• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایران اسرائیل اور شیعیت وصہونیت کے مابین تعلقات وروابط

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,150
ری ایکشن اسکور
6,344
پوائنٹ
437
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ان الذین فرقوا دینھم وکانو شیعا لست منھم فے شی

ایران اسرائیل اور شیعیت وصہونیت کے مابین تعلقات وروابط​

پیش لفظ
دنیا جانتی ہے کے شیعیت کے نظریات وعقائد غیر اسلامی ہیں اس رسالہ میں فاضل مؤلف نے انتہائی کاوش تحقیق کے بعد اس مستند اور محققانہ مقالہ میں شیعیت اور صہیونیت میں مماثلت اور ہم آہنگی کی نشاندہی کی ہے ساتھ ہی ایسے حقائق پر روشنی ڈالی ہے جس سے شیعہ ایران اور یہودی اسرائیل کے مابین یکساں عزائم اور گہرے روابط کا پتہ چلتا ہے اپنے اچھوتے معلومات عنوان کے سبب یہ ایک قطعی نئی تحقیق ہے اسکے مطالعے سے قارئین کا یہ تجسس بڑی حد تک دور ہوجاتا ہے کہ آخر وہ کون سے محرکات تھے جن کے تحت عبداللہ بن سبا اور اسکے پیروکار حزب الشیطان قائم کر کے ایوان خلافت کو ڈھانے کا سبب بنے قرآن کو مشکوک بنایا پیغمبر اسلام کی رسالت اور خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کی عظمت کا داغدار کیا خلافت کی حقیقت کو نظر انداز کر کے فلسفہ امامت اور اہل بیت کے زمرے سے امہات المومنین کو خارج کر کے ایک خود ساختہ محدود تصور پیش کیا جو آگے چل کر آل محمد (آئمہ اثنا عشریہ) اور امام آخروزماں پر ختم ہوا۔۔۔

اس رسالے میں فاضل مؤلف نے انہی اسباب کا انتہائی احسن طریقے سے تجزیہ کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ صہیونیت کو کس طرح ابن سبا نے اسلامی لبادہ اوڑھا کر شیعیت کی شکل میں پیش کیا اس نے بڑی عیاری سے شیعت کی اساس صہیونی افکار وعقائد پر رکھی تاکہ اسطرح اسلام کی تمام قدروں اور نظریات کو بہہ وبالا کرسکے حزب اللہ کے مقابلہ میں ایک فتین یہودی دماغ کی اختراع شیعیت کو فطری طور پر صہیونی افکار نظریات کے خطوط پر قائم ہونا تھا یہی وجہ ہے شیعیت کے تمام تر عقائد مثلا امامت، بارہ امام، تورات وزبور کی تعلیم کی اتباع وتبلیغ، تابوت سکینہ، بنی اسرائیل کے انبیاء کا ترکہ، اور فدک کا ورثہ، امام مہدی کی رجعت اور تورات کے احکام کی روشنی میں یوم حشر تک دنیا پر حکمرانی وغیرہ صہیونیت سے ماخوذ ہیں۔۔۔

اس تحریر سے واضح ہوجاتا ہے کے شیعیت اور صہونیت میں پائے جانیوالی یکسانیت اور ہم آہنگی اور ایران اور اسرائیل کے مابین پائے جانے والے گہرے روابط اور رشتے عبداللہ بن سبا یہودی منافق کی ماھرانہ منصوبہ بندی کی مرہون منت ہیں۔۔۔

مؤلف
ابو ارقم انصاری

مترجم
محمود احمد
 

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,150
ری ایکشن اسکور
6,344
پوائنٹ
437
تعارف!۔
عہد حاضر میں مسلم ممالک جس اہم مسئلہ سے دو چار ہیں وہ ہے ان کے اپنے درمیان موجودہ دوست اور دشمن میں ادراک کا فقدان یہی وجہ ہے کہ ان کی ہر سیاسی ونظریاتی پالیسی اکثروبیشتر ناکامی کا شکار ہورہی ہے چنانچہ جب تک مسلمانان عالم اپنے درمیان اور اطراف میں رہنے والے دوست ودشمن کی صحیح شناخت نہیں کرتے یہ افسوسناک سلسلہ جاری رہے گا یہ مختصر تحریر ایک محرک اور مؤثر جماعت شیعہ اور شیعہ ریاست ایران، جس نے ابتداء ہی سے خود کو دنیائے اسلام سے منسلک کر رکھا ہے کے مسلک، عقائد اور اعمال کے خدوخال کی وضاحت کرنے اور ناظرین کے لئے غور فکر کا ضرور مواد بہم پہنچانے کے سلسلے میں ایک ادنٰی سی کوشش ہے۔۔۔
 

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,150
ری ایکشن اسکور
6,344
پوائنٹ
437
شیعیت کو عام طور سے اسلام کا ایک فرقہ یا مکتب فکرکہا جاتا رہا ہے اور شیعہ ریاست ایران کو دنیائے اسلام کی ایک اکائی سمجھا جاتا ہے اس انداز فکر کی اور اسرائیل کے درمیان موجود دیرینہ تعلقات اور روابط، یکساں عزائم اور یکجہتی کا بھید خمینی انقلاب کے ساتھ کھل کر سامنے آگیا ہے انقلاب ایران کے فورا بعد ایرانی توسیع پسندی کا آغاز عراق کے خلاف معاندانہ پروپیگنڈہ سے ہوا تمام ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے عراقی عوام کو اپنی حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے لئے دن رات ایک کردیا عراق کے خلاف اس پروپیگنڈہ کا نتیجہ یہ نکلا کے دونوں ریاستیں دست وگریباں ہوگئیں اس تباہ کن جنگ سے ایک بار پھر کہیں زیادہ واضح طور پر ایران اسرائیل دیرینہ گٹھ جوڑ اور عزائم کی قلعی کھل گئی۔۔۔

دنیا جانتی ہے کے خمینی انقلاب سے پہلے شاہ ایران نے کس طرح عرب اسرائیل جنگوں میں اسرائیل کا بالواسطہ ساتھ دیا تھا دوران جنگ شاہ نے نہ صرف یہ کے خلیج میں اسرائیلی تینکروں کو تحفظ فراہم کیا بلکہ بلاروک ٹوک اسرائیل کو تیل کی فراہمی جاری رکھی مسلم دنیا یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئی کہ ایران نے ایک دن کے لئے بھی بطور احتجاج اسرائیل کو تیل کی سپلائی بند نہ کی اس آنکھ کھول دینے والی واقعہ کی آئندہ کسی مرحلہ پر وضاحت کی جائے گی یہاں اس تاریخی واقعہ اور حقیقت کا ذکر محض اس غرض سے کیا گیا ہے تاکہ اندازہ ہوسکے کہ خمینی انقلاب سے کہیں پہلے شاہ کے دور میں ایران اسرائیل تعلقات کس درجہ استوار تھے انقلاب کے بعد تو ان معنی خیز رشتوں میں کئی گناہ اضافہ اور گیرائی پیدا ہوگئی اسرائیل، ایران عراق جنگ کے ابتداء ہی سے خمینی حکومت کی مادی اور اخلاقی امداد جاری رکھے ہوئے ہے۔۔۔

١۔ اسرائیل نے عراق کے ایٹمی ری ایکٹر کی تنصیبات پر براہ راست جارحانہ بمباری کی۔
٢۔ اسرائیل، ایران کو خفیہ طور پر جنگی اسلحہ اور سامان حرب کی سپلائی تسلسل سے جاری رکھے ہوئے ہے۔
٣۔ ایران اور اسرائیل کے مابین اسلحہ کی بہم رسائی کا خفیہ معاہدہ بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں کی رپورٹوں سے منظر آم پر آگیا اور سرکاری ذریعوں سے جن کی تصدیق بھی ہوگئی۔۔۔

ان اطلاعات اور انکشافات میں سے چند خبریں اور ان کی تصدیقی رپورٹیں ذیل میں تاریخ وار درج کی جاتی ہیں۔۔۔

١۔ ٢١ اکتوبر ١٩٨٠ء کو پیرس کے ایک اخبار افریق ایسی نے اپنے ایک مراسلہ نگار کے حوالے سے یہ رپورٹ شائع کی کہ اسرائیلی فوجی اور سویلین ماہرین، ایران عراق جنگ کے تیسرے ہی دن ایران اسٹاف کمانڈر کی مدد کے لئے تہران پہنچ گئے تھے ان اسرائیلی ماہرین کا تعلق خفیہ ادارہ موساد سے ہے۔۔۔

٢۔ ٢ نومبر ١٩٨٠ء کو لندن کے ہفت روزہ آبزرور نے یہ خبر شائع کی کے اسرائیل بحری جہازوں کے ذریعہ جنگی اسلحہ تسلسل سے ایران بھیجا جارہا ہے۔۔۔

٣۔ مورخہ ٣ مومبر ١٩٨٠ء کو مغربی جرمنی کے جریدہ ڈآئی ویلٹ نے لکھا کے اسرائیل نے ایران کو امریکی اسلحہ خصوصا ٤٠ لڑاکا طیاروں کے فالتو پرزے فراہم کئے۔۔۔

