محمد آصف مغل
سینئر رکن
- شمولیت
- اپریل 29، 2013
- پیغامات
- 2,677
- ری ایکشن اسکور
- 4,008
- پوائنٹ
- 436
عبداللہ بن عمر؆سے روایت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ''کہ میری امت ۷۳ فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی ۔سوائے ایک جماعت کے سب دوزخ میں جائیں گے۔ عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول وہ کونسا گروہ ہو گا؟ آپ نے فرمایا :ما انا علیہ واصحابی ۔'' یہ وہ جماعت ہوگی جو اس راستے پر چلے گی جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں'' (ترمذی: ۲۵۶۵)اُمت کے تہتر فرقے
سلف صالحین نے ۷۲ فرقوں سے وہ گروہ مراد لیے ہیں جو ایسی بدعات کا ارتکاب کرنے والے ہیں جو آدمی کو گمراہ کرتی ہیں کافر نہیں بناتی ۔اس حدیث میں جن گمراہ گروہوں کا ذکر کیا گیا ہے ،وہ کفر اکبر اور شرک اکبر کا ارتکاب کرنے والے نہیں ہیں کیونکہ ایسے لوگ تو دائرہ اسلام ہی سے خارج ہیں جبکہ اس حدیث میں ان لوگوں کا بیان ہے جو امت یعنی دائرہ اسلام میں داخل ہیں کافر نہیں ۔
۷۲گروہوں کو دائرہ اسلام سے خارج اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنمی قرارد ینا غلط ہے :امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں :
''ومن قال اِن الثنتین وسبعین فرقۃ کل واحد منھم یکفر کفرًا ینقل عن الملۃ فقد خالف الکتاب والسنۃ واجماع الأئمۃ الاربعۃ وغیرالاربعۃ ،فلیس فیھم من کفَّرکل واحد من الثنتین وسبعین فرقۃ'' (مجموع الفتاویٰ: جلد۷ص۲۱۸)
''جس شخص نے یہ کہا کہ ۷۲ گروہوں میں سے ہر ایک کافر ہے اور ملت اسلامیہ سے خارج ہے تو اس نے کتاب و سنت اور اجماع ائمہ کی مخالفت کی ' ان میں سے کوئی بھی ۷۲ گروہوں میں سے کسی کی تکفیر نہیں کرتا تھا ۔''
فتویٰ کمیٹی ''اللجنۃ الدائمہ'' سے سوال کیا گیا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کے بارے میں فرمایا : [کلھم فی النار الا واحدۃ] '' سب فرقے جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے ۔'' اس حدیث کا کیا مطلب ہے ؟ وہ ایک فرقہ کون سا ہے ؟ کیا بہتر فرقے سب کے سب مشرکوں کی طرح دائمی جہنمی ہیں یا نہیں ؟ تو اللجنۃ الدائمۃنے یہ فتویٰ دیا :
'' اس حدیث میں امت سے مرادامت اجابت ہے ۔وہ تہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی ان میں سے 72 فرقے راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں ۔اور ایسی بدعتوں کے مرتکب ہیں جو اسلام سے خارج نہیں کرتیں ۔ان کو ان کی بدعتوں اور گمراہیوں کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا۔ اللہ چاہے تو کسی شخص کو معاف بھی کر سکتا ہے اور اس کی مغفرت (بغیر عذاب کے ) ہو سکتی ہے۔ اور اس کا انجام جنت ہے ۔ایک نجات یافتہ جماعت ہے اور وہ اہل سنت والجماعت ہے ۔اہل سنت وہ لو گ ہیں جو نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہیں اور اس طریقہ پر قائم رہتے ہیں جو نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کا طریقہ ہے ۔انہی کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری امت میں سے ایک جماعت حق پر قائم اور غالب رہے گی جو ان کی مخالفت کرے گا یا ان کی مدد نہیں کرے گا وہ انہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا حتی کہ اللہ کا حکم آجائے ۔''(بخاری :۳۶۳۹،مسلم:۱۹۲۱)لیکن جس کی بدعت اس قسم کی ہو کہ اس کی وجہ سے وہ اسلام سے خارج ہو جائے تو وہ امت دعوت میں داخل ہے ' امت اجابت میں شامل نہیں۔وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا ۔''(فتاویٰ اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء:فتویٰ نمبر :۴۳۶۰)