• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

انسدادِ دہشت گردی میں سعودی عرب کا کردار

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,514
پوائنٹ
964
انسدادِ دہشت گردی میں سعودی عرب کا کردار

عالم اسلام میں بالخصوص اور پوری دنیا میں بالعموم سعودی عرب کو ایک خاص مقام اور اہمیت حاصل ہے۔ مسلمانوں کے دل تو اس ملک کے لیے اس لیے دھڑکتے ہیں کہ یہاں حرمین شریفین جیسے مقدس مقامات موجود ہیں۔ جبکہ دیگر ادیان کے انصاف پسند لوگ بھی سعودی عرب کوبڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں؛ کیونکہ سعودی عرب نے انسانیت کی خدمت کے لیے جو کار ہائے نمایاں انجام دئیے ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں۔ اپنی اسی انسانی خدمت کی وجہ سے سعودی عرب کے مرحوم بادشاہ خادم حرمین شریفین شاہ عبداللہ کو ’’ملک الانسانیۃ‘‘ اور ’’ملک القلوب‘‘ یعنی ’’انسانیت اور دلوں کا بادشاہ‘‘ جیسے القابات سے پکارا جاتا تھا۔ یہ القابات اور خطابات چونکہ شرعی نقطہ نظر سے درست نہ تھے، اس لیے شاہ عبداللہ مرحوم نے خود ہی ان القابات سے منع کر دیا۔ یہ بات بہر حال مسلمہ ہے کہ دنیا کے کسی خطے میں بھی اگر کوئی مصیبت یا آفت آئی تو سعودی عرب نے بڑھ چڑھ کر اس کے ازالے کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان بڑی بڑی آفتوں میں سے ایک آفت، جو کہ عالمی مسئلہ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، وہ دہشت گردی ہے۔ سعودی عرب نے دہشتگردی کے انسداد کے لیے قومی، علاقائی اور عالمی سطح پر بڑا اہم اور قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ 2005ء کو سعودی عرب کی میزبانی میں ریاض شہر میں ’’انٹرنیشنل کانفرنس برائے انسداد دہشت گردی‘‘ منعقد ہوئی۔ ساٹھ سے زیادہ ممالک کے نمائندے شریکِ کانفرنس تھے۔ اس کانفرنس میں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز مرحوم نے یہ تجویز دی کہ عالمی سطح پر ایک ایسے مرکز کا قیام عمل میں لایا جائے جو دہشت گردانہ کارروائیوں کی روک تھام کے لیے اپنا کردرا ادا کرے۔ چنانچہ 19ستمبر 2011ء کو اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر نیو یارک میں ایک معاہدہ طے پایا جس کے تحت سعودی عرب اور اقوامِ متحدہ کے باہمی اشتراک سے ایسے عالمی مرکز کے قیام کی منظوری دی گئی جو دہشت گردی اور قتل و غارت کی روک تھام کے لیے کوشش کرے گا۔ اس مرکز کے لیے سعودی عرب نے ایک کروڑ ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی۔ 7مئی 2000ء کو سعودی عرب نے باقاعدہ طور پر معاہدہ کے تحت ’’عالمی تنظیم برائے انسداد دہشت گردی‘‘ میں شمولیت اختیار کی۔ اس کے علاوہ ’’خلیجی اتحاد برائے انسداد دہشت گردی‘‘ کا بھی سعودی عرب باقاعدہ حصہ بن گیا۔ اسی طرح 18جولائی 2008ء کو ’’مدرید‘‘ میں انسداد دہشت گردی کی عالمی کانفرنس کے انعقاد میں سعودی عرب نے بڑا اہم کردار ادا کیا۔ اس کانفرنس میں یہ قرار پایا کہ دہشت گردی ہی وہ بڑا معاشرتی ناسور ہے جو گفت و شنید اور مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ دو متحارب ممالک اگر کبھی کسی بات پر اتفاق کرنے لگتے ہیں تو طرفین میں سے کوئی ایک جانب دہشت گردانہ کارروائی میں ملوث پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے بات چیت کا وہ سلسلہ قبل از وقت ہی سبوتاژ ہو جاتا ہے۔ انسداد دہشت گردی میں میری پیاری مادر علمی، مدینہ یونیورسٹی کا کردار بھی بڑا نمایاں ہے۔ یہ عظیم جامعہ دنیا بھر کے لگ بھگ 175ممالک کے تقریبا 25000طلبہ کی دینی رہنمائی کر رہی ہے۔ 28مارچ 2010ء کو امیر نائف بن عبدالعزیز مرحوم نے اس یونیورسٹی میں پہلی عالمی کانفرنس برائے انسداد دہشت گردی کا افتتاح کیا۔ اس کانفرنس میں دنیا بھر سے آئے ہوئے سکالرز نے 83مقالہ جات پیش کیے۔ پہلی کانفرنس کے مثبت اثرات اور بہتر نتائج کے پیش نظر 23جنوری 2011کو مدینہ یونیورسٹی میں ہی دوسری کانفرنس کا انعقاد ہوا، جس کا عنوان تھا ’’فکری انحراف کے اسباب و علاج‘‘۔ ان دونوں کانفرنسوں کے انعقاد کے وقت راقم السطور مدینہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا۔ اس کے علاوہ ماضی قریب میں ہی یونیورسٹی میں ’’شیخ ابن باز چیئر برائے اعتدال و بردباری‘‘ کا قیام عمل میں آیا۔ کنگ سعود یونیورسٹی نے بھی فکری انحراف اور دہشت گردانہ ذہنیت کے اسباب و علاج کے لیے ایک چیئر قائم کر رکھی ہے جس کا نام ’’شہزادہ نائف بن عبدالعزیز چیئر برائے فکری تحفظ و امن‘‘ ہے۔ ان چیئرز کا مقصد ان محنتوں اور کاوشوں کو تقویت دینا ہے، دہشت گردی کی روک تھام اور قیامِ امن کے لیے جو سعودی حکومت انجام دے رہی ہے۔ سعودی عرب کے دار الخلافہ ریاض شہر میں موجود ’’شہزادہ نائف عربی یونیورسٹی برائے علومِ امنیہ‘‘ کا کردار بھی اس باب میں بڑا واضح ہے۔ اس یونیورسٹی کے تحت مختلف سیمینارز اور تربیتی دوروں کا انعقاد ہوتا ہے۔ ان دوروں کا مقصد معاشرے کو دہشت گردانہ اور منحرف سوچ سے پاک کرنا اور نوجوانوں کو مسلح ٹریننگ سے دور رکھنا ہے۔ اس کے علاوہ خاندانوں کو ان کی ذمہ داری کا احساس دلانا بھی ان کے مقاصد میں شامل ہے کہ سربراہِ خاندان اور ذمہ داران کا فرض ہے کہ وہ اپنے زیر کفالت افراد کو راہِ اعتدال پر رکھیں۔ افرادِ معاشرہ اور نوجوانانِ امت کی بہترین رہنمائی کے لیے سعودی عرب نے شاندار نظام مرتب کر رکھا ہے۔ بیرونی سازشی عناصر کے حملوں اور اوچھے ہتھکنڈوں سے بچانے کے لیے اپنے نوجوانوں کی فکری طور پر اچھی اور عمدہ تربیت کا بڑا زبردست انتظام سعودی عرب نے کر رکھا ہے۔ وزارتِ ثقافت و اعلام نے میڈیا کے ذریعے معاشرے کو فکری انحراف سے پاک کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔ جبکہ وزارتِ مذہبی امور کے تحت مساجد اور دیگر مقامات پر مختلف دروس اور لیکچرز کے ذریعے علماٗ کرام یہ فریضہ بخوبی نبھا رہے ہیں۔ حرمین شریفین کے ائمہ کرام بالخصوص فکری انحراف کے نقصانات اور اس سے بچائو کی تدابیر پر روشنی ڈالتے ہیں۔ منبرِ حرم سے جو آواز بلند ہوتی ہے، برے سے برے انسان کے دل پر بھی اثر کرتی ہے۔ اسی طرح ’’وزارتِ تربیت و تعلیم‘‘ نے طلبہ و طالبات کی فکری رہنمائی کے لیے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں رائج نصابِ تعلیم اس طرح ترتیب دیا ہے کہ جس سے طلبہ و طالبات کو دہشت گردانہ ذہنیت سے دور رکھنے میں مدد ملے۔ سال میں ایک دن مکمل طور پر اس بات کے لیے وقف ہوتا ہے کہ طلبہ و طالبات کو دہشت گردوں کی کاروائیوں کے نقصانات پر مشتمل ایک نمائش دکھائی جاتی ہے جس سے طلبہ و طالبات اپنی آنکھوں سے جب ان نقصانات اور دہشت گردی کے اثرات کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ان کے دل میں اس قبیح عمل سے نفرت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ نوجوان نسل میں سے جو لوگ اغیار کے ہتھے چڑھ جائیں اور انکے دھوکے میں آ جائیں تو انہیں راہِ راست پر لانے کے جہاں دیگرطریقے سعودی حکومت استعمال کرتی ہے وہیں 23جون 2004ٗ کو ایک بڑا ہی مدبرانہ اور حکیمانہ آرڈر جاری ہوا، جس کے تحت شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز مرحوم نے عام اعلان کر دیا کہ ایسے افراد اگر ہتھار ڈال دیں اور سر تسلیم خم کر لیں تو انہیں حکومت کی طرف سے معافی دے دی جائے گی۔ یہ بڑا ہی مدبرانہ اور حکیمانہ اقدام تھا کہ جس سے بے شمار منحرف لوگ راہِ راست پر آ گئے۔ سعودی عرب نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایک قدم اور اٹھایا کہ ایسی کارروائیوں میں ملوث افراد کے کیسز حل کرنے کے لیے سپیشل عدالتوں ’’المحکمة الجزائیة المتخصصة‘‘ کے قیام کا حکم دے دیا۔ ان عدالتوں میں ان منحرف لوگوں کو عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق سزا ملتی ہے اور انہیں اپنے دفاع کے لیے دلائل دینے کی مکمل اجازت ہوتی ہے۔ غربت و افلاس اور فقیری عام طور پر نوجوانوں کو راہِ اعتدال سے منحرف کر دیتی ہے۔ اس بڑے سبب کے انسداد کے لیے بھی سعودی عرب کی قومی اور عالمی سطح پر گراں قدر خدمات ہیں۔ سعودی باشندوں کو خوشحال رکھنے اور ان کی ضروریاتِ زندگی کو پورا کرنے کے لیے سعودی عرب بڑے اچھے اقدامات اٹھاتا ہے۔ اسی طرح بیرونی ممالک میں بھی اس کی رفاہی اور فلاحی کارروائیاں دہشت گردی کے خاتمے میں مثبت کردار ادا کرتی ہیں۔ کم علمی اور جہالت بھی فکری انحراف کا بڑا سبب بنتی ہے۔ سعودی عرب نے شرح خواندگی میں اضافے کیلئے سالانہ بجٹ کا ایک خطیر حصہ محکمہ تعلیم کے لیے خاص کر رکھا ہے۔ اسی طرح سعودی جامعات سے فارغ التحصیل علماء کرام کی ایک بڑی تعداد کو ان کے اپنے اپنے ممالک میں داعی و مبلغ بنا کر سعودی حکومت بھیجتی ہے۔ ان علماء کو عرف عام میں ’’مبعوثین‘‘ کہا جاتا ہے۔ بلاشبہ افرادِ معاشرہ کی اصلاح میں یہ علماء جو بھی کردار ادا کریں اس کا کریڈٹ بہر حال سعودی حکومت کو جاتا ہے۔ سعودی وزارتِ داخلہ نے نوجوانوں کی اصلاح اور تربیت کے لیے ایک کمیٹی بنائی جس کا نام ’’مرکز الأمیر محمد بن نائف للمناصحة والرعایة‘‘ رکھا گیا۔ اس مرکز کا کام معاشرے کو ان شکوک و شبہات سے پاک کرنا تھا جو دشمنانِ دین و ملت لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے پھیلاتے رہتے ہیں۔ اللہ کے فضل سے سعودی عرب میں امن کی حالت بہت بہتر ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ہی خاص کرم ہے کہ اس نے مملکتِ سعودی عرب کو امن و امان اور استحکام بخشا ہے۔ اللہ کے فضل کے بعد اگر کوئی چیز اس کا سبب ہے تو وہ یہ ہے کہ یہاں کی امن فورسز تندہی اور پوری لگن سے اپنی ذمہ داری نبھاتی ہیں۔ کیونکہ ان بہادر سپاہیوں کو اپنے عوام، علماء اور حکمرانوں کی مکمل طور پر حمایت حاصل ہے۔ ان کے بہادرانہ کارناموں کا تذکرہ علماء کرام اپنے خطابات میں کرتے ہیں اور ان کے شہداء کے ورثاء کو کسی قسم کی مالی یا معاشی پریشانی کا سامنا نہیں ہوتا۔ یہ جوانمرد سپاہی دینی اور قومی فریضہ جانتے ہوئے اپنی ڈیوٹی کی ادائیگی میں اپنی جانوں پر کھیل جاتے ہیں۔ سعودی حکومت کی طرف سے اٹھائے جانے والے سارے اقدامات کے باوجود اگر کوئی گروہ اپنے مذموم ہتھکنڈوں اور سازشوں سے باز نہیں آتا بلکہ فتنہ و فساد پھیلانے کی ناپاک جسارت کرتا رہتا ہے تو ایسے لوگوں کے خلاف جراتمندانہ اقدامات اٹھانے کے لیے سعودی علماء کی کمیٹی کے سربراہان سے لے کر عام علماء کرام تک کے بڑے شدید اور سخت بیانات موجود ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی حکمرانوں نے بھی ان سے نمٹنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ 16اگست 2004ٗ کو اپنے ایک انٹرویو میں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز مرحوم نے ایسے باغی لوگوں کے بارے میں کہا: ’’نحن ذھبنا الی رؤس الثعابین مباشرۃ لنقطعھا‘‘۔ یعنی ان اژہائوں اور سانپوں کے سروں کو ہم نے بزورِ شمشیر کچلا ہے۔ حالیہ دنوں میں یمن کے حوثی باغیوں نے جو ظلم و زیادتی کا بازار گرم کیا تو سعودی عرب نے اپنی مکمل کوشش کی کہ مذاکرات کے ذریعے یہ معاملہ حل ہو جائے تاکہ قتل و خونرزیزی سے بچا جا سکے لیکن جب مذاکرات کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں تو سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز حفظہ اللہ نے بڑا ہی جراتمندانہ قدم اٹھایا اور اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر ’’عاصفۃ الحزم‘‘ نامی آپریشن کا آغاز کیا۔ جس کی بدولت اللہ تعالیٰ نے حوثی فتنے سے حرمین شریفین کو محفوظ رکھا اور ان شاء اللہ آئندہ بھی یہ ملک سازشی عناصر کی فتنہ پردازیوں سے محفوظ رہے گا۔ سعودی عرب کے جنوبی علاقہ جات میں حالیہ دنوں میں یکے بعد دیگرے مختلف مساجد میں خود کش حملے ہوئے ہیں، ان سے نمٹنے کے لیے بھی سعودی فورسز نے بڑا شاندار کردار ادا کیا۔ ان کارروائیوں سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ خدانخواستہ اگر کبھی کسی سازشی گروہ نے سر اٹھایا تو اسے کچلنے کی بھرپور صلاحیت اللہ کے فضل سے سعودی عرب میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ سعودی عرب کے امن و امان کو برقرار رکھے اور اس کی طرف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ اور برے ہاتھ کو اس کے جسم سے الگ کرکے اسے نیست و نابود کر دے کیونکہ یہ ارضِ حرمین شریفین ہے اور ہمیں یہ جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔
محمد ہاشم یزمانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تحریر ہفت روزہ مجلہ اہل حدیث 25 ستمبر 2015 تا یکم اکتوبر میں بھی چھپ چکی ہے ۔
 
Last edited:

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,514
پوائنٹ
964
انسدادِ دہشت گردی میں سعودی عرب کا کردار

محمد ہاشم یزمانی
(گوجرانوالا کا مقامی ہفت روزہ اخبار ’’ نوید ضیاء ‘‘ ۔ خصوصی شمارہ ’’ پاک سعودیہ ایڈیشن ‘‘ ۔ صفحہ نمبر 19۔
یاد رہے کہ یہ مضمون اس سے پہلے ہفت روزہ مجلہ اھل حدیث میں بھی چھپ چکا ہے۔ نوید ضیاء میں چھاپنے سے پہلے البتہ اس میں تین سے چار مقامات میں ضروری اضافے کیے گئے ہیں۔)
