• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ام المومنین سیدہ ام حبیبہؓ رضی اللہ عنہا کا نکاح

شمولیت
مئی 28، 2017
پیغامات
20
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
36
مگر یہ بات سمجھ نہیں ہے میرے

۔۔ قرآن میں سورہ الاحزاب میں اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مزید نکاح کرنے سے منع فرمادیا تھا اور سورہ الاحزاب 7 ہجری میں نازل ہوئی تو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم 8 ہجری میں ام حبیبہ رض سے نکاح کیسے فرماسکتے ہیں
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,403
پوائنٹ
964
مگر یہ بات سمجھ نہیں ہے میرے
۔۔ قرآن میں سورہ الاحزاب میں اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مزید نکاح کرنے سے منع فرمادیا تھا اور سورہ الاحزاب 7 ہجری میں نازل ہوئی تو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم 8 ہجری میں ام حبیبہ رض سے نکاح کیسے فرماسکتے ہیں
اس حوالے سے میں اس تھریڈ کی اپنی سب سے پہلی پوسٹ میں عرض کر چکا ہوں ، کہ یہ اشکالات و اعتراض بے جا نہیں ہیں ۔
 
شمولیت
جون 01، 2017
پیغامات
61
ری ایکشن اسکور
8
پوائنٹ
20
نکاح ام حبیبہ رضی اللہ عنہا، صحیح مسلم کی ایک ضعیف روایت؟


تحریر: ابوالوفا محمد حماد اثری

امام مسلم رحمہ اللہ اپنی صحیح میں روایت لائے ہیں کہ

'' مسلمان سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھتے تک نہیں تھے، تو ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے نبی کریمﷺ سے عرض کیا ،یا نبی اللہﷺ!تین انعام مجھ پہ کیجئے، میری حسن و جمال کا مرقع دختر حبیبہ کو اپنےنکاح میں لے لیجئے، رسول اللہﷺ نے فرمایا : درست ، معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنا کاتب بنا لیجئے، فرمایا :جی ٹھیک ہے، عرض کیا ،مجھے امیر لشکر بنا دیجئےتاکہ میں کفار سے اسی طرح قتال کروں، جس طرح مسلمانوں سے کیا تھا۔فرمایا : درست ہے۔
(صحیح مسلم : 2501)
یہ روایت سند و متن کے لحاظ سے بالکل صحیح ہے، اسی لئے اما م رحمہ اللہ اسے اپنی صحیح میں لائے ہیں، بعض احباب کی طرف سے مگر اس کے متن پر چند حوالوں سے اعتراضات کئے گئے ہیں، مثلا تاریخی حقائق کے خلا ف ہے، دوسری احادیث کے خلاف ہے وغیرہ، انہیں کا جائزہ ذیل میں ہم لیں گے۔

تاریخ نکاح

پہلا اعتراض اس پر یہ ہے کہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا نکاح تو 6 ہجری میں ہوچکا تھا، تو ابو سفیان رضی اللہ نے جب کہ ام حبیبہ کا نکاح ہو چکا تھا، کیسے کہہ دیا کہ آپ اسے نکاح میں لے لیجئے ۔؟
یاد رکھئے کہ یہ اعتراض اولا ،حافظ ابن حزم رحمہ اللہ نے اٹھایا تھا اور اسی کو بنیاد بنا کر انہوں نے اس حدیث کو موضوع قرار دے دیا، بعد کے علماءبھی اتفاق سے اس اعتراض کو درست تسلم کر کے، اپنے تئیں اس کا جواب دیتے رہے ہیں، جیسے حافظ نووی و ابن صلاح نے کیا ہے۔ حالاں کہ یہ ابن حزم رحمہ اللہ کی واضح خطا تھی۔
بعد والے بعض علماء نے ابن حزم رحمہ اللہ سے اختلاف تو کیا مگر وہ ان کی اصل خطا کو سمجھ نہ پائے، اسی لئے کوئی اطمینان بخش جواب بھی دینے سے قاصر رہے۔( اللہ ان پر رحم فرمائے)

