• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام کی بیٹی کے ساتھ ایک شخص کی متعہ کی درخواست

lovelyalltime

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 28، 2012
پیغامات
3,735
ری ایکشن اسکور
2,899
پوائنٹ
436
تھذیب الاحکام --- محمد بن الحسن بن علی الطوسی ---

گواہوں کے بغیر نکاح درست نہیں / امام کی بیٹی کے ساتھ ایک شخص کی متعہ کی درخواست

دوسری داستان : ہم ایک دفع امام خوئی کے ساتھ ان کے دفتر میں بیٹھے ہوے تھے ، اچانک دو جوان وہاں آے ان کا کسی مسلئہ میں اختلاف ہو گیا تھا - اور وہ امام خوئی سے جواب دریافت کرنے آئے تھے - ایک نے پوچھا! امام صاحب کیا متعہ حلال ہے یا حرام؟ امام نے جو ان کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں؟ ان نے کہا کہ میں مؤصل سے تعلق رکھتا ہوں اور اب یہاں نجف میں دو ماہ سے قیام پذیر ہوں - امام نے کہا آپ تو پھر سنی ہوں گے؟ اس نے کہا: ہاں - امام نے کہا: ہمارے اہل تشیع کے ہاں متعہ حلال ہے اور تمہارے اہلسنت کے ہاں حرام ہے - نوجوان نے کہا کہ میں یہاں دو ماہ سے اس شہر میں مسافر ہوں آپ اپنی بیٹی کا نکاح کر دیں تاکہ میں اس سے متعہ کر سکوں ، جب تک کہ اپنے گھر کو واپس نہیں چلا جاتا - امام اس کی بات سن کر حیران رہ گیا اور لمحہ بھر کی خاموشی کے بعد گویا ہوا کہ میں سید ہوں اور متعہ خاندان سادات میں حرام ہے - اور شیعہ عوام کے لئے جائز ہے - وہ نوجوان امام خوئی کو دیکھ کر مسکرانے لگا - میرا خیال یہ تھا کہ وہ یہ بات جان گیا تھا کہ امام صاحب تقیہ سے کام لے رہے ہیں - دونوں نوجوان کھڑے ہوے ، میں نے بھی امام سے اجازت چاہی اور نوجوانوں کو پیچھے سے جا لیا - میں اس نتیجے پر پہنچا کہ سائل سنی ہے اور اس کا دوست شیعہ - دونوں کا متعہ کے حلال یا حرام پر اختلاف ہو گیا تھا - اور دونوں نے متفقہ طور پر دینی پشوا امام خوئی کی طرف رجوع کیا - جب دونوں پر یہ مسلئہ کھل گیا تو شیعہ نوجوان یڑا کہ اے مجرمو! تم اپنے لئے ہماری بیٹیوں سے متعہ جائز قرار دیتے ہو اور اس کو حلال قرار دے کر الله کا قرب تلاش کرتے ہو ، جبکہ ہمارے لئے اپنی بیٹیوں سے متعہ حرام قرار دیتے ہو - نوجوان گالم گلوچ کر رہا تھا اور قسم کھا رہا تھا کہ وہ اہلسنت کا مذہب اختیار کرے گا - میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کی رہنمائی کی کہ الله کی قسم متعہ حرام ہے - اس پر میں نے دلائل بھی دئیے کہ متعہ دور جاہلیت میں جائز ہوتا تھا - اور جب اسلام آیا تو اس نے متعہ کو ایک عرصے تک اپنے جواز کی صورت میں برقرار رکھا - بعد میں خیبر کے دن اس کو حرام کر دیا گیا - لیکن جمہور شیعہ علماء کے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ اس کو عمر بن خطاب نے حرام قرار دیا تھا ہمارے بعض فقہاء اسی قول کو روایت کرتے ہیں - حلانکہ حق بات یہ ہے کہ اس کو خیبر کے دن رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حرام قرار دیا تھا - امیرالمومنین نے فرمایا تھا: "رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے خیبر کے دن گھریلو گدھوں کے گوشت کو اور نکاح متعہ کو حرام قرار دیا تھا " -

(تھذیب الاحکام ، ٧ / ٢٥١) - (کشف الاسرار ، السید حسین الموسوی ، صفحہ ٤١ ، ٤٢ ، عالم نجف - عراق)

ترجمہ : ابو عبدالله سے کسی نے سوال کیا کہ کیا رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے دور میں لوگ گواہوں کے بغیر ہی نکاح کیا کرتے تھے؟ فرمایا: نہیں -

