• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اولاد کی تربیت !!!

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,787
پوائنٹ
1,069
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔

بچوں کی دینی تربیت اور والدین کی شرعی ذمہ داری کے عنوان پر بحیثت مسلمان ہمارے دین نے جو اُصول بیان کئے ہیں اس حوالے سے تحریر پیش خدمت ہے۔۔۔

دوستو! ہم سب بہت اچھی طرح جانتے ہیں کے اولاد اللہ رب العزت کا نہایت ہی قیمتی انعام ہے۔۔۔ رب نے اپنے کلام میں انہیں زینت اور دنیاوی زندگی میں رونق بیان کیا ہے لیکن یہ رونق وبہار اور زینت وکمال اسی وقت ہے جب اس نعمت کی قدر کی جائے دین واخلاق اور تعلیم کے زیور سے انہیں آراستہ کیا جائے بچپن ہی سے ان کی صحیح نشوونما ہو دینی تربیت کا خاص خیال رکھا جائے نیز اسلامی وایمانی ماحول میں انہیں پروان چڑھایا جائے والدین پر اولاد کے جو حقوق ہیں ان میں سب سے اہم اور مقدم اُن کی دینی تعلیم وتربیت ہی ہے اسلام عصری تعلیم کا ہرگز مخالف نہیں لیکن دین کی بنیادی تعلیم کا حُصول اور اسلام کے مبادیات وارکان کا جاننا تو ہر مسلمان پر فرض ہ اور اس پر اخروی فلاح وکامیابی کا دارومدار ہے اللہ تعالٰی اہل ایمان سے خطاب کرکے فرماتا ہے!۔

اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل عیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں اس پر سخت اور طاقتور فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے انہیں جو حکم دیا جائے وہ کر گزرتے ہیں (التحریم ٦)۔۔۔
اس یہ جاننا بے حد ضروری ہے کے اس جہنم کی آگ سے بچاؤ کیونکہ ہوگا۔۔۔ جب تک دین کی بنیادی تعلیم سے اگاہی اور اس پر عمل نہ ہو؟؟؟۔۔۔ توحید، رسالت، اور آخرت پر صحیح ایمان نہ ہو یا نماز روزہ سے اور روز مرہ زندگی میں احکام شریعت سے غفلت ہو؟؟؟۔۔۔ نار جہنم سے بچنے کی فکر جس طرح خود کو کرنی ہے اسی طرح والدین کی یہ اہم ذمہ داری ہے کے وہ اپنی والاد کی بچپن سے ایسی تربیت کریں کے ان میں دینی شعور پختہ ہو اور بڑے ہوکر وہ زندگی کے جسمیدان میں بھی رہیں ایمان وعمل صالح سے ان کا رشتہ نہ صرف قائم بلکہ مضبوط رہے آج والدین دنیاوی زندگی کی حدتک بچوں کے بہتر مستقبل کی خوب فکر اور کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ معاشرہ میں سرخرو رہیں اور آرام وراحت کی زندگی گزار سکیں لیکن دنیا کی چند روزہ زندگی کے بعد آخرت کی جولامحدود زندگی ہے وہاں کی سرخروئی اور سرفرازی سے خود بھی غافل ہیں اور بچوں کی تربیت میں بھی اس پہلو کو اہمیت نہیں دیتے۔۔۔

بچوں کا ذہن صاف وشفاف اور خالی ہوتا ہے اس میں جو چیز بھی نقش کردی جائے وہ مضبوط وپائیدار ہوتی ہے ۔۔۔ اس مراد یہ ہے کے اگر بچپن میں بچے کے لئے علم کا حصول پتھر پر نقش کی طرح ہوتا ہے یعنی جس طرح پتھر کی لکیر او پتھر پر کیا ہوا نقش مضبوط وپائیدار ہوتا ہے اسی طرح بچپن میں جو چیز ذہن ودماغ میں بیٹھ جائے (یا بٹھادی جائے) وہ پائیدار ہوتی ہے جس طرح زمین سے اُگنے والے نرم ونازک پودوں کی طرح بچوں کے خیالات، فکر اور طرز زندگی کو جس رخ پر چاہے باآسانی موڑا جاسکتا ہے جب وہ بڑے ہوجائیں اور اُن کی عقل پختہ ہوجائے تو ان میں تبدیلی ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتی ہے اسلئے ابتدائی عمر میں بچوں کی نگرانی اور ان کی صحیح تربیت والدین اور سرپرستوں کی اہم ذمہ داری ہے۔۔۔

