• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایسی مجلس والوں کو سلام کرنا جس میں مسلمان اور مشرک سب شامل ہوں

محمد زاہد بن فیض

سینئر رکن
شمولیت
جون 01، 2011
پیغامات
1,961
ری ایکشن اسکور
5,788
پوائنٹ
354
حدیث نمبر: 6254
حدثنا إبراهيم بن موسى،‏‏‏‏ أخبرنا هشام،‏‏‏‏ عن معمر،‏‏‏‏ عن الزهري،‏‏‏‏ عن عروة بن الزبير،‏‏‏‏ قال أخبرني أسامة بن زيد،‏‏‏‏ أن النبي صلى الله عليه وسلم ركب حمارا عليه إكاف،‏‏‏‏ تحته قطيفة فدكية،‏‏‏‏ وأردف وراءه أسامة بن زيد وهو يعود سعد بن عبادة في بني الحارث بن الخزرج،‏‏‏‏ وذلك قبل وقعة بدر حتى مر في مجلس فيه أخلاط من المسلمين والمشركين عبدة الأوثان واليهود،‏‏‏‏ وفيهم عبد الله بن أبى ابن سلول،‏‏‏‏ وفي المجلس عبد الله بن رواحة،‏‏‏‏ فلما غشيت المجلس عجاجة الدابة خمر عبد الله بن أبى أنفه بردائه ثم قال لا تغبروا علينا‏.‏ فسلم عليهم النبي صلى الله عليه وسلم ثم وقف فنزل،‏‏‏‏ فدعاهم إلى الله وقرأ عليهم القرآن فقال عبد الله بن أبى ابن سلول أيها المرء لا أحسن من هذا،‏‏‏‏ إن كان ما تقول حقا،‏‏‏‏ فلا تؤذنا في مجالسنا،‏‏‏‏ وارجع إلى رحلك،‏‏‏‏ فمن جاءك منا فاقصص عليه‏.‏ قال ابن رواحة اغشنا في مجالسنا،‏‏‏‏ فإنا نحب ذلك‏.‏ فاستب المسلمون والمشركون واليهود حتى هموا أن يتواثبوا،‏‏‏‏ فلم يزل النبي صلى الله عليه وسلم يخفضهم،‏‏‏‏ ثم ركب دابته حتى دخل على سعد بن عبادة فقال ‏"‏ أى سعد ألم تسمع ما قال أبو حباب ‏"‏‏.‏ يريد عبد الله بن أبى قال كذا وكذا قال اعف عنه يا رسول الله واصفح فوالله لقد أعطاك الله الذي أعطاك،‏‏‏‏ ولقد اصطلح أهل هذه البحرة على أن يتوجوه فيعصبونه بالعصابة،‏‏‏‏ فلما رد الله ذلك بالحق الذي أعطاك شرق بذلك،‏‏‏‏ فذلك فعل به ما رأيت،‏‏‏‏ فعفا عنه النبي صلى الله عليه وسلم‏.‏

ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان بندھا ہوا تھا اور نیچے فد ک کی بنی ہوئی ایک مخملی چادر بچھی ہوئی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری پر اپنے پیچھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو بٹھایا تھا۔ آپ بنی حارث بن خزرج میں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے تشریف لے جا رہے تھے۔ یہ جنگ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس پر سے گزرے جس میں مسلمان بت پرست مشرک اور یہودی سب ہی شریک تھے۔ عبداللہ بن ابی ابن سلول بھی ان میں تھا۔ مجلس میں عبداللہ بن رواحہ بھی موجود تھے۔ جب مجلس پر سواری کا گرد پڑا تو عبداللہ نے اپنی چادر سے اپنی ناک چھپا لی اور کہا کہ ہمارے اوپر غبار نہ اڑاؤ۔ پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور وہاں رک گئے اور اتر کر انہیں اللہ کی طرف بلایا اور ان کے لئے قرآن مجید کی تلاو ت کی۔ عبداللہ بن ابی ابن سلول بولا، میاں میں ان باتوں کے سمجھنے سے قاصر ہوں اگر وہ چیز حق ہے جو تم کہتے ہو تو ہماری مجلسوں میں آ کر ہمیں تکلیف نہ دیا کرو۔ اس پر ابن رواحہ نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہماری مجلسوں میں تشریف لایا کریں کیونکہ ہم اسے پسند کرتے ہیں۔ پھر مسلمانوں مشرکوں اور یہودیوں میں اس بات پر تو تو میں میں ہونے لگی اور قریب تھا کہ وہ کوئی ارادہ کربیٹھیں اور ایک دوسرے پر حملہ کر دیں۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں برابر خاموش کراتے رہے اور جب وہ خاموش ہو گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر بیٹھ کر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا، سعد تم نے نہیں سنا کہ ابو حباب نے آج کیا بات کہی ہے۔ آپ کا اشارہ عبداللہ بن ابی کی طرف تھا کہ اس نے یہ یہ باتیں کہی ہیں۔ حضرت سعد نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اسے معاف کر دیجئیے اور درگزر فرمائیے۔ اللہ تعالیٰ نے وہ حق آپ کو عطا فرمایا ہے جو عطا فرمانا تھا۔ اس بستی (مدینہ منورہ) کے لوگ (آپ کی تشریف آوری سے پہلے) اس پر متفق ہو گئے تھے کہ اسے تاج پہنا دیں اور شاہی عمامہ اس کے سر پر باندھ دیں لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس منصوبہ کو اس حق کی وجہ سے ختم کر دیا جو اس نے آپ کو عطا فرمایا ہے تو اسے حق سے حسد ہو گیا اور اسی وجہ سے اس نے یہ معاملہ کیا ہے جو آپ نے دیکھا۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا۔


کتاب الاستئذان صحیح بخاری
 

محمد شاہد

سینئر رکن
شمولیت
اگست 18، 2011
پیغامات
2,510
ری ایکشن اسکور
6,023
پوائنٹ
447
ماشااللہ بہت اچھی پوسٹ ہے لیکن اس کی کچھ وضاحت کردیں کیونکہ میں نے سنا ہے کہ اللہ پاک نے مشرک کو سلامتی کی دعا دینے سے روکا ہے۔
جزاک اللہ
 
Top