(تھذیب الاحکام ، ٧ / ٢٦١)


1.jpg


متعہ کی تحریم اور گدھے کی تحریم ایک ہی دن وارد ہوئی ہے - جب گدھے کا گوشت خیبر کے دن سے آج تک حرام چلا آ رہا ہے اور قیامت تک کے لئے حرام ہی رہے گا تو متعہ کا صرف خیبر کے دن ہی حرام ہونا فقط ایک دعوی ہے جس کی کوئی بھی دلیل نہیں ہے - اور یہ دعوی اس وقت بلکل ہی باطل ہو جاتا ہے جب اس کے ساتھ ایک قرینہ یہ بھی مل جاتا ہے کہ گھریلو گدھوں کے گوشت بھی خیبر ہی کے دن حرام کیا گیا تھا - اگر اس کی حرمت صرف خیبر کے دن تک ہی محدود ہوتی تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے صراحت کے ساتھ اس کی حرمت کا منسوخ ہونا ثابت ہوتا لیکن ایسا ہر گز نہیں ہے - علاوہ ازیں ہمیں متعہ کے جائز ہونے کی علت کا بھی علم ہونا چاہیے تھا کہ یہ سفر اور جنگ میں جائز ہوتا تھا کیونکہ انسان اس وقت اپنی بیوی اور لونڈی سے دور ہوتا ہے ، لہٰذا ان حالات میں متعہ کی زیادہ ضرورت پیش آتی تھی - لیکن خیبر کے دن جب حالت جنگ میں بلکہ میدان جنگ میں متعہ حرام کیا گیا ہے تو حالت امن میں کیونکر جائز ہو سکتا ہے؟ دراصل علی (رض) کے قول کا مطلب یہ ہے متعہ کے حرمت کی ابتداء خیبر کے دن سے ہوئی ہے - جہاں تک شیعہ کی حیلہ سازی اور تقیہ بازی کا مسلئہ ہے ، یہ حضرات قرآن و سنت کی اکثر و بیشتر نصوص کو بازیچئہ اطفال ہی سمجھتے ہیں -

حق بات یہ ہے کہ متعہ کی حرمت اور گدھے کی حرمت دونوں یکساں حکم رکھتے ہیں ، یعنی دونوں کی حرمت کا حکم خیبر کے دن نازل ہوا تھا جو قیامت تک باقی رہے گا - لہٰذا نفس پرستی ، شہوت رانی اور لذت اندوزی کی غرض سے دین کے نام پر حسین و جمیل عورتوں سے متعہ کے لئے علی (رض) کے قول کی تاویل کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں رہتی ہے ، اور جہاں تک ابوعبدالله کے جواب کو تقیہ کہنے کا تعلق ہے تو یہ بات ذہین نشین رہنی چاہئے کہ سائل خود شیعہ تھا ، اس سے تقیہ کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی - اس پر مستزاد یہ ہے کہ ابوعبدالله کا فتویٰ علی (رض) کے قول سے سو فیصد مطابقت نہیں رکھتا ہے -

دراصل متعہ کو جائز قرار دے کر شیعہ نے ایک مرد کو یہ حق عنایت کر دیا ہے کہ وہ لاتعداد عورتوں سے تعلقات قائم رکھ سکتا ہے خواہ یہ عورتیں تعداد میں ہزار ہی تک کیوں نہ پہنچ جائیں - متعہ کرنے والے کتنے ہی حضرات ہیں جنہوں نے ایک ہی دفع ماں اور اس کی بیٹی سے ، عورت اور اس کی بہن سے ، بھانجی اور اس کی خالہ سے یا بھتیجی اور اس کی چچی سے منہ کالا کیا -

علی بہرام
آزاد
 

علی بہرام

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 18، 2013
پیغامات
1,216
ری ایکشن اسکور
162
پوائنٹ
105
حدثنا محمد بن بشار،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا غندر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا شعبة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبي جمرة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال سمعت ابن عباس،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ سئل عن متعة النساء،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فرخص فقال له مولى له إنما ذلك في الحال الشديد وفي النساء قلة أو نحوه‏.‏ فقال ابن عباس نعم‏.‏
الراوي: أبو جمرة نصر بن عمران المحدث: البخاري - المصدر: صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 5116
خلاصة حكم المحدث: [صحيح]

