ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 857
- ری ایکشن اسکور
- 228
- پوائنٹ
- 111
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی ذاتِ مقدسہ پر روافض کا الزام کہ وہ اپنے گھر میں اجنبی مردوں کی میزبانی کرتی تھیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده، أمّا بعد:
یہ شبہہ کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے گھر میں اجنبی مردوں کو بلا کر ٹھہراتی تھیں، ایک ایسا الزام ہے جو رافضی مرتدین بار بار دہراتے رہتے ہیں تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ کی ذاتِ مقدسہ پر طعن و تشنیع وارد کر سکیں۔ ان کا اعتراض یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اجنبی مردوں کو اپنے گھر میں ٹھہراتیں اور انہیں یہ سکھاتی تھیں کہ کپڑوں پر منی کے نشان کو دھونے کے بجائے صاف کریں۔ اور یہ اعتراض بعض روایات پر مبنی ہے جو ان کے نزدیک مشکوک اور پست حال کو ظاہر کرتی ہیں۔
یہ شبہہ بذات خود اس بات کا دلیل ہے کہ یہ گروہ نصوصِ شرعیہ کو سمجھنے میں نہایت پست معیار رکھتا ہے۔ عربی محاورے میں جو عبارت "نزل بعائشة ضيف" کہی جاتی ہے، اس کا مفہوم ہرگز یہ نہیں کہ مہمان عائشہ کے گھر میں داخل ہوا، بلکہ یہ محض اس بات کا اظہار ہے کہ وہ مہمان ان کے تحتِ سرپرستی یا قرب کے تحت ٹھہرا۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مہمانوں کو عموماً مسجد نبوی میں یا صحابہ کرام کے گھروں میں ٹھہرا دیا جاتا، نہ کہ ازواجِ مطہرات کے حجرات میں۔ ہر زوجہ کے لیے علیحدہ حجرہ مخصوص تھا، اور یہ گھر کی نجی زندگی کے لیے مخصوص تھا۔ لہٰذا کسی اجنبی مرد کا حضرت عائشہ کے حجرے میں قیام کرنا محال و بعید ہے۔
تاریخ و روایت سے واضح ہے کہ مدینہ منورہ میں مہمانوں کے لیے مخصوص مکانات موجود تھے، جنہیں "دار الضِّيفَان" کہا جاتا تھا۔
ابو زید عمر بن شُبہ النمیری البصری (١٧٣ - ٢٦٢ هـ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ومنهن الدار التي يقال لها «الدار الكبرى» دار حميد ابن عبد الرحمن بن عوف، بحشّ طلحة، وإنما سميت الدار الكبرى لأنها أول دار بناها أحد من المهاجرين بالمدينة، وكان عبد الرحمن ينزل فيها ضيفان رسول الله ﷺ، فكانت أيضا تسمى: «دار الضيفان»
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے مکانات میں ایک مکان دارُ الحمید بن عبدالرحمٰن بن عوف کے نام سے معروف تھا، جو حَشِّ طلحہ میں واقع تھا۔ اسے الدار الکبریٰ (بڑا مکان) اس لیے کہا جاتا تھا کہ یہ مدینہ میں مہاجرین میں سے کسی کا سب سے پہلا تعمیر شدہ مکان تھا۔ اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اسی گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمانوں کو ٹھہراتے تھے۔ اسی وجہ سے یہ مکان دارُ الضِّيفَان (مہمانوں کا گھر) بھی کہلاتا تھا۔
[تاريخ المدينة لابن شبة، ج : ١، ص : ٢٣٥]
یہ تمام مہمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے تھے، اور یہ دارُ الضِّيفَان (مہمان خانہ) میں ٹھہرتے تھے۔ تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کوئی خبیث شخص کس جرأت سے یہ کہہ سکتا ہے کہ (نعوذ باللہ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے حجرے میں اجنبی مردوں کو ٹھہراتی تھیں؟ یہ سراسر بے بنیاد اور جھوٹا الزام ہے، جس کی تردید نہ صرف عقل بلکہ تاریخ و روایت سے بھی ہوتی ہے۔
علامہ السمہودی (ت ٩١١هـ) رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
وفي شامي المسجد اليوم مما يلي الشرق دار تعرف بدار المضيف، فلعل تسميتها بذلك لكونها في موضع دار الضيفان المذكورة
آج بھی مسجد نبوی کے مشرقی جانب ایک گھر موجود ہے جو دارُ المضيف کے نام سے معروف ہے۔ غالب گمان ہے کہ اسے یہ نام اسی لیے دیا گیا کہ یہ اسی مقام پر واقع ہے جہاں پہلے دارُ الضِّيفَان ہوا کرتا تھا۔
[وفاء الوفا بأخبار دار المصطفى، ج: ۲، ص: ۲۴۲]
اسی طرح ایک اور مہمان خانے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
ودار بنت الحارث هذه لها ذكر في أماكن كثيرة، وكان النبي صلّى الله عليه وسلّم ينزل بها الوفود، وجعل بها أسرى بني قريظة حتى خندق لهم الخنادق بالسوق وقتلوا. وروى ابن زبالة عن محمد بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم قال: جاء النبي صلّى الله عليه وسلّم إلى نفر من أصحابه من قريش والأنصار وهم في دار بنت الحارث، فلما رأوه أوسعوا له- الحديث.
یہ دارُ بنت الحارث ہے، جس کا ذکر متعدد مقامات پر آیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفود کو اسی گھر میں ٹھہراتے تھے۔ اسی جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کے قیدیوں کو بھی رکھا، یہاں تک کہ ان کے لیے خندقیں کھدوائیں اور انہیں بازار کے قریب قتل کیا گیا۔ ابن زُبالة نے محمد بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قریش و انصار کے کچھ اصحاب کے پاس تشریف لائے جو دار بنت الحارث میں بیٹھے تھے۔ جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو آپ کے لیے جگہ خالی کر دی۔
[وفاء الوفا بأخبار دار المصطفى، ج: ۲، ص: ۲۵۰]
یہ تمام تاریخی دلائل اور روایتیں یہ واضح کرتی ہیں کہ مدینہ منورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے ہی مہمانوں کے لیے علیحدہ مکانات مخصوص تھے۔
مہمانوں کو نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کے گھروں میں رکھا جاتا تھا، نہ ہی بعد میں ایسا رواج ہوا۔ لہٰذا یہ کہنا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے حجرے میں اجنبی مردوں کو ٹھہراتی تھیں، نہ صرف جھوٹ اور جہالت ہے بلکہ ام المؤمنین کی شان میں کھلا ہوا افتراء و اہانت ہے۔