lovelyalltime
سینئر رکن
- شمولیت
- مارچ 28، 2012
- پیغامات
- 3,735
- ری ایکشن اسکور
- 2,899
- پوائنٹ
- 436
اہلبیت کے ذریعے حسین رضی الله عنہ کے خون کی تشہیر
تین باتیں واضح ہیں -
پہلی بات یہ ہے کہ: جب حسین رضی الله عنہ مکہ سے عراق کی طرف نکلتے ہیں تو وہ ناقہ (یعنی اونٹنی) پر سوار تھے نہ کہ گھوڑے پر جیسا کہ مصنف کتاب نے لکھا ہے کہ "انہوں نے ناقہ کی باگ کو پکڑا جس پر امام عالی مقام (حسین رضی الله عنہ) سوار تھے" - اب انہوں نے یہاں واضح لفظ "اونٹنی" لکھنے کی بجائے "ناقہ" لکھ دیا تاکہ عام لوگ اسے پڑھ کر گھوڑا ہی سمجھیں نہ کہ اونٹنی -
دوسری بات یہ ہے کہ: جب حسین رضی الله عنہ کو نبی صلی الله علیہ وسلم نے (وفات کے بعد جسدِ عنصری کے ساتھ دنیا میں آ کر) یہ بتا دیا کہ آپ شہید ہو جائیں گے "الله کی مرضی یہ ہے کہ وہ آپ کو مقتول دیکھے" تو حسین رضی الله عنہ خواتین اور بچوں کو کیوں لے کر گئے؟ یہ نبی صلی الله علیہ وسلم پر بہتانِ عظیم ہے کہ حسین رضی الله عنہ کے خون کی تشہیر کے لئے عورتوں کی عزت کو پامال کروا دیا اور بچوں کو قتل کروا دیا (معاذ الله ثم معاذ الله) کوئی بھی الله کا سچا مومن مسلم بندہ کبھی بھی دنیا کی جھوٹی تشہیر نہیں چاہتا وہ تو جو بھی کام کرتا ہے خالص الله کی رضا کے لئے کرتا ہے اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کرتا ہے اور حسین رضی الله عنہ تو "اولیاء الله" تھے وہ کیوں دنیا کی تشہیر چاہتے اور نہ ہی نبی صلی الله علیہ وسلم ایسا حکم کسی کو دے سکتے ہیں اور نہ ہی حسین رضی الله عنہ ایسا کر سکتے ہیں ہم ایسا سوچ بھی نہیں سکتے - نبی صلی الله علیہ وسلم کسی کے خواب میں نہیں آتے بلکہ یہاں تو نبی صلی الله علیہ وسلم کو جسدِ عنصری کے ساتھ ہی دنیا میں واپس بلا لیا گیا اور قرآن و صحیح احادیث کو پس پشت ڈال دیا گیا - الله فرماتا ہے کہ:
ثُمَّ إِنَّكُم بَعْدَ ذَٰلِكَ لَمَيِّتُونَ - ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ
پھر تم اس کے بعد ضرور مرنے والے ہو - پھر اس کے بعد تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤگے -
(سورة المؤمنون: ١٥ تا ١٦ / محمد حسین نجفی)
وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ
ان کے (مرنے کے) بعد برزخ کا زمانہ ہے ان کے (دوبارہ) اٹھائے جانے تک -
(سورة المؤمنون: ١٠٠ / محمد حسین نجفی)
إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ
(اے پیغمبر) تم بھی مر جاؤ گے اور یہ بھی مر جائیں گے -
(سورة الزمر:٣٠ / جالندھری)
محمد حسین نجفی (شیعہ) نے اس آیت کا ترجمہ غلط کیا ہے ترجمہ کرتے ہیں کہ "پھر تم سب قیامت کے دن اپنے پروردگار کی بارگاہ میں جھگڑوگے (اور وہ حق و باطل کا فیصلہ کرے گا)" اسی طرح رضا خاں بریلوی اور طاہر القادری نے بھی اس آیت کا ترجمہ غلط کیا ہے -
وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّن قَبْلِكَ الْخُلْدَ ۖ أَفَإِن مِّتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ
اور ہم نے آپ سے پہلے کسی آدمی کو ہمیشگی نہیں دی - تو اگر آپ انتقال (وفات) کر جائیں تو کیا یہ لوگ ہمیشہ (یہاں) رہیں گے؟ -
(سورة الأنبياء:٣٤ / محمد حسین نجفی)
تو ثابت ہوا کہ اس قصے کو جو نبی صلی الله وسلم سے منسوب کر دیا گیا ہے سراسر جھوٹ کا پلندہ ہے -
تیسری بات یہ ہے کہ: حسین رضی الله عنہ کو ان کے بھائی محمد حنفیہ کوفہ کے لوگوں کے حالات سے آگاہ کرتے ہوے کہتے ہیں کہ "کوفہ کے لوگ (یعنی شیعہ) بےوفا اور پیمان شکن ہیں انہوں نے (آپ کے والد) امیر المومنین علی رضی الله عنہ اور آپکے (بڑے) بھائی حسن رضی الله عنہ کے ساتھ جو کچھ کیا اس سے میں ڈرتا ہوں کہ یہ لوگ آپ کے ساتھ بھی پیمان شکنی کریں گے" - اور ایسا ہی ہوا پہلے خوب خطوط لکھ کر بلایا پھر حسین رضی الله عنہ کو شہید کر کہ اپنے بھیجے ہوے خطوط جلا ے اور الزام ڈال دیا یزید رحمتہ الله علیہ پر - حسین رضی الله عنہ کے ساتھ اس سبائی ٹولہ کا سلوک شہرہ آفاق ہے دہرانے کی ضرورت نہیں - قتلِ حسین رضی الله عنہ کے بعد یہ لوگ نادم اور تائب ہوے تاریخ میں ان کا لقب "توابین" مشہور ہے -
قاضی نور الله شوستری لکھتے ہیں کہ:
ترجمہ : (قاتلان حسین) شیعہ ایک مدت کے بعد بیدار ہوے افسوس کھایا - اپنے اوپر لعنت کی کہ دنیا و آخرت کا گھاٹا ہمارے نصیب ہوا - کیونکہ ہم نے امیر المومنین حسین علیہ السلام کو بلایا پھر ان پر ہم نے تلوار کھینچی اور ہماری بے وفائی سے ہوا جو کچھ ہوا - اس جماعت کے سردار پانچ اشخاص تھے - سلیمان بن صرد خزاعی ، مسیب بن نخبہ فزاری ، عبد الله بن سعد ازدی ، عبد الله بن دال تمیمی ، رفاعہ بن شداد - اور یہ پانچوں علی رضی الله عنہ کے خاص اور معروف شیعہ تھے - (مجالس المؤمنین ، جلد ٢ ،صفحہ ٢٤٣ ، مجلس ہشتم در ذکر ملوک نامدار)
بعد میں ان توابین نے بھی "انتقامِ حسین" کے بہانے بہت لوگوں کو قتل کیا ، ظلم و جور پھیلایا ایک طویل بحث اسی مجالس المومنین میں موجود ہے -