ترجمہ داؤد راز
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا ، ان سے ابوجمرہ نے بیان کیا ، کہا میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ، ان سے عورتوں کے ساتھ نکاح متعہ کرنے کے متعلق سوال کیا گیا تھا تو انہوں نے اس کی اجازت دی، پھر ان کے ایک غلام نے ان سے پوچھا کہ اس کی اجازت سخت مجبوری یا عورتوں کی کمی یا اسی جیسی صورتوں میں ہو گی؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہاں۔

گواہوں کے بغیر نکاح درست نہیں
متعہ کی تحریم اور گدھے کی تحریم ایک ہی دن وارد ہوئی ہے - جب گدھے کا گوشت خیبر کے دن سے آج تک حرام چلا آ رہا ہے اور قیامت تک کے لئے حرام ہی رہے گا تو متعہ کا صرف خیبر کے دن ہی حرام ہونا فقط ایک دعوی ہے جس کی کوئی بھی دلیل نہیں ہے
علی بہرام
آزاد
نکاح متعہ خیبر کے دن حرام ہوا یا فتح مکہ کے دن؟؟؟



اس روایت سے معلوم ہوا کہ نکاح متعہ فتح مکہ کے دن حرام ہوا اور وحید الزماں کی تشریح کے مطابق نکاح متعہ میں نہ گواہ کی حاجت نہ ولی کی ضرورت ہوتی تھی
کبھی کہا جاتا ہے کہ خیبرکے دن نکاح متعہ حرام ہوا اور کبھی کہا جاتا ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر کبھی بیان کیا جاتا کہ ابن عباس نکاح متعہ کے قائل رہے
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے ؟
 

lovelyalltime

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 28، 2012
پیغامات
3,735
ری ایکشن اسکور
2,899
پوائنٹ
436
کبھی کہا جاتا ہے کہ خیبرکے دن نکاح متعہ حرام ہوا اور کبھی کہا جاتا ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر کبھی بیان کیا جاتا کہ ابن عباس نکاح متعہ کے قائل رہے
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے ؟


اہل تشیع کے ہاں متعہ سے متعلق قوانین کا مطالعہ کر لیجیے اور خود اندازہ لگائیے کہ شادی کے مقاصد کا حصول کا متعہ کے ذریعے ممکن ہے۔ یہ تفصیلات آپ کو شیخ الصدوق ابی جعفر محمد بن علی القمی (وفات 381ھ) کی کتاب "من لا يحضره الفقيه" میں مل جائیں گی جو کہ شیعہ فقہاء میں بہت بلند مقام کے حامل ہیں۔ متعہ سے متعلق قوانین، اس کتاب کی تیسری جلد کے ص 282 پر موجود ہیں۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ اس لنک پر دستیاب ہے۔

http://www.shiamultimedia.com/urdubooks3.html

ان قوانین کا مطالعہ کر کے یہ دیکھیے کہ کیا ایسے معاشرے میں ایک صالح تمدن قائم کرنا ممکن ہے، جہاں متعہ کی کھلی اجازت ہو؟


اب میں آپ کے سوالات کی طرف آتا ہوں:

یہ بات سرے سے ہی غلط ہے کہ اسلام نے متعہ کو جائز قرار دیا تھا۔ اپنی اخلاقی برائی کے باعث یہ اللہ تعالی کی شریعت میں ہمیشہ سے ہی حرام تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت پیش کی تو حکمت عملی کے تقاضوں کے تحت آپ نے پہلے دن سے ہی غیر مسلموں کے سامنے دین کا ہر ہر حکم نہیں رکھ دیا بلکہ تدریج کا طریقہ اختیار فرمایا۔ پہلے ایمان و اخلاق کی دعوت دی۔ جب ایمان ان کے دلوں میں راسخ ہو گیا اور مسلمانوں کی ایک ریاست وجود میں آگئی تو وقتاً فوقتاً احکام جاری ہوتے رہے جن کے مکمل ہونے میں 23 برس لگے۔ صحیح بخاری کی مشہور حدیث ہے:

حدثنا إبراهيم بن موسى: أخبرنا هشام بن يوسف: أن ابن جريج أخبرهم قال: وأخبرني يوسف بن مالك قال: إني عند عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها إذ جاءها عراقي فقال: أي الكفن خير؟ قالت: ويحك وما يضرك. قال: يا أم المؤمنين أريني مصحفك، قالت: لم؟ قال: لعلي أؤلف القرآن عليه، فإنه يقرأ غير مؤلف، قالت: إنما نزل أول ما نزل منه سورة من المفصل، فيها ذكر الجنة والنار، حتى إذا ثاب الناس إلى الإسلام نزل الحلال والحرام، ولو نزل أول شيء: لا تشربوا الخمر، لقالوا: لا ندع الخمر أبدا، ولو نزل: لا تزنوا، لقالوا: لا ندع الزنا أبدا، لقد نزل بمكة على محمد صلى الله عليه وسلم وإني لجارية ألعب: {بل الساعة موعدهم والساعة أدهى وأمر}. وما نزلت سورة البقرة والنساء إلا وأنا عنده، قال: فأخرجت له المصحف، فأملت عليه آي السورة.

