lovelyalltime
سینئر رکن
- شمولیت
- مارچ 28، 2012
- پیغامات
- 3,735
- ری ایکشن اسکور
- 2,899
- پوائنٹ
- 436
اگر ایک بندہ نماز پڑھ رہا ہے اور ساتھ ساتھ اللہ کے ساتھ شریک بھی کر رہا ہے تو کیا وہ نماز اس کو فائدہ دے گی.
چلیں آپ کی بات مان لیتے ھیں. ہم سب لوگوں کو جوڑتے ھیں.
بریلوی
دیوبندی
اہلحدیث
شیعہ
تو بتا یں کہ آپ نماز پڑھانے والے تو کیا باتیں گے کہ کس طرح نماز پڑھے . کس کا عقیدہ توحید مانے.
میرے بھائی یہ اچھا نہیں ہے کہ ہم لوگوں کو قرآن پر جوڑ یں.
اور حضوراکرم کے فرمان پر جوڑ یں .
ہماری بدقسمتی یہی ہے کہ ہم صرف اپنے علما کی تقریریں سنتے ھیں اور جو کچھ وہ کہتے ھیں ہم آنکھیں بند کر کے ان کی بات مان لیتے ھیں. ہم میں سے کتنے لوگ اپنے علما کی بات کو قرآن اور احادیث پر پرکھتے ھیں.
آ یں دیکھتے ھیں کہ جتنا علم حضوراکرم کو تھا کیا اتنا علم کسسی اور کو ہے.
اور صحابہ کرام کس طرح اپنے فتویٰ سے رجوح کرتے تھے.
٭ کیا امت میں کوئی ایسا شخص ہے جس کو دین کا علم اسی طرح ہو جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تھا ؟
نہیں ایسا کو ئی شخص نہیں ۔
(۱) ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اس امت میں انبیاءکے بعد سب سے افضل ہیں ان کے پاس ایک عورت آئی اور کہا کہ میں مرنے والے کی نانی لگتی ہوں اس کی وراثت میں میرا کونسا حصہ ہے؟ ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا میرے علم کے مطابق تمہارا کوئی حصہ نہیں ۔مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نانی کو چھٹا حصہ وراثت میں سے دلایا تو ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس عورت کو کہا کہ تمہارا چھٹا حصہ ہے۔
(موطا اما م مالک رحمتہ اللہ علیہ )
یعنی ا بوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کو اس حدیث کا علم نہیں تھا ۔
(۲) عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ آئے ' تین دفعہ دستک دی جواب نہیں ملا واپس چلے گئے۔دوبارہ ملاقات پر عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا تم واپس کیوں چلے گئے تھے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنی ہے کہ تین دفعہ دستک دو جواب نہ ملے واپس چلے جاﺅ۔عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا جاﺅ گواہی لے کر آﺅ ۔وہ مسجد نبوی میں گئے وہاں کچھ صحابہ کرام بیٹھے ہوئے تھے ان سے پوچھا کہ تم نے یہ حدیث سنی ہے تو ان میں سے ایک نے جا کر عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے سامنے گواہی دی ۔
(بخاری )
(۳) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا گیا کہ کوفہ میں ایک عورت سے نکاح کیا پھر قبل جماع کے اس کو چھوڑ دیا اب اس عورت کی ماں سے نکاح کرنا کیسا ہے؟آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہاکہ درست ہے پھر ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ منورہ میں آئے اور ان کو تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ عورت کی ماں مطلقاً حرام ہے خواہ وہ عورت سے صحبت کرے یا نہ کرے اور صحبت کی قید ربائب میں ہے پھر جب ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ واپس لوٹے تو اسی سائل کے گھر گئے اور اس کو بتلایا کہ اس عورت (ماں ) کو چھوڑ دے ۔
(موطا امام مالک کتاب النکاح)
پس معلوم ہوا کہ امت میں مکمل دین کا علم کسی کے پاس ہونا ممکن نہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا !
جب عالم اجتہاد کرتا ہے تو اگر صحیح ہو تو اس کے لئے دو اجر ہیں اور اجتہاد صحیح نہ ہونے کی صورت میں اس کے لئے ایک اجر ہے ۔
( بخاری )
تین صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شب و روز کے معمولات دریافت کئے۔انہوں نے یہ سوچا کہ اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تو بخشا ہوا ہے اس لئے ہمیں زیادہ عبادت کرنی چاہیے ایک نے کہا میں ساری رات سوﺅں گا ہی نہیں ' ساری رات عبادت کیا کرو ں گا۔ دوسرے نے روزانہ روزہ رکھنے کا کہا ۔تیسرے نے کہا میں نکاح نہیں کروں گا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ کو سارا واقعہ بتایا گیا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں کو ارشاد فرمایا!