٤۔ مورخہ ٢٤ جولائی ١٩٨١ء کو فرانسیسی روزنامہ فگارو نے اطلاع دی کے خمینی کے ایک نمائندے نے لندن میں خفیہ طور پر ایک کمپنی سے رابطہ کیا جو اسرائیل کے لئے کام کرتی رہی ہے۔۔۔

٥۔ مورخہ ٢٤ جولائی ١٩٨١ء کو ارجنٹائن کے دو روزناموں کرونیکا اور لاپرتسا نے تصدیق کی کہ سویت یونین کے علاقہ میں گر کر تباہ ہونے والا ارجنٹائن کا جہاز اسرائیل سے جنگی سامان لے کر ایران جارہا تھا۔۔۔

٦۔ مورخہ ٢٧ جولائی ١٩٨١ء کو مغربی جرمنی کے میگزین ڈرسپاگل نے ایسی ہی ایک اطلاع دی کے خمینی کو اسرائیل کے ایماء پر مختلف یورپی ایجنسیوں کے توسط سے اسلحہ فراہم کیا جارہا ہے۔۔۔

٧۔ مورخہ ٢٨ جولائی ١٩٨١ء کو ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر ہاشم رفسنجانی نے ایران براڈکاسٹنگ کمپنی اور روزنامہ کیہان کو بیان دیتے ہوئے تسلیم کیا اور تصدیق کی کہ تباہ ہونیوالا ارجنٹائن کا مال بردار جہاز جس کا ذکر اوپر میں آچکا ہے اسلحہ لیکر تہران آرہا تھا۔۔۔

٨۔ مورخہ ٢٠ اگست ١٩٨١ء کو ایران کے سابق صدر نے امریکن ٹیلیفون اے بی سی کے پروگرام نائٹ لائن کو یہ بتان دیا کہ انہوں نے اسرائیل سے اسلحہ کی فراہمی کی مخالفت کی تھی اور عراق سے امن کے معاہدہ کی تجویز پیش کی تھی لیکن ایران کے مذہبی حکمرانوں نے ان کی ہر تجاویز مسترد کردی تھیں۔۔۔

٩۔ مورخہ ٢٢ اگست ١٩٨١ء کو ایران کی خبررساں ایجنسی فارس نے ایران کے وزیر خارجہ حسین موسوی کا ایک بیان شائع کیا جس میں انہوں نے سابق صدر کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے وضاحت کی کہ ایرانی حکومت نے جو اسلحہ حاصل کیا تھا وہ اسرائیلی تھا جو یقینا ایران کے صدر اور چیف کمانڈر بنی صدر اور اسرائیل کے مابین کئے گئے معاہدہ ہی کے تحت آیا ہوگا۔۔۔

١٠۔ مورخہ ٣١ اکتوبر ١٩٨١ء کو ارجنٹائن کے ہفت روزہ سیون ڈیز نے چند ایسی اہم دستاویزات شائع کیں جن سے یہ راز آشکار ہوا کے تل ابیت سے تہران بیھجے جانے والے سامان حرب کی ترسیل کا علم امریکہ کو پوری طرح تھا۔۔۔

١١۔ مورخہ ٥ نومبر ١٩٨١ء کو پیرس میں شائع ہونیوالے میگزین ایف ایس ڈی نے یہ خبر شائع کی حالانکہ اسرائیل کے وزیراعظم بیگن عراق کے خلاف خمینی حکومت کی امداد باقاعدگی سے جاری رکھے ہوئے تھے پھر بھی وہ چاہتے تھے کہ اسلحہ فراہمی اور خمینی سے اسرائیل کے تعلقات کو صیغہ راز میں رکھا جائے۔۔۔

١٢۔ مورخہ ٥ دسمبر ١٩٨١ء کو عوامی جمہوریہ آسٹریا کے روزنامہ فاکس بلاٹ نے اس ثبوت میں یہ ایران اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ ہے لکھا مختلف یورپی حکومتوں کے توسط سے خمینی حکومت اور اسرائیل کے درمیان خفیہ رابطہ اور سامان حرب کی مسلسل فراہمی کا نکشاف کیا۔۔۔

١٣۔ مورخہ یکم جنوری ٨٣ء کو برطانوی ٹیلفون پروگرام پنوراما میں اسرائیل سے ایران کو اسلحہ کی فراہمی کے سلسلے میں کئے گئے معاہدوں اور مذاکرات کی سنسنی خیر تفصیلات نشر کی گئیں۔۔۔

١٤۔ مورخہ ٨ فروری ١٩٨٢ء کو امریکہ کے اسٹیٹ سکریٹری آف اسٹیٹ برائے مشرقی وسطٰی نیکولس اے فلیوٹس نے امریکی ایوان نمائندگان کی مشرقی وسطٰی سے متعلق کمیٹی کے سامنے اپنی تقریر میں ایران اسرائیل تعلقات اور اشتراک کی تصدیق کی ساتھ ہی اس امر کا بھی انکشاف کیا کہ امریکہ نے بیگن سے ایران کو اسرائیلی اسلحہ کی ترسیل کے مسئلہ پر مذاکرات بھی کئے تھے۔۔۔

یہ چند اطلاعات اور ان کی تصدیق جو بین الاقوامی اخبارات وجرائد میں شائع ہوئیں نہ صرف ایران، اسرائیل تعلقات کا پتہ دیتی ہیں بلکہ اس بات کی غمازی بھی کرتی ہیں کے مشرق وسطی کے مسلم ممالک کے خلاف دونوں کے عزائم اورمقاصد میں یک جہتی اور ہم آہنگی موجود ہے فی الحال ان کا ہدف عراق ہے ساتھ ہی اسرائیل ایران مشترکہ محاذ، بتدریج عالم اسلام کے دوسرے ممالک میں جگہ بنارہا ہے مسلمانوں کے خلاف ان کی مشترکہ سازش اور اس سے پیدہ شدہ خطرناک اثرات کا بہتر طور پر اندازہ لگانے کے لئے حال ہی کی ایک مثال زیادہ معاون اور مؤثر ثابت ہوگی۔۔۔

ہر ایک کے علم میں ہے کہ اسلام کے نام پر ایران میں انقلاب کا عمل پورا کرنے کے بعد آیت اللہ خمینی نے ببانگ دُہل خود کو عالم اسلام کا بلاشریک غیرے ورحانی ودنیوی پیشوا ہونے کا دعوٰی شروع کردیا ہے ایک موقع پر تو ان کی شیعی حکومت نے یہ دعوٰی کیا کہ اسلام کی خاطر اس نے اپنے فوجی دستے لبنان میں اُن مسلم فلسطینیوں کی امداد کے لئے بھیجدئے ہیں جو اسرائیل اور اس کے ایجنٹوں کے ہاتھوں قتل وغارت کا شکار ہیں لیکن جب اصلیت منظر عام پر آئی تو ایرانی دعوٰی کی قلعی کھل گئی کیونکہ یہ شیعہ فوجی دستے درحقیقت یہودیوں اور عیسائی ملیشیاء کے اشتراک سے مسلمانوں کا قتل عام کرتے رہے ہیں ساری دنیا کو علم ہوچکا ہے کے صابرہ اور شطیلہ کے فلسطینی کیمپوں میں مسلمانوں کے خون سے جو ہولی کھیلی گئی اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔۔۔

بین الاقوامی ہفتہ روزہ نیوزویک نے اپنی ٤ اکتوبر ١٩٨٢ء کی اشاعت میں صفحہ ٩ پر اس وحشیانہ قتل عام کی تفصیل شائع کی ہے اس چونکا دینے والی رپورٹ کا ماخذ وہ عینی شاہد تھے جو ان غیر ملکی میڈیکل مشنوں میں شامل تھے جو صابرہ اور شطیلہ کے فلسطینی کیمپوں میں طبی امداد فراہم کرنے پر مامور تھے نیوزویک کی اس مصدقہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ قتل عام میجر حداد کی عیسائی ملیشیاء نے اسرائیلی فوجوں کی مدد سے کیا اور یہ کہ عیسائی ملیشیاء کی دو تہائی نفری شیعہ فوجیوں پر مشتمل تھی جسے اسرائیل فوجیوں کی عملی اعانت حاصل تھی اس طرح شیعہ فورسسز جسے خمینی حکومت نے فلسطینیوں کی امداد کے لئے بھیجنے کا دعوٰی کیا تھا اصل میں مسلمانوں (اہلسنہ) کو تباہ کرنے میں برابر اسرائیل کا ہاتھ بٹاتی رہی اس طرح ستمبر ١٩٨٢ء میں وہ شیطانی منصوبہ منظر عام پر آگیا جس کے تحت صابرہ اور شطیلہ کے کیمپوں میں فلنجسٹ، عیسائیوں، یہودیوں اور شیعوں کی مشترکہ کمان میں یکجا ہوکر مسلمانوں کے بھیانک قتل عام کا ارتکاب کیا تھا اور آج تک یہ عمل جاری ہے ان تین اتحادیوں نے نہ تو اس رپورٹ کی تردید کی اور نہ ہی اس قتل عام کی ذمہ داری قبول کی خمینی خود ساختہ پیشوائے اسلام کو تو اتنی اخلاقی جرآت بھی نہ وہئی کے اس نے اسلام دشمن اور مسلم کش کاروائی میں اپنی شیعہ عمل ملیشیاء کے ملوث ہونے کے الزام کی زبانی تردید ہی کی ہو اس امر کا ذکر بے محل نہ ہوگا کے ستمبر ١٩٨٣ء کے اس تاریخی اور لرزہ خیز سانحہ سے پی ایل اور کے سربراہ یاسر عرفات کو خمینی کے اصل روپ کو پہچاننے میں مدد ملی اور اس واقعہ سے جونہی ان کو اسلامی طاقتوں کے خلاف ایران اسرائیل کے گٹھ جوڑ کا یقین ہوگیا تو یاسرعرفات نے نام نہاد اسلامی مملکت ایران سے اپنے ہر طرح کے تعلقات ختم کرلئے شاہ کے دور میں ایران اسرائیل تعلقات جوباہمی اشتراک مقاصد کی بنیاد پر استوار ہوئے تھے بتدریج فروغ پاکر انقلابی دور میں مضبوط تر ہوگئے دوسرے الفاظ میں یوں سمجھیئے کے ایرانی انقلاب دراصل ماضی کے شیعہ یہودی باہمی رشتوں کی ایک حقیقی اور مثالی تجدیدی شکل ہے۔۔۔