یوسف بن مالک کہتے ہیں کہ میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا کہ ایک عراقی آیا اور کہنے لگا: "کون سا کفن بہتر ہے؟" آپ نے فرمایا: "تمہارا ستیا ناس! تمہیں کیا مسئلہ ہو گیا ہے؟" وہ بولا: "ام المومنین! آپ اپنا مصحف مجھے دکھائیے۔" آپ بولیں: "کیوں؟"
وہ کہنے لگا: "تاکہ میں اپنے مصحف کی ترتیب اس کے مطابق کر لوں کیونکہ لوگ اسے (نزول سے) مختلف ترتیب میں پڑھتے ہیں۔"
آپ نے فرمایا : "سب سے پہلے جو سورت نازل ہوئی وہ مفصل (سورہ ق سے لے کر الناس تک کی سورتیں) میں سے ایک سورت تھی جس میں جنت اور جہنم کا ذکر تھا۔ یہاں تک کہ جب لوگ اسلام کی طرف مائل ہو گئے، پھر حلال و حرام کے احکام نازل ہوئے۔ اگر شروع ہی میں یہ حکم نازل ہوتا کہ شراب نہ پیو، تو لوگ کہتے: ہم تو کبھی شراب نہ چھوڑیں گے۔ اگر یہ نازل ہو جاتا کہ بدکاری نہ کرو تو لوگ کہتے، ہم تو کبھی بدکاری نہیں چھوڑ سکتے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے جب میں کھیلتی کودتی تھی تو یہ آیت نازل ہوئی: ۔ بلکہ قیامت تو ان کے وعدے کے وقت ہے اور یہ ساعت بڑی ہی سخت اور کڑوی چیز ہے۔ سورہ بقرہ اور سورہ نساء اس وقت نازل ہوئیں جب میری آپ سے شادی ہو چکی تھی۔"
راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد انہوں نے مصحف نکالا اور اس عراقی کو آیات کی املا کروا دی۔

(بخاری ، کتاب فضائل القرآن)

یہ کہنا غلط ہے کہ اسلام نے آغاز میں اخلاقی برائیوں جیسے شراب، سود اور زنا کو جائز قرار دے دیا تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ دعوتی تدریج اور حکمت عملی کے باعث لوگوں کو ان کاموں سے روکنے میں سختی نہیں برتی گئی۔ اس کی بجائے ان کے دلوں میں ایمان و اخلاق کو راسخ کیا گیا اور پھر ان کاموں سے سختی سے روک دیا گیا۔ یہ سب چیزیں اسلام کے آغاز میں بھی حرام ہی تھیں، البتہ ان سے روکنے پر سختی نہیں کی جاتی تھی۔

یہی وجہ ہے کہ تربیت یافتہ صحابہ شراب، سود، اور بدکاری سے متعلق آیات نازل ہونے سے پہلے ان سے اجتناب کیا کرتے تھے۔ یہ چیزیں دور جاہلیت میں بھی برائی سمجھی جاتی تھیں اور ان سے عربوں کے نیک لوگ دور ہی رہا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں تو صراحت سے آیا ہے کہ انہوں نے اعلان نبوت سے پہلے کبھی ان برائیوں کو اختیار نہ کیا۔

متعہ کا معاملہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے کچھ مختلف ہے۔ یہ نکاح اور بدکاری کے درمیان کی چیز ہے۔ اسلام نے متعہ کا آغاز نہیں کیا بلکہ یہ دور جاہلیت کی ایک رسم تھی جو کہ ان کے ہاں صدیوں سے جاری تھی۔ شروع اسلام میں اس پر سختی نہیں کی گئی۔ غزوہ خیبر کے موقع پر اس سے روکا گیا لیکن بہت شدت نہیں کی گئی۔ بعد میں اس کی مکمل ممانعت کر دی گئی۔ اس ضمن میں کچھ احادیث پیش خدمت ہیں:

حدثنا مالك بن إسماعيل: حدثنا ابن عيينة: أنه سمع الزهري يقول: أخبرني الحسن بن محمد بن علي، وأخوه عبد الله، عن أبيهما: أن عليا رضي الله عنه قال لابن عباس: إن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن المتعة وعن لحوم الحمر الأهلية، زمن خيبر.

