محمد آصف مغل
سینئر رکن
- شمولیت
- اپریل 29، 2013
- پیغامات
- 2,677
- ری ایکشن اسکور
- 4,009
- پوائنٹ
- 436
اَوَلَمَّآ اَصَابَتْكُمْ مُّصِيْبَۃٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَيْھَا۰ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى ہٰذَا۰ۭ قُلْ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ۰ۭ اِنَّ اللہَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۱۶۵ وَمَآ اَصَابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللہِ وَلِيَعْلَمَ الْمُؤْمِنِيْنَ۱۶۶ۙ
۱؎ ان آیات میں مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ عارضی شکست پر گھبراؤ نہیں۔ یہ سب کچھ خدائے متعال کی مرضی وارادے سے ہوا ہے۔ مقصد یہ تھاکہ ایمان دار اورمنافق میں امتیاز ہوجائے اورتم دوست اور دشمن کو پہچان لو۔کیا تم کو جب ایک مصیبت پہنچی اور تم ان کو (یعنی کفار مکہ کو) دوچند(یعنی قتل وقید) پہنچا چکے ہوکہتے ہو کہ یہ مصیبت کہاں سے آئی۔ تو کہہ یہ تمہاری جانوں کی طرف سے آئی۔ بیشک اللہ ہرشے پر قادر ہے ۔(۱۶۵) اور دو فوجوں کے مقابلہ کے دن جو مصیبت تم پرآئی ، خدا کے حکم سے آئی تھی اور اس لیے کہ خدا ایمان داروں کو ظاہر کرے۔۱؎(۱۶۶)