاری کے الفاظ کے مطابق آپﷺ مصلے پر تشریف لائے اور یہ کہتے ہوئے واپس تشریف لے گئے کہ مكانكم یعنی اپنی جگہ ٹہرے رہو (صحیح بخاری حدیث نمبر275) پھر ان احادیث کو امام صاحب کی صفائی میں کیوں پیش کیا جارہا ہے؟؟
3۔ اس کلیپ میں صفائی پیش کرنے والے نے ایک حدیث رسول پیش کرکے کہا کہ جب بلد التوحید یعنی سعودی عرب میں عبدالوھاب نجدی اور ملک عبد العزیز کی حکومت آئی تو انھوں نے اس حدیث پر عمل کیا آئیں وہ حدیث ملاحظہ کرتے ہیں

قال لي عليُّ بنُ أبي طالبٍ : ألا أبعثُك على ما بعثني عليه رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ ؟ أن لا تدعَ تمثالًا إلا طمستَه . ولا قبرًا مُشرفًا إلا سوَّيتَه . وفي روايةٍ : ولا صورةً إلا طمَسْتَها .
الراوي: علي بن أبي طالب المحدث: مسلم - المصدر: صحيح مسلم - الصفحة أو الرقم: 969
خلاصة حكم المحدث: صحيح

حضرت علی سے روایت اس حدیث کے پہلے حصہ میں بیان ہوا کہ '
کسی تصویر کو مٹائے بغیر نہیں چھوڑنا
کیا نجدی حکمرانوں نے حدیث کے اس حکم پر عمل کیا ؟
نہیں کیا کیوں کہ آج بھی اپنے کرنسی نوٹ پر اپنے تمام نجدی حکمرانوں کی تصاویر چھاپی جارہی ہے یعنی حدیث کے برعکس عمل ، حدیث میں حکم ہے کہ تصویرکو مٹادو اور نجدی حکمران اپنے حکمرانوں کی تصاویر بنارہے ہیں ،
آخر ایسا کیوں ؟؟؟

4۔ احادیث کی صحت و سقم سے صرف نظر کرتے ہوئے یہ بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ان احادیث میں بیان ہوا کہ رسول اللہﷺ نماز سے فراغت کے بعد اپنے اس طرح واپس تشریف لے جانے کی وجہ بیان فرمائی لیکن اس وڈیو کلیپ میں امام صاحب کی جانب سے اس طرح واپس جانے کی وجہ امام صاحب نے بیان کی یا نہیں اس بات کا کوئی ذکر نہیں اگر ہے تو وہ عنایت فرمادیں ،
والسلام
اب سب کو واضح ہوگیا ہوگا کہ بہرام کی پوسٹس موڈریٹ کیوں ہوتی ہیں؟؟؟!
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,081
پوائنٹ
1,155
بھائی کو فورم استعمال کرنا سیکھارہا تھا اس لیےیہ ہوگیا
ٹھیک ہے بھائی، آپ بھائی کو فورم پر لے آئیں، کوئی مسئلہ ہو گا تو ہم بھی ساتھ مل کر سکھا دیں گے ان شاءاللہ
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,403
پوائنٹ
964
سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
Top