(بخاری، کتاب النکاح، باب متعہ)

ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے زمانے میں متعہ اور گدھے کے گوشت سے منع فرمایا۔

وحدثني سلمة بن شبيب. حدثنا الحسن بن أعين. حدثنا معقل عن ابن أبي عبلة،، عن عمر بن عبدالعزيز. قال: حدثنا الربيع بن سبرة الجهني عن أبيه ؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن المتعة. وقال: "ألا إنها حرام من يومكم هذا إلى يوم القيامة. ومن كان أعطى شيئا فلا يأخذه".

(مسلم، کتاب النکاح، باب متعہ)

سبرہ الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ سے منع فرمایا اور کہا: "خبردار رہو! یقیناً یہ آج کے دن سے قیامت تک کے لئے حرام ہے۔ جس نے (نکاح متعہ میں موجود خاتون کو) کوئی چیز دی ہو، تو وہ اس سے واپس نہ لے۔"
 

علی بہرام

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 18، 2013
پیغامات
1,216
ری ایکشن اسکور
162
پوائنٹ
105
اہل تشیع کے ہاں متعہ سے متعلق قوانین کا مطالعہ کر لیجیے اور خود اندازہ لگائیے کہ شادی کے مقاصد کا حصول کا متعہ کے ذریعے ممکن ہے۔ یہ تفصیلات آپ کو شیخ الصدوق ابی جعفر محمد بن علی القمی (وفات 381ھ) کی کتاب "من لا يحضره الفقيه" میں مل جائیں گی جو کہ شیعہ فقہاء میں بہت بلند مقام کے حامل ہیں۔ متعہ سے متعلق قوانین، اس کتاب کی تیسری جلد کے ص 282 پر موجود ہیں۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ اس لنک پر دستیاب ہے۔

http://www.shiamultimedia.com/urdubooks3.html

ان قوانین کا مطالعہ کر کے یہ دیکھیے کہ کیا ایسے معاشرے میں ایک صالح تمدن قائم کرنا ممکن ہے، جہاں متعہ کی کھلی اجازت ہو؟


اب میں آپ کے سوالات کی طرف آتا ہوں:

یہ بات سرے سے ہی غلط ہے کہ اسلام نے متعہ کو جائز قرار دیا تھا۔ اپنی اخلاقی برائی کے باعث یہ اللہ تعالی کی شریعت میں ہمیشہ سے ہی حرام تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت پیش کی تو حکمت عملی کے تقاضوں کے تحت آپ نے پہلے دن سے ہی غیر مسلموں کے سامنے دین کا ہر ہر حکم نہیں رکھ دیا بلکہ تدریج کا طریقہ اختیار فرمایا۔ پہلے ایمان و اخلاق کی دعوت دی۔ جب ایمان ان کے دلوں میں راسخ ہو گیا اور مسلمانوں کی ایک ریاست وجود میں آگئی تو وقتاً فوقتاً احکام جاری ہوتے رہے جن کے مکمل ہونے میں 23 برس لگے۔ صحیح بخاری کی مشہور حدیث ہے:

حدثنا إبراهيم بن موسى: أخبرنا هشام بن يوسف: أن ابن جريج أخبرهم قال: وأخبرني يوسف بن مالك قال: إني عند عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها إذ جاءها عراقي فقال: أي الكفن خير؟ قالت: ويحك وما يضرك. قال: يا أم المؤمنين أريني مصحفك، قالت: لم؟ قال: لعلي أؤلف القرآن عليه، فإنه يقرأ غير مؤلف، قالت: إنما نزل أول ما نزل منه سورة من المفصل، فيها ذكر الجنة والنار، حتى إذا ثاب الناس إلى الإسلام نزل الحلال والحرام، ولو نزل أول شيء: لا تشربوا الخمر، لقالوا: لا ندع الخمر أبدا، ولو نزل: لا تزنوا، لقالوا: لا ندع الزنا أبدا، لقد نزل بمكة على محمد صلى الله عليه وسلم وإني لجارية ألعب: {بل الساعة موعدهم والساعة أدهى وأمر}. وما نزلت سورة البقرة والنساء إلا وأنا عنده، قال: فأخرجت له المصحف، فأملت عليه آي السورة.

