محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,068
- ری ایکشن اسکور
- 34
- پوائنٹ
- 111
امتحانات میں نقل کرنا یا کسی دوسرے کو نقل کرانا شرعاً ناجائز ہے اور حرام ہے، یہ کئی گناہوں کا مجموعہ ہے:
- اس میں دھوکا دیناپایا جاتا ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنِّي)) (صحيح مسلم، الإيمان: 102)
’’جس نے دھوکا کیا، وہ مجھ سے نہیں۔‘‘
- نقل کرناوعدہ خلافی بھی ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے وعدے کی پاسداری کرنے کا حکم دیا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا (الإسراء: 34)
’’اور عہد کو پورا کرو، بے شک عہد کا سوال ہو گا۔‘‘
- یہ قانون شکنی بھی ہے؛ کیوں کہ حکومتی قوانین کے مطابق نقل کرنے کی اجازت نہیں ہوتی، اس لیے نقل کرنا یا کسی کو نقل کروانا ناجائزاور حرام ہے۔
- اگر انسان نے نقل کرنے کے لیے رشوت دی ہے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ درج ذیل وعید کی زد میں بھی آجائے گا۔
سيدنا ابوہریره رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ فِي الْحُكْمِ (سنن ترمذي، أبواب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: 1336) (صحيح)
’’رسول اللہ ﷺنے فیصلے میں رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر لعنت بھیجی ہے۔‘‘
امتحانات میں نقل کرنے سےمستقبل میں کئی ایک خرابیاں بھی پیدا ہوتی ہیں:
- اس میں دھوکا دیناپایا جاتا ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنِّي)) (صحيح مسلم، الإيمان: 102)
’’جس نے دھوکا کیا، وہ مجھ سے نہیں۔‘‘
- نقل کرناوعدہ خلافی بھی ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے وعدے کی پاسداری کرنے کا حکم دیا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا (الإسراء: 34)
’’اور عہد کو پورا کرو، بے شک عہد کا سوال ہو گا۔‘‘
- یہ قانون شکنی بھی ہے؛ کیوں کہ حکومتی قوانین کے مطابق نقل کرنے کی اجازت نہیں ہوتی، اس لیے نقل کرنا یا کسی کو نقل کروانا ناجائزاور حرام ہے۔
- اگر انسان نے نقل کرنے کے لیے رشوت دی ہے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ درج ذیل وعید کی زد میں بھی آجائے گا۔
سيدنا ابوہریره رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ فِي الْحُكْمِ (سنن ترمذي، أبواب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: 1336) (صحيح)
’’رسول اللہ ﷺنے فیصلے میں رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر لعنت بھیجی ہے۔‘‘
امتحانات میں نقل کرنے سےمستقبل میں کئی ایک خرابیاں بھی پیدا ہوتی ہیں:
- انسان حکومتی ادارے سے سرٹیفکیٹ لے لیتا ہے حالانکہ وہ اس کا حق دار نہیں ہے۔
- اس سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر وہ نوکری کرے گا تو اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی محل نظر ہے۔
- نااہل لوگوں اداروں میں آجاتے ہیں جس سے نظام تباہ ہو جاتا ہے۔