• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اہل حدیث اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی نماز میں کوئی فرق تھا یا نہیں؟

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
کیا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے کبھی قراۃ خلف امام،رفع الیدین، ٨ رکعت تراویح ،سینے پر ہاتھ باندھنا، وغیرہ جو آج ہمارے ہہاں اختلاف مانے جاتے ہے، کیا کبھیامام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے ان سب باتوں میں اختلاف کیا ہے یا نہیں؟
آج ہم اہلے حدیث نماز کے جن مسائل پر عمل کرتے ہے اور مقلدین ہم سے اختلاف کرتے ہے نظر آتے ہے تو کیا کبھی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ بھی ایسا ہی کرتے تھے جیسا آج مقلدین حضرت کرتے ہے؟
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے زمانہ میں فقہاء کے دو مکاتب فکر موجود تھے :
ایک اہل الرائے کہ جن کے نمائندہ خود امام صاحب تھے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے اس منہج و مکتب فکر کو ان کے شاگردوں میں سے امام محمد اور قاضی ابو یوسف رحمہما اللہ نے آگے بڑھایا اور اسی بنیاد پر حنفی مکتب فکر کی داغ بیل رکھی گئی ہے۔
جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے زمانہ میں دوسرا مکتبہ فکر اہل الحدیث کا تھا کہ جن کے نمائندہ امام مالک رحمہ اللہ تھے۔ امام مالک رحمہ اللہ کے بعد اہل الحدیث کے کے مکتب فکر کو ان کے شاگرد امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے بعد ان کے شاگرد امام احمد رحمہ اللہ اور ان کے بعد ان کے شاگردوں مثلا امام ابو داؤد رحمہ اللہ اور دیگر محدثین نے آگے بڑھایا۔ اہل الحدیث کی اس تحریک کا ایک ثمر برصغیر پاک و ہند کے اہل الحدیث بھی ہیں۔

دونوں مکاتب فکر کے اجتہادی منہج اور اسالیب استدلال میں بنیادی فرق موجود ہیں جس کے سبب سے دونوں کے نتاءج فکر میں بھی کافی کچھ فقہی اختلافات موجود ہیں جسے ہم نے اپنے ایک مفصل مضمون میں قلمبند کیا ہے اور اسے ان شاء اللہ اس فورم پر بھی شیئر کر دیا جائے گا۔ اور اس بات کے ثبوت میں ہمارے خیال میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ فقہ حنفی کے نمایاں اور امتیازی مسائل کی اکثریت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ یا ان کے شاگردوں امام محمد اور قاضی ابو یوسف رحمہا اللہ سے ثابت ہے جیسا کہ ان کی اصول کی کتب میں درج ہے۔ فقہ حنفی کی اصول کی کتب ۶ ہیں جنہیں اصول ستہ بھی کہتے ہیں اور ان کتب کے مصنف امام محمد رحمہ اللہ ہیں جو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ کے شاگرد بھی ہے۔ ان چھ کتب کے متن کی شرح امام سرخسی رحمہ اللہ نے اصول سرخسی کے نام سے کی ہے جو متداول اور معروف کتاب ہے۔ پس امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے فقہی موقفات تک رہنمائی ان کے پہلے درجہ کے شاگردوں کی براہ راست کتب کے ذریعے ہی ہوتی ہے۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے زمانہ میں فقہاء کے دو مکاتب فکر موجود تھے :
ایک اہل الرائے کہ جن کے نمائندہ خود امام صاحب تھے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے اس منہج و مکتب فکر کو ان کے شاگردوں میں سے امام محمد اور قاضی ابو یوسف رحمہما اللہ نے آگے بڑھایا اور اسی بنیاد پر حنفی مکتب فکر کی داغ بیل رکھی گئی ہے۔
جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے زمانہ میں دوسرا مکتبہ فکر اہل الحدیث کا تھا کہ جن کے نمائندہ امام مالک رحمہ اللہ تھے۔ امام مالک رحمہ اللہ کے بعد اہل الحدیث کے کے مکتب فکر کو ان کے شاگرد امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے بعد ان کے شاگرد امام احمد رحمہ اللہ اور ان کے بعد ان کے شاگردوں مثلا امام ابو داؤد رحمہ اللہ اور دیگر محدثین نے آگے بڑھایا۔ اہل الحدیث کی اس تحریک کا ایک ثمر برصغیر پاک و ہند کے اہل الحدیث بھی ہیں۔

دونوں مکاتب فکر کے اجتہادی منہج اور اسالیب استدلال میں بنیادی فرق موجود ہیں جس کے سبب سے دونوں کے نتاءج فکر میں بھی کافی کچھ فقہی اختلافات موجود ہیں جسے ہم نے اپنے ایک مفصل مضمون میں قلمبند کیا ہے اور اسے ان شاء اللہ اس فورم پر بھی شیئر کر دیا جائے گا۔ اور اس بات کے ثبوت میں ہمارے خیال میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ فقہ حنفی کے نمایاں اور امتیازی مسائل کی اکثریت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ یا ان کے شاگردوں امام محمد اور قاضی ابو یوسف رحمہا اللہ سے ثابت ہے جیسا کہ ان کی اصول کی کتب میں درج ہے۔ فقہ حنفی کی اصول کی کتب ۶ ہیں جنہیں اصول ستہ بھی کہتے ہیں اور ان کتب کے مصنف امام محمد رحمہ اللہ ہیں جو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ کے شاگرد بھی ہے۔ ان چھ کتب کے متن کی شرح امام سرخسی رحمہ اللہ نے اصول سرخسی کے نام سے کی ہے جو متداول اور معروف کتاب ہے۔ پس امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے فقہی موقفات تک رہنمائی ان کے پہلے درجہ کے شاگردوں کی براہ راست کتب کے ذریعے ہی ہوتی ہے۔
 
Top