یوسف بن مالک کہتے ہیں کہ میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا کہ ایک عراقی آیا اور کہنے لگا: "کون سا کفن بہتر ہے؟" آپ نے فرمایا: "تمہارا ستیا ناس! تمہیں کیا مسئلہ ہو گیا ہے؟" وہ بولا: "ام المومنین! آپ اپنا مصحف مجھے دکھائیے۔" آپ بولیں: "کیوں؟"
وہ کہنے لگا: "تاکہ میں اپنے مصحف کی ترتیب اس کے مطابق کر لوں کیونکہ لوگ اسے (نزول سے) مختلف ترتیب میں پڑھتے ہیں۔"
آپ نے فرمایا : "سب سے پہلے جو سورت نازل ہوئی وہ مفصل (سورہ ق سے لے کر الناس تک کی سورتیں) میں سے ایک سورت تھی جس میں جنت اور جہنم کا ذکر تھا۔ یہاں تک کہ جب لوگ اسلام کی طرف مائل ہو گئے، پھر حلال و حرام کے احکام نازل ہوئے۔ اگر شروع ہی میں یہ حکم نازل ہوتا کہ شراب نہ پیو، تو لوگ کہتے: ہم تو کبھی شراب نہ چھوڑیں گے۔ اگر یہ نازل ہو جاتا کہ بدکاری نہ کرو تو لوگ کہتے، ہم تو کبھی بدکاری نہیں چھوڑ سکتے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے جب میں کھیلتی کودتی تھی تو یہ آیت نازل ہوئی: ۔ بلکہ قیامت تو ان کے وعدے کے وقت ہے اور یہ ساعت بڑی ہی سخت اور کڑوی چیز ہے۔ سورہ بقرہ اور سورہ نساء اس وقت نازل ہوئیں جب میری آپ سے شادی ہو چکی تھی۔"
راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد انہوں نے مصحف نکالا اور اس عراقی کو آیات کی املا کروا دی۔

(بخاری ، کتاب فضائل القرآن)

یہ کہنا غلط ہے کہ اسلام نے آغاز میں اخلاقی برائیوں جیسے شراب، سود اور زنا کو جائز قرار دے دیا تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ دعوتی تدریج اور حکمت عملی کے باعث لوگوں کو ان کاموں سے روکنے میں سختی نہیں برتی گئی۔ اس کی بجائے ان کے دلوں میں ایمان و اخلاق کو راسخ کیا گیا اور پھر ان کاموں سے سختی سے روک دیا گیا۔ یہ سب چیزیں اسلام کے آغاز میں بھی حرام ہی تھیں، البتہ ان سے روکنے پر سختی نہیں کی جاتی تھی۔

یہی وجہ ہے کہ تربیت یافتہ صحابہ شراب، سود، اور بدکاری سے متعلق آیات نازل ہونے سے پہلے ان سے اجتناب کیا کرتے تھے۔ یہ چیزیں دور جاہلیت میں بھی برائی سمجھی جاتی تھیں اور ان سے عربوں کے نیک لوگ دور ہی رہا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں تو صراحت سے آیا ہے کہ انہوں نے اعلان نبوت سے پہلے کبھی ان برائیوں کو اختیار نہ کیا۔

متعہ کا معاملہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے کچھ مختلف ہے۔ یہ نکاح اور بدکاری کے درمیان کی چیز ہے۔ اسلام نے متعہ کا آغاز نہیں کیا بلکہ یہ دور جاہلیت کی ایک رسم تھی جو کہ ان کے ہاں صدیوں سے جاری تھی۔ شروع اسلام میں اس پر سختی نہیں کی گئی۔ غزوہ خیبر کے موقع پر اس سے روکا گیا لیکن بہت شدت نہیں کی گئی۔ بعد میں اس کی مکمل ممانعت کر دی گئی۔ اس ضمن میں کچھ احادیث پیش خدمت ہیں:

حدثنا مالك بن إسماعيل: حدثنا ابن عيينة: أنه سمع الزهري يقول: أخبرني الحسن بن محمد بن علي، وأخوه عبد الله، عن أبيهما: أن عليا رضي الله عنه قال لابن عباس: إن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن المتعة وعن لحوم الحمر الأهلية، زمن خيبر.