6 یا 7ہجری میں نکاح ؟

ہمارا کہنا ہے کہ اس حدیث پر اٹھایا جانے والا اعتراض کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا نکاح 6 یا 7ہجری میں ہو چکا تھا۔ہی خطا اور خطا در خطاہے۔
7 ہجری کا بیان ، ان دو ائمہ کی طرف منسوب ہے۔
(1)
عاصم بن عمر بن قتادہ، رحمہ اللہ (م: بعد 120ھ)
(الطبقات الکبری لابن سعد، 8/78)
اس کی سند ضعیف ہے، محمد بن عمر الواقدی مشہورمتروک راوی اس میں موجود ہے، لہذا اس کی سند پر اعتبار ممکن ہی نہیں۔
اگر کوئی بضد ہو کہ تاریخ میں ان جیسوں کی بات مان لی جاتی ہے تو یہ بھی مان لیجئے ، تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنہما (ص، 467)جس کے راوی واقدی وغیرہ ہی ہیں، میں لکھا ہے۔
تزَوج النبى صلى الله عَلَيْهِ وَسلم عَام فتح مَكَّة أم حَبِيبَة بنت أبي سُفْيَان فَهَذَا كَانَ صلَة بَينهم وَبَين رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم '
'' رسول اللہ ﷺ نے سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فتح مکہ کے سال کیا۔''
(2)
عبد اللہ بن ابی بکر بن حزم(م:135ھ)کی طرف بھی یہی بات منسوب ہے، (حوالہ سابقہ)
اس میں بھی واقدی موجود ہے، لہذا اس پر اعتبا ر نہیں ہو سکتا۔

6 ہجری

امام ابن مندہ(م:470)
(المستَخرجُ من كُتب النَّاس للتَّذكرة والمستطرف من أحوال الرِّجال للمعرفة
،1/54)
ان کے ساتھ ساتھ ابن کثیر رحمہ اللہ نےخلیفہ ، ابوعبید اللہ معمر بن مثنی اور ابن البرقی کی طرف منسوب کیا ہے کہ انہوں نے یہ تاریخ بیان کی ہے۔

ہمارے کرم فرماوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ ائمہ کی بتائی ہوئی نکاح کی یہ تاریخ ہی حتمی ہے، یہ تاریخی حقیقت ہے۔
گزارش فقیر :
لیکن ہم کہتے ہیں اس کے تاریخی حقیقت ہونے کا دعوی بہت بڑی خطا ہے،بعض ائمہ کا بیان تاریخی حقیقت کسی صورت بھی نہیں کہلا سکتا، خصوصا اس صورت میں جب اس کے مخالف آراء بھی موجود ہوں۔

