قرآن کا '19 کا حسابی کوڈ': ایک حیران کن فتنہ جس کا انجام آیاتِ قرآنی کے انکار پر ہوا
1970 کی دہائی میں عالمِ اسلام میں ایک نام نہاد سائنسی معجزے نے زبردست تہلکہ مچا دیا جب ایک مصری نژاد امریکی سائنسدان ڈاکٹر رشاد خلیفہ نے یہ دعویٰ کیا کہ پورا قرآن 19 کے ہندسے پر استوار ہے۔ اس نے سورہ المدثر کی آیت 30 (عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ) کو بنیاد بناتے ہوئے ابتدائی کمپیوٹرز کی مدد سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ بسم اللہ کے حروف سے لے کر قرآن کی سورتوں کی کل تعداد تک، سب کچھ 19 کے ہندسے پر پوری طرح تقسیم ہوتا ہے۔ اس دعوے کو شروع میں اس قدر پذیرائی ملی کہ دنیا بھر کے مسلمانوں اور کئی نامور شخصیات نے اسے جدید دور میں قرآن کی سچائی کا ایک عظیم سائنسی ثبوت سمجھ کر سر آنکھوں پر بٹھا لیا۔
لیکن جب علمائے کرام، ماہرینِ لسانیات اور محققین نے اس کے پیش کردہ کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا کی گہرائی میں جا کر غیر جانبدارانہ تحقیق کی، تو ایک انتہائی حیران کن اور بھیانک حقیقت سامنے آئی۔ یہ انکشاف ہوا کہ رشاد خلیفہ نے 19 کا ہندسہ پورا کرنے کے لیے بدترین علمی خیانت اور ہندسوں کی ہیرا پھیری سے کام لیا تھا۔ جہاں اس کا حسابی فارمولا ٹوٹتا تھا، وہاں وہ اپنی مرضی سے کبھی ہمزہ اور کھڑی زبر کو گن لیتا اور کبھی انہیں نظر انداز کر دیتا۔ اس نے عربی رسم الخط کے متفقہ اصولوں کو محض اپنا مطلوبہ جواب حاصل کرنے کے لیے توڑا مروڑا، جس سے یہ ثابت ہو گیا کہ یہ کوئی الہامی راز نہیں بلکہ ایک انسان کا گھڑا ہوا حسابی دھوکہ تھا۔
اس فتنے کا سب سے خطرناک موڑ اس وقت آیا جب رشاد خلیفہ کا یہ من گھڑت فارمولا سورہ التوبہ کے اختتام پر آ کر بری طرح ناکام ہو گیا۔ اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے، اس شخص نے ایک ایسی جسارت کی جس نے پوری امتِ مسلمہ کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس نے کھلم کھلا یہ دعویٰ کر دیا کہ سورہ التوبہ کی آخری دو آیات (آیت 128 اور 129) نعوذ باللہ قرآن کا حصہ ہی نہیں ہیں اور انہیں بعد میں شامل کیا گیا ہے۔ اپنے ایک جھوٹے حسابی کوڈ کو سچا ثابت کرنے کے لیے اس نے اللہ کی اس کتاب کی حفاظت کا انکار کر دیا جس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لیا ہے۔
اس تمام حسابی اور سائنسی ڈھونگ کے پیچھے چھپا اصل اور گھناؤنا مقصد اس وقت طشت از بام ہوا جب رشاد خلیفہ نے اسی 19 کے کوڈ کی آڑ میں خود کے "رسول" ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ اس کا باطل نظریہ یہ تھا کہ محمد ﷺ آخری نبی تو ہیں لیکن آخری رسول نہیں، اور خدا نے اسے اس 19 کے معجزے کے ساتھ 'رسولِ میثاق' بنا کر بھیجا ہے۔ اس صریح کفر کے بعد سعودی عرب کی 'اللجنۃ الدائمۃ' (مستقل فتویٰ کمیٹی) اور دنیا بھر کے جید علمائے کرام نے متفقہ طور پر اس کے کفر اور ارتداد کا فتویٰ جاری کیا۔ یہ واقعہ آج بھی ہمارے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے سلف صالحین کا فہم اور احادیثِ مبارکہ ہی اصل کسوٹی ہیں، اور ہر چمکتی ہوئی نام نہاد سائنسی یا حسابی تحقیق کو بغیر تصدیق کے قبول کرنا کس قدر تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
1970 کی دہائی میں عالمِ اسلام میں ایک نام نہاد سائنسی معجزے نے زبردست تہلکہ مچا دیا جب ایک مصری نژاد امریکی سائنسدان ڈاکٹر رشاد خلیفہ نے یہ دعویٰ کیا کہ پورا قرآن 19 کے ہندسے پر استوار ہے۔ اس نے سورہ المدثر کی آیت 30 (عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ) کو بنیاد بناتے ہوئے ابتدائی کمپیوٹرز کی مدد سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ بسم اللہ کے حروف سے لے کر قرآن کی سورتوں کی کل تعداد تک، سب کچھ 19 کے ہندسے پر پوری طرح تقسیم ہوتا ہے۔ اس دعوے کو شروع میں اس قدر پذیرائی ملی کہ دنیا بھر کے مسلمانوں اور کئی نامور شخصیات نے اسے جدید دور میں قرآن کی سچائی کا ایک عظیم سائنسی ثبوت سمجھ کر سر آنکھوں پر بٹھا لیا۔
لیکن جب علمائے کرام، ماہرینِ لسانیات اور محققین نے اس کے پیش کردہ کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا