• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایمان کے متعلق شیطانی وساوس کا علاج

قاری مصطفی راسخ

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 07، 2012
پیغامات
681
ری ایکشن اسکور
744
پوائنٹ
301
ایمان کے متعلق شیطانی وساوس کا علاج



نحمده ونصلی علی رسوله الکریم وعلی اله وازواجه واصحابه اجمعین و من تبعهم باحسان إلي يوم الدين ، أما بعد!
فأعوذ باللّٰہ من الشيطان الرجيم، بسم اللّٰہ الرحمن الرحيم.

اِنَّ الشَّیۡطٰنَ لَکُمۡ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوۡہُ عَدُوًّا ؕ اِنَّمَا یَدۡعُوۡا حِزۡبَہٗ لِیَکُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰبِ السَّعِیۡرِ (فاطر:٦)


بے شک شیطان تمھارا دشمن ہے تو اسے دشمن ہی سمجھو ۔ وہ تو اپنے گروہ والوں کو صرف اس لیے بلاتا ہے کہ وہ بھڑکتی آگ والوں سے ہو جائیں۔

ایک انسان جب شعور کی وادیوں میں قدم رکھ کر اس وسیع کائنات کی طرف اپنی نگاہ دوڑاتا ہے تو اس کے ذہن میں طرح طرح کے سوالات جنم لیتے ہیں، مثلاً کہ اس کائنات کا خالق کون ہے ؟ ، فرشتوں ، آسمانی کتب ،انبیاء و رسل، احوال آخرت اور تقدیر کی کیا حقیقت ہے ؟، یہاں تک کہ انسان اپنی ذات کے بارے میں بھی سوچتا ہے کہ میں کون ہوں، کہاں سے آیا ہوں؟، کیا کرنے آیا ہوں ؟ اور مجھے کہاں جانا ہے ؟
وغیرہ ۔
یہی وہ سوالات ہیں کہ جن کے ذریعے انسان اپنے خالق حقیقی کی معرفت حاصل کرلیتا ہے ، اور بسا اوقات صحیح رہنمائی نا ملنے پر شیطان انسان کو الحاد و کفر کی وادیوں میں دھکیل دیتا ہے ۔
یہ ایسے سوالات ہیں کہ انہیں سوچ کر ایک اچھا خاصا دین دار انسان بھی اضطراب و بے چینی کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔
‏‏‏‏
یہ ایک ایسا مرحلہ ہے کہ جہاں پہ شیطان اپنی ابدی دشمنی کا اظہار کرتے ہوئے انسان کے ذہن میں بہت سے وسوسے اور شکوک وشبہات ڈال کر اسے گمراہ کرنے کی جستجو کرتا ہے ۔

سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین کرلیجیے کہ ہم پہلے لوگ نہیں ہیں جنہیں اس قسم کے حالات سے واسطہ پڑا ہے بلکہ شروع اسلام ہی سے یہ سلسلہ چلا آرہا ہے جیسا کہ صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین کو بھی اس طرح کے حالات سے سابقہ پڑا تھا ۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوهُ: إِنَّا نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا مَا يَتَعَاظَمُ أَحَدُنَا أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ، قَالَ: «وَقَدْ وَجَدْتُمُوهُ؟» قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «ذَاكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ حاضر ہوئے اور آپ سے پوچھا : ہم اپنے دلوں میں ایسی چیزیں محسوس کرتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی ان کو زبان پر لانا بہت سنگین سمجھتا ہے ، آپ نے پوچھا :’’ کیا تم نے واقعی اپنے دلوں میں ایسا محسوس کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا:’’ یہی صریح ایمان ہے ۔ ‘‘

(صحيح مسلم:١٣٢)

ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي اللّٰہُ عنه ، اَنَّ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ كَذَا، مَنْ خَلَقَ كَذَا، حَتَّى يَقُولَ: مَنْ خَلَقَ رَبَّكَ؟ فَإِذَا بَلَغَهُ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللّٰهِ وَلْيَنْتَهِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ، تم میں سے کسی کے پاس شیطان آتا ہے اور تمہارے دل میں پہلے تو یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ فلاں چیز کس نے پیدا کی ، فلاں چیز کس نے پیدا کی ؟ اور آخر میں بات یہاں تک پہنچاتا ہے کہ خود تمہارے رب کو کس نے پیدا کیا ؟ جب کسی شخص کو ایسا وسوسہ ڈالے تو اللّٰه سے پناہ مانگنی چاہیے ، شیطانی خیال کو چھوڑ دے ۔

(صحيح بخاري:٣٢٨٦)

مندرجہ ذیل حدیث مبارکہ سے بھی یہ اشارہ ملتا ہے ۔

عن ابن عباس رضي اللّٰہُ عنهما قال: جاء رجلٌ إلى النبيِّ صلَّى اللّٰہُ عليهِ وسلَّمَ فقال يا رسولَ اللّٰهِ إنَّ أحدَنا يجدُ في نفسِه، يعرضُ بالشيء، لأن يكونُ حممةٌ أحبَّ إليه من أن يتكلَّم به، فقال : اللّٰهُ أكبرُ، اللّٰهُ أكبرُ، اللّٰهُ أكبرُ، الحمدُ للّٰہ الذي ردَّ كيدَه إلى الوسوسةِ

سیدنا عبداللّٰہ بن عباس رضي اللّٰہ عنهما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا : اے اللّٰه کے رسول ! ہمارے دل میں کچھ خیالات آتے ہیں اور وہ اشارے کنائے سے کچھ اس طرح کہہ رہا تھا کہ ان خیالات کو زبان پر لانے کی بجائے کوئلہ ہو جانا اسے زیادہ پسند ہے ۔ تو رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا ” «اللّٰہ أكبر اللّٰہ أكبر اللّٰہ أكبر الحمد للّٰه الذي رد كيده إلى الوسوسة» حمد اس اللّٰہ کی جس نے اس ( ابلیس ) کے مکر کو وسوسے کی طرف لوٹا دیا ۔

(سنن ابي داود:٥١١٢)

بتوفیق اللّٰہ ، قرآن و حدیث کے مطالعہ اور علماء و مشائخ کے تجربات کی روشنی میں جو اسباب حصول یقین میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں، انہیں افادہ عام کے لیے آپ احباب کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں کہ شاید کوئی شکوک وشبہات کی دلدل میں پھنسا ہوا ایمان کی روشنی کی طرف پلٹ آئے ۔

1️⃣ ان خیالات کو ذہن میں پختہ نہ کیا جائے اور نہ ہی انہیں زبان پہ لایا جائے ۔

2️⃣ اللّٰہ تعالیٰ کی مخلوقات میں تدبر کیا جائے لیکن اس کی ذات میں غور وفکر نہ کیا جائے ۔

3️⃣ قرآن مجید کے آخری دو پاروں کا ترجمہ وتفسیر کے ساتھ مطالعہ کیا جائے۔

4️⃣ مندرجہ ذیل قرآنی آیات اور نبوی دعاؤں کو کثرت کے ساتھ پڑھا جائے ۔

١- رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنۡ ہَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ وَاَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحۡضُرُوۡنِ (المومنون:٩٧,٩٨)

اے میرے رب! میں شیطانوں کی اکساہٹوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اور اے میرے رب! میں اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آموجود ہوں۔

٢- رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوۡبَنَا بَعۡدَ اِذۡ ہَدَیۡتَنَا وَ ہَبۡ لَنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ رَحۡمَۃً ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡوَہَّابُ (آل عمران:٨)

اے ہمارے رب! ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر، اس کے بعد کہ تو نے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، بے شک تو ہی بے حد عطا کرنے والا ہے۔

٣- سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کا ترجمہ ذہن میں رکھ کر کثرت سے تلاوت ۔

