• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

انسان کو مرتبہ نبوت دینے والا کافر ہے، تو مرتبہ ربوبیت دینے والا بدرجہ اولیٰ مشرک و کافر ہے: شیخ صالح الفوزان کا دوٹوک فیصلہ

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
885
ری ایکشن اسکور
231
پوائنٹ
111
انسان کو مرتبہ نبوت دینے والا کافر ہے، تو مرتبہ ربوبیت دینے والا بدرجہ اولیٰ مشرک و کافر ہے: شیخ صالح الفوزان کا دوٹوک فیصلہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی خاتم النبیین، سیدنا محمد، وعلی آلہ وصحبہ أجمعین۔ أما بعد!

توحید کا مسئلہ دین کے ان مسائل میں سے ہے جن میں کسی قسم کی مداہنت، مصلحت پرستی، دوغلا پن، حیلہ سازی اور باطل کی طرفداری اہل سنت کے منہج میں کبھی گوارا نہیں کی گئی۔ مگر افسوس صد افسوس کہ لوگ اس باب میں عجیب و غریب، خود ساختہ، گمراہ کن اور شیطانی اصول گھڑ بیٹھے ہیں۔

قادیانی کے بارے میں تو فورا اور بے دریغ کہا جاتا ہے کہ چونکہ اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والے کو نبی مانا، لہٰذا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے؛ لیکن جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی غیر کو عبادت میں شریک کرتا ہے، ذبح، نذر، دعا اور استغاثہ جیسی عبادات مخلوق کی طرف پھیرتا ہے، تو وہی لوگ کلمہ، نماز، روزہ، جہالت، تاویل اور اتمام حجت کے کھوکھلے، فریب آمیز اور منافقانہ پردوں میں اس کھلی حقیقت کو چھپانے اور مشرک کو مسلمان ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔

یہ دوہرا معیار توحید کے ساتھ کھلی دشمنی، دین کے ساتھ غداری اور اہل شرک کی حمایت ہے۔ شیخ صالح بن فوزان الفوزان نے ایسے دوہرے معیار، مداہنت، حیلہ سازی اور نفاق کا نہایت واضح، قاطع اور فیصلہ کن ابطال فرمایا ہے۔

11433.jpg

11431.jpg

شیخ صالح الفوزان فرماتے ہیں:

«فالصحابة قاتلوا بني حنيفة وهم يشهدون أن لا إله إلا الله وأن محمداً رسول الله ويصومون ويحجون» یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بنو حنیفہ سے قتال کیا، حالانکہ وہ گواہی دیتے تھے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، روزے رکھتے اور حج کرتے تھے۔

یہاں اہل باطل، مداہنت پسندوں اور حیلہ سازوں کے لیے پہلا زور دار طمانچہ ہے۔ جن لوگوں نے یہ باطل اور گمراہ کن اصول بنا رکھا ہے کہ جو شخص کلمہ پڑھ لے، پھر خواہ وہ توحید کے منافی کوئی اعتقاد رکھے یا شرک اکبر کا ارتکاب کرے، اسے کافر کہنا درست نہیں، ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ تمہارا گھڑا ہوا، شیطانی اصول معلوم نہ تھا؟ کیا بنو حنیفہ کلمہ نہیں پڑھتے تھے؟ کیا وہ نماز، روزہ اور حج سے ناواقف تھے؟

لیکن اسلام صرف زبان کا دعویٰ اور چند ظاہری اعمال کا نام نہیں، بلکہ اس کے اصول و حقائق بھی ہیں۔ جس عقیدے سے اسلام کی بنیاد منہدم ہو جائے، محض چند ظاہری اعمال اس باطل عقیدے کو اسلام میں باقی نہیں رکھ سکتے۔ یہ حقیقت ان لوگوں کے منہ پر تازیانہ ہے جو ہر مشرک کے سر پر کلمہ اور نماز کا تاج رکھ کر اسے مسلمان ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے اور توحید کی حقیقت کو دفن کرتے ہیں۔

شیخ صالح الفوزان فرماتے ہیں: «لكن لما ادعوا أن مسيلمة نبي كفروهم» لیکن جب انہوں نے مسیلمہ کو نبی مانا تو صحابہ نے انہیں کافر قرار دیا۔ یہاں تکفیر کی علت خود شیخ نے بالکل واضح، صاف اور قاطع کر دی۔ مسیلمہ کو نبی ماننا ختم نبوت کی صریح تکذیب تھی۔