صابرہ اور سطیلہ پر شیعہ عمل ملیشیاء کے دوبارہ حملوں اور قتل وغارت کا بھی یہی مقصد تھا اور مارچ اپریل ١٩٨٦ء میں عمل ملیشیاء کا حالیہ حملہ لبنان میں فلسطینی مسلمانوں کی مدافعانہ جنگی طاقت کو یکسر ختم کرنے کے ارادہ سے کیا گیا ہے تاکہ لبنان میں یہودی، عیسائی اور شیعہ کی متحدہ حکومت کا قیام ممکن ہوسکے۔۔۔

دوسری جانب ایران کے چھ صوبوں، کردستان، بلوچستان، آذربائجان، بندرعباس خوزستان اورہرمزگان جہاں مسلمان اہلسنہ کی اکثریت ہے میں مسلمانوں پر دن رات کے قتل وغارت اور مظالم کے واقعات، خمینی اور ان کے نام نہاد اسلامی مملکت ایران کے دعوؤں کے جھوٹ کا منہ چڑاتے ہیں اس ایرانی وفد کے سرکاری اعلان کے مطابق جس نے ١٩٨٣ء کے اوائل میں پاکستان کا دورہ کیا تھا ایران میں مسلمان اہلسنہ کی آبادی کا چالیس فیصد ہے (بحوالہ روزنامہ جسارت کراچی مورخہ ٩ فرورہ ١٩٨٣ء)۔۔۔
 

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,150
ری ایکشن اسکور
6,344
پوائنٹ
437
خمینی برانڈ چھاپ کی اسلامی حکومت نے ان مسلمانوں کے خلاف ذیل کے غیر اسلامی اقدامات کئے ہیں۔۔۔

خمینی برانڈ چھاپ کی اسلامی حکومت نے ان مسلمانوں کے خلاف ذیل کے غیر اسلامی اقدامات کئے ہیں۔۔۔

١۔ ایرانی دستور کے دفعہ ١٢ اسلام کی بجائے ریاست کے مذہب کوشیعیت سے مشروط وہ مخصوص کرتی ہے اور ایرانی اہلیان اسلام اہل السنہ کو دوسری نسلی اور مذہبی اقلیتوں کی طرح سمجھتی ہے۔۔۔

٢۔ کوئی مسلم اہل السنہ ریاست کے ٢٣ صوبوں میں سے کسی ایک میں بھی (حالانکہ چھ صوبے مسلم اکثریت کے ہیں) کبھی گورنر مقرر نہیں کیا گیا۔۔۔

٣۔ مسلمانوں (اہلسنہ) کو اجازت نہیں کہ وہ اپنی الگ مسجد تعمیر کرسکیں یہاں تک کے تہران میں جو ایران کا سب سے بڑا شہر ہے آج بھی وہاں مسلمانوں کی کوئی اپنی مسجد نہیں۔۔۔
٤۔ مسلمان (اہلسنہ) کو کابینہ اور ایرانی پارلیمنٹ میں کوئی نمائندگی نہیں دیگئی۔۔۔

یہ مختصر کوائف اسلام اور مسلمانوں کے خلاف خمینی کی شیعہ حکومت کے دیدہ و دانستہ معاندانہ رویے کو سمجھنے کے لئے کافی ہیں یہ اقدامات نہ صڑف یہ کہ غیر اسلامی ہیں بلکہ صرایحا اسلام دشمنی کے مترادف ہیں مذہبی تعصب سے ہٹ کر موجودہ ایرانی حکومت میں انسن دوستی کا بھی بڑا فقدان ہے کیونکہ اس نے اپنی چالیس فیصدی آبادی (اہلسنہ) کو نہ صرف ان کے بنیادی حقوق سے محروم کررکھا ہے بلکہ ان کے اکثریتی صوبوں میں قتل وغارت گری کا بازار گرم کر رکھا ہے۔۔۔

متذکرہ مختصر حقائق اور واقعات نجات، دہندہ اور ربانی اسلامی مملکت ایران کے کارہائے نمایاں کی محض ایک جھلک ہے یہ انکشافات ان لوگوں کے لئے جو خمینی انقلاب کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں آنکھ کھولنے کے لئے مواد بہم پہنچاتے ہیں۔۔۔
 

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,150
ری ایکشن اسکور
6,344
پوائنٹ
437
ایران کا شاہی دور!۔

ایران کا شاہی دور!۔
آئیے شاہ ایران کے دور پر سرسری نگاہ ڈالنے کے لئے تاریخ کے چند اوراق پلٹتے ہیں ہاد ہوگا کے اکتوبر ١٩٧١ء میں ایرانی شہنشاہیت کی ڈھائی ہزار سالہ تقریب (یوم سائرس) ایران اور اسرائیل نے بیک وقت منائیں سائرش (دارا) شہنشاہ ایران نے اسی مہنہ میں کوئی ڈھائی ہزار سال قبل بابل کے یہودیوں کو آزادی دلائی تھی اس سلسلہ میں جیوش کرانکل میں طبع شدہ ایک اقتباس، بیسویں صدی میں ایران اسرائیل تعلقات کے پس منظر پر روشنی ڈالتا ہے جو دونوں کے درمیان صدیوں سے موجود ہے۔۔۔

اسرائیل کا منصوبہ ہے کے ایران کی طرح ایرانی شہنشاہیت کی ڈھائی ہزار سالہ تقاریب بیک وقت اسرائیل میں بھی منعقد کی جائیں ان تقاریب کے موقع پر رائشونگ ژیوان کی بستی کو ایرانی یہودیوں سے معنون کرکے ایرانی شہنشاہ سائرش کے نام سے منسوب کر دیا جائے جس نے اپنے دور اقتدار میں بابل میں پھنسے ہوئے یہودیوں کو غدرا اور نہمیہ کی سرکردگی میں فلسطین جانے کی اجازت دی تھی سائرس سے منسوب اس بستی کی ایک سڑک کا نام شاہ ایران کے اعزاز میں شارع رضا شاہ پہلوی رکھا جائے گا (جیوش کرانکل ١٠ ستمبر ١٩٧١)۔۔۔

ڈھائی ہزار سالہ ایرانی شہنشاہیت کی تقاریب کا منصوبہ اور پروگرام جسے ایران اور اسرائیل نے باہمی اشتراک سے بنایا تھا بعد میں اسی منصوبہ پر عمل کرتے ہوئے اپنی جگہ بیک وقت جشن منایا اس سے ان کے یکسان مزاج اور مفاد کا اندازہ ہوتا ہے اس صورت میں جب مصلحت آمیز تعلقات کو عملی جامہ پہنا کر سیاسی رنگ دیدیا جائے تو ان کے غیر معمولی گٹھ جوڑ کا بھید پوری طرح کھل جاتا ہے چنانچہ اس پر عمل کرتے ہوئے ١٩٧٣ء میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جن عسکری معاملات میں سیاسی طور پر عملدرآمد کیا گیا وہ درج ذیل ہیں۔۔۔

سینکڑوں ایرانی افسران اعلٰی تربیت کے لئے اسرائیل بھیجے گئے ہیں اور تہران، یروشلم اور واشنگٹن نے مل کر پورے مشرق وسطٰی میں جنگی راز کے حصول اور باہم دگر بہم رسانی کا مؤثر جال بجھا دیا ہے تہران یروشلم باہمی روابط اور تعاون کا ایک ثبوت اس بات سے ملتا ہے کہ فی الوقت اسرائیل اپنی تیل کی ضروریات کا بیشتر حصہ ایران سے حاصل کرتا ہے جب کے ایران خلیج میں اسرائیلی ٹینکوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے (نیوزویک مورخہ ٢١ مئی ١٩٧٣)۔۔۔

