• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اگر کوئی عالم دین بدعت کا مرتکب ہو یا کسی بدعتی کی موافقت کرتا ہو تو کیا وہ بھی ان میں شامل ہو گا؟۔

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
اگر کوئی عالم دین بدعت کا مرتکب ہو یا کسی بدعتی کی موافقت کرتا ہو تو کیا وہ بھی ان میں شامل ہو گا؟
شیخ صالح المنجد حفظہ اللہ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

الحمد للہ: ہم نے یہ سوال شیخ ابن عثیمین  کے سامنے پیش کیا تو ان کا جواب تھا : ''نہیں وہ ان میں شامل نہیں ہو گااور نہ ہی ان کی جانب منسوب کیا جائے گا، اس لیے کہ وہ تو صرف کسی ایک مسئلہ میں موافق ہوا ہے لہٰذا اسے مطلقاً ان کی طرف منسوب کرنا صحیح نہیں۔اس کی مثال اس طرح ہے :

جو شخص امام احمد کے مسلک پر ہو لیکن اس نے کسی ایک مسئلہ میں امام مالک کا مسلک اختیار کیا تو کیا ہم اسے مالکی کہیں گے؟ نہیں اسے مالکی نہیں کہا جائے گا۔تو اسی طرح اگر کوئی فقیہ امام ابو حنیفہ  کے مسلک پر ہو اور وہ کسی معین مسئلہ میں شافعی مسلک پر عمل کرے تو کیا ہم اسے شافعی کہیں گے؟ نہیں اسے شافعی نہیں کہا جائے گا۔چنانچہ اگر ہم کسی معتبر اور نصیحت میں معروف عالم دین کو اہل بدعت کا کوئی مسئلہ لیتے ہوئے دیکھیں تو یہ صحیح نہیں کہ ہم کہیں وہ بھی ان بدعتیوں میں شامل ہو گیا ہے اور ان کے طریقہ پر ہے بلکہ ہم یہ کہیں گے : ہم ان سے کتاب اللہ، سنت رسول اور اللہ کے بندوں کی خیر خواہی دیکھتے ہیں اور جب وہ اس مسئلہ میں غلطی کر بیٹھے تو ان کی یہ غلطی اجتھاد کی بنا پر ہے کیونکہ اس امت کا اجتھاد کرنے والا اگر صحیح اجتھاد کرے تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے اور اگر غلطی کر بیٹھے تو اسے ایک اجر حاصل ہو تا ہے ۔

اور جو کوئی شخص کسی ایک غلط کلمہ کی بنا پر سارا حق ہی رد کر دے تو وہ گمراہ ہے ، خاص کر جب یہ غلطی جسے وہ غلط خیال کرتا ہے غلط نہ ہو، اسے غلط بلکہ گمراہ یا بعض اوقات تو اسے کافر قرار دیتے ہیں۔ اللہ اس سے محفوظ رکھے ایسا کرنا بہت ہی برا اور غلط ہے ۔اور جو کسی دوسرے کو کسی سبب یا معصیت کی بنا پر کافر قرار دے تو اس کا یہ مسلک تو خوارج سے بھی زیادہ شدید ہوگا کیونکہ خوارج تو مرتکب کبیرہ کو کافر قرار دیتے ہیں نہ کہ کسی بھی معصیت کی بنا پر ... ...(لقاء الشہری للشیخ محمد بن صالح العثیمین:ص۱۵ )(الاسلام سوال جواب:فتویٰ :۹۷۸۸)
 
Top