(بخاری، کتاب النکاح، باب متعہ)

ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے زمانے میں متعہ اور گدھے کے گوشت سے منع فرمایا۔

وحدثني سلمة بن شبيب. حدثنا الحسن بن أعين. حدثنا معقل عن ابن أبي عبلة،، عن عمر بن عبدالعزيز. قال: حدثنا الربيع بن سبرة الجهني عن أبيه ؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن المتعة. وقال: "ألا إنها حرام من يومكم هذا إلى يوم القيامة. ومن كان أعطى شيئا فلا يأخذه".

(مسلم، کتاب النکاح، باب متعہ)

سبرہ الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ سے منع فرمایا اور کہا: "خبردار رہو! یقیناً یہ آج کے دن سے قیامت تک کے لئے حرام ہے۔ جس نے (نکاح متعہ میں موجود خاتون کو) کوئی چیز دی ہو، تو وہ اس سے واپس نہ لے۔"
آپ کی اس پوسٹ میں بہت سارے تضاد ہیں کیونکہ صحیح بخاری ہی کے مطابق جب ابن عباس سے جب متعہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے اس کی اجازت دی اب یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اس روایت کا جو زمانہ بنتا ہے وہ یا تو حضرت عمر کا دور تھا یا حضرت عثمان کا یہ جنگ خیبر اور فتح مکہ کے کئی سالوں کے بعد کا واقعہ ہے اور ساتھ ہی ابن عباس کی صحیح مسلم کی جو روایت پیش کی اس میں ہے کہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے زمانے میں متعہ اور گدھے کے گوشت سے منع فرمایا۔
اب جب ابن عباس ہی کے مطابق متعہ سے خیبر کے دن منع کردیا گیا تھا تو پھر وہ متعہ کی اجازت دور عمر میں کیوں دے رہے ہیں کہیں ایسا تو نہیں کہ متعہ سے منع صرف خیبر والے دن ہی کیا گیا ہو اور اس کے بعد متعہ کی اجازت ہو کیونکہ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق صحابہ نے نکاح متعہ فتح مکہ کے موقع پر بھی کیا اگر ابن عباس کی روایت صحیح مسلم کا یہ مطلب نہیں لیا جائے گا تو پھر ان پراور دیگر صحابہ پر رسول اللہ ﷺ کے ایک صریح حکم کی خلاف ورزی کا الزام آئے گا اور یہ کہہ کر بھی جان نہیں چھڑائی جاسکتی کہ اس نہی کا ابن عباس کو علم نہیں تھا کیونکہ متعہ سے نہی کی روایت بھی ابن عباس سے مروی ہے اور متعہ کی اجازت بھی ابن عباس کی جانب سے دی گئی ہے اور یہ دونوں روایت صحیح مسلم اور صحیح بخاری کی روایات ہیں !!!!
ایسی لئے عرض کیا تھا کہ
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
 

lovelyalltime

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 28، 2012
پیغامات
3,735
ری ایکشن اسکور
2,899
پوائنٹ
436
ایک حدیث نظر سے گزری ہے ابھی - کیا کہیں گے آپ اس حدیث کے بارے میں​
سنن ابن ماجہ:جلد دوم:حدیث نمبر 120 حدیث مرفوع مکررات 17

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ عَنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ حَفْصٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ لَمَّا وَلِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لَنَا فِي الْمُتْعَةِ ثَلَاثًا ثُمَّ حَرَّمَهَا وَاللَّهِ لَا أَعْلَمُ أَحَدًا يَتَمَتَّعُ وَهُوَ مُحْصَنٌ إِلَّا رَجَمْتُهُ بِالْحِجَارَةِ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَنِي بِأَرْبَعَةٍ يَشْهَدُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ أَحَلَّهَا بَعْدَ إِذْ حَرَّمَهَا
محمد بن عسقلانی، فریابی، ابان بن ابی حازم، ابوبکر بن حفص، حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب خلیفہ بنے تو لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا! بلاشبہ رسول نے تین مرتبہ ہمیں متعہ کی اجازت دی پھر اسے حرام قرار دیدیا۔ اللہ کی قسم جس کے متعلق معلوم ہوا کہ متعہ کرتا ہے اور وہ محصن ہوا تو میں اس کو سنگسار کروں گا۔ الاّ یہ کہ میرے پاس چار گواہ لائے جو گواہی بھی دیں کہ اللہ کے رسول نے اسے حرام کرنے کے بعد پھر اسے حلال بتایا۔
 