فتحہ مکہ کے بعد نکاح والی تاریخی آراء
ذیل میں ہم ان تاریخی آراء کا ذکر کر رہے جن کے مطابق سیدہ کا نکاح فتحہ مکہ کے بعد ہوا ہے اور یہی درست ہے۔
امام مقاتل بن سلیمان(م:150ھ)
امام صاحب لکھتے ہیں :
فلما أسلم أهل مكة خالطهم المسلمون وناكحوهم، وتزوج النبي- صلى الله عليه وسلم- أم حبيبة بنت أبي سفيان فهذه المودة التي ذكر الله- تعالى
''جب اہل مکہ ایمان لاچکے ، ان کے دوسرے مسلمانوں سے نکاح ہونے لگے اور نبی کریمﷺ نے ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا۔
(تفسیر مقاتل بن سلیمان 4/302)
الوجيز للواحدي (ص: 1089)کے مطابق نبی کریمﷺ نے سیدہ ام حبیبہ سے نکاح فتحہ مکہ کے بعد کیا تھا۔
میں بھی مذکور ہے۔(5/ 416)کچھ ایسی ہی بات تفسیر سمعانی
معانی القرآن واعرابہ للزجاج (م:311)(5/157)
کا مفاد بھی یہی ہے کہ سیدہ سے نکاح نبی کریمﷺ کا فتحہ مکہ کے بعد ہوا۔
مورخ ابوجعفر بغدادی(م: 245ھ) لکھتے ہیں :
فبعث رسول الله صلى الله عليه عمرو بن أمية الضمري إلى الحبشة، فزوجه إياها. وكان ذلك حين افتتح مكة وقد كان نزل عليه «عَسَى الله أَنْ يَجْعَلَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الَّذِينَ عادَيْتُمْ مِنْهُمْ مَوَدَّةً [1] » 60:
''رسول اللہﷺ نے عمرو بن امیہ ضمری کو حبشہ کی طرف بھیجا ، پھر سیدہ ام حبیبہ سے نکاح ہوا،یہ اس وقت کی بات ہے جب مکہ فتحہ ہو چکا تھا اور یہ آیت نازل ہوچکی تھی(«عَسَى الله أَنْ يَجْعَلَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الَّذِينَ عادَيْتُمْ مِنْهُمْ مَوَدَّةً » 60:​
(المحبر : ص، 88)
مذکورہ بحث سے معلوم ہوا کہ جہاں نکاح میں 6یا 7 ہجری کی روایات موجود ہیں، وہیں فتحہ مکہ کے بعد کی روایات بھی موجود ہیں، تو بلا کسی دلیل کے 6یا 7 ہجری میں نکاح کو تاریخی حقیقت باور کروانا کہاں کی دانشمندی ہے؟
ایک اور اعتراض
بعض احبا ب اس پر ایک حدیث پیش کرتے ہیں، جس میں ہے کہ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے ملنے آئے تو انہوں نے اپنے باپ کے نیچے سے بستر کھینچ لیا کہ وہ اسے مشرک جانتی تھیں۔
(الطبقات الکبری8/99)
لیکن اس کی سند ضعیف ہے :
1محمد بن عمر واقدی متروک ہے۔
2یہ حدیث مرسل ہے، یعنی اس کی سند سفیان ثوری تک ہے۔
لہذا یہ اعتراض بھی اپنے منطقی انجام (ناقابل قبول ہونا) کو پہنچا۔

اعتراض :
نبی کریمﷺ کو اور نکاح سے منع کر دیا گیا تھا؟
جواب :
پھر اجازت بھی دے دی گئی تھی، نبی کریمﷺ فوت ہوئے تو یہ اجازت موجود تھی(سنن النسائی :11351، وسندہ صحیح )
لہذا آپ کے اعتراض میں اور بہت سے جھول ہونے باوجود ہم اتنا ہی کہتے ہیں، کہ اگر ممانعت کے بعد ہوا ہے تو اس وقت ہوا ہے، جب آپﷺ کو دوبارہ اجازت مل چکی تھی۔
بعض اعتراضات ان احباب کے جذباتی نوعیت کے ہیں، لہذا ان کا جواب دینے کی کوئی خاص ضرورت ہم محسوس نہیں کرتے ۔
بات صاف ہے کہ اللہ نے نبی کریمﷺ اور ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے درمیان محبت کی تین تدبیریں کروائیں، نکاح ام حبیبہ رضی اللہ عنہا، امارت ابو سفیان رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو کاتب بنانا۔
رہا راوی ابو زمیل کا بیان کہ سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ یہ بات نہ کرتے تو آپﷺ یہ سب کچھ نہ کرتے۔
تو یہ ابو زمیل کا ذاتی خیال ہے، اور ویسے بھی یہ بحث کرنا فضول ہے کہ اگر یوں ہوتا تو یوں ہوتا، ہم امر واقعہ سے بحث کرتے ہیں، وہ یہ ہے کہ نبی کریمﷺ نے سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ پہ یہ انعام کئے ہیں۔
اس میں گھرانہ ابو سفیان کی توہین نہیں بلکہ عظمت پر دلالت ہے، نبی کریمﷺ چاہتے تھے کہ لوگ ابو سفیان رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے لگیں، اسی باعث تو یہ تین کام کئے آپ نے۔
ہم اپنے پیارے معترضین سے گزارش کریں گے کہ یا تو کوئی ایسی صحیح روایت لائیے جس سے ثابت ہو سکے کہ سیدہ کا نکاح 6 ہجری میں ہوا، ورنہ حدیث کو ٹھکرانے کی بجائے حدیث کو مان لینے کی روش اپنا لیجئے۔​
 