قرآن وحدیث میں یہ حقیقت بیان ہوئی ہے کے ہر بچہ توحید خالص کی فطرت پر پیدا ہوتا ہے اصل کے اعتبار سے اس میں طہارت، پاکیزگی، برائیوں سے دوری اور ایمان کی روشنی ہوتی ہے۔ پھر اسے گھر میں اچھی تربیت اور معاشرہ میں اچھے ساتھی میسر آجائیں تو وہ ایمان و اخلاق میں اسوہ نمونہ اور کامل انسان بن جاتا ہے۔۔۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے ہر نومولود فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہےپھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں۔۔۔یعنی بچے کو جیسا ماحول اور تربیت میسر آئے گی وہ اسی رخ پر چل پڑے گا اگر اسے ایمانی ماحول اور اسلامی تربیت میسر آجائے تو وہ یقینا معاشرہ میں حقیقی مسلمان بن کر ابھرے گا لیکن اس کی تربیت صحیح نہج پر نہ ہو گھر کے اندر اور باہر اسے اچھا ماحول نہ ملے تو وہ معاشرہ میں مجرم اور فسادی انسان بن کر ابھرے گا۔۔۔

امام غزالی رحمہ اللہ علیہ نے والدین کو یہ وصیت کی کہ بچوں کو قرآن پاک احادیث مبارکہ اور نیک لوگوں کے واقعات اور ضروری دینی احکام کی تعلیم دیں بچہ والدین کے پاس امانت ہوتا ہے اور اس کا پاکیزہ دل ایک نفیس جوہر اور موتی کی طرح ہے اگر اسے خیر کا عادی بنایا جائے اور بھلے کام سکھائے جائیں تو وہ انہیں سیکھتا ہوا بڑھتا اور پلتا ہے پھر دنیاوآخرت دونوں جگہ خوش نصیب رہتا ہے اگر اسے برے کاموں کا عادی بنایا جائے یا مہمل چھوڑ دیا جائے تو بدبختی و ہلاکت اس کا مقدر بن جاتی ہے اسکی حفاظت کا طریقہ یہی ہے کے اسے علم وادب سکھایا جائے اچھے اخلاق سکھائے جائیں اور مہذب بنایا جائے۔۔۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کی تربیت کے حوالے سے کیا رہنمائی فرمائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اس کا کس درجہ خیال رکھتے تھے؟؟؟۔۔۔

