ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 855
- ری ایکشن اسکور
- 227
- پوائنٹ
- 111
اہل توحید کو تکفیری کہنا مرجئہ کا پرانا ہتھکنڈا - شیخ احمد موسیٰ جبریل حفظہ اللہ کا اہم بیان
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد:
آج ایسے دور میں جبکہ حق و باطل کی کشمکش اپنی شدت کو پہنچ چکی ہے، اور اہل توحید و سنت کو مختلف القابات اور الزامات کے ذریعے بدنام کرنے کی منظم کوششیں کی جا رہی ہیں، اس وقت اہل علم کے بیانات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ خصوصا وہ کلمات جو معاصر فتنوں، غلو و ارجاء، اور حق و باطل کے امتیاز کو واضح کرتے ہوں، امت کے لیے بڑی رہنمائی کا ذریعہ بنتے ہیں۔
اسی تناظر میں شیخ احمد موسیٰ جبریل حفظہ اللہ تعالیٰ کا یہ بیان قابل توجہ ہے، جس میں انہوں نے 6:38 سے 9:15 کے درمیان مرجئہ، غلو فی التکفیر، اور اہل توحید کے خلاف ہونے والی فکری مہمات پر گفتگو کرتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ اہل حق ہمیشہ دو انتہاؤں کے درمیان حق و اعتدال کے راستے پر قائم رہتے ہیں۔
شیخ احمد موسیٰ جبریل حفظہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
مرجئہ جو اہل قبلہ کے یہودی ہیں اور ابن سلمان، ابن زاید اور دیگر طواغیت کے غلام ہیں آج اہل توحید اور صالح موحدین کو ’’تکفیری‘‘ کا لقب دیتے ہیں اور اپنی توانائیاں اور وسائل ان موحدین کی بدنامی اور ان پر بہتان تراشی میں صرف کرتے ہیں۔
اسی کے ساتھ یہ حقیقت بھی ہے کہ تکفیر میں غلو کرنے والے بعض حقیقی غلاۃ بھی موجود ہیں جو جہالت، بے احتیاطی اور خواہشات نفس کے سبب ناحق اور ظلم کے ساتھ اصل الناس کو کافر قرار دیتے ہیں۔ یہ غالی گروہ بھی آج کے اہل حق اور موحدین کی مخالفت کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جن موحدین کو مرجئہ ’’تکفیری‘‘ کہتے ہیں، یہی لوگ ان غالیوں کے باطل طرز تکفیر کے مقابلے میں سب سے زیادہ ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔
مرجئہ اور ناحق تکفیر کرنے والے یہ غالی دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ دونوں حق سے ہٹے ہوئے ہیں، اگرچہ ان کی گمراہی کی سمتیں مختلف ہیں، لیکن دونوں کے نتائج یکساں طور پر تباہ کن ہیں۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ ابن سلمان کے غلام حقیقی غالیوں اور ان کی باطل و ظالمانہ تکفیر کے خلاف بہت کم، بلکہ تقریبا کوئی دلچسپی نہیں دکھاتے۔ حالانکہ یہاں ایسے لوگوں کی بات ہو رہی ہے جو بے مثال اور غیر مسبوق انداز میں تکفیر بالعموم کرتے ہیں۔
کیوں؟ اس لیے کہ مرجئہ کا اصل مقصد امت کو غلط تکفیر سے بچانا نہیں ہے، بلکہ ان کا حقیقی ہدف لوگوں کو خالص توحید کی دعوت دینے والوں سے دور کرنا ہے، اور اس مقصد کے لیے وہ انہیں ’’تکفیری‘‘ کا لقب دیتے ہیں۔
وہ ان لوگوں سے خوفزدہ ہیں جو اخلاص کے ساتھ خالص توحید کو قائم رکھتے ہیں، کیونکہ ایسے لوگ ان کے آقاؤں کے تخت و تاج کے لیے حقیقی خطرہ بن جاتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ کے حکم سے زمین کے وارث بنیں گے۔ اسی لیے ان کے مخالفین ان کی مروت کو خراب کرنے اور عوام کو ان کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کرتے ہیں۔
مرجئہ کا نیک اور صالح موحدین کو ’’تکفیری‘‘ قرار دینا، جبکہ حقیقی غالیوں اور ان کی ظالمانہ تکفیر کے مقابلے میں وہ نہ ہونے کے برابر کوشش کرتے ہیں، دراصل ان صالح لوگوں کے خلاف عوام کو بدظن کرنے کی ایک کوشش ہے، جو ان طواغیت کے لیے حقیقی خطرہ ہیں جن کی یہ مرجئہ خدمت کرتے اور ان کی وفاداری نبھاتے ہیں۔
یہ ایک ایسا حربہ ہے جس کے ذریعے لوگوں کو اہل حق سے دور کیا جاتا ہے۔ اسی طرح کا معاملہ امام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کے ساتھ بھی پیش آیا۔ جب انہوں نے خالص توحید کی دعوت دی تو گمراہ عناصر نے انہیں ’’تکفیری‘‘ قرار دے کر ان کی شخصیت کو مجروح کرنے اور ان کی دعوت کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ [انتهى كلامه]
اللہ تعالیٰ شیخ احمد موسیٰ جبرئیل حفظہ اللہ تعالیٰ کو حق پر ثابت قدم رکھے۔ ان کے اس بیان سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اہل سنت و توحید کا منہج ہمیشہ افراط و تفریط کے درمیان عدل و اعتدال کا منہج رہا ہے۔ نہ وہ باطل ارجاء کے قائل ہیں اور نہ ہی ظلم و غلو پر مبنی تکفیر کے۔
اہلِ حق کا طریقہ ہمیشہ کتاب و سنت اور سلف صالحین کے فہم کی پیروی رہا ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو امت کو گمراہی، غلو اور انحراف سے محفوظ رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حق کو حق سمجھ کر اس کی پیروی کرنے اور باطل کو باطل سمجھ کر اس سے اجتناب کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں اہل حق و استقامت کے ساتھ محشور فرمائے۔ آمین
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم على نبينا محمد وآله وصحبه أجمعين۔