محمد آصف مغل
سینئر رکن
- شمولیت
- اپریل 29، 2013
- پیغامات
- 2,677
- ری ایکشن اسکور
- 4,008
- پوائنٹ
- 436
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿ وَاِنْ طَاۗىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَيْنَہُمَا۰ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىہُمَا عَلَي الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِيْ تَبْغِيْ حَتّٰى تَفِيْۗءَ اِلٰٓى اَمْرِ اللہِ۰ۚ فَاِنْ فَاۗءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَہُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوْا۰ۭ اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ۹ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ ﴾ (الحجرات:۹،۱۰)
''اور اگر مسلمانوں میں سے دوگروہ باہم لڑپڑیں تو ان میں عدل کے ساتھ صلاح واصلاح کرادیا کرواور انصاف کرو بے شک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔بے شک مومن لوگ تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے باہم سرکشی کے باوجود ان کی باہم صلح واصلاح کروانے کا حکم دیا اور مسلمانوں کو بھائی بھائی ہی رکھا ہے۔ بنابریں مومن کو سوچ سمجھ لینا چاہیے کہ (ہجرکی) ان دواقسام میں کس قدر فرق ہے کیونکہ بسا اوقات اور اکثر وبیشتر انسان کے ذہن میں یہ فرق باقی نہیں رہتا ،یہ بھی اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ مومن سے محبت ،دوستی اور وفاداری کا رشتہ استوار رہنا چاہیے ،چاہے اس سے اس پر ظلم و زیادتی کا ارتکاب ہی کیوں نہ ہوا ہو،اور کافر سے دشمنی رکھنا فرض ہے چاہے وہ اس پر کتنا بھی احسان کیوں نہ کرتا ہواورا نعام واکرام ہی سے کیوں نہ نواز تا ہو (مجموع الفتاویٰ ،ج ۲۸ص ۲۰۸-۲۰۹)
امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں
''شیطان انسان سے ہر معاملے میں اسراف چاہتا ہے ۔جب وہ کسی کو نرمی اور رحمت کی طرف مائل دیکھتا ہے تو اُس کے لیے نرمی اور رحمدلی کو مزین کر دیتا ہے یہاں تک کہ انسان اس سے بھی بغض ودشمنی نہیں کرتاجس سے اللہ دشمنی کرتا ہے ،اسے اُس بات پر بھی غیرت نہیں آتی کہ جس بات پر اللہ کو غیرت آتی ہے ۔اسی طرح جب شیطان کسی کو شدت کی طرف مائل دیکھتا ہے تو وہ اُس کے لیے شدت اور سختی کو مزین کر دیتا ہے یہاں تک کہ وہ ذات الٰہی کی رضامندی کے علاوہ (اپنی ذات ، جماعت) کے لیے سختی کرنے لگتا ہے اور وہ احسان ،نرمی اور صلہ رحمی جس کا اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے ترک کر دیتا ہے ۔اس طرح وہ شدت میں زیادتی کا مرتکب ہوتا ہے ۔یہ شخص رحمت و احسان کے حکم الٰہی کو ترک کرنے کی وجہ سے گنہگار ہے اور اللہ اور اس کے رسول نے جس شدت کا حکم دیا اُس میں زیادتی کرنے کی وجہ سے مذموم ہے ۔ارشاد ربانی ہے :
﴿ اِنَّہٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ۳۱ۧ ﴾(الاعراف:۳۱)
''اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔''
زیادتی میں شدت کرنے والے اور رحمدلی میں زیادتی کرنے والے دونوں کو کہنا چاہیے :
﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَاِسْرَافَنَا فِيْٓ اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ۱۴۷ ﴾ (آل عمران :۱۴۷)
'' اے ہمارے رب! ہمارے گناہ معاف فرما اور ہمارے کام میں اگر زیادتی ہو گئی ہو تو اسے معاف فرما۔ہمیں ثابت قدم رکھ اورکافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔''
اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والا وہ عمل کرتا ہے جس سے اللہ اور اس کا رسول محبت کرتے ہیں اور وہ اس کام سے بغض رکھتا ہے جسے اللہ اور اس کا رسول ناپسند جانتے ہیں ۔رہا وہ جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان ہی نہیں لاتا 'وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے ۔اس لیے بعض اوقات اس پر رحم کے جذبات غالب ہوتے ہیں اور کبھی شدت پسندی کی خواہش ،وہ اللہ کی ہدایت کے بغیر اپنی خواہش کے پیچھے بھاگتا ہے ۔
﴿ فَاِنْ لَّمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا يَتَّبِعُوْنَ اَہْوَاۗءَہُمْ۰ۭ وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ بِغَيْرِ ہُدًى مِّنَ اللہِ۰ۭ﴾ (القصص:۵۰)
'' پھر اگر وہ جواب نہ دے سکیں تو جان لیجئے کہ وہ اپنی خواہشات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہو سکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر محض اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہو ا ہو ۔ ''(فتاویٰ ابن تیمیہ :،۱۵/۲۹۳،۲۹۲)