پھر شیخ صالح الفوزان نے اس اصول کو اور زیادہ واضح کر دیا کہ: «لأن من اعتقد في شخص بعد محمد صلى الله عليه وسلم أنه نبي فقد كفر وإن كان يصلي ويصوم» جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کو نبی مانے، وہ کافر ہے، اگرچہ نماز پڑھتا اور روزے رکھتا ہو۔

یہ الفاظ ان لوگوں کے لیے کافی ہیں جو ہر مقام پر نماز اور روزے کو مانع تکفیر بنا کر پیش کرتے، توحید کی حقیقت کو چھپاتے اور مشرکین کی حمایت کرتے پھرتے ہیں۔ شیخ صالح الفوزان صاف فرما رہے ہیں کہ ایک ایسا شخص جو نماز بھی پڑھتا ہے اور روزہ بھی رکھتا ہے، لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کو نبی مانتا ہے، وہ اس باطل عقیدے کی وجہ سے کافر ہے۔

لہٰذا یہ اصول کہ ’’فلاں شخص نماز پڑھتا ہے، روزہ رکھتا ہے، کلمہ پڑھتا ہے، لہٰذا اسے کافر نہیں کہا جا سکتا‘‘ مطلقا باطل، گمراہ کن، توحید کے خلاف اور اہل باطل کا گھڑا ہوا فریب ہے۔ بلکہ دیکھنا ہوگا کہ وہ شخص کس عقیدے پر قائم ہے اور کس قسم کے قول یا عمل کا مرتکب ہے۔

شیخ صالح الفوزان فرماتے ہیں: «ولذلك حكم المسلمون اليوم بكفر القاديانية الذين يدعون نبوة أحمد القادياني.» اسی لیے مسلمانوں نے آج قادیانیوں پر کفر کا حکم لگایا ہے، جو غلام احمد قادیانی کی نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں۔

یہاں قادیانیوں کی تکفیر کی علت بھی بالکل واضح ہے ختم نبوت کی تکذیب۔ لیکن اب شیخ اس سے بھی زیادہ فیصلہ کن اور مداہنت پسندوں کے تمام پردے چاک کرنے والا سوال کرتے ہیں: «فإذا كان من رفع رجلاً إلى مرتبة النبي كفر، فكيف لا يكفر من رفع رجلاً إلى مرتبة رب العالمين» پس جب کسی شخص کو مرتبہ نبوت تک پہنچانے والا کافر ہے۔ تو پھر اس شخص کو کافر کیوں نہ کہا جائے جو کسی آدمی کو رب العالمین کے مرتبے تک پہنچا دے؟

اللہ اکبر! یہی وہ مقام ہے جہاں شرک کے مدافعین، مداہنت پسندوں، حیلہ سازوں اور نفاق کے علمبرداروں کے تمام مصنوعی پردے چاک ہو جاتے ہیں اور ان کی دوغلی، منافقانہ اور خیانت آمیز بات مکمل طور پر بے نقاب ہو جاتی ہے۔ جب ایک مخلوق کو مرتبہ نبوت دینا کفر ہے، تو ایک مخلوق کو رب العالمین کے مرتبے تک پہنچانا کیسے کفر سے کم ہو سکتا ہے؟ نبی اللہ کا بندہ ہے، رب نہیں۔ نبی عبادت کا مستحق نہیں، بلکہ خود اللہ کا عبادت گزار ہے۔ نبی خالق نہیں، مخلوق ہے۔

لہٰذا جو شخص کسی انسان کو نبوت کا منصب دے کر کافر ہو جاتا ہے تو اس شخص کے بارے میں کیا کہا جائے گا جو کسی انسان کو ربوبیت کے خصائص دے اور اس کے لیے عبادت کی اقسام صرف کرے؟ یہاں شیخ کا سوال محض سوال نہیں بلکہ اہل باطل کے گھڑے ہوئے اصولوں کا مکمل ابطال، ان کی مداہنت کا قاطع رد اور ان کے نفاق کا بے نقاب کرنا ہے۔ «فكيف لا يكفر من رفع رجلاً إلى مرتبة رب العالمين» یعنی اگر پہلے کو کافر مانتے ہو تو دوسرے کے بارے میں یہ تمام تردد، مداہنت، حیلہ سازی اور دوغلا پن کیوں؟

شیخ صالح الفوزان اس معاملے کو مزید واضح کرتے ہیں: «وصرف له أنواعاً من العبادة كالذبح والنذر والدعاء والاستغاثة وغير ذلك؟» اور اس کے لیے عبادت کی مختلف قسمیں صرف کر دیں، جیسے ذبح، نذر، دعا، استغاثہ اور اس کے علاوہ دوسری عبادات؟

[شرح كتاب كشف الشبهات للشيخ صالح الفوزان، ص : ٩٩]