Last edited by a moderator:
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح اور صحیح مسلم کی ایک حدیث کا دفاع

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
حافظ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہور کتاب"الصلوٰۃ والسلام علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم "صفحہ 166(اردو مترجم)میں لکھتے ہیں ۔"صحیح مسلم میں ہے کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔مسلمان نہ ابو سفیان کی جانب دیکھا کرتے تھے اور نہ اسے اپنے پاس بٹھایا کرتے تھے۔اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ تین باتیں ہیں وہ مجھے عطا فرمائیے۔فرمایا: اچھا !کہا: میرے پاس عرب بھر میں سب سے زیادہ حسین و جمیل لڑکی اُم حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہے میں اس کو آپ کے نکاح میں دینا چاہتا ہوں،
واضح ہو کہ اس حدیث کے معنی میں لوگوں کو بہت ہی مشکل پڑی ہے کیونکہ اُم المومنین اُ م حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسلام لانے سے پیشتر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو چکا تھا اور نجاشی نے پڑھا یا تھا اور اپنے باپ کے اسلام لانے سے پیشتر نبی کی خدمت میں مدینہ پہنچ گئی تھیں اور پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ فتح مکہ کے بعد ابو سفیان کہے کہ"میں اُ حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح آپ سے کرتا ہوں"ایک گروہ علماء کا قول ہے کہ یہ حدیث کذب ہے اس کی کوئی اصل نہیں ۔ ابن حزم کا قول ہے۔"عکرمہ بن عمار نے یہ جھوٹ بنایا ہے۔(ص166۔167)
اسی طرح حافظ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ نے مذکورہ کتاب میں صفحہ 167سے 175تک میں اس روایت کا دفاع کرنے والوں پر رد کیا ہے اور آخر میں لکھا ہے:
"ٹھیک تو یہی ہے کہ یہ حدیث غیر محفوظ ہے اور اس میں کچھ خلط ملط ضرور ہوا ہے۔"(صفحہ نمبر175)
محترم شیخ صاحب !اس روایت کے بارے میں مکمل تحقیق درکار ہے اور تفصیل کے ساتھ صحیحین پر اجماع کے بارے میں بھی وضاحت درکار ہے تاکہ اس حوالے سے مزید اعتراضات کو ختم کیا جاسکے کیونکہ محترم بدیع الدین شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر کا اردو ترجمہ ہو رہا ہے اور اس کی اشاعت سے قبل ہی اس معاملے پر اگر تفصیلی مضمون آجائے تو یہ اہل حدیث علماء و عوام پر احسان ہو گا۔(ان شاء اللہ)جزا کم اللہ خیراً فی الدرین (وکیل ولی قاضی ،حیدر آباد سندھ )
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کی سند درج ذیل ہے:
النَّضْرُ ، وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ ..." (صحیح مسلم: 2501،دارالسلام :6409)