اللہ کی قسم !میں تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں ' میں سوتا بھی ہوں اور عبادت بھی کرتا ہوں' میں (نفلی )روزے رکھتا بھی ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں نکاح کرنا میری سنت ہے پس جو میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ سے نہیں ۔
(بخاری )
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا لشکر جمعہ کی صبح روانہ فرمایا جس میں عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل تھے ان کے ساتھی حکم سنتے ہی صبح صبح روانہ ہو گئے لیکن انہوں نے سوچا کہ ہو سکتا ہے کہ میں اس جنگ میں شہید ہو جاﺅں لہذا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جمعہ پڑھنے کی سعادت حاصل کر کے انہیں جا ملوں گا ۔جمعہ کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر ارشاد فرمایا لو انفقت ما فی الارض جمیعا ما ادرکت فضل غدوتھم "اگر تم ساری زمین کی دولت بھی خرچ کر لو تم ان کی صبح روانگی کی فضیلت کو نہیں پا سکتے"
(عن ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ ترمذی)
(4)
حضرت عدی رضی اللہ تعالی عنہ بن حاتم بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی
کلو اواشر بو حتی یتبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود من الفجر۔ (البقرہ آیت ۷۸۱)
"کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ رات کے سیاہ دھاگے سے تمہارے لئے ظاہر نہ ہوجائے"تو میں نے ایک سیاہ دھاگہ اور ایک سفید دھاگہ لے لیا اور ان دونوں کو اپنے تکیے کے نیچے رکھ لیا اور رات کو اٹھ اٹھ کر ان کو دیکھتا رہا مگر مجھے کچھ معلوم نہ ہوا تو صبح کو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ (سیاہ دھاگے سے مراد) تو رات کی سیاہی اور (سفید دھاگے سے مراد )صبح کی سفیدی ہے۔
(بخاری)
٭ اگر کسی نیک و متقی شخص کی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کے مخالف آجائے تو ؟
تو اس کو چھوڑ دیا جائے گا کیونکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بڑوں اور بزرگوں کی عزت کا حکم دیا ہے اور کسی کی قربانیاں اور عبادات اس بات کا تقاضا نہیں کرتیں کہ اب اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو چھوڑ کر اس کی بات کو لے لیا جائے ۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تورات کا نسخہ لیکر آئے اور کہا اے اللہ کے رسول یہ تورات کا نسخہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے تو انہوں نے پڑھنا شروع کر دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور متغیر ہونے لگا تو حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا گم کریں تجھ کو گم کرنیوالیاں!کیاتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی طرف نہیں دیکھتا !تو عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی طرف دیکھ کر کہا میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس کے غضب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غضب سے ' میں اللہ کے رب ہونے ' اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہوا۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا !
والذی نفس محمد بیدہ لو بدالکم موسی فاتبعتموہ و تر کتمونی لضللتم عن سوا ءالسبیل ولو کان موسی حیا و ادرک نبوتی لا تبعنی ۔
"اس ذات کی قسم !جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جا ن ہے اگر موسیٰ علیہ السلام تمہارے لئے ظاہر ہو جائیں اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی پیروی کرتے تو تم سیدھی راہ سے بھٹک جاتے اور اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے اور میری نبوت پاتے تو میری ہی پیر وی کرتے "۔
(مشکوة)
اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ اگر موسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر پیغمبر کی بات کو لے لیا جائے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو چھوڑ دیا جائے تو یہ گمراہی ہے ۔
عدی بن حاتم رضی اللہ تعالی عنہ عیسائی تھے وہ رسول کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ سورة توبہ کی تلاوت فرما رہے تھے یہاں تک کہ آپ جب اس آیت پر پہنچے ۔
اتخذوااحبارھم ورھبانھم ارباب من دون اللہ ۔( سورة التوبہ آیت 31)۔
"ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنالیا ہے" ۔
تو عدی بن حاتم رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا ہم انکی عبادت تو نہیں کرتے تھے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا !تمہارے علماءاوردرویش جس چیزکو حرام کر دیتے حالانکہ اللہ نے اسے حلال کیا ہوتا تو کیاتم اسے حرام نہیں جانتے تھے اور جس چیز کو اللہ نے حرام کیا ہوتا لیکن وہ حلال کر دیتے تو کیا تم اسے حلال نہیں جانتے تھے ؟
میں (عدی) نے کہا ہاں تو آپ نے فرمایا یہی ان کی عبادت ہے ۔
(ترمذی)۔
چلیں آپ کی بات مان لیتے ھیں. ہم سب لوگوں کو جوڑتے ھیں.