یہاں غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ذبح، نذر، دعا اور استغاثہ جیسی عبادات کو غیر اللہ کے لیے صرف کرنا توحید کے منافی اور شرک اکبر ہے۔ پس جو شخص کسی مخلوق کے لیے کوئی عبادت صرف کرتا ہے، وہ محض اس وجہ سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا کہ وہ زبان سے اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے یا نماز بھی ادا کرتا ہے۔ یہ حقیقت ان لوگوں کے باطل نظریے کی تردید ہے جو شرک اکبر کو معمولی بنا کر پیش کرتے، کلمہ و نماز کی آڑ میں توحید کی حقیقت کو چھپاتے اور مشرکین کی حمایت کرتے ہیں۔

یہاں ان حضرات سے ایک صاف سوال ہے جو قادیانی کے معاملے میں ختم نبوت کی بنا پر تکفیر کرتے ہیں، مگر شرک اکبر کے معاملے میں عجیب خاموشی، مداہنت، حیلہ سازی اور نفاق اختیار کر لیتے ہیں کہ جب قادیانی سے کہا جاتا ہے تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی انسان کو نبی مانتے ہو، اس لیے تم کافر ہو۔ تو پھر شرک کرنے والے سے کیوں نہ کہا جائے کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی غیر کو عبادت میں شریک کرتے ہو، اس لیے تم کافر و مشرک ہو!

قادیانی کا کہنا کہ میں کلمہ پڑھتا ہوں اس کے باطل عقیدے کو صحیح نہیں کر سکتا۔ اسی طرح کسی مشرک کا یہ کہنا کہ میں کلمہ پڑھتا ہوں، اس کے شرک کو توحید نہیں بنا سکتا۔ قادیانی کا نماز پڑھنا ختم نبوت کے انکار کو نہیں مٹا سکتا۔ اسی طرح کسی شخص کی نماز اس شرک کو نہیں مٹا سکتی جس کے ذریعے وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت میں شریک بناتا ہے۔ یہی وہ بات ہے جسے اہل باطل جان بوجھ کر چھپا کر عوام کو دھوکا دیتے، توحید کی حقیقت کو دھندلا کرتے اور شرک کی حمایت کرتے ہیں۔

اہل سنت کا منہج یہ نہیں کہ قادیانی کے کفر کے لیے تو نصوص پیش کی جائیں اور مشرک کے معاملے میں نصوص طاق نسیاں پر رکھ دی جائیں۔ نہ یہ دیانت ہے کہ ختم نبوت کے منکر کو تو کافر کہا جائے، لیکن اللہ تعالیٰ کی عبادت میں غیر کو شریک کرنے کے مسئلے میں ایسے الفاظ اختیار کیے جائیں جن سے عوام یہ سمجھیں کہ شرک اکبر کوئی ایسا جرم نہیں جو اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔ یہ دوغلا پن، مداہنت، حیلہ سازی اور نفاق اہل سنت کے منہج کے خلاف اور توحید کے ساتھ کھلی دشمنی ہے۔

لہٰذا اہل توحید کو چاہیے کہ وہ اس باب میں کسی مداہنت پسند، تاویل ساز، حیلہ باز یا نفاق کے علمبردار کے پیچھے نہ چلیں۔ دین میں اصل اللہ تعالیٰ کی توحید ہے، اور توحید کا تقاضا یہ ہے کہ عبادت کی ہر قسم اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے، اسی کے لیے مخصوص رکھی جائے۔ شیخ صالح الفوزان کا یہ فرمان اپنے اندر ایک نہایت قوی اور فیصلہ کن اصول رکھتا ہے۔

جو شخص کسی انسان کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا منصب دے، وہ کافر ہے، اگرچہ نماز اور روزہ ادا کرتا ہو؛ تو جو شخص کسی انسان کو رب العالمین کے مرتبے تک پہنچائے اور اس کے لیے ذبح، نذر، دعا اور استغاثہ جیسی عبادات صرف کرے، اس کے شرکیہ عقیدے و عمل کو معمولی سمجھنا یا محض کلمہ و نماز کی آڑ میں اس حقیقت کو چھپانا کسی طرح درست نہیں، بلکہ یہ توحید کے ساتھ خیانت اور مشرکین کی حمایت ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں توحید پر ثابت قدم رکھے، شرک کی تمام صورتوں سے محفوظ فرمائے، مداہنت، حیلہ سازی اور نفاق سے بچائے، اور حق کو حق سمجھ کر اس کی پیروی اور باطل کو باطل سمجھ کر اس سے اجتناب کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین، وصلى اللہ على نبينا محمد وعلى آلہ وصحبہ أجمعين۔
 
Top