اس کی بیشمار مثالیں کتب حدیث وسیرت میں دیکھی جاسکتی ہیں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ماروایت کرتے ہیں۔۔۔
ایک روز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے بچے (بیٹے) میں تمہیں چند باتیں سکھاتا ہوں تم اللہ کے حقوق اللہ کا خیال رکھو تو اللہ کو اپنے سامنے پاؤ گے اور جب مانگو تو اللہ ہی سے مانگو اور جب مدد طلب کرو تو اللہ ہی سے مدد طلب کرو اور اس بات کو جان لو کے اگر تمام مخلوق بھی تمہیں کچھ فائدہ پہنچانا چاہے تو تمہیں صرف وہی فائدہ پہنچاسکتی ہے جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے (ترمذی)۔۔۔
غور کیجئے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے ذہن میں کس طرح دینی حقائق نقش فرمایا کرتے تھے۔۔۔
عمروبن ابی سلمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں جب چھوٹا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا تناول کرتے ہوئے میرا ہاتھ برتن میں ادھر اُدھر چلا جاتا تھا۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا اے لڑکے اللہ کا نام لو دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے قریب سے کھاؤ (رواہ مسلم)۔۔۔
حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔۔۔
ایک روز اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف فرماتھے میری والدہ نے مجھے پکارا آؤ ایک چیز دوں گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے والدہ سے دریافت فرمایا کے تم نے اسے کیا دینا چاہا؟؟؟۔۔۔ والدہ نے عرض کیا کے کھجور دینا چاہتی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے والدہ سے ارشاد فرمایا۔۔۔ سنو اگر تم اسے کچھ نہ دیتیں تو تمہارے حق میں (نامہ اعمال میں) یہ ایک جھوٹ لکھا جاتا (رواہ ابوداؤد وبہیقی)۔۔۔
غور کیجئے کے اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کو اُمید وآس دلا کر کچھ نہ دینے سے بھی منع فرمایا اور اسے جھوٹ قرار دیا اس کا ایک اہم نقصان یہ ہے کہ اس سے بچوں کی تربیت اور اُن کے اخلاق وکردار پر منفی اثرات پڑیں گے اور وہ بھی جھوٹ کے عادی ہوجائیں گے کیونکہ بچے اپنے بڑوں سے جس چیز کو دیکھتے یا سنتے ہیں اس کا اثر بہت جلد قبول کر لیتے ہیں اور بچپن کا یہ اثر نہایت مضبوط ومستحکم اور پائیدار ہوتا ہے آج بعض سرپرست بچوں سے بلاتکلف جھوٹ کہلواتے ہیں ہیں مثلا کوئی ملاقات کیلئے گھر پر دستک دے اور اس سے ملنے کا ارادہ نہ ہو تو بچوں کے کہلوا دیا جاتا ہے کے کہہ دو ابو گھر پر نہیں ہیں کیا اس طرح بچوں کے دل ودماغ میں جھوٹ سے نفرت پیدا ہوگی؟؟؟۔۔۔کیا وہ بڑے ہوکر جھوٹ جیسی بداخلاقی کو برا جانیں گے؟؟؟۔۔۔ جھوٹ کا گناہ وبال اور نقصان نیز بچوں کی غلط تربیت کے علاوہ کبھی باپ کو اس وقت نقدشرمندگی بھی اٹھانی پڑتی ہے جب بچے بھولے پن میں اس حقیقت سے پردہ اُٹھادیتے کے ابو نے کہا وہ گھر پر نہیں ہیں۔۔۔

ڈاکٹر مصطفٰی سباعی نے اپنی ایک کتاب میں یہ واقعہ لکھا کے ایک شرعی عدالت نے چور کا ہاتھ کاٹنے کی سزا سنائی تو ہاتھ کاٹنے جانے سے قبل اس نے بلند آواز سے کہا کے میرا ہاتھ کاٹنے سے پہلے میری ماں کی زبان کاٹ دو اسلئے کے میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ اپنے پڑوس کے یہاں سے ایک انڈہ چوری کیا تھا تو میری ماں نے اس جرم پر مجھے تنبیہ نہ کی بلکہ خوشی کا اظہار کیا تھا اگر مجھے اس وقت روکا جاتا تو آج معاشرہ میں چور نہ بنتا واقعہ یہ ہے کے اولاد کے اچھے یا برے بننے میں والدین کی تربیت اور اُن کی نگرانی کو بہت بڑا دخل ہے اور یہ والدین کی اہم ذمہ داری ہے کے اپنی اولاد کی دینی واسلامی تربیت کا خاص خیال رکھیں انہیں بچپن ہی سے اچھے اخلاق وکردار کا حامل بنائیں اور دین سے تعلق ان کے ذہنوں میں راسخ کردیں۔۔۔

آخر میں اللہ رب العزت سے دُعا ہے کے وہ ہم کو سچا اور پکا مسلمان بننے کی توفیق عطاء فرمائے آمیں ثم آمین۔۔۔