متذکرہ بالا اقتباس گو تشریح طلب نہیں پھر بھی اس سلسلہ میں وضاحت کی ضرورت ہے اول یہ کے تہران، یروشلم اور واشنگٹن کے درمیان باہمی روابط کا جو حوالہ نیوزویک میں اوپر آیا ہے اس کا تعلق درحقیقت امریکہ کی بدنام زمانہ سی آئی اے سے ہے اب یہ راز طشت ازبام ہوچکا ہے کے سی آئی اے مشرقی وسطٰی میں کس طرح اور کس کے خلاف کام کرتی ہے مصدقہ دستاویزی مواد سے بھری ہوئی کتاب “گیم آف نیشنز“ ٰ(مصنفہ مائیلزکوپ لینڈ) اور بہت سی دوسری کتابیں جیسے انونسیبل گورنمنٹ اور سی آئی اے نے امریکی جاسوسی ادارہ سی آئی اے کے طریقہ کار کو منظر عام لاکر اس ایجنسی کی پراسرار کاروائیوں کا پردھ چاک کیا ہے یہ ادارہ مٹھی بھر لیکن انتہائی بااثر یہودیوں کے کنٹرول میں ہے جو اسے اندرون وبیرون ملک جس طرح چاہتے ہیں اپنے مفاد میں چلات ہیں یہودی ہاتھوں میں ہونے ناطے سے سی آئی اے کا مقدم اور اہم ترین ہدف ابتداء ہی سے دنیائے اسلام رہاہے اور آج بھی اس کی نظروں میں اسی کو اولیت حاصل ہے۔۔۔

دوئم یہ کہ مذکورہ رپورٹ اسرائیل کو ایرانی تیل کی سپلائی اور ایران کا خلیج میں اسرائیلی ٹینکروں کی حفاظت، عوامل کے حوالہ سے بلاوضاحت ادھوری رہ جاتی ہے اس ضمن میں قابل ذکر بات یہ ہے کے اسرائیل کو ایرانی تیل کی بلارکاوٹ اور مسلسل ترسیل جنگ عرب کے دوران بھی جاری وساری رہی اس طرح شاہ ایران نے بجائے اس کے کہ اسرائیل کو جو عرب مسلمانوں کے خلاف برسرجنگ تھا علامتی احتجاج کے طور پر ہی جنگ کے دنوں میں تیل کی سپلائی روک دینا الٹا مشرق وسطی کے مسلمانوں کیخلاف اسرائیل کا حمایتی بننے کو ترجیح دی۔۔۔

خمینی کے موجودہ دور میں اسرئیل نے نہ صرف یہ کہ ایران کو اسلحہ کی سپلائی کرکے ایران عراق جنگ میں اس کی حمایت کی بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر عراق کی ایٹمی تنصیبات کو بمباری کرکے تباہ کردیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاہ کے عہد سے لیکر خمینی دور تک ایران، اسرائیل اشتراک اور روابط فروغ پاکر باقاعدہ ایک خطرناک مہم جوہانہ اتحاد کی شکل اختیار کرچکے ہیں جس کا مشترکہ مقصد مشرق وسطٰی پر غلبہ حاصل کرنا ہے۔۔۔

سوئم یہ کہ پرشیئن گلف جس کا ذکر نیوز ویک میں آیا ہے ایک متنازعہ اصطلاح ہے ایران یہ گوارہ نہیں کرتا کے کوئی ملک اس کو عربین گلف (خلیج عرب) کا نام دے ایرانی زعماء مصر ہیں کے اس کو پرشیئن گلف کا نام دیا جائے ایران کا یہ غیرضروری اصرار عربوں سے اس کی شدید نفرت کی غمازی کرتا ہے خلیجی علاقہ میں مسلمان اپنی کثرت تعداد کے سبب ممتاز اور نمایاں مقام رکھتے ہیں اور انہی عربوں کے ہاتھوں ماضی میں مجوسی ایران پر اسلام کا پرچم لہرایا تھا عہد ماضی میں ایران پر مسلمانوں کا تسلط حاصل کرنا، ایرانیوں کے دل میں آج بھی نفرت کا کبھی نہ بجھنے والا آتشکدہ بھڑکائے ہوئے ہے ماضی میں مسلمانوں کایہ اقدام (فتح ایران) ایران کی نظر میں آج بھی ناقابل فراموش اور ناقابل معافی ہے۔۔۔

شاہ کے عہد میں جنگی نوعیت کے راز فراہم کرنے کا جس تین طرقہ خفیہ نظام کا ذکر نیوزویک رپورٹ میں آیا ہے اور جس کی شاہ ایران نے سرکاری طور پر ١٩٧٣ء میں خود یوں تصدیق کی تھی۔۔۔

شاہ نے سی بی ایس کے نامہ نگار کو بتایا کہ امریکہ یا سی آئی اے سے ایران کے اشتراک کو نوعیت محض باہم دگر اطلاعات کا تبادلہ کرنا ہے (امپیکٹ انٹرنشنل صفحہ ٦مارچ ١٩٧٥)۔۔۔

شاہ ایران کے اس مختصر بیان کے پیچھے ایرانی ارادوں اور عزائم کی ایک داستان پوشیدہ ہے اس بیان سے نہ صرف ایران، اسرائیل، اور سی آئی اے کے درمیان مشترکہ مقاصد اور عمل میں یکسانیت اور ہم آہنگی کی نشاندہی ہوتی ہے بلکہ اس مثلث کے مابین خفیہ بندوبست اور کاروائیوں کی تصدیق بھی ہوتی ہے جو اوپر نیوز ویک رپورٹ سے ظاہر ہوئی دراصل شیعہ ریاست کے سربراہ کی طرف سے دئے گئے سرکاری بیان سے پہلی بار شیعیت کے عملی سیاست میں ملوث ہونے کا راز دنیا پر کھلا لیکن شیعیت کے مسلم کش سیاسی کردار کا بھانڈا (جیسا کے اوپر بیان ہوا) پوری طرح خمینی کے ہاتھوں پھوٹا۔۔۔
 

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,150
ری ایکشن اسکور
6,344
پوائنٹ
437
عہد حاضر کا ایران ماضی کے پس منظر میں!۔

عہد حاضر کا ایران ماضی کے پس منظر میں!۔
سطور بالا میں جو حقائق اور کوائف بیان کئے گئے ہیں ان سے یقین راسخ ہوجاتا ہے کہ کس طرح موجودہ ایرانی حکمت عملی کی جڑیں تاریخ میں دور تک پھیلی ہوئیہ یں دراصل خمینی کی سربراہی میں آج کے اریان کا کردار اس فعال اور سیاسی شیعیت کی انتہائی شکل ہے جس کی ابتداء منافق یہودی عبداللہ بن سبا کے ہاتھوں پہلی صدی ہجری کے اوائل میں ہوئی تھی بتابرین شیعیت نہ صرف یہ کہ صہیونیت کی کوکھ سے پیدا ہوئی بلکہ اس کی تخلیق کا مقصد ہی اسلام کے خلاف ایک گھناؤنی سازش تھا امام مالک رحمہ اللہ علیہ نے جو کہ اسلام کے ابتدائی دور میں بہت بڑے عالم، محدث وفقیہہ ہوئے ہیں آج سے کوئی چودہ سو سال قبل اس طرح فرمایا تھا۔۔۔

علمائے اسلام شیعیت کو اسلام کے خلاف ایک سازش سمجھتے ہیں (منہاج السنہ جلد ٤ علامہ ابن تیمیہ)۔۔۔

آج سے تقریبا سات سو سال قبل امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے جو دینی علوم کے مستند شیخ اور محدث تھے شیعیت کے سیاسی اور نظریاتی اجزائے ترکیبی کا اپنی تصنیف منہاج السنہ کی چار جلدوں میں محققانہ اور مدلل تجزیہ کرتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں یہ حقیقیت واشگاف کی ہے کے کس طرح اہل تشیع نے اسلامی تاریخ کے ہر موڑ اور ہر دور میں اسلام دشمن طاقتوں سے سازباز کر کے اسلامی ریاست کے خلاف منافقانہ کردار ادا کیا ہے اور اس طرح کی فریب کاری کی امام ابن تیمیہ کی تحقیق سے معلومات کا نچوڑ حسب ذیل ہے۔۔۔

مختصر یہ کے جہاں تک اسلام کا تعلق ہے اس کی تاریخ میں شیعیت ایک سیاہ ترین بدنما داغ سے زیادہ کوئی مقام نہیں رکھتا۔ منہاج السنہ جلد ٤)۔۔۔

شیعیت کے متعلق ان دو جلیل القدر اور پائے کے علماء کا یہ اہم اور پر معنی تجزیہ نہ صرف مسلم اُمہ کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے بلکہ لمحہ فکریہ بھی ہے اسلام کی تمام تر تاریخ ان جلیل القدر آئمہ کے مشاہدات کی صداقت پر مہر تصدیق ثبت کرتی ہے آیئے یاداشت کو تازہ رکھنے کے ماضی پر نظر ڈالیں اور تصور میں ماضی کے چند تاریخی واقعات کا نقشہ کھینچیں اختصار کی خاطر اسلامی تاریخ کے تین واضح اور اہم ادوار سے نظریں پیش کرنا کافی ہوگا۔۔۔