٤-[ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ! ثَبِّتْ قَلْبِيْ عَلٰي دِيْنِكَ ]

’’اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔‘‘ [ترمذی:۳۵۲۲ ]

٥ - اللَّهُمّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا لاَ يَرْتَدُّ، وَنَعِيمًا لاَ يَنْفَدُ، وَمُرَافَقَةَ مُحَمَّدٍ ﷺ فِي أَعْلَى جَنَّةِ الْخُلْدِ [مسند احمد: 3797]

اے اللّٰه! میں آپ سے ایسے ایمان کا سوال کرتا ہوں جس میں کبھی ارتداد نہ آئے، ایسی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو کبھی ختم نہ ہوں، اور نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی جنت الخلد میں رفاقت کا سوال کرتا ہوں۔“

٦- صبح و شام کے اذکار کا اہتمام کیا جائے (خصوصاً صبح و شام کم از کم سو سو مرتبہ مندرجہ ذیل دعا پڑھنا)
{لا إلهَ إلاَّ اللَّه وحْدهُ لاَ شَرِيكَ لهُ، لَهُ المُلْكُ، ولَهُ الحمْدُ، وَهُو عَلَى كُلِّ شَيءٍ قَدِيرٌ } (صحيح البخاري:٣٢٩٣)
نہیں ہے کوئی معبود ، سوا اللّٰہ تعالیٰ کے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کی بادشاہت ہے ۔ اور تمام تعریف اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔۔


٧- تہجد میں مندرجہ ذیل دعا کا اہتمام کیا جائے:

اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ الْحَقُّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ

(صحيح البخارى:1120)

حمد تیرے ہی لیے ہے کہ تو آسمان و زمین کا نور ہے، حمد تیرے ہی لیے ہے کہ تو آسمان و زمین کا تھامنے والا ہے، حمد تیرے ہی لیے ہے کہ تو آسمان و زمین کا اور جو کچھ اس میں ہے سب کا رب ہے۔ تو سچ ہے، تیرا وعدہ سچا ہے اور تیرا قول سچا ہے، تیری ملاقات سچی ہے، جنت سچ ہے اور دوزخ سچ ہے، سارے انبیاء سچے ہیں اور قیامت سچ ہے۔ اے اللّٰه! میں تیرے سامنے ہی جھکا، تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر بھروسہ کیا، تیری ہی طرف رجوع کیا، تیرے ہی سامنے اپنا جھگڑا پیش کرتا اور تجھ ہی سے اپنا فیصلہ چاہتا ہوں، پس تو میری مغفرت کر دے اگلے پچھلے تمام گناہوں کی جو میں نے چھپا کر کئے اور جو ظاہر کئے، تو ہی میرا معبود ہے، تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔

5️⃣ وسوسہ آنے پر مندرجہ ذیل کلمات پڑھیں۔

١- {آمَنْتُ بِاللهِ وَ رَسُوْلِهِ} میں اللّٰہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا۔

٢- {الحمدلله} تمام تعریفیں اللّٰہ تعالیٰ کے لیے ہیں (کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ابلیس کے مکر کو کامیاب نہیں ہونے دیا)۔

٣- هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ

وہی (اللّٰہ) سب سے پہلے ہے اور سب سے پیچھے ہے اور ظاہر ہے اور چھپا ہوا ہے اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

6️⃣ اللّٰہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر دعا کی جائے ۔

7️⃣ اہل یقین (انبیاء علیہم السلام، صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین و سلف صالحین رحمہم اللّٰہ) کی سیر و سوانح کا مطالعہ کیا جائے ۔

8️⃣ اللّٰہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کا مطالعہ کیا جائے ۔

9️⃣ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کی جائے ۔

ہمیشہ با وضوء رہنے کا اہتمام کیا جائے ۔

تلك عشرة كامله.

اللهم إنا نسألك حسن الخاتمة ونعوذ بك من سوء الخاتمة"
عبداللّٰہ خالد (فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ)
 
Top