• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

انسانیت کے نام پر باطل کی پرستش

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
838
ری ایکشن اسکور
227
پوائنٹ
111
انسانیت کے نام پر باطل کی پرستش

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

آج کی دنیا میں ایک نیا دین، ایک نیا معبود گھڑا گیا ہے جس کا نام "انسانیت" رکھا گیا ہے۔ اس دین کے پیروکار ہر بات پر "پہلے انسانیت" کا نعرہ لگاتے ہیں، دلوں کو نرم کرنے کے لیے، جذبات کو ابھارنے کے لیے، اور حق و باطل کے واضح فرق کو دھندلانے کے لیے انسانیت کا پرچم بلند کیا جاتا ہے۔ اس نام نہاد "انسانیت" کو مذہب، عقیدہ، اور حتیٰ کہ ربّ العالمین کی توحید پر فوقیت دے دی جاتی ہے۔

لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جیسے ہی بات قوم، وطن، یا نسل پرستی کی آتی ہے، یہی انسانیت پرست اچانک اپنی اصلیت دکھا دیتے ہیں۔ انسانیت کا بت جسے ابھی تک سینے سے لگا رکھا تھا، ایک جھٹکے میں لات مار کر گرایا جاتا ہے، اور اس کی جگہ قوم پرستی، وطن پرستی، اور لسانیت کے بتوں کو سجدہ کیا جانے لگتا ہے۔ یہی وہ نفاق ہے جو ایمان کو کھا جاتا ہے۔

یہ منظر بالکل ویسا ہی ہے جیسے قریش مکہ کھجور سے بت بناتے، اس کی پوجا کرتے، اور جب بھوک لگتی تو اسے کھا جاتے!

أَنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَعْمَلُونَ الْأَصْنَامَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَق إِنَّ بَعْضَهُمْ عَمِلَ صَنَمَهُ مِنْ عَجْوَةٍ ثُمَّ جَاعَ فَأَكَلَهُ

[فتح الباري بشرح البخاري، ج : ١٠، ص : ٣٨٤]

آج کے "انسانیت پرست" بھی اسی روش پر گامزن ہیں۔ جس بت کو انہوں نے خود تراشا، خود پوجا، اسی کو خود کھا رہے ہیں۔

اے اہلِ ایمان! یاد رکھو، ہمارا دین، ہمارا رب، اور ہمارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں انسانیت کے نام پر باطل کے ساتھ سمجھوتہ نہیں سکھاتا، بلکہ ہمیں تو "اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہنے" اور "کفر و نفاق سے براءت" کا حکم دیتا ہے۔

پس، ان بتوں کو پہچان لو، خواہ وہ انسانیت کے لبادے میں ہوں یا وطن پرستی کے۔ حق صرف ایک ہے اللہ کا دین، اس کی توحید، اور اس کے رسول کا طریقہ۔

اسلام میں قوم پرستی، نسل پرستی اور وطن پرستی کی کوئی جگہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَيْسَ مِنَّا مَنْ دَعَا إِلَى عَصَبِيَّةٍ
وہ ہم میں سے نہیں جو عصبیت کی دعوت دے
[سنن ابی داؤد، حدیث: ۵۱۲۱]

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو واضح حکم دیا :

إِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ
بے شک یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے، اور میں تمہارا رب ہوں، پس میری ہی عبادت کرو
[سورہ الانبیاء: ۹۲]

اور فرمایا:

وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا
اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقہ فرقہ نہ بنو
[سورہ آلِ عمران: ۱۰۳]

تو اے مسلمانوں! خبردار رہو ان فریب خوردہ نعرہ زنوں سے جو انسانیت کے نام پر تمہیں توحید سے دور کرتے ہیں، اور پھر قوم پرستی اور وطنیت کے بتوں کی پوجا میں خود گم ہو جاتے ہیں۔ ان کی چالوں کو پہچانو، ان کے معبودانِ باطل کو ردّ کرو۔
 
Last edited:
Top