اسلام کا ابتدائی دور
اسلامی کا عہد وسطی
اسلام چودھویں صدی کے آخر میں
 

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,150
ری ایکشن اسکور
6,344
پوائنٹ
437
١۔ اسلام کا ابتدائی دو ر(پہلی صدی ہجری)۔۔۔

۔ اسلام کا ابتدائی دور (پہلی صدی ہجری)۔۔۔
شیعیت پر اسلام کے دو ارفع مقام رکھنے والے علماء ومعتمد محدثین (امام مالک اور امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ) کے اوپر کے تبصرے ہیں اس فتنہ کی یاد دلاتے ہیں جو خلیفہ ثالت وراشد سیدنا عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کے عہد میں مدینہ کی پہلی اسلامی ریاست کے خلاف برپا کیا گیا یہ دور تھا جب شمع اسلام کی ضیاء ہر چہار طرف صنوفشانی کررہی تھی اور اسلامی ریاست تیزی سے ہر چہار طرف پھیل رہی تھی دبدبہ اسلام اور اسلامی ریاست کی وسعت اور اس کا فروغ تمام اسلام دشمن عناصر بالخصوص یہودیوں کے لئے ناقابل برداشت تھا قرآنی ارشادات کے مطابق یہودی خصلتا بدترین منافق رہے ہیں جس کی دنیا میں مثال نہیں ملتی اس پس منظر میں صہیونی دماغ نے عہد عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ میں خلافت راشدہ کے خلاف ایک سازش کی داغ بیل ڈالی اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تمام اسلام دشمن عناصر مشترکہ مقصد کے تحت ایک پلیٹ فارم پر منظم کیا جس کا خفیہ مشن ابتداء میں مسلمانوں کی صفوں میں بدگمانیوں اور نفاق کا بیچ بونا تھا تاکہ ملت اسلامی جو دشمنوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحددومتفق تھی بتدریج تفرقہ کا شکار ہوکر پارہ پارہ ہوجائے۔۔۔

اور انجام کار منتشر ہوکر فنا کی گھاٹ اترجائے اس منصوبہ پر عملدرآمد کی ابتداء ایک ایسے عیار ومکار یہودی کی سرکردگی میں کی گئی جس نے ظاہرا اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا شیطان لعین کے اس چیلے کو تاریخ عبداللہ بن سبا کے نام سے پکارتی ہے ابتدائے میں یہ فتین شیخص اپنے یہودی ٹولے کے ساتھ حلقہ اسلام میں داخل ہوا تاکہ اندر رہ کر مسلمانوں کے درمیان نفاق کا بیج بوسکے اور اسلامی عقائد و افکار کو مشکوک بنا کر مسخ کرسکے چنانچہ اس گروہ نے اپنے کو شیعہ علی کہنا شروع کیا اور منافقین اور ضعیف العقیدہ نو مسلموں کو اپنے گرد اکٹھا کیا۔۔۔

چنانچہ اس طرح شیعیت نے شیعان علی کے روپ میں اُمت مسلمہ میں ایک یہودی کی کوکھ سے جنم لیا شیعیت کے روپ میں بتدریج اور ثابت قدمی کے ساتھ دھوکہ دو اور نفاق ڈالو کا صہیونی منصوبہ پروان چڑھتا رہا یہاں تک کے شیعیت کے نعرون کے سہارے یہ یہودی ٹولہ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کے خلاف افتراء اور تہمت تراشی کا جال بجھا کر اُمت مسلمہ میں داخلی اختلاف پیدا کرنے میں کامیاب ہوگیا اور بعد مین ایک منظم کاروائی کے ذریعہ آپ کو شہید کرادیا شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد ہونے والے دوسرے خلیفہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اس فتنے کو دبانے اور حالات پر قابو پانے کی تمام تر کوششیش رائیگاں گئیں اور شیعیت اپنی چالوں اور فریب کاریوں سے جنگ جمل اور صفین میں باہم دگر وصٍ آراء کر کے مزید ایک انتہارئی افسوسناک صورت حال پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئی یہ وہ پہلی پسپائی اور کاری ضرب ہے جو اسلامی معاشرہ اور نظام کو یہودی شیعہ گٹھ جوڑ کے ہاتھون ٹھانی پڑی اس المناک واقعہ کے متعدد شہادتیں تاریخ میں ملتی ہیں شاہ عبدالعزیز کا تبصرہ بطور نمونہ پیش ہے۔۔۔

حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلاف راشدہ کے دوران اسلام دشمن عناصر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ظاہرا دائرہ اسلام میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا تاکہ اندرون رہ کر اسلام کو نقصان پہنچائین اس کی اقدار کو مسک کریں اور پھر اسے نیست ونابود کردیں انہون نے شیعہ علی کا لقب اختیار کر کے اہل ایمان کی صفوں میں نفاق اور نفرت کا بیج بویا شیعہ علی کے اس گروہ کا بانی اور سرخیل عبداللہ بن سبا یمن کا ایک یہودی تھا جس نے شیعیت کے نام سے ایک الگ مسلک قائم کیا (شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی تحفہ اثناء عشریہ باب اول)۔۔۔

اس طرح ایک اسلام دشمن گروہ وجود میں آیا جس کے عزائم اور مقاصد کم وبیش آئندہ بھی وہی رہے اور شیعیت بعد میں سبائی منصوبون پر عمل پیرا رہی تاکہ پھلتے پھولتے صحتمند اسلامی معاشرہ کے ڈھانچہ کو منہدم کیا جاسکتے اسلام کے یہ پیدائشی دشمن اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے کے مسلمان کی حاکمیت اور غلبہ کا اصل محرک شیطانی قوتوں کے خلاف ان کا جذبہ جہاد ہے اس لئے شیعیت کی تمامتر کوششیش ہمیشہ یہ ہی رہیا کے جس طرح بھی ممکن ہو اسلامی جہاد کا رخ خارجی محاذ سے ہٹا کر داخلی محاذ آرائی اور قتل و جدال کی طرف موڑ دیا جائے دنیائے اسلام کو چاہئے کہ شیعیت (صیہونیت کی ذیلی پیداوار) کی اس خطرناک چال اور اس کی سنگینی کا جسقدر جلد ممکن ہو احساس کرلے اسی میں اس کی بہتری ہے۔۔۔

اسلام کا عہد وسطی (ساتویں صدی ہجری)۔
خلافت راشدہ کے دور میں تباہی وبربادی پھیلانے کے بعد نوزائیدہ شیعیت نے خلیفہ وقت کے اقتدار اعلٰی اور مسلمانوں کے روحانی اور سیاسی مرکز دمشق و بغداد کے خلاف اپنی گھناونی چالوں اور تخریبی کاروائیوں کو جاری رکھا لیکن شیعیت کیطرف سے برپاکردہ ہر طرح کی بغاوتوں، شازشوں اور خروج سے گزر کر مسلمانوں کی مرکزیت اور خلافت آئندہ چھ سو سال تک (نویں صدی ہجری کے نصف تک) مضبوطی سے قائم ودائم رہی پھر اچانک اس پر آفت ٹوٹی مسلم خلیفہ کے پایہ تخت بغداد عظمٰی میں خون کی ہولی کھیلی گئی اس طرح اسلام کے عہد وسطٰی میں سقوط بغداد کی المناک کہانی ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے تاکہ اس سے سبق حاصل کیا جاسکے۔۔۔

٦٦٥ھ میں عروس البلاد، اسلامی دنیا کا دل اور ساری دنیا کے لئے علم وفن کا گہوارہ تھا یہ شہر اپنے لاتعداد کتب خانوں، مدرسوں اور دارالعلوموں کے لئے ساری دنیا میں مشہور ومعروف تھا دنیا کی عظیم ترین یونیورسٹی بغداد میں قائم تھی جو اپنے شہرہ آفاق فلسفہ، مورخین، ریاضی دانوں اور دیگر علوم وفنون کے ماہر اساتذہ کی وجہ سے عالمی شہریت رکھتی تھی بالفاظ دیگر مسلمانوں کا یہ مرکز خلافت باقی دنیا کو علم وعرفان کی روشنی سے منور کررہا تھا بنوعباس کے دور میں یہ مرکز ہر اعتبار سے دنیائے اسلام کی راہبری کا حق اتنے احسن طریق سے ادا کریگا یہ بات مسلم معاشرے میں رہنے بسنے والے اسلام دشمن عناصر (شیعہ) کے وہم وگمان میں بھی نہ تھی مسلمانوں کی یہ خوشحالی ترقی، دبدبہ اور اقتدار ان کو ایک آنکھ نہ بھایا۔۔۔ اور انہوں نے اسے تباہ کرنے کی ٹھانی اس بار انہوں نے ایک نرالا طریقہ کار اپنایا انہوں نے اپنے دو انتہائی بااعتماد مخلص اور باصلاحیت کارکنوں کی تربیت اس نہج پر کرنا شروع کی کہ آئندہ وہ دو مختلف حکمرانوں کے دربار میں رسائی حاصل کر کے کسی نہ کسی طرح ان کی ناک کا بال بن جائیں ان دونوں تربیت یافتہ افراد میں سے ایک محمد بن احمد علقمی جوڑ توڑ خوشامد اور فراست سے کام لے کر عباسی خلیفہ متعصم باللہ کا وزیر خاص بن بیٹھا اور دوسرا شیعہ کارکن نصیر الدین طوسی مسلمانوں کا بدترین دشمن منگول حکمران ہلاکو خان کے دربار میں رسائی حاصل کرنے کے بعد اس کا معتمد خاص مشیر بننے میں کامیاب ہوگیا۔۔۔

