• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

"اپنا مسلک چھوڑو نہ، کسی کا مسلک چھیڑو نہ"

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,822
پوائنٹ
1,069
"اپنا مسلک چھوڑو نہ، کسی کا مسلک چھیڑو نہ"


نہ جانے کتنے ہی لوگ بشمول بڑے بڑے دانشور اس جملے کو اپنی زندگی کا اصول بنا کر اپنے کان اور اپنی آنکھیں بند کیۓ بیٹھے ہیں (البتہ زبان پہ انکا کچھ اختیار نہیں)۔ اس جملے کی آڑ میں نہ وہ کچھ سنتے ہیں نہ کچھ دیکھتے ہیں۔ پڑھنے میں تو یہ بڑا امن پسند سا جملہ لگتا ہے۔ لیکن اسکو زندگی کا اصول بنانا بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ میں نہیں کہہ رہا، میرا مذہب کہہ رہا ہے، بلکہ موجودہ حالات کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ اس جملے کو اصولِ زندگی نہ بننے دیا جاۓ۔

اپنا مسلک چھوڑو نہ"،

اس اصول میں جو پہلی بات ہے وہ ہے فرقہ کی پرستش۔ وہ بھی ایسی جس میں خوب ڈھٹائی ظاہر ہے۔ یعنی اپنے باپ دادا سے جو ملا (ٹھیک یا غلط) اسی پہ ڈٹے رہنا۔

یہاں پر قرآن کی بات سننا لازم ہوگا۔

"ان سے جب کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو احکام نازل کیے ہیں ان کی پیروی کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اسی طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ اچھا اگر ان کے باپ دادا نے عقل سے کچھ بھی کام نہ لیا ہو اور راہ راست نہ پائی ہو تو کیا پھر بھی یہ انہی کی پیروی کیے چلے جائیں گے؟" (البقرہ: 171)۔

چونکہ فرقہ پرستی خود گناہ ہے اور اتحاد کیلۓ ناسور بھی، لیکن یہ اصول اسی بات کی ترغیب دیتا ہے۔

دوسری بات "کسی کا مسلک چھیڑو نہ"

یعنی نہ کسی کی اچھی بری سنو، نہ کسی کو اچھی بری کہو۔ یہاں پہ حدیثِ نبوی بھی سننا لازم ہے۔(جس کا مفہوم ہے)

"کثرتِ نافرمانی کی وجہ سے قومِ بنی اسرائیل کی ایک بستی پر اللہ پاک نے عذاب نازل کرنے کا ارادہ فرمایا۔ فرشتوں کو حکم ہوا کہ جاؤ، اس بستی کو الٹ دو۔ فرشتے بستی میں پہنچے تو دیکھا ایک بہت عبادت گزار شخص مسجد میں تنہا خدا کی یاد میں مشغول ہے۔ فرشتے واپس آسمانوں کی طرف لوٹے اور اللہ کو اس شخص کے متعلق بتایا۔ اللہ رب العزت نے حکم فرمایا، جاؤ، اس شخص کو نیچے رکھو، اور پوری بستی اسکے اوپر الٹ کر دے مارو۔ ۔ یہ اپنا علم اپنا دین اپنے پاس ہی سنبھالے بیٹھا ہے۔ لوگوں کی اصلاح نہیں کرتا نہ ہی دین کی طرف راغب کرتا ہے۔

وہ کہتے ہیں نا "اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کے بیٹھ جانا" یہ وہ اصول ہے۔
اور لیجیۓ،
اسی سوچ پر مبنی ایک اور جملہ جو پنجابی میں ذیادہ تر اس طرح استعمال ہوتا ہے " جیہڑا جتھے لگا اے، ٹھیک لگا اے" (جو جدھر لگا ہے، ٹھیک لگا ہے)۔ ویسے کیا ہی گمراہ کن جملہ ہے۔ اور کیا ہی عجب بات ہے کہ یہ صرف دین کے معاملات میں ہی استعمال ہوتا ہے۔ ورنہ آپ کا بیٹا اگر نشہ کرتا ہے، تو منع کیوں کرتے ہیں؟ علاج کیوں کرواتے ہیں؟ یہاں بھی کہیں جو جدھر لگا ہے، ٹھیک لگا ہے۔ چور چوری کرتا ہے، بدمعاش ناحق خون کرتا ہے۔ اوباش عزتیں لوٹتے ہیں۔ دشمن ہمیں مٹانا چاہتا ہے، یہاں بھی کہیں نا، جو جدھر لگا ہے ٹھیک لگا ہے۔

پر نہیں۔ ۔ ۔ اگر میں کہوں گا کہ بھائی آپکی نماز ٹھیک نہیں ہے، آپکا عقیدہ درست نہیں ہے تو وہ فورا" اپنا اصول نامی ڈنڈا نکالے گا اور میرے سر پہ دے مارے گا، کہ جناب! جتھے کوئی لگیا اے ٹھیک لگیا اے، آپ نے اپنی قبر میں جانا ہے میں نے اپنی قبر میں۔ ۔ ۔ ۔ تو صاحب! قبریں جدا ضرور ہیں مسئلہ یہ ہے کہ پھر اگلا میدان ایک ہی ہوگا۔ جہاں یہ سوال بھی ہوگا کہ جو علم کی گٹھڑی ہم نے تمہیں دی تھی اسے کھول کے بانٹا بھی یا سر پہ ہی اٹھا کے پھرتے رہے ہو؟

اب مجھے تو اس سوال کی بڑی فکر ہے، اسلیۓ مجھے تو علم بانٹنا ہے انہی لفظوں کے ذریعے۔ اب خدارا ان گمراہ کن جملوں کو اپنے ذہن کی ڈکشنری سے نکال دیجیۓ۔

شیئرنگ ٍفیس بک
 
Top