واللہ اعلم ۔۔۔
والسلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,787
پوائنٹ
1,069
والدين اپنى اولاد كى تربيت ميں كيا طريقہ اختيار كريں ؟

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
{ اے ايمان والو اپنے آپ كو اور اپنے گھر والوں كو جہنم كى آگ سے بچاؤ جس كا ايندھن لوگ اور پتھر ہيں، اس پر سخت اور شديد فرشتے مقرر ہيں جو اللہ تعالى كى نافرمانى نہيں كرتے اور انہيں جو حكم ديا جاتا ہے اس پر عمل كرتے ہيں }التحريم ( 6 ).
عبد اللہ بن عمر رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ فرماتے ہوئے سنا:
" تم سب ذمہ دار ہو، اور تم سب سے تمہارى ذمہ دارى اور رعايا كے بارہ ميں پوچھا جائيگا تم اس كے جوابدہ ہو، حكمران اپنى رعايا كا ذمہ دار ہے اور اس سے اس كى رعايا كے بارہ ميں پوچھا جائيگا وہ اس كا جوابدہ ہے، اور مرد اپنے گھر والوں كا ذمہ دار ہے اس سے اس كى ذمہ دارى كے بارہ ميں پوچھا جائيگا، اور عورت اپنے خاوند كے گھر كى ذمہ دار ہے اس سے اس كى رعايا اور ذمہ دارى كے بارہ ميں پوچھا جائيگا "
صحيح بخارى حديث نمبر ( 853 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1829 ).
آپ يہ جان ليں كہ نہ تو بچوں كى تربيت شدت اور سختى سے كى جا سكتى ہے اور نہ ہى اس ميں سستى و كوتاہى ہو سكتى ہے.

مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام سے درج ذيل سوال كيا گيا:

تو كميٹى كے علماء كا جواب تھا:

" اولاد كى تربيت ميں كاميات ترين طريقہ يہ ہے كہ: اس ميں ميانہ روى اختيار كى جائے جس ميں نہ تو افراط ہو اور نہ ہى تفريط چنانچہ اس ميں نہ تو شدت ہونى چاہيے اور نہ ہى سستى و اہمال اور بےپرواہى.

اس ليے والد اپنى اولاد كى تربيت كرے اور انہيں تعليم دے اور ان كى راہنمائى كرے، اور انہيں اخلاق فاضلہ كى تعليم دے، اور آداب حسنہ سكھائے، اور انہيں ہر برے اورغلط اخلاق سے منع كرے اور روكے.

اللہ تعالى ہى توفيق دينے والا ہے، اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے " انتہى