بریلوی
دیوبندی
اہلحدیث
شیعہ
تو بتا یں کہ آپ نماز پڑھانے والے تو کیا باتیں گے کہ کس طرح نماز پڑھے . کس کا عقیدہ توحید مانے.
میرے بھائی یہ اچھا نہیں ہے کہ ہم لوگوں کو قرآن پر جوڑ یں.
اور حضوراکرم کے فرمان پر جوڑ یں .
ہماری بدقسمتی یہی ہے کہ ہم صرف اپنے علما کی تقریریں سنتے ھیں اور جو کچھ وہ کہتے ھیں ہم آنکھیں بند کر کے ان کی بات مان لیتے ھیں. ہم میں سے کتنے لوگ اپنے علما کی بات کو قرآن اور احادیث پر پرکھتے ھیں.
آ یں دیکھتے ھیں کہ جتنا علم حضوراکرم کو تھا کیا اتنا علم کسسی اور کو ہے.
اور صحابہ کرام کس طرح اپنے فتویٰ سے رجوح کرتے تھے.
٭ کیا امت میں کوئی ایسا شخص ہے جس کو دین کا علم اسی طرح ہو جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تھا ؟
نہیں ایسا کو ئی شخص نہیں ۔
(۱) ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اس امت میں انبیاءکے بعد سب سے افضل ہیں ان کے پاس ایک عورت آئی اور کہا کہ میں مرنے والے کی نانی لگتی ہوں اس کی وراثت میں میرا کونسا حصہ ہے؟ ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا میرے علم کے مطابق تمہارا کوئی حصہ نہیں ۔مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نانی کو چھٹا حصہ وراثت میں سے دلایا تو ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس عورت کو کہا کہ تمہارا چھٹا حصہ ہے۔
(موطا اما م مالک رحمتہ اللہ علیہ )
یعنی ا بوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کو اس حدیث کا علم نہیں تھا ۔
(۲) عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ آئے ' تین دفعہ دستک دی جواب نہیں ملا واپس چلے گئے۔دوبارہ ملاقات پر عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا تم واپس کیوں چلے گئے تھے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنی ہے کہ تین دفعہ دستک دو جواب نہ ملے واپس چلے جاﺅ۔عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا جاﺅ گواہی لے کر آﺅ ۔وہ مسجد نبوی میں گئے وہاں کچھ صحابہ کرام بیٹھے ہوئے تھے ان سے پوچھا کہ تم نے یہ حدیث سنی ہے تو ان میں سے ایک نے جا کر عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے سامنے گواہی دی ۔
(بخاری )
(۳) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا گیا کہ کوفہ میں ایک عورت سے نکاح کیا پھر قبل جماع کے اس کو چھوڑ دیا اب اس عورت کی ماں سے نکاح کرنا کیسا ہے؟آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہاکہ درست ہے پھر ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ منورہ میں آئے اور ان کو تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ عورت کی ماں مطلقاً حرام ہے خواہ وہ عورت سے صحبت کرے یا نہ کرے اور صحبت کی قید ربائب میں ہے پھر جب ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ واپس لوٹے تو اسی سائل کے گھر گئے اور اس کو بتلایا کہ اس عورت (ماں ) کو چھوڑ دے ۔
(موطا امام مالک کتاب النکاح)
پس معلوم ہوا کہ امت میں مکمل دین کا علم کسی کے پاس ہونا ممکن نہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا !
جب عالم اجتہاد کرتا ہے تو اگر صحیح ہو تو اس کے لئے دو اجر ہیں اور اجتہاد صحیح نہ ہونے کی صورت میں اس کے لئے ایک اجر ہے ۔
( بخاری )
تین صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شب و روز کے معمولات دریافت کئے۔انہوں نے یہ سوچا کہ اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تو بخشا ہوا ہے اس لئے ہمیں زیادہ عبادت کرنی چاہیے ایک نے کہا میں ساری رات سوﺅں گا ہی نہیں ' ساری رات عبادت کیا کرو ں گا۔ دوسرے نے روزانہ روزہ رکھنے کا کہا ۔تیسرے نے کہا میں نکاح نہیں کروں گا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ کو سارا واقعہ بتایا گیا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں کو ارشاد فرمایا!