علی بہرام

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 18، 2013
پیغامات
1,216
ری ایکشن اسکور
162
پوائنٹ
105
ایک حدیث نظر سے گزری ہے ابھی - کیا کہیں گے آپ اس حدیث کے بارے میں​
سنن ابن ماجہ:جلد دوم:حدیث نمبر 120 حدیث مرفوع مکررات 17
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ عَنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ حَفْصٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ لَمَّا وَلِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لَنَا فِي الْمُتْعَةِ ثَلَاثًا ثُمَّ حَرَّمَهَا وَاللَّهِ لَا أَعْلَمُ أَحَدًا يَتَمَتَّعُ وَهُوَ مُحْصَنٌ إِلَّا رَجَمْتُهُ بِالْحِجَارَةِ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَنِي بِأَرْبَعَةٍ يَشْهَدُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ أَحَلَّهَا بَعْدَ إِذْ حَرَّمَهَا
محمد بن عسقلانی، فریابی، ابان بن ابی حازم، ابوبکر بن حفص، حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب خلیفہ بنے تو لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا! بلاشبہ رسول نے تین مرتبہ ہمیں متعہ کی اجازت دی پھر اسے حرام قرار دیدیا۔ اللہ کی قسم جس کے متعلق معلوم ہوا کہ متعہ کرتا ہے اور وہ محصن ہوا تو میں اس کو سنگسار کروں گا۔ الاّ یہ کہ میرے پاس چار گواہ لائے جو گواہی بھی دیں کہ اللہ کے رسول نے اسے حرام کرنے کے بعد پھر اسے حلال بتایا۔
میں آپ کو صحیح بخاری اور صحیح مسلم پڑھا رہا ہوں اور جواب میں آپ ابن ماجہ کی درجہ حسن کی حدیث پیش کررہے ہیں
بہت خوب !!!
 

علی بہرام

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 18، 2013
پیغامات
1,216
ری ایکشن اسکور
162
پوائنٹ
105
لیجئے ایک اور صحیح بخاری اور مسلم کی حدیث
حدثنا قتيبة بن سعيد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا جرير،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن إسماعيل،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن قيس،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال قال عبد الله كنا نغزو مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وليس لنا شىء فقلنا ألا نستخصي فنهانا عن ذلك ثم رخص لنا أن ننكح المرأة بالثوب،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ثم قرأ علينا ‏ {‏ يا أيها الذين آمنوا لا تحرموا طيبات ما أحل الله لكم ولا تعتدوا إن الله لا يحب المعتدين‏}‏‏.‏
صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 5075
صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 4615
صحيح مسلم - الصفحة أو الرقم: 1404

ترجمہ داؤد راز
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر نے ، ان سے اسمٰعیل بن ابی خالد بجلی نے ، ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کو جایا کرتے تھے اور ہمارے پاس روپیہ نہ تھا (کہ ہم شادی کر لیتے) اس لئے ہم نے عرض کیا ہم اپنے کو خصی کیوں نہ کرالیں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا۔ پھر ہمیں اس کی اجازت دے دی کہ ہم کسی عورت سے ایک کپڑے پر (ایک مدت تک کے لئے) نکاح کر لیں۔ آپ نے ہمیں قرآن مجید کی یہ آیت پڑھ کر سنا ئی کہ "ایمان لانے والو! وہ پاکیزہ چیزیں مت حرام کرو جو تمہارے لئے اللہ تعالیٰ نے حلال کی ہیں اور حد سے آگے نہ بڑھو، بیشک اللہ حد سے آگے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا"۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مدتی نکاح یعنی متعہ کی اجازت قرآنی آیت کی دلیل سے رسول اللہﷺ عنایت فرمائی ہے
 

lovelyalltime

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 28، 2012
پیغامات
3,735
ری ایکشن اسکور
2,899
پوائنٹ
436
میں آپ کو صحیح بخاری اور صحیح مسلم پڑھا رہا ہوں اور جواب میں آپ ابن ماجہ کی درجہ حسن کی حدیث پیش کررہے ہیں
بہت خوب !!!

صحیح بخاری اور صحیح مسلم پڑھانے سے پہلے ذرا اپنی کتابیں تو پڑھ لو
"Prohet (sallalahu alayhi wa ala alihi wa salam) forbade meat of domestic donkey and mutah marriage in the day of khaybar".
m1.jpg
m2.jpg
m3.jpg
 
Top