عالم اسلام میں بالخصوص اور پوری دنیا میں بالعموم سعودی عرب کو ایک خاص مقام اور اہمیت حاصل ہے۔ مسلمانوں کے دل تو اس ملک کے لیے اس لیے دھڑکتے ہیں کہ یہاں حرمین شریفین جیسے مقدس مقامات موجود ہیں۔ جبکہ دیگر ادیان کے انصاف پسند لوگ بھی سعودی عرب کوبڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں؛ کیونکہ سعودی عرب نے انسانیت کی خدمت کے لیے جو کار ہائے نمایاں انجام دئیے ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں۔ اپنی اسی انسانی خدمت کی وجہ سے سعودی عرب کے مرحوم بادشاہ خادم حرمین شریفین شاہ عبداللہ کو ’’ملک الانسانیۃ‘‘ اور ’’ملک القلوب‘‘ یعنی ’’انسانیت اور دلوں کا بادشاہ‘‘ جیسے القابات سے پکارا جاتا تھا۔ یہ القابات اور خطابات چونکہ شرعی نقطہ نظر سے درست نہ تھے، اس لیے شاہ عبداللہ مرحوم نے خود ہی ان القابات سے منع کر دیا۔ یہ بات بہر حال مسلمہ ہے کہ دنیا کے کسی خطے میں بھی اگر کوئی مصیبت یا آفت آئی تو سعودی عرب نے بڑھ چڑھ کر اس کے ازالے کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان بڑی بڑی آفتوں میں سے ایک آفت، جو کہ عالمی مسئلہ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، وہ دہشت گردی ہے۔ سعودی عرب نے دہشتگردی کے انسداد کے لیے قومی، علاقائی اور عالمی سطح پر بڑا اہم اور قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ 2005ء کو سعودی عرب کی میزبانی میں ریاض شہر میں ’’انٹرنیشنل کانفرنس برائے انسداد دہشت گردی‘‘ منعقد ہوئی۔ ساٹھ سے زیادہ ممالک کے نمائندے شریکِ کانفرنس تھے۔ اس کانفرنس میں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز مرحوم نے یہ تجویز دی کہ عالمی سطح پر ایک ایسے مرکز کا قیام عمل میں لایا جائے جو دہشت گردانہ کارروائیوں کی روک تھام کے لیے اپنا کردرا ادا کرے۔ چنانچہ 19ستمبر 2011ء کو اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر نیو یارک میں ایک معاہدہ طے پایا جس کے تحت سعودی عرب اور اقوامِ متحدہ کے باہمی اشتراک سے ایسے عالمی مرکز کے قیام کی منظوری دی گئی جو دہشت گردی اور قتل و غارت کی روک تھام کے لیے کوشش کرے گا۔ اس مرکز کے لیے سعودی عرب نے ایک کروڑ ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی۔ 7مئی 2000ء کو سعودی عرب نے باقاعدہ طور پر معاہدہ کے تحت ’’عالمی تنظیم برائے انسداد دہشت گردی‘‘ میں شمولیت اختیار کی۔ اس کے علاوہ ’’خلیجی اتحاد برائے انسداد دہشت گردی‘‘ کا بھی سعودی عرب باقاعدہ حصہ بن گیا۔ اسی طرح 18جولائی 2008ء کو ’’مدرید‘‘ میں انسداد دہشت گردی کی عالمی کانفرنس کے انعقاد میں سعودی عرب نے بڑا اہم کردار ادا کیا۔ اس کانفرنس میں یہ قرار پایا کہ دہشت گردی ہی وہ بڑا معاشرتی ناسور ہے جو گفت و شنید اور مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ دو متحارب ممالک اگر کبھی کسی بات پر اتفاق کرنے لگتے ہیں تو طرفین میں سے کوئی ایک جانب دہشت گردانہ کارروائی میں ملوث پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے بات چیت کا وہ سلسلہ قبل از وقت ہی سبوتاژ ہو جاتا ہے۔ انسداد دہشت گردی میں میری پیاری مادر علمی، مدینہ یونیورسٹی کا کردار بھی بڑا نمایاں ہے۔ یہ عظیم جامعہ دنیا بھر کے اگ بھگ 175ممالک کے تقریبا 25000طلبہ کی دینی رہنمائی کر رہی ہے۔ 28مارچ 2010ء کو امیر نائف بن عبدالعزیز مرحوم نے اس یونیورسٹی میں پہلی عالمی کانفرنس برائے انسداد دہشت گردی کا افتتاح کیا۔ اس کانفرنس میں دنیا بھر سے آئے ہوئے سکالرز نے 83مقالہ جات پیش کیے۔ پہلی کانفرنس کے مثبت اثرات اور بہتر نتائج کے پیش نظر 23جنوری 2011کو مدینہ یونیورسٹی میں ہی دوسری کانفرنس کا انعقاد ہوا، جس کا عنوان تھا ’’فکری انحراف کے اسباب و علاج‘‘۔ ان دونوں کانفرنسوں کے انعقاد کے وقت راقم السطور مدینہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا۔ اس کے علاوہ ماضی قریب میں ہی یونیورسٹی میں ’’شیخ ابن باز چیئر برائے اعتدال و بردباری‘‘ کا قیام عمل میں آیا۔ کنگ سعود یونیورسٹی نے بھی فکری انحراف اور دہشت گردانہ ذہنیت کے اسباب و علاج کے لیے ایک چیئر قائم کر رکھی ہے جس کا نام ’’شہزادہ نائف بن عبدالعزیز چیئر برائے فکری تحفظ و امن‘‘ ہے۔ ان چیئرز کا مقصد ان محنتوں اور کاوشوں کو تقویت دینا ہے، دہشت گردی کی روک تھام اور قیامِ امن کے لیے جو سعودی حکومت انجام دے رہی ہے۔ سعودی عرب کے دار الخلافہ ریاض شہر میں موجود ’’شہزادہ نائف عربی یونیورسٹی برائے علومِ امنیہ‘‘ کا کردار بھی اس باب میں بڑا واضح ہے۔ اس یونیورسٹی کے تحت مختلف سیمینارز اور تربیتی دوروں کا انعقاد ہوتا ہے۔ ان دوروں کا مقصد معاشرے کو دہشت گردانہ اور منحرف سوچ سے پاک کرنا اور نوجوانوں کو مسلح ٹریننگ سے دور رکھنا ہے۔ اس کے علاوہ خاندانوں کو ان کی ذمہ داری کا احساس دلانا بھی ان کے مقاصد میں شامل ہے کہ سربراہِ خاندان اور ذمہ داران کا فرض ہے کہ وہ اپنے زیر کفالت افراد کو راہِ اعتدال پر رکھیں۔ افرادِ معاشرہ اور نوجوانانِ امت کی بہترین رہنمائی کے لیے سعودی عرب نے شاندار نظام مرتب کر رکھا ہے۔ بیرونی سازشی عناصر کے حملوں اور اوچھے ہتھکنڈوں سے بچانے کے لیے اپنے نوجوانوں کی فکری طور پر اچھی اور عمدہ تربیت کا بڑا زبردست انتظام سعودی عرب نے کر رکھا ہے۔ وزارتِ ثقافت و اعلام نے میڈیا کے ذریعے معاشرے کو فکری انحراف سے پاک کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔ جبکہ وزارتِ مذہبی امور کے تحت مساجد اور دیگر مقامات پر مختلف دروس اور لیکچرز کے ذریعے علماٗ کرام یہ فریضہ بخوبی نبھا رہے ہیں۔ حرمین شریفین کے ائمہ کرام بالخصوص فکری انحراف کے نقصانات اور اس سے بچائو کی تدابیر پر روشنی ڈالتے ہیں۔ منبرِ حرم سے جو آواز بلند ہوتی ہے، برے سے برے انسان کے دل پر بھی اثر کرتی ہے۔ خالص عقیدۂ توحید کو اللہ تعالی نے سورۃ الأنعام میں امن وسلامتی اور رشد وہدایت کا ذریعہ بتلایا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جس معاشرے میں شرکیات اور اس طرح کی خرافات سے اجتناب کیا جائے گا وہاں امن اور سکون کا ذمہ اللہ تعالی نے اپنے ذمے لے رکھا ہے۔ اس لحاظ سے بھی اگر دیکھیں تو سعودی عرب کی کاوشیں لائقِ تحسین ہیں کہ وہاں کسی شعبدہ بازی یا عقیدے کے بگاڑ والے کسی عمل کی اجازت نہیں ہے۔ ادارہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر جادو، ٹونا، تعویذ گنڈا یا اس طرح کے افعال میں ملوث پائے جانے والے افراد پر کڑی نگہ رکھتا ہے اور انہیں فی الفور گرفتار کرکے سزائیں دی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے سعودی عرب کو امن اور سکون سے نواز رکھا ہے۔ اس میں دیگر ممالک کے لیے سبق ہے کہ اگر وہ بھی دہشت گردی اور ظلم وستم سے پاک امن وچین والی زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو انہیں بھی سعودی عرب کے نقش قدم پر چلنا ہوگا۔ اسی طرح ’’وزارتِ تربیت و تعلیم‘‘ نے طلبہ و طالبات کی فکری رہنمائی کے لیے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں رائج نصابِ تعلیم اس طرح ترتیب دیا ہے کہ جس سے طلبہ و طالبات کو دہشت گردانہ ذہنیت سے دور رکھنے میں مدد ملے۔ سال میں ایک دن مکمل طور پر اس بات کے لیے وقف ہوتا ہے کہ طلبہ و طالبات کو دہشت گردوں کی کاروائیوں کے نقصانات پر مشتمل ایک نمائش دکھائی جاتی ہے جس سے طلبہ و طالبات اپنی آنکھوں سے جب ان نقصانات اور دہشت گردی کے اثرات کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ان کے دل میں اس قبیح عمل سے نفرت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ دہشت گردوں کو اگر مناسب سزا اور ان کے جرائم کے مطابق شرعی حدود کا نفاذ ہو جائے تو بھی اس مریض ذہنیت کا علاج ہو سکتا ہے۔ حدود و تعزیرات کے نفاذ کی برکت سے اللہ تعالی کسی بھی معاشرے میں امن اور سکون عطا کر دیتا ہے۔ سعودی عرب وہ واحد ملک ہے جس نے حدود اسلامی کی تطبیق کر رکھی ہے۔ نوجوان نسل میں سے جو لوگ اغیار کے ہتھے چڑھ جائیں اور انکے دھوکے میں آ جائیں تو انہیں راہِ راست پر لانے کے جہاں دیگرطریقے سعودی حکومت استعمال کرتی ہے وہیں 23جون 2004ٗ کو ایک بڑا ہی مدبرانہ اور حکیمانہ آرڈر جاری ہوا، جس کے تحت شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز مرحوم نے عام اعلان کر دیا کہ ایسے افراد اگر ہتھار ڈال دیں اور سر تسلیم خم کر لیں تو انہیں حکومت کی طرف سے معافی دے دی جائے گی۔ یہ بڑا ہی مدبرانہ اور حکیمانہ اقدام تھا کہ جس سے بے شمار منحرف لوگ راہِ راست پر آ گئے۔ سعودی عرب نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایک قدم اور اٹھایا کہ ایسی کارروائیوں میں ملوث افراد کے کیسز حل کرنے کے لیے سپیشل عدالتوں ’’المحکمۃ الجزائیۃ المتخصصۃ‘‘ کے قیام کا حکم دے دیا۔ ان عدالتوں میں ان منحرف لوگوں کو عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق سزا ملتی ہے اور انہیں اپنے دفاع کے لیے دلائل دینے کی مکمل اجازت ہوتی ہے۔ غربت و افلاس اور فقیری عام طور پر نوجوانوں کو راہِ اعتدال سے منحرف کر دیتی ہے۔ اس بڑے سبب کے انسداد کے لیے بھی سعودی عرب کی قومی اور عالمی سطح پر گراں قدر خدمات ہیں۔ سعودی باشندوں کو خوشحال رکھنے اور ان کی ضروریاتِ زندگی کو پورا کرنے کے لیے سعودی عرب بڑے اچھے اقدامات اٹھاتا ہے۔ اسی طرح بیرونی ممالک میں بھی اس کی رفاہی اور فلاحی کارروائیاں دہشت گردی کے خاتمے میں مثبت کردار ادا کرتی ہیں۔ کم علمی اور جہالت بھی فکری انحراف کا بڑا سبب بنتی ہے۔ سعودی عرب نے شرح خواندگی میں اضافے کیلئے سالانہ بجٹ کا ایک خطیر حصہ محکمہ تعلیم کے لیے خاص کر رکھا ہے۔ اسی طرح سعودی جامعات سے فارغ التحصیل علماء کرام کی ایک بڑی تعداد کو ان کے اپنے اپنے ممالک میں داعی و مبلغ بنا کر سعودی حکومت بھیجتی ہے۔ ان علماء کو عرف عام میں ’’مبعوثین‘‘ کہا جاتا ہے۔ بلاشبہ افرادِ معاشرہ کی اصلاح میں یہ علماء جو بھی کردار ادا کریں اس کا کریڈٹ بہر حال سعودی حکومت کو جاتا ہے۔ سعودی وزارتِ داخلہ نے نوجوانوں کی اصلاح اور تربیت کے لیے ایک کمیٹی بنائی جس کا نام ’’مرکز الأمیر محمد بن نائف للمناصحۃ والرعایۃ‘‘ رکھا گیا۔ اس مرکز کا کام معاشرے کو ان شکوک و شبہات سے پاک کرنا تھا جو دشمنانِ دین و ملت لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے پھیلاتے رہتے ہیں۔ اللہ کے فضل سے سعودی عرب میں امن کی حالت بہت بہتر ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ہی خاص کرم ہے کہ اس نے مملکتِ سعودی عرب کو امن و امان اور استحکام بخشا ہے۔ اللہ کے فضل کے بعد اگر کوئی چیز اس کا سبب ہے تو وہ یہ ہے کہ یہاں کی امن فورسز تندہی اور پوری لگن سے اپنی ذمہ داری نبھاتی ہیں۔ کیونکہ ان بہادر سپاہیوں کو اپنے عوام، علماء اور حکمرانوں کی مکمل طور پر حمایت حاصل ہے۔ ان کے بہادرانہ کارناموں کا تذکرہ علماء کرام اپنے خطابات میں کرتے ہیں اور ان کے شہداء کے ورثاء کو کسی قسم کی مالی یا معاشی پریشانی کا سامنا نہیں ہوتا۔ یہ جوانمرد سپاہی دینی اور قومی فریضہ جانتے ہوئے اپنی ڈیوٹی کی ادائیگی میں اپنی جانوں پر کھیل جاتے ہیں۔ سعودی حکومت کی طرف سے اٹھائے جانے والے سارے اقدامات کے باوجود اگر کوئی گروہ اپنے مذموم ہتھکنڈوں اور سازشوں سے باز نہیں آتا بلکہ فتنہ و فساد پھیلانے کی ناپاک جسارت کرتا رہتا ہے تو ایسے لوگوں کے خلاف جراتمندانہ اقدامات اٹھانے کے لیے سعودی علماء کی کمیٹی کے سربراہان سے لے کر عام علماء کرام تک کے بڑے شدید اور سخت بیانات موجود ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی حکمرانوں نے بھی ان سے نمٹنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ 16اگست 2004ٗ کو اپنے ایک انٹرویو میں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز مرحوم نے ایسے باغی لوگوں کے بارے میں کہا: ’’نحن ذھبنا الی رئووس الثعابین مباشرۃ لنقطعھا‘‘۔ یعنی ان اژہائوں اور سانپوں کے سروں کو ہم نے بزورِ شمشیر کچلا ہے۔ حالیہ دنوں میں یمن کے حوثی باغیوں نے جو ظلم و زیادتی کا بازار گرم کیا تو سعودی عرب نے اپنی مکمل کوشش کی کہ مذاکرات کے ذریعے یہ معاملہ حل ہو جائے تاکہ قتل و خونرزیزی سے بچا جا سکے لیکن جب مذاکرات کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں تو سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز حفظہ اللہ نے بڑا ہی جراتمندانہ قدم اٹھایا اور اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر ’’عاصفۃ الحزم‘‘ نامی آپریشن کا آغاز کیا۔ جس کی بدولت اللہ تعالیٰ نے حوثی فتنے سے حرمین شریفین کو محفوظ رکھا اور ان شاء اللہ آئندہ بھی یہ ملک سازشی عناصر کی فتنہ پردازیوں سے محفوظ رہے گا۔ سعودی عرب کے جنوبی علاقہ جات میں حالیہ دنوں میں یکے بعد دیگرے مختلف مساجد میں خود کش حملے ہوئے ہیں، ان سے نمٹنے کے لیے بھی سعودی فورسز نے بڑا شاندار کردار ادا کیا۔ ان کارروائیوں سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ خدانخواستہ اگر کبھی کسی سازشی گروہ نے سر اٹھایا تو اسے کچلنے کی بھرپور صلاحیت اللہ کے فضل سے سعودی عرب میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ سعودی عرب کے امن و امان کو برقرار رکھے اور اس کی طرف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ اور برے ہاتھ کو اس کے جسم سے الگ کرکے اسے نیست و نابود کر دے کیونکہ یہ ارضِ حرمین شریفین ہے اور ہمیں یہ جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔
 
Top