یہ دونوں عیار سازشی (ابن علقمی اور طوسی) سوچے سمجھے منصوبوں کے مطابق اپنے اپنے حلقے کار میں ایک ہی مقصد کے حصول کے لئے اپنے معینہ کردار ادا کرتے رہے دونوں کے سامنے واحد نصب العین دنیا کے سب سے زیادہ محرک طاقتور اور مستحکم سلاطین خاندان عباسیہ کو بیرونی طاقتور اور مستحکم سلاطین خاندان عباسیہ کو بیرونی طاقت کے ذریعہ نیست ونابود کرنا تھا اس میں کوئی شک نہیں کہ شیعی مدبروں نے انتہائی غور وخوض کے بعد اس گھناؤنے منصوبے کو ایسے ماہرانہ انداز میں مرتب ومکمل کیا تھا کے ہر دو جانب سے ناکامی کا کوئی امکان ہی باقی نہ رہے آخر کار اس منصوبہ پر مرحلہ وار عملدرآمد کا آغاز ہوا۔۔۔

خلافت بنوعباس کا وزیر خاص مقرر کئے جانے کے بعد ابن علقمی انتہائی تبدہی اور ریاضت وفراست سے اپنے فرائض منصبی ادا کرتا رہا یہاں تک کہ اس نے خلیفہ کا اعتماد حاصل کر لیا اور جب اس کی طرف سے خلیفہ کا اعتماد پوری طرح بحال ہوگیا تو اس نے اپنے منصوبے پر عمل کا آغاز کردیا ابتداء میں اس نے خلیفہ کو اتنی کثیر فوج پر ہونے والے اخراجات کو ریاست کے خزانے پر ایک زبردست بوجھ ہونے کا احساس دلایا اور مشورہ دیا کہ فوج حربی طاقت اور نفری کو کم کرا کے خلیفہ عباسیہ اور مسلم ریاست کی طاقت کو کمزور کرنے میں کامیاب ہوگیا تو اس نے ہلاکو کو بغداد پر حملے کی دعوت دی تاکہ وہ اس عظیم مسلم مملکت کو تہہ وبالا کرکے اسلامی خلافت کو صفحہ ہستی سے مٹادے دوسری طرف نصیر الدین طوسی (ہلاکو کا مشیر خاص) نے منگول خاقان کو اسلام کے مرکز اور خلافت کے پایہ تخت پر حملہ کرنے پر اکسایا چنانچہ ٦٢٥ھ میں تحریک شیعیت نے اپنے تیارہ کردہ شاہکار منصوبے پر چنگیزخان کے پوتے ہلاکوخان کے ہاتھوں عمل کرایا جس کے نتیجہ میں نہ صرف یہ کے تایخ کا سب سے بڑی طاقت مسلم ریاست جڑ سے اکھاڑ پھینکی گئی بلکہ لاکھوں مسلمانوں کا خون ناحق ہوا مختصر یہ کے مرکز اسلام کو اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی چکی کے دو پاٹوں کے درمیان لاکر برُی طرح پیس دیا گیا اور مسلم تہذیب وتمدن جو ساتویں صدی ہجری میں اپنے عروج پر تھی تہس نہس ہوگئی سقوط بغداد اور مسلم عوام کا قتل عام اسلامی تاریخ کا ایک عظیم المیہ ہے جس پر امت مسلمہ ہمیشہ آنسو بہاتی رہے گی۔۔۔

مؤرخین نے عظیم بغداد کی تباہی پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے یہاں ہم تاریخ سے صرف چند ایسے حقائق اور شواہد کا حوالہ دیں گے جن سے عیار شیعہ کے ہاتھوں ماضی میں کئے گئے جرائم میں سے سب سے زیادہ گھاؤنے جرم کی یاد تازہ ہوسکے مورخین کی معلومات کے چند ایسے اقتباسات ذیل میں درج کئے جارہے ہیں جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی کہ شیعیت اور شیعہ جو بلاشبہ صیہونیت کی پیداوار ہیں ہمیشہ اور ہردور میں مسلم عوام اور اسلامی اقدار اور اداروں کی تباہی کا سبب بنتے رہے ہیں۔۔۔

١۔ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ تعالٰی علیہ نے اپنی تصنیف “تاریخ الخلفاء“ میں تحریک شیعیت کے خصوصی طریقہ کار جس پر ابن علقمی نے عملدرآمد کیا پر یوں تبصرہ کیا ہے۔۔۔

مستعصم (عباسی خلیفہ) اپنے وزیر ابن علقمی پر مکمل اعتماد رکھتا تھا جب کے ابن علقمی خلیفہ کے ان دشمنوں اور غداروں سے ساز باز رکھتا تھا جو خلیفہ کے دشمن تھے۔۔۔ وہ خلیفہ کو ہر معاملہ میں اس وقت تک فریب دیتا رہا جب تک وہ خلیفہ فنا کے گھاٹ نہ اتر گیا وہ خلیفہ کے دشمنوں کے لئے کام کرتا تھا اور ان کی کامیابی کا متمنی تھا (سیوطی رحمہ اللہ علیہ تاریخ الخلفاء صفحہ ٤١٦)۔۔۔

ابن علقمی نے سپاہ بغداد کی نفری اور حربی قوت کو بڑی حد تک کم کرکے کمزور کردیا تھا اور جب ہلاکو نے ذی الحجہ ٦٥٥ھ میں بغداد پر فوج کشی کی تو بچی کچی مسلم سپاہ نے دشمنوں کا مدافعانہ مقابلہ کیا لیکن شکست کھائی (مقدمہ ابن خلدون جلد ٣)۔۔۔

٢۔ ابن علقمی کی سازش اور دوغلے پن کا ثبوت حسب ذیل اقتباسات سے بھی ملتا ہے۔۔
مملکت کی آمدنی پر بوجھ ہونے کا جواز پیدا کر کے ابن علقمی جب افواج کی نفری اور حربی قوت کو خطرناک حدتک کم کرنے میں کامیاب ہوگیا تو اس نے ہلاکو کو بغداد پر حملہ کرنے کی دعوت دی مزید اس کی ہدایت پر شیعہ آبادی نے بھی اس طرح کا دعوت نامہ ہلاکو کو بھیجا جس پر ہلاکو نے لبیک کہا اور بغداد پر لشکر کشی کی (اکبر شاہ خان نجیب آبادی- تاریخ الاسلام)۔۔۔

٣۔ شیعہ فرقہ کے مجموعی کردار پر تاریخی بیان قابل غور ہے۔۔۔
کرخ اور کاظمین کے نواح میں بسنے والے شیعوں نے منگولوں کی اطاعت قبول کر لی تھی اور فوجی کنٹرول کے سلسلہ میں ایک منگول دستہ حلہ میں داخل ہوا جہاں کے شیعوں نے من حیث الجماعت اس کا والہانہ استقبال کیا (سرجان گلب دی لاسٹ سنچریز صفحہ٢٥٤)۔۔۔

مشہور مؤرخ ابن کثیر نے منگولوں کے ہاتھون مسلمانوں کے قتل عام کا حشر یوں بیان کیا ہے۔۔۔
بغداد میں بہیمانہ قتل عام چالیس دن تک جاری رہا گلی کوچوں میں ہرطرف لاشیں اور خون پھیلا ہوا تھا گلی سڑی لاشوں کی بدبو ہواؤں کے ساتھ دیار شام تک پہنچی تھی (ابن کثیر البلاد والنہیہ جلد ١٣)۔۔۔

٤۔ انجام کار خلیفہ مستعصم باللہ کی قسمت کا فیصلہ ابن علقمی اور نصیرالدین طوسی وزیر ومشیر ہلاکو کے باہمی مشورہ سے عمل میں آیا اس ڈرامہ جس کے فنکار اور ہدایت کار یہی دونوں شیعہ زعماء تھے کا ڈراپ سین ابن خلدون اور تاج الدین السبکی رحمہ اللہ کے الفاظ میں یوں دکھایا گیا ہے۔۔۔