﴿ وَاِنْ طَاۗىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَيْنَہُمَا۰ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىہُمَا عَلَي الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِيْ تَبْغِيْ حَتّٰى تَفِيْۗءَ اِلٰٓى اَمْرِ اللہِ۰ۚ فَاِنْ فَاۗءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَہُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوْا۰ۭ اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ۹ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ ﴾ (الحجرات:۹،۱۰)
''اور اگر مسلمانوں میں سے دوگروہ باہم لڑپڑیں تو ان میں عدل کے ساتھ صلاح واصلاح کرادیا کرواور انصاف کرو بے شک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔بے شک مومن لوگ تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے باہم سرکشی کے باوجود ان کی باہم صلح واصلاح کروانے کا حکم دیا اور مسلمانوں کو بھائی بھائی ہی رکھا ہے۔ بنابریں مومن کو سوچ سمجھ لینا چاہیے کہ (ہجرکی) ان دواقسام میں کس قدر فرق ہے کیونکہ بسا اوقات اور اکثر وبیشتر انسان کے ذہن میں یہ فرق باقی نہیں رہتا ،یہ بھی اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ مومن سے محبت ،دوستی اور وفاداری کا رشتہ استوار رہنا چاہیے ،چاہے اس سے اس پر ظلم و زیادتی کا ارتکاب ہی کیوں نہ ہوا ہو،اور کافر سے دشمنی رکھنا فرض ہے چاہے وہ اس پر کتنا بھی احسان کیوں نہ کرتا ہواورا نعام واکرام ہی سے کیوں نہ نواز تا ہو (مجموع الفتاویٰ ،ج ۲۸ص ۲۰۸-۲۰۹)
امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں
''شیطان انسان سے ہر معاملے میں اسراف چاہتا ہے ۔جب وہ کسی کو نرمی اور رحمت کی طرف مائل دیکھتا ہے تو اُس کے لیے نرمی اور رحمدلی کو مزین کر دیتا ہے یہاں تک کہ انسان اس سے بھی بغض ودشمنی نہیں کرتاجس سے اللہ دشمنی کرتا ہے ،اسے اُس بات پر بھی غیرت نہیں آتی کہ جس بات پر اللہ کو غیرت آتی ہے ۔اسی طرح جب شیطان کسی کو شدت کی طرف مائل دیکھتا ہے تو وہ اُس کے لیے شدت اور سختی کو مزین کر دیتا ہے یہاں تک کہ وہ ذات الٰہی کی رضامندی کے علاوہ (اپنی ذات ، جماعت) کے لیے سختی کرنے لگتا ہے اور وہ احسان ،نرمی اور صلہ رحمی جس کا اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے ترک کر دیتا ہے ۔اس طرح وہ شدت میں زیادتی کا مرتکب ہوتا ہے ۔یہ شخص رحمت و احسان کے حکم الٰہی کو ترک کرنے کی وجہ سے گنہگار ہے اور اللہ اور اس کے رسول نے جس شدت کا حکم دیا اُس میں زیادتی کرنے کی وجہ سے مذموم ہے ۔ارشاد ربانی ہے :
﴿ اِنَّہٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ۳۱ۧ ﴾(الاعراف:۳۱)
''اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔''
زیادتی میں شدت کرنے والے اور رحمدلی میں زیادتی کرنے والے دونوں کو کہنا چاہیے :
﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَاِسْرَافَنَا فِيْٓ اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ۱۴۷ ﴾ (آل عمران :۱۴۷)
'' اے ہمارے رب! ہمارے گناہ معاف فرما اور ہمارے کام میں اگر زیادتی ہو گئی ہو تو اسے معاف فرما۔ہمیں ثابت قدم رکھ اورکافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔''
اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والا وہ عمل کرتا ہے جس سے اللہ اور اس کا رسول محبت کرتے ہیں اور وہ اس کام سے بغض رکھتا ہے جسے اللہ اور اس کا رسول ناپسند جانتے ہیں ۔رہا وہ جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان ہی نہیں لاتا 'وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے ۔اس لیے بعض اوقات اس پر رحم کے جذبات غالب ہوتے ہیں اور کبھی شدت پسندی کی خواہش ،وہ اللہ کی ہدایت کے بغیر اپنی خواہش کے پیچھے بھاگتا ہے ۔
﴿ فَاِنْ لَّمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا يَتَّبِعُوْنَ اَہْوَاۗءَہُمْ۰ۭ وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ بِغَيْرِ ہُدًى مِّنَ اللہِ۰ۭ﴾ (القصص:۵۰)
'' پھر اگر وہ جواب نہ دے سکیں تو جان لیجئے کہ وہ اپنی خواہشات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہو سکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر محض اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہو ا ہو ۔ ''(فتاویٰ ابن تیمیہ :،۱۵/۲۹۳،۲۹۲)