دونوں کتابوں میں جیسے حوالہ دیا گیا ہے ، وہاں اس طرح کی کوئی حدیث نہیں ہے ۔
کنز العمال میں 28195 نمبر حدیث ہے :
"أكل التمر أمان من القولنج". أبو نعيم في الطب - عن أبي هريرة.
تمر کھجور کو کہتے ہیں ، نہ کہ انجیر کو ، ’ التین ‘ کا ترجمہ ’ انجیر ‘ کیا جاتا ہے ۔
اسی طرح ’ قولنج ‘ بھی ایک اور قسم کی بیماری ہے ۔ جس سے بول و براز میں پریشانی ہوتی ہے ۔ جبکہ فالج جس سے بعض اعضاء شل ہوجاتے ہیں ، یہ اور چیز ہے ۔
و اللہ اعلم