اللہ کی قسم !میں تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں ' میں سوتا بھی ہوں اور عبادت بھی کرتا ہوں' میں (نفلی )روزے رکھتا بھی ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں نکاح کرنا میری سنت ہے پس جو میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ سے نہیں ۔
(بخاری )
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا لشکر جمعہ کی صبح روانہ فرمایا جس میں عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل تھے ان کے ساتھی حکم سنتے ہی صبح صبح روانہ ہو گئے لیکن انہوں نے سوچا کہ ہو سکتا ہے کہ میں اس جنگ میں شہید ہو جاﺅں لہذا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جمعہ پڑھنے کی سعادت حاصل کر کے انہیں جا ملوں گا ۔جمعہ کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر ارشاد فرمایا لو انفقت ما فی الارض جمیعا ما ادرکت فضل غدوتھم "اگر تم ساری زمین کی دولت بھی خرچ کر لو تم ان کی صبح روانگی کی فضیلت کو نہیں پا سکتے"
(عن ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ ترمذی)
(4)
حضرت عدی رضی اللہ تعالی عنہ بن حاتم بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی
کلو اواشر بو حتی یتبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود من الفجر۔ (البقرہ آیت ۷۸۱)
"کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ رات کے سیاہ دھاگے سے تمہارے لئے ظاہر نہ ہوجائے"تو میں نے ایک سیاہ دھاگہ اور ایک سفید دھاگہ لے لیا اور ان دونوں کو اپنے تکیے کے نیچے رکھ لیا اور رات کو اٹھ اٹھ کر ان کو دیکھتا رہا مگر مجھے کچھ معلوم نہ ہوا تو صبح کو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ (سیاہ دھاگے سے مراد) تو رات کی سیاہی اور (سفید دھاگے سے مراد )صبح کی سفیدی ہے۔
(بخاری)
٭ اگر کسی نیک و متقی شخص کی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کے مخالف آجائے تو ؟
تو اس کو چھوڑ دیا جائے گا کیونکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بڑوں اور بزرگوں کی عزت کا حکم دیا ہے اور کسی کی قربانیاں اور عبادات اس بات کا تقاضا نہیں کرتیں کہ اب اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو چھوڑ کر اس کی بات کو لے لیا جائے ۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تورات کا نسخہ لیکر آئے اور کہا اے اللہ کے رسول یہ تورات کا نسخہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے تو انہوں نے پڑھنا شروع کر دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور متغیر ہونے لگا تو حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا گم کریں تجھ کو گم کرنیوالیاں!کیاتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی طرف نہیں دیکھتا !تو عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی طرف دیکھ کر کہا میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس کے غضب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غضب سے ' میں اللہ کے رب ہونے ' اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہوا۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا !
والذی نفس محمد بیدہ لو بدالکم موسی فاتبعتموہ و تر کتمونی لضللتم عن سوا ءالسبیل ولو کان موسی حیا و ادرک نبوتی لا تبعنی ۔
"اس ذات کی قسم !جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جا ن ہے اگر موسیٰ علیہ السلام تمہارے لئے ظاہر ہو جائیں اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی پیروی کرتے تو تم سیدھی راہ سے بھٹک جاتے اور اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے اور میری نبوت پاتے تو میری ہی پیر وی کرتے "۔
(مشکوة)
اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ اگر موسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر پیغمبر کی بات کو لے لیا جائے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو چھوڑ دیا جائے تو یہ گمراہی ہے ۔
عدی بن حاتم رضی اللہ تعالی عنہ عیسائی تھے وہ رسول کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ سورة توبہ کی تلاوت فرما رہے تھے یہاں تک کہ آپ جب اس آیت پر پہنچے ۔
اتخذوااحبارھم ورھبانھم ارباب من دون اللہ ۔( سورة التوبہ آیت 31)۔
"ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنالیا ہے" ۔
تو عدی بن حاتم رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا ہم انکی عبادت تو نہیں کرتے تھے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا !تمہارے علماءاوردرویش جس چیزکو حرام کر دیتے حالانکہ اللہ نے اسے حلال کیا ہوتا تو کیاتم اسے حرام نہیں جانتے تھے اور جس چیز کو اللہ نے حرام کیا ہوتا لیکن وہ حلال کر دیتے تو کیا تم اسے حلال نہیں جانتے تھے ؟
میں (عدی) نے کہا ہاں تو آپ نے فرمایا یہی ان کی عبادت ہے ۔
(ترمذی)۔