ابن عقلمی کے انتقام کی آگ سقوط بغداد اور مسلمانوں کے قتل عام سے نہ بجھی آخر میں اس نے خلیفہ اس کے تمام امراء ورؤسا اور علماء کو اس یقین دہانی کے ساتھ کہ ان کو کسی قسم کا گزندنہ پہنچے گا صلحنامہ مرتب کرنے کے بہانے ہلاکو کے پاس چلنے کا مشورہ دیا ساتھ ہی مستعصم کو یہ بھی باور کرایا کے اسے خلافت پر قائم رہنے کی اجازت مل جائے گی اور ہلاکو کو اپنی بیٹی کی شادی اس خلیفہ کے بیٹے ابوبکر کے ساتھ کردے گا لیکن یہ محض ایک چال تھی جسے ابن علقمی اور طوسی نے ملکر تیار کیا تھا پس اس طرح تمام امراء وعلماء کو ہلاکو کے سامنے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور نصیرالدین طوسی کے مشورہ پر خلیفہ مستعثم کو بوری میں بند کر کے اس بری طرح زدوکوب کیا گیا کے اس کی جان قفس عنصری سے پرواز کر گئی (ابن خلدون مقدمہ جلد ٣ شیخ تاج الدین سُبکی طبقات الشافعیہ جلد ٥)۔۔۔

مذکورہ بالاتاریخی اقتباسات، عہد وسطٰی میں اسلام کو ختم کرنے کے عمل کی محض چند جھلکیاں ہیں جن سے ان رونگٹے کھڑی کردینے والی سفاکانہ اذیت ناک اموات دس لاکھ مسلمانوں کے بہیمانہ قتل عام کا تصور کیا جاسکتا ہے یہ ہے روداد اس مرکز اسلام کی جو اپنی تمامتر تہذیبی تمدنی عروج اور شہرت کے ساتھ اغیار کے ہاتھوں ظلمات کا شکار ہوگیا دنیا کو علم وفن کی روشنی بخشنے والے علماء اور طبعی علوم وفنون کے ہزاروں جلیل القدر اساتذہ کی شمع ہستی کو بجھا کر موت کی تاریکیوں میں گم کردیا گیا تھا اسلامی تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کے سیاسی شیعیت آغاز ہی سے اسلام اور اہلیان اسلام کے خلاف سازش، غداری اور فریب دہی کی ایک تخریبی تحریک سے زیادہ کچھ نہ تھی۔۔۔

پہلی صدی ہجری اور ساتویں صدی ہجری کے اسلامی دور کے دو اہم اور تاریخ ساز واقعات کے تجزیہ کے بعد آئیے اب ذرا چودہویں صدی ہجری میں شیعی سازش سے وقوع پذیر ہونے والے المیہی کا جائزہ لیں اور اس کی روشنی میں موجودہ دور کے شیعی فتنہ کے مضمرات کا اندازہ لگا کر آئندہ اس کے سدباب کا جتن کریں۔۔۔

عہد حاضر کا اسلام (چودھویں صدی ہجری)
جیسا کے سب کو علم ہے پاکستان ١٩٤٧ء بمطابق ١٣٦٦ھ میں ایک نظریاتی اور سب سے بڑی اسلامی ریاست کی حیثیت سے عالم وجود میں آیا اس مملکت کے دو بازو مشرق پاکستان اور مغربی پاکستان تھے جو جغرافیائی اعتبار سے ایک دوسرے سے الگ تھلک تھے ان کے درمیان ہزار میل سے زیادہ طویل علاقے پر ہندوستان کا اقتدار تھا پاکستان کے اس عجبب وغریب محل وقوع کے علاوہ دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ سابقہ پاکستان مشرقی بازو میں شیعہ آبادی نہ ہونے کے برابر تھی جب کہ ان کی تمام تر دو فیصد آبادی مغربی پاکستان ہی میں سکونت پذیر تھی اس اہم نکتہ کو ذہن میں رکھ کر اس بات کا اندازہ کرنا آسان ہوگا کہ وہ کون سے عوامل تھے جن کے باعث ١٩٧١ء میں دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست دو لخت ہوگئی اور اسلامی ریاست کے مشرقی بازو کو سازشوں نے خانہ جنگی اور خون خرابہ کے بعد زبردستی ایک الگ ریاست (بنگلہ دیش) میں تبدیل کردیا پاکستان کے مشرقی بازو میں لاکھوں مسلمانوں کا ناحق خون بہانے اور پاکسان کو دولخت کرنے کے بعد پاکستان صرف مغربی پاکستان تک محدود رہ گیا اس طرح جہاں پاکستان میں مسلم آبادی نصف سے بھی کم ہوکر رہ گئی وہیں شیعہ آبادی جوں کی توں رہی پاکستان کو نصف کرکے اس علاقہ تک محدود کردیا گیا جس کی مغربی سرحدیں ایران سے ملتی ہیں تاکہ آئندہ وقت کی موافقت ریشہ دوانیوں اور شکست دریخت کے سازشی عمل کے ذریعہ اس کا المحاق شیعہ مملکت ایران سے ممکن بنایا جاسکے۔۔۔

دوسری جانب مشرقی پاکستان کا نام بنگلہ دیش رکھ کر ہندو انڈیا کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا اسی طرح سیاسی فعال شیعیت نے ایک ہی ضرب سے سب سے بڑی اسلامی ریاست کو توڑنے اور اس کی شکل اور اہمیت کو مٹانے کا دوہرا مقصد حاصل کر لیا اور ایران عظمٰی کی تکمیل کے روشن امکانات پیدا کرئے گئے ایسے لوگوں کی بڑی تعداد اب بھی ہمارے درمیان موجود ہے ١٦٤٧ تا ١٦٧١ کے پاکستان میں ہونے والی مکروہ سازشوں کے عینی شاہد ہیں ذیل میں ان چند نمایاں عناصر اور عوامل کا ذکر کیا گیا ہے جس سے پاکستانی المیہ کے پس منظر کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے اور سبق حاصل کیا جاسکتا ہے۔۔۔

١۔ پاکستان ١٩٤٧ء میں عالم وجود میں آیا اور ١٩٤٦ میں قومی آئین ساز اسمبلی نے تاریخی اہمیت کی قرار داد مقاصد کی منظوری دی جس کی رو سے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست میں اسلامی دستور مرتب کرنے کے لئے بنیادی اصولوں کی نشاندہی کی گئی تھی قرداد مقاصد کی منظوری جہاں ایک طرف مسلمانان اسلام کے لئے باعث مسرت واطمینان تھی دوسری طرف پاکستان کے مخالفین اور اسلام دشمن عناصر کے لئے سوہان روح تھی یہ عناصر اس طرح جو کچھ حاصل کیا گیا تھا اسے ختم کرنے کی تدبیریں سوچنے لگے۔۔۔

٢۔ ١٩٥٤ء کے نصف تک قومی دستور ساز اسمبلی نے قراردار مقاصد کی بنیاد پر قائم ہونے والے دستور کا مسودہ ملک کے اعلٰی مرتبت علماء کرام کی تجاویز کی روشنی میں منظؤر کر لیا ساتھ ہی نئے اسلامی دستور کے نفاذ کے لئے ٢٥ دسمبر ١٩٥٤ء کی تاریخ کا بھی اعلان کردیا گیا لیکن پیشتر اس کے کہ وہ مبارک دن آتا سکندر مرزا جو بدنام زمانہ شیعی گھرانہ مرشدآباد سے تعلق رکھتا تھا اور جس کا شیعوں میں اعلٰی اور بااثر مقام تھا اور جوڑ توڑ کے ذریعہ پاکستان کے پالیسی ساز حلقہ میں اہم مقام حاصل کرکے سربراہ مملکت غلام محمد کا رفیق خاص بن گیا تھا اس نے ایک خفیہ پلان تیار کیا تاکہ اسلامی دستور کو نفاذ کی مقرر تاریخ ٢٥ دسمبر ١٩٥٤ء سے پہل ہی رد کرادے چنانچہ اس نے سربراہ مملکت کو باور کرایا کے اگر اسمبلی نے یہ دستور نافذ کرا لیا تو اسے (غلام محمد کو) کسی صورت میں بھی اس قسم کے اسلامی دستور کے تحت صدر مملکت نہیں چنا جائے گا (غلام محمد نہ صرف یہ کے شرابی اور بدکار تھا بلکہ جسمانی طور پر بھی معذور تھا) سکندر مرزا نے غلام محمد کو اس صورت حال سے نکلنے کا راستہ سمجھایا جسے غلام محمد (گورنر جنزل) نے قبول کرلیا اور ایک انتہائی سنگین کاروائی کے ذریعہ ٢٤ اکتوبر ١٩٥٤ء کو سب سے بڑے اعلٰی نمائندے ادارہ، دستور ساز اسمبلی کو ختم کردیا یہ دن پاکستانی قوم کے لئے یوم سیاہ بن کر آیا جس سے مملکت کے کل پرزے ہل گئے اور قوم پریاس وناامیدی کے سیاہ بادل چھاگئے۔۔۔

دستور ١٩٥٤ء کی غیرقانونی تنسیخ اور اسمبلی کو مجرمانہ طور پر ختم کرنے کے علاوہ گورنر جنرل نے کابینہ بھی توڑ دی اور ایک نئی کابینہ تشکیل دی قابل مؤاخذہ مجرم اسکندر مرزا کو جوان تمام غیرقانونی اور مجرمانہ اقدامات کا محرک تھا وزارت داخلہ کا اہم قلمدان سپرد کیا گیا تاکہ وہ گورنر جنرل کی کرسی کا ایک وفادار کتے کی طرح رکھوالی کرنے کا مجاز ہوسکے۔۔۔

