ام محجن اور رب کریم کی عظیم نشانی
عبدالعلیم بن عبدالحفیظ سلفی
ام محجن ( یا ایک قول کے مطابق محجنہ ) رضی اللہ عنہا مدینہ کی ایک مسکین اور کالی رنگت والی عورت تھیں ،جو مسجد نبوی کی خدمت کیا کرتی تھیں ، صحیح بخاری وغیرہ کے اندر ان کےسلسلےمیں ایک نہایت ہی دلچسپ قصہ مذکورہے جو ان کی ولایت اور کرامت کی بہترین دلیل ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ :عرب کے کسی قبیلہ کی ایک کالی لونڈی تھی۔جسے انہوں نے آزاد کر دیا تھا اور وہ انہیں کے ساتھ رہتی تھی۔ ام محجن نے اپنا ایک واقعہ خود بیان کیا ہے کہ ایک دفعہ اس قبیلہ کی ایک لڑکی (جو دلہن تھی) نہانے کو نکلی، اس کے پاس ایک وِشَاحٌ أحْمَرُ( کمر بندجو سرخ تسموں کا تھا جوجواہرت سے اراستہ وہ پیٹی تھی جسے عورت کوکھ سے گزار کر کندھے پر ڈالتی ہے ) تھا ۔اس نے وہ کمر بند اتار کر رکھ دیا ۔( یا وہ اس کے بدن سے گر گیا)۔ پھر اس طرف سے ایک چیل گزری جہاں کمر بند پڑا تھا۔ چیل اسے (سرخ رنگ کی وجہ سے) گوشت سمجھ کر جھپٹ لے گئی۔ بعد میں قبیلہ والوں نے اسے بہت تلاش کیا، لیکن وہ کمربند انہیں کہیں نہ ملا۔ ان لوگوں نے اس کی تہمت مجھ پر لگا دی اور میری تلاشی لینی شروع کر دی، یہاں تک کہ انہوں نے شرمگاہ تک کی تلاشی لی۔ (ایک روایت میں ہے : وہ کہتی ہیں کہ :میں نے اللہ سے دعاء کی کہ: اے اللہ مجھے اس الزام سے بری کردے۔ ) وہ کہتی ہیں کہ: اللہ کی قسم میں ان کے ساتھ اسی حالت میں کھڑی تھی کہ وہی چیل آئی اور اس نے ان کا وہ کمر بندنیچے گرا دیا۔ وہ ان کے سامنے ہی گرا۔ میں نے (اسے دیکھ کر)کہا :یہی تو تھا جس کی چوری کی تہمت اورالزام تم لوگ مجھ پر لگارہے تھے، حالانکہ میں اس سے پاک تھی۔ یہی تو ہے وہ کمر بند! وہ کہتی ہیں کہ: اس کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اسلام لائی۔
عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کرتی ہیں کہ: اس کے لیے مسجد نبوی میں ایک خیمہ لگا دیا گیا۔ وہ لونڈی میرے پاس آتی اور مجھ سے باتیں کیا کرتی تھی۔ جب بھی وہ میرے پاس آتی تو یہ ضرور کہتی کہ:
ويَوْمُ الْوِشَاحِ مِنْ أعَاجِيبِ رَبِّنَا
إلَا إِنَّهُ مِنْ بَلْدَةِ الْكُفْرِ أَنْجَانِي
کمر بند کا دن ہمارے رب کی عجیب نشانیوں میں سے ہے۔ اسی نے مجھے کفر کے ملک سے نجات دی۔
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اس سے کہا: آخر بات کیا ہے؟ جب بھی تم میرے پاس بیٹھتی ہو تو یہ بات ضرور کہتی ہو؟پھر اس نے مجھے یہ قصہ سنایا۔(صحیح بخاری/439)
ام محجن رضی اللہ عنہاکے سلسلے میں صحیحین کے اندر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: ایک روز اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ا نہیں نہیں دیکھا تو ان کے بارےمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے استفسارکیاتو لوگوں نے عرض کیا کہ وہ مر گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " أَفلا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي"۔ "تم نے مجھ کو خبر کیوں نہ کی؟ دراصل انہوں نے اس کو معمولی جان کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دینا مناسب نہیں سمجھا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " دُلُّونِي علَى قَبْرِهِا " "مجھے اس کی قبر بتاؤ"۔ لوگوں نے بتائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی اور فرمایا: "إنَّ هذِه القُبُورَمَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً علَى أَهْلِهَا،وإنَّ اللَّهَ عَزَّوَجَلَّ يُنَوِّرُهَا لهمْ بصَلَاتي عليهم"۔" یہ قبریں اندھیرے سے بھری ہیں اورانہیں اللہ تعالیٰ ان کےلئے میرے نماز پڑھنے سے روشن کر دیتا ہے"(صحیح بخاری /458 ، صحیح مسلم/956) ۔ شارحین حدیث او رسوانح نگاروں نے ذکر کیاہے کہ وہ عورت ام محجن ہی تھی ۔(الاصابۃ:8/314 ، عمدۃ القاری:8/26)۔
ا م محجن کی کہانی اور ان کی زندگی کے اندر ہمارے لئے عقائد وسلوک اور احکام ومسائل سے متعلق بےشمار فوائد اور نصیحتیں ہیں ،جیسے:
(1) - نبی کریم ﷺ لوگوں کی عزت و تعظیم (محض ان کے دنیاوی رتبے کی بنیاد پر نہیں بلکہ) ان کے اعمال اور اللہ کی اطاعت و عبادت میں ان کی کوششوں اورجدوجہد کے مطابق کیا کرتے تھے۔
(2) - اس سےعورت کے لیے مسجد کی صفائی کی ذمہ داری سنبھالنے کے جوازکا پتاچلتاہے اور یہ کہ یہ کام صرف مردوں کے لیے مخصوص نہیں ہے، بلکہ جس کسی نے بھی ثواب کی نیت سے مسجد کی صفائی کی اسے اس کا اجر ملے گا، خواہ عورت خود یہ کام سرانجام دے یا اپنی جیب سے کسی کو مسجد کی صفائی کے لیے اجرت پر رکھ لے۔
(3) - نبی کریم ﷺ غیب نہیں جانتے تھے، بلکہ آپ کاعلم اللہ کی عطا کردہ وحی کے تابع تھا ، اسی لیے آپ ﷺ نے (صحابہ سے) فرمایا: "مجھے اس کی قبر کا راستہ بتاؤ"۔ چنانچہ جب آپ ﷺ ایک ایسی چیز (قبر) کا علم نہیں رکھتے تھے جو حسی طور پر موجود تھی، تو جو چیزیں نظروں سے اوجھل (غیب) ہیں ان کا علم نہ ہونا تو بدرجہ اولیٰ ثابت ہے۔ کیونکہ اگر آپ ﷺ کو ہر بات کا ذاتی طور پر علم ہوتا، تو آپ ﷺ کو صحابہ سے قبر کا پتہ پوچھنے کی ضرورت پیش نہ آتی ، چنانچہ اسی چیزکی وضاحت کے لئے اللہ تعالی آپ کو خطاب کرتےہوئے فرماتا ہے: (قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ وَلَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَلَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّیْ مَلَكٌ ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤی اِلَیَّ ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیْرُ ؕ اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ)۔ {آپ کہہ دیجیے کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، اور نہ میں غیب جانتا ہوں، اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف بھیجی جاتی ہے} ۔(سورہ الانعام: 50)۔ اورایک جگہ اللہ تعالی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارےمیں فرماتاہے:( وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰی*اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی)۔ {اور نہ وه اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں۔بلکہ وه تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے} ۔(سورہ النجم:3-4)۔
(4) - اس واقعے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس شخص کی قبر پر نمازِ جنازہ پڑھنا جائز ہے جس کی نمازِ جنازہ تدفین سے پہلے نہ پڑھی گئی ہو، کیونکہ نبی کریم ﷺ (مسجد سے باہر) تشریف لے گئے اور آپ ﷺ نے ام محجن کی قبر پر نماز پڑھی ۔