اور نضر بن محمد بن موسیٰ الجرشی الیمامی صحیح بخاری رحمۃ اللہ علیہ ،صحیح مسلم رحمۃ اللہ علیہ ، سنن ابی داؤد رحمۃ اللہ علیہ ، سنن رحمۃ اللہ علیہ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ اور سنن ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ کے راوی ہیں اور ثقہ ہیں۔
انھیں امام عجلی رحمۃ اللہ علیہ ، امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ اور ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ وغیرہم نے ثقہ قراردیا ۔ ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ نے انھیں ثقات میں ذکر کر کے فرمایا: "ربما تفرد" بعض اوقات وہ تفرد کرتے تھے۔
حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: "ثقہ" (الکاشف 3/219)
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:"ثقہ لہ افراد"(تقریب التہذیب:7148)
یادرہے کہ ثقہ و صدوق راوی کا تفرد ذرا برابر بھی مضر نہیں ہوتا اور شذوذ کا مسئلہ اس سے علیحدہ ہے۔
اس سند کے دوسرے راوی عکرمہ بن عمار جمہور کے نزدیک ثقہ و صدوق ہونے کی وجہ سے حسن الحدیث ہیں بشرطیکہ سماع کی تصریح کریں اور اس سند میں سماع کی تصریح موجود ہے۔
انھیں یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ ، علی بن المدینی رحمۃ اللہ علیہ اور عجلی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہم جمہور نے ثقہ قراردیا۔
ان کی یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت میں کلام ہے لیکن یہ روایت یحییٰ بن ابی کثیر سے نہیں ،لہٰذا اس جرح کا ہماری روایت سے کوئی تعلق نہیں:
امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے یہ وضاحت فرمائی ہے:
"فَأَمَّا مَا كَانَ مِنْهَا عَنْ قَوْمٍ هُمْ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ مُتَّهَمُونَ ، أَوْ عِنْدَ الأَكْثَرِ مِنْهُمْ ، فَلَسْنَا نَتَشَاغَلُ بِتَخْرِيجِ حَدِيثِهِمْ....."
میں نے ایسے راویوں کی روایت نہیں لی جنھیں اہل حدیث نے(بالا جماع)متہم (مجروح) قراردیا ہے یا اکثر یت کے نزدیک وہ مجروح ہیں۔(مقدمۃ صحیح مسلم ص6)
اس اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم اسماء الرجال میں راویوں پر محدثین کے اختلاف اور عدم تطبیق کی صورت میں ہمیشہ جمہور محدثین کو ہی ترجیح دیتے ہیں ۔
عکرمہ بن عمار پر ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ اور ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ کی جرح جمہور محدثین کی توثیق کے مقابلے میں ہونے کی وجہ سے غلط ہے اور اس حسن لذاتہ حدیث کو کذاب(جھوٹ)کہنا سر ے سے مردود اور باطل ہے۔
تیسرے راوی ابو زمیل سماک بن الولید الیمامی الکوفی کو امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ ، ابن معین رحمۃ اللہ علیہ ، عجلی رحمۃ اللہ علیہ اور ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ وغیرہم نے ثقہ کہا ہے اور ابو حاتم الرازی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:"صدوق لا باس بہ"
یہ ثقہ صدوق راوی ہیں اور ان کے استاد سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ مشہور صحابی ہیں۔نضر بن محمد والی یہ سند حسن لذاتہ یعنی حجت ہے۔
اسے نضر بن حمد الیمامی کی سند سے درج ذیل اماموں نے بھی روایت کیا ہے۔
1۔ابن ابی عاصم (الآحادو المثانی1/364ح487،5/418،ح3070)
2۔ابن حبان (صحیح ابن حبان :7166دوسرانسخہ :7210)
3۔طبرانی(المعجم الکبیر23/ح 404،12/199ح12885)
4۔بیہقی (السنن الکبری7/140)
5۔عبد الغنی بن عبدالواحد المقدسی (المصباح فی عیون الصحاح :48شاملہ)
6۔حسین بن ابراہیم الجورقانی الہمدانی(الاباطیل والمناکیر 1/189ح180،وقال :"ھذاحدیث صحیح )
اسے نضر بن محمد سے احمد بن یوسف السلمی ، عباس بن عبد العظیم العنبری اور احمد بن جعفر المعقری ثقہ راویوں نے بیان کیا ہے۔
اصول حدیث اور اسماء الرجال کی روسے یہ سند حسن لذاتہ یعنی صحیح ہے اور متن پر حافظ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ کے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث میں یہ صراحت نہیں کہ ابوسفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ تینوں سوال ایک ہی مجلس میں کئے تھے، بلکہ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے:
"وَإِنْ كَانَتْ مَسْأَلَتُهُ الْأُولَى إِيَّاهُ وَقَعَتْ فِي بَعْضِ خَرَجَاتِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَهُوَ كَافِرٌ حِينَ سَمِعَ نَعْيَ زَوْجِ أُمِّ حَبِيبَةَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ، وَالْمَسْأَلَةُ الثَّانِيَةُ [ص:227] وَالثَّالِثَةُ وَقَعَتَا بَعْدَ إِسْلَامِهِ لَا يَحْتَمِلُ إِنْ كَانَ الْحَدِيثُ مَحْفُوظًا إِلَّا ذَلِكَ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ"
"اور اگر ان کا پہلا سوال(اُم حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شادی کے متعلق )واقع ہوا تو یہ ان کے اس سفر میں تھا جب وہ کافر کی حیثیت سے مدینہ آئے تھے۔ جب انھوں نے (اپنی بیٹی) اُم حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شوہر کی حبشہ میں موت کے بارے میں سنا دوسرا اور تیسرا سوال ان کے اسلام لانے کے بعد کے ہیں اگر یہ حدیث محفوظ ہے تو اس کے سوا دوسرا کوئی احتمال نہیں واللہ اعلم۔(السنن الکبری7/140)
اور یہی احتمال صحیح ہے کہ غزوہ بدر سے پہلے ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینے آئے تو انھوں نے یہ سوال کیا تھا ، لہٰذا صحیح مسلم کی یہ حدیث محفوظ ہے اور کسی صحیح دلیل کے ساتھ اس کا کوئی تعارض نہیں۔[1]
آخر میں عرض ہے کہ اہل حدیث کے نزدیک صحیح بخاری رحمۃ اللہ علیہ و صحیح مسلم رحمۃ اللہ علیہ کی تمام مرفوع مسند متصل احادیث یقیناً اور قطعی طور پر صحیح ہیں اورزمانہ تدوین حدیث میں بعض علماء کا بعض روایات یا بعض حروف پر جرح کرنا مرجوح و غلط ہے اور زمانہ تدوین حدیث وزمانہ شارحین حدیث (یعنی 900ھ)کے بعد ان روایت پر جرح کرنا باطل و مردود ہے۔
حافظ ابن کثیر الدمشقی (متوفی 774ھ)لکھتے ہیں۔"
"قال: ثم حكى ابن الصلاح : إن الأمة تلقت هذين الكتابين بالقبول ، سوى أحرف يسيرة انتقدها بعض الحفاظ كالدارقطني وغيره ، ثم استنبط من ذلك القطع بصحة ما فيهما من الأحاديث ، لأن الأمة معصومة عن الخطأ ، فما ظنت صحَّتَه ووجب عليها العمل به ، لا بد وأن يكون صحيحًا في نفس الأمر . وهذا جيد..... "
"پھر (ابن الصلاح نے)بیان کیا کہ بے شک (ساری )امت نے ان دوکتابوں (صحیح بخاری و صحیح مسلم) کو قبول کر لیا ہے۔سوائے تھوڑے حروف کے جن پر بعض حفاظ ،مثلا دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے تنقید کی ہے پھر اس سے(ابن الصلاح نے)استنباط کیا کہ ان دونوں کتابوں کی احادیث قطعی الصحت ہیں کیونکہ امت (جب اجماع کر لے تو)خطا سے معصوم ہے،جسے امت نے(بالا جماع )صحیح سمجھا تو اس پر عمل(اور ایمان ) واجب ہے اور ضروری ہے کہ وہ حقیقت میں بھی صحیح ہی ہو،اور (ابن الصلاح کی)یہ بات اچھی ہے۔(اختصار علوم الحدیث 1/124،125)
اصول فقہ کے ماہر حافظ ثناءاللہ الزاہدی نے ایک رسالہ"احادیث الصحیحین بین الظن والیقین "لکھا ہے جس میں ابو اسحاق الاسفرائنی (متوفی 418ھ)امام الحرمین الجوینی (متوفی 478ھ)ابن القیسرانی(متوفی 507ھ)ابن الصلاح (متوفی 643ھ)اور ابن تیمیہ (متوفی 728)وغیرہم سے صحیحین کا صحیح وقطعی الثبوت ہونا ثابت کیا ہے۔
شاہ ولی اللہ الدہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے:
"أما الصحيحان فقد اتفق المحدثون على أن جميع ما فيهما من المتصل المرفوع صحيح بالقطع وأنهما متواتران إلى مصنفيهما وأن كل من يهون أمرهما فهو مبتدع متبع غير سبيل المؤمنين"
"صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے بارے میں تمام محدثین متفق ہیں کہ ان میں تمام کی تمام متصل اور مرفوع احادیث یقیناً صحیح ہیں۔ یہ دونوں کتابیں اپنے مصنفین تک بالتواتر پہنچی ہیں، جو ان کی عظمت نہ کرے وہ بدعتی ہے جو مسلمانوں کی راہ کے خلاف چلتا ہے۔"(حجۃ اللہ البالغہ عربی 1/134اردو 1/242ترجمہ ،عبدالحق حقانی)
تفصیل کے لیے دیکھئے میری کتاب "صحیح بخاری کا دفاع "
یہی ہمارا منہج اور عقیدہ ہے اور الحمد للہ کتاب و سنت واجماع نیز آثار سلف صالحین سے یہی منہج وعقیدہ ثابت ہے لہٰذا اس کے خلاف ہم کسی کی بات تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں،وما علینا الا البلاغ (27/شعبان 1433ھ بمطابق 18/جولائی 2012ء)
[1]۔اس حدیث کی توجیہ میں امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں۔" صحیح بات یہ ہے کہ جب ابو سفیان( رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو داماد بنانا ایک بہت بڑا اشرف ہے تو انہیں یہ پیشکش کی کہ میں اپنی دوسری بیٹی کا نکاح آپ سے کرنا چاہتا ہوں جس کا نام عزہ ہے۔ اس سلسلے میں سیدنا ابو سفیان( رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے عزہ کی بہن سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مدد چاہی جیسا کہ صحیح بخاری (5106،510)اور صحیح مسلم (15/1449)میں سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ میری بہن اور ابو سفیان کی بیٹی سے نکاح کر لیں۔ آپ نے فرمایا:" کیا تجھے یہ بات پسند ؟"انھوں نے کہا: جی ہاں!اور صحیح مسلم میں( یہ وضاحت بھی) ہے کہ آپ میری بہن عزہ بنت ابی سفیان سے نکاح کر لیں۔(ممکن ہےعزہ کی کنیت اُم حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہو یا) راوی پر مشتبہ ہوگیا اور اس نے(عزہ کی جگہ ) اُم حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہہ دیا۔اس قسم کے بے شمار نظائر و شواہد موجود ہیں۔ میں نے ایک جزء میں اس حدیث کی وجہ سے ایسے تمام نظائر کو یکجا کر دیا۔والحمد للہ۔"(الفصول فی اختصار سیرۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ص254) (ندیم ظہیر)
ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

جلد3۔اصول ،تخریج الروایات اور ان کا حکم-صفحہ190

محدث فتویٰ
 
Top