٣۔ مئی ١٩٥٥ء میں دستور سازی کے لئے ایک نئی دستور ساز اسمبلی تشکیل دی گئی ١٩٥٥ء کے اواخر میں غلام محمد پر فالج کا شدید حملہ ہوا اسکندر مرزا نے اسے ریٹائرہونے اور آرام کرنے پر راغب کر لیا جونہی غلام محمد ریٹائر ہوا س کا یہ رکھوالا کتا بلاکسی رکاوٹ کے ایوان مملکت میں گھس کر سربراہ کی کرسی سنبھال بیٹھا مراز نے اس کے بعد تمام تر جستجو اور کاوش دستور ساز اسمبلی نے نئے دستور پر مذاکرات اور رائے مشورہ پر صرف کردی مرزا نے ارکان اسمبلی ١٩٥٤ء کے اسلامی طرز کے دستور سے یکسر انحراف کرنے پر آمادہ کرنے کی کوششیش جاری رکھیں لیکن زبردست عوامی دباؤ کی بناء پر ارکان اسمبلی کے لئے ایک لادینی دستور بنانے میں مرزا کی خواہشات کے سامنے جھکنا ممکن نہ رہا چنانچہ ایک مصالحتی فارمولا ارکان اسمبلی بمقابل اسکندر مرزا تیار کیا گیا اس طرح گو اسمبلی نے کسی حد تک ایک اسلامی دستور تو تیار کر لیا لیکن اس کی بڑی قیمت ادا کرنی پڑی مصالحتی دستور کی روشنی میں اسکندر مرزا کو صدر پاکستان بنانا لازم ہوگیا تھا قسمت کی ستم ظریفی دیکھئے ١٩٥٦ء کے پہلے اسلامی دستور کے مصالحتی فارمولے کے مطابق اسلامی جمہوریہ پاکستان کا صدر ایک اسلام دشمن اور بدقماش فرد کو مقرر کرنا پڑا۔۔۔

٤۔ دستور کے نفاذ کے بعد عوام نے اس کے تحت عام انتخابات کا مطالبہ کیا اسکندر مرزا نے اس سلسلہ میں ہرممکنہ تاخیر سے کام لیا کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ ایک بار اتنخابات ہوگئے تو دستور کو استقامت اور پائیدار حاصل ہوجائے گی پھر مسلمان قوم اس کو صدر کی حیثیت سے قبول نہیں کرے گی پھیر بھی قوم کے بڑھے ہوئے دباؤ کے تحت بالآخر اس کو انتخابات کے لئے فروری ١٩٥٩ء کے شیڈول کا اعلان کرنا پڑا لیکن دل میں اس نے انتخابات نہ کرانے کا تہیہ کر رکھا تھا تاکہ ایک طرف جہاں اسے اسلامی دستور سے چھٹکار مل سکے وہیں اپنے سیاسی اقتدار کو دوامی شکل دے سکے لہذا ایک تیر سے تین شکار کرنے کی خاطر اسکندر مرزا نے ٨ اکتوبر ١٩٥٨ء کو ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا اور دستور کو منسوخ کردیا اسمبلی اور کابینہ کو برخاست کردیا اور جنرل ایوب کو اپنا چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا لیکن مارشل لاء لگانے کے صرف ٢٠ دن بعد اس کے رفیق جنرل ایوب خان نے ٢٨ اکتوبر کو اُسے صدارات سے ہٹا کر جلاوطن کردیا چند سال بعد یہ ملک دشمن سازشی لندن میں لقمہ اجل ہوا لیکن شیعیت اور شیعہ ایران نے اسے عزت بخشی وہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ایران میں دفن کیا گیا۔۔۔

اپنے ملک بدر ہونے سے پہلے اسکندر مرزا اسلامی مملکت پاکستان کے سیاسی ڈھانچے کو متزلزل کرکے اور اپنے پیچھے دستور منسوخ کرنے اور مارشل لا لگانے کی برُی ریت چھوڑ کر ناقابل تلافی نقصان پہنچا چکا تھا جس کو نظیر بنا کر صرف دس سال بعد ١٩٦٩ء میں ایک دوسرے شیعہ، یحٰیی خان نے وہی عمل دہرایا جس کا تفصیلی ذکر بعد میں آئے گا جہاں تک سکندر مرزا کا تعلق ہے وہ تین سال تک ملک کے سیاہ وسفید کا مختار کل بنا رہا۔۔۔

اوراخر ١٩٥٥ء تا ١٩٥٨ء اس دوران اس نے ملک کو تباہی کے دہانے تک پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا اس کے شیطانی کرتوتوں کی ایک مثال وہ حارحانہ اور ظالمانہ اقدام تھا جو اس نے قلات کے خلاف کیا جہاں مقامی طور پر اسلامی شرعی قوانین کا عملی نفاذ عرصے سے جاری تھیا چونکہ اسکندر مرزا کی وفاداریاں ہمسایہ شیعہ ریاست ایران سے وابستی تھیں اس نے اپنے دوران اقتدار بلاجواز مذاکرات کے ڈھونگ کے نتیجہ میں بلوچستان کا ٣٠٠٠ مربع میل کا سرحدی علاقہ ایران کے حوالے کردیا درحقیقت اسکندر مرزا کے اس پاکستانی علاقے ملحقہ ایران کی ایک طرف سودہ بازی کی دو وجوہات تھیں اول اس طرح سے اسے ایران اعظمٰی کی شیعہ اسکیم کے سلسلہ میں اپنی جانب سے ایک نذرانہ پیش کرنا مقصود تھا دوم یہ کہ اس علاقہ میں تیل نکلنے کے قوی امکانات کی رپورٹ خبررساں ایجنسیوں نے وہاں کام کرنے والی ایک امریکن ڈرلنگ کمپنی ہنٹ انٹرنیشنل پٹرولیم کمپینی کے توسط سے دی تھی لیکن اچانک وہاں نامعلوم وجوہات کی بناء پر تیل نکالنے کا کام روک دیا گیا تھا واقف حال حلقوں نے اس سلسلہ میں چپ سادہ رکھی تھی لیکن صورت حال سے اصلیت کا اندازہ بآسانی لگایا جاسکتا ہے حقیقت یہ تھی کی امریکہ اور ایران کی ہدایت پر اسکندر مرزا نے پر اسرار طور پر ڈرلنگ کا کام رکوا دیا تھا اور پھر گف وشنید کا ڈھونگ رچا کر پاکستان کی سرزمین کے اس بےبہا خزانہ کو اپنے ایرانی آقاؤں کو نذر کر کے اپنی شیعیت کا ثبوت دیا۔۔۔

مختصر یہ اسکندر مرزا جہاں ملک وقوم کا اولین اور بدترین غدار تھا وہیں شیعیت اور شیعہ ایران کے لئے اس کی وفاداریاں اور خدمات بے شمار تھیں اور اپنے روحانی مرکز ایران میں سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین کا شرف حاصل ہوا۔۔۔

٥۔ اس کے بعد ایوب خان کا دور مادی خوشحالی اور ترقی کا دور ہے لیکن وہ بھی اس عوامی دستور کے نفاذ کے خلاف تھا جسے اسکندر مرزا نے غیرقانونی طور پر منسوخ کر دیا تھا۔۔۔ پھر بھی ١٩٦٨ء کے اواخر میں سیاسی زعماء نے اس پر دباؤ ڈالا کہ وہ ١٩٦٢ کے دستور میں اس نہج پر ترمیم کرے کہ وہ ١٩٥٦ء کے اسلامی جمہوری دستور سے ہم آہنگ ہوسکے بالآخر ایوب خان نے اس تجویز کو قبول کرلیا تھا۔۔۔ لیکن پیشتر اس کے کہ وہ اس تجویز کو عملی جامہ پہناتا اس کے معتمد جنزل (چیف آف آرمی) اور افواج پاکستان کے سربراہ یحٰیی خان شیعی نے صدر ایوب کو پستول دکھا کر کرسی صدارت چھوڑنے اور اقتدار اس کے حوالے کرنے پر مجبور کردیا جس طرح پہلے اسکندر مرزا کرچکا تھا اس انداز میں اقتدار چھیننے کے بعد یحیٰی نے انہی خطوط پر عمل کیا جن پر چلکر غلام محمد کے بعد اسکندر مرزا نے مارشل لا نافذ کیا تھا ١٩٦٩ء میں مارشل لا کے نفاذ کے ساتھ وہ مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور صدر مملکت بن بیٹھا اس طرح ایک بار پھر شیعی سازش کا ڈراپ سین ایون صدر میں رچایا گیا اور شیعی مشن جو اسکندر مرزا کے دور میں پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا تھا اس کے ہاتھو ں پورا ہوا اور اس نے اسلامی ریاست پاکستان کو اپنے تین سالہ مختصر دور میں ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔۔۔

جاری ہے!۔
 
Top