الشيخ عبد العزيز بن باز.
الشيخ عبد الرزاق عفيفى.
الشيخ عبد اللہ بن غديان.
ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 25 / 290 - 291 ).
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
اسلام جامع دین ہے جس میں سب سے اہم ترین عنصر تربیت ہے جو کہ فرائض نبوت کا ایک جامع مظہر ہے جس کے چار پہلو کتاب اللہ میں مختلف مقامات پر بیان کیے گئے ہیں۔ تربیت اطفال کے حوالے اسلام کا رویہ مثالی اسالیب کا حامل ہے یہ واحد دین ہے جس نے تربیت کا آغاز بچے کی پیدائش سے بھی پہلے کیا جیسا کہ ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے چھوٹے بچے کی تربیت کے لیے ہدایات کی درخواست کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بچے کی عمر کیا ہے اس پر وہ صحابی جواب دیتے ہیں کہ "ایک سال" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں " تم نے بہت دیر کر دی"۔
یعنی جنین میں جب روح پھونک دی جاتی ہے تو وہ اپنی ماں سے براہ راست اور ارد گرد ماحول سے بالواسطہ متاثر ہوتا ہے جس کی تائید آج کی سائنس بھی کر رہی ہے۔ یہ حقیقت واضح رہے کہ اولاد اللہ تعالی کی طرف سے ایک ایسا عطیہ ہے جس کے بارے میں پوچھا جائے گا اور اولاد جو کہ فطرت سلیمہ کے ساتھ پیدا ہوتی ہے لہذا والدین ہی اس امر کے ذمہ دار ہوتے ہیں کہ اولاد راہ تقوی اختیار کرتی ہے یا راہ فجور منتخب کرتی ہے۔
اس اعتبار سے اسلام کی تربیتی نظام درج ذیل مراحل پر مشتمل ہے
پہلا مرحلہ: جنین میں روح پھونکنے سے ولادت تک
دوسرا مرحلہ: مرحلہ رضاعت
تیسرا مرحلہ: تیسرے سال سے سات سال تک
چوتھا مرحلہ: سات سال سے بلوغت تک
پانچواں مرحلہ : بلوغت سے نکاح تک
ان پانچ مراحل میں کم و بیش عمر کی مناسبت سے جن وسائل کو استعمال کیا جا سکتا ہے وہ اہمیت کے اعتبار سے اس طرح بیان کیے جا سکتے ہیں: قرآن و حدیث (تلاوت، حفظ، فہم، عمل)، اخلاق و آداب، تعلیم و تربیت، اخبارات و رسائل، ٹیلی ویژن، انٹر نیٹ۔
ان تمام مراحل میں سب سے اولین مدرسہ ماں کی گود ہے اور پھر گھر کا ماحول اہم کردار ادا کرتا ہے تیسرے مرحلہ پر معاشرہ جس میں مسجد، سکول، کالج ،کھیل کے میدان وغیرہ شامل ہو سکتے ہیں۔ اسلام نے ان تمام مراحل میں باقاعدہ رہنمائی عطا کی ہے ۔
ہمارے معاشرہ میں جو اولاد کی نافرمانی کے پہلو اور مشاہد نظر آتے ہیں اس کی بنیادی وجہ والدین کا اولاد کی تربیت کا مکمل طور پر اہتمام نہ کرنا ہے کہ جسمانی ،تعلیمی تربیت کو اتنی اہمیت دی جائے کہ روحانی و دینی و اخلاقی تربیت کا پہلو نظر انداز ہو جائے ۔ اولاد کی نافرمانی میں بنیادی سبب یہی ہے ۔
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
اور اس حوالے سے سورۃ لقمان کا دوسرا رکوع بہت زیادہ اہم ہے جس کا تفصیلی مطالعہ بہت مفید ثابت ہو گا
سورت لُقمان مکی سورت ہے ، اس سورت کی کچھ آیات میں اولاد کی تربیت کا بہترین سبق دیا گیا ہے ، ان آیات میں بڑی محبت اور مہربانی کے ساتھ اولاد کو سمجھانے کا انداز بتایا گیا ہے ، یہ وہ آیات ہیں جن میں لُقمان رحمہُ اللہ کی نصیحت کو اللہ تعالیٰ نے ذِکر فرمایا ہے کہ کس طرح لُقمان رحمہُ اللہ نے محبت اور نرم دلی سے اپنے بیٹے کو تربیت دی ،