(5) - اس واقعے سے نبی کریم ﷺ کا اپنی امت کے لیے بہترین نگہبانی و سرپرستی کا انداز ظاہر ہوتا ہے، اور یہ کہ آپ ﷺ اپنے صحابہ کی خبر گیری فرماتے اور ان کے حالات دریافت کرتے رہتےتھے۔ آپ ﷺ (قوم کے) بڑے اور اہم لوگوں کےساتھ مشغولیت کی وجہ سے چھوٹے اور عام لوگوں سے غافل نہیں ہوتے تھے، بلکہ مسلمانوں سے متعلق ہر اہم بات کے بارے میں آپ ﷺ سوال فرمایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ کی نظر میں کسی غریب یا بظاہر معمولی کام کرنے والے کی اہمیت کسی بڑے سردار سے کم نہ تھی، مسجد کی صفائی کرنے والی ایک خاتون کی غیر حاضری کو محسوس کرنا اور پھر ان کے بارے میں دریافت کرنا آپ ﷺ کی شفقت اور اپنی رعایا کے ساتھ گہرے تعلق کی دلیل ہے۔ چنانچہ ایک بہترین قائد اور رہبر کی صفت یہ ہے کہ وہ اپنے آس پاس اور متبعین کے ہر فرد کا خیال رکھے۔
(6 ) - معاشرے کے کمزور یا نچلے طبقے کے افراد کی خبر گیری کرنا سنتِ نبوی ﷺ ہے۔
(7) - ہمارا رب، جو پاک اور بلند و برتر ہے، اپنے بندوں پر بہت رحم کرنے والا ہے، بالخصوص ان میں سے کمزوروں اور مظلوموں کی ان لوگوں کے خلاف مدد فرماتاہے جنہوں نے ان پر ظلم کیا ہے۔
(8) - اللہ تعالی حق کو جلد یا بدیر (دنیا یا آخرت میں) ظاہر فرما کر رہتا ہے۔
(9) - یہ قصہ اس یقین کو پختہ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں دیر ہو سکتی ہے لیکن اندھیر نہیں۔ وہ ظالم کو ڈھیل ضرور دیتا ہے مگر مظلوم کی پکار کو رد نہیں کرتا۔یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جب معاذرضی اللہ عنہ کو جب یمن میں گورنربناکربھیجا تو ان کو ہدایت دیتے ہوئے فرمایا:" اتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ"۔ "مظلوم کی بددعا سے ڈرتے رہنا کہ اس (دعا) کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا"۔(صحیح بخاری/2448)۔
(10) - مظلوم کی دعا قبول ہوتی ہے خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ ان خاتون (ام محجن) نے مدینہ آنے کے بعد ہی اسلام قبول کیا تھا۔
(11) -اللہ تعالیٰ بسا اوقات مصیبت زدہ لوگوں کی پریشانیاں دور فرما دیتا ہے اور ان کے لیے (اپنی قدرت سے) فطری نظام کے برخلاف معجزانہ صورت پیدا کر دیتا ہے، اگرچہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہوں۔ کیونکہ اللہ کا عدل مومن اور کافر، اور نیک اور بد (سب کے لیے) عام ہے۔
(12) – اگر اللہ تعالی کی توفیق وہدایت ہوتو کوئی ایک واقعہ اس کی ہدایت کا سبب بن سکتاہے کیونکہ وہ فتنہ (آزمائش) جس کا ام محجن کو سامنا کرنا پڑا—یعنی ان پر لگایا جانے والا الزام اور انہیں دی جانے والی تکلیف — ان کے اسلام لانے اور ہجرت کرنے کا سبب بن گیا۔ اور وہ ہار (وِشاح) ان کی نجات کا ذریعہ بنا۔ درحقیقت یہ ان پر اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت تھی؛ کیونکہ یہی واقعہ ان کی زندگی میں بدبختی سے خوش بختی کی طرف ایک نقطۂ آغاز ثابت ہوا، اور ان کے اسلام لانے، نجات پانے اور دارِ کفر سے دارِ ایمان کی طرف ہجرت کرنے کا سبب بنا سچ کہا جاتاہے کہ :بسا اوقات کوئی تکلیف دہ چیز بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔
(13) - ہار والا دن (یوم الوشاح) قدرت کے عجائبات میں سے تھا؛ کیونکہ اس دن چیل کا اس ہار کو جھپٹ لینا اور پھر ام محجن پر اس کا الزام لگنا، زمانے کے انوکھے واقعات اور عجائبات میں سے تھا۔
(14) - جس شخص کے پاس رہنے کے لیے کوئی گھر یا رات گزارنے کے لیے کوئی جگہ نہ ہو، اس کے لیے مسجد میں رات گزارنا مباح (جائز) ہے—خواہ وہ مرد ہو یا عورت—بشرطیکہ فتنے سے امن وحفاظت حاصل ہو۔
ان کےعلاوہ بھی بہت سارے فوائد اور مسائل ہیں۔
********