آیے ان آیات مبارکہ میں دیے گئے اسباق اور اولاد کو تعلیم و تربیت دینے کے بہترین انداز کو سمجھتے ہیں اِن شاء اللہ تعالیٰ ، ان الفاظ میں سب سے پہلی قابل توجہ بات لُقمان رحمہُ اللہ کا اپنے بیٹے کو بار باریا بني اے میرے بیٹے کہہ کہہ کر بات کرنا ہے ، اس انداز میں ہمیں یہ سبق دیا گیا کہ ہم لوگ جب اپنی اولاد کے ساتھ بات کریں خاص طور پر جب انہیں کوئی نصیحت کریں یا انہیں کسی کام کی تربیت دیں تو اپنے اور اُن کے رشتے کی یاد دہانی کرواتے رہیں تا کہ ہماری اولاد کے ذہن میں یہ واضح تر ہوتا جائے کہ مجھے یہ سب کچھ سمجھانے والے میرے اپنے والدین ہیں کوئی دُشمن نہیں ہیں ، پس جو کچھ یہ مجھے سمجھا رہے ہیں وہ یقینا میرے لیے بہتر والا ہے
اس کے ساتھ ساتھ اس انداز تخاطب کا ایک مُثبت نفسیاتی اثر اولاد اور والدین کے درمیان محبت میں اضافہ ہے ،
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
پہلا سبق شرک بہت بڑا ظُلم ہے
ان آیات مبارکہ میں بیان کردہ سب سے پہلا سبق جو لُقمان رحمہُ اللہ نے اپنے بیٹے کو سیکھایا ، اور سب سے پہلے اُسے جس کام کی تربیت دی وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانے کی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا وَإِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ اور جِب لُقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا اے میرے بیٹے اللہ کے ساتھ شرک مت کرنا ، بے شک شرک بہت ہی بڑا ظلم ہے آيت/
لقمان رحمہ اللہ کے اس سبق کا ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے شرک کے بارے میں مزید خبردار فرماتے ہوئے یہ بتایا کہ انسان پر اللہ کی طرف سے سب سے زیادہ نیک سلوک کرنے کا حکم اس کے ماں باپ کے بارے میں ہے لیکن اگر وہ بھی شرک کا حکم دیں تو ان کی تابع فرمانی نہ کی جائے گی ، لہذا ارشاد فرمایا:وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُاور ہم نے انسان کو وصیت کی اسکے والدین کے بارے میں (خیال رکھے کہ )اسکی ماں نے اسے دُکھ پر دُکھ پر برداشت کر کے (اپنے پیٹ میں ) اٹھائے رکھا اور اس کو دو سال تک دودھ پلانا ہے ، کہ میرا شکر گذار بنے اور اپنے والدین کا شکر گذار بنے
اس مذکورہ بالا آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ انسانوں کے لیے اُس کا حکم ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ بہترین سلوک کریں ، خاص طور پر ماں کے ساتھ کہ اس کی ماں اس انسان کو تکلیف پر تکلیف برداشت کرتے ہوئے اپنے پیٹ میں اٹھائے رکھتی ہے اور پھر دو سال تک اسے دودھ پلاتی ہے ، پس اللہ تعالیٰ حکم فرماتا ہے کہ انسان اس کا شکر گذار ہو اور اپنے والدین کا شکر گذار ہو ،
اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس کلام پاک میں ہمیں یہ سبق بھی ملا کہ ہمیں اپنی اولاد کو اللہ کے مقرر کردہ فطری عوامل کی تعلیم بھی مناسب وقت پر دیتے رہنا چاہیے نہ کہ بلا محل شرم کی بنا پر انہیں اللہ کے مقرر کدہ فطری عوامل سے جہالت میں رکھنا چاہیے ، کسی حیرت کی بات ہے کہ ہم اپنی اولاد کو اللہ کی نافرمانی میں دیکھ کر تو نہیں شرماتے لیکن انہیں اللہ کی تابع فرمانی سکھاتے ہوئے ، اللہ کے بتائے ہوئے فطری عوامل کی تعلیم دیتے ہوئے ، پاکیزگی اور پلیدگی کے مسائل سمجھاتے ہوئے شرم آتی ہے ،اسی لیے علماء نے شرم و حیاء کو دو اقسام میں تقسیم فرمایا ہے کہ:
مذموم شرم و حیاء ::::::: وہ شرم جو حق سیکھنے اور سکھانے ، ماننے اور اپنانے میں در آئے اور انسان اس پر عمل پیرا نہ ہو ،
مطلوب شرم و حیاء ::::::: وہ شرم جو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی نافرمانی سے روکے ،
پس ہمیں اس دوسری شرم و حیاء کے مطابق اپنی زندگی بسر کرنا چاہیے اور اسی کے مطابق اپنی اولاد کو تعلیم و تربیت دینا چاہیے ،
اس آیت مبارکہ کے بعد اللہ سُبحانہُ و تعالی نے فرمایا وَ إِن جَاهَدَاكَ عَلى أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفاً وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ اور اگر وہ تمہارے ساتھ اس بات پر زور زبردستی کریں کہ تُم میرے ساتھ شریک بناؤ جس کا تمہیں عِلم ہی نہیں تو تُم ان کی بات مت ماننا ، اور ( اسکے باوجود) دُنیا میں ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور ان کی راہ پر چلو جو میری طرف جھکتے ہیں (اور یاد رکھو کہ) تُم سب نے میری ہی طرف واپس آنا ہے تو پھر میں تُم سب کوتُم لوگوں کے کیے ہوئے کاموں کی (ساری کی ساری ) خبر دوں گا ،ماں باپ کی عمومی تابع فرمانی کرنے کی وصیت فرمانے کے بعد اللہ تعالی نے یہ واضح فرمایا دیا کہ شرک ایسا عظیم ظلم جس پر عمل پیرا ہونے سے باز رہنے کے لیے والدین کی نافرمانی کرنا پڑے تو وہ نافرمانی ضروری ہے ،
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زبان مبارک سے اللہ تعالی نے اس بارے میں یہ قانون ہم تک پہنچایا کہ لَا طَاعَةَ في مَعْصِيَةِ اللَّهِ إنما الطَّاعَةُ في الْمَعْرُوفِ
اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے مخلوق کی اطاعت نہیں کی جائے گی بلکہ اطاعت تو صرف نیک کاموں میں ہو گی صحیح مُسلم /حدیث / کتاب الامارۃ[ باب نیک کام صرف اور صرف وہی ہے جسے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے نیک ہونے کی سند میسر ہو،کسی کے کہنے سمجھنے پر کوئی کام نیک نہیں خواہ بظاہر کتنا ہی نیک اور اچھا دکھائی دیتا ہو اور خواہ کوئی اسے نیکی ثابت کرنے کے لیے زمین و آسمان کے قلابے ملاتا رہے ،
اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے شرک کی یہ مذمت بیان فرمانے کے بعد پھر لُقمان رحمہ اللہ کے بات ذکر فرماتا ہے جو ان کے سبق سے متعلق ہے ، یعنی شرک سے بچنے اور اللہ کی توحید کے بارے میں ہے ۔
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
دوسرا سبق ::::::: توحید فی الصفات کا سبق ، اللہ کی عظیم قدرت ، مکمل عِلم کا سبق اور ، ::::::: تیسرا سبق ::::::: آخرت کی فِکر مندی کا سبق
يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ ::: اے میرے بیٹے اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر بھی ہو اور پھر (کسی) پتھر میں (چُھپا ہوا) ہو یا (کہیں) آسمانوں میں ہو یا (کہیں) زمین میں ہو اللہ اسے ضرور لائے گا بے شک اللہ باریک بین اور بہت ہی خبررکھنے والا ہے ))))) آیت 16،
اس آیت میں بھی لُقمان رحمہ اللہ نے اُسی محبت آمیز اور پُر حِکمت انداز میں اپنے بیٹے کو مخاطب کیا اور اللہ کی صفات کی پہچان کرواتے ہوئے ان صفات کی قوت اور سمجھاتے ہوئے موصوف کی عظمت کی تعلیم دی اور اس عظمت کے پیش نظر اپنی زندگی میں کرنے والے ہر ایک کام کے بارے میں یہ تعلیم اور تربیت دی کہ یہ یاد رکھنا کہ کوئی چھوٹے سے چھوٹا کام بھی اللہ تعالیٰ کے عِلم سے خارج نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کی قدرت سے لہذا تمہاری ہر نیکی اور ہر برائی کو اللہ آخرت میں تمہارے سامنے لے آئے گا لہذا ہر کام کرتے ہوئے یہ یاد رکھنا کہ اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے اور اللہ کے سامنے مجھے اس کا جواب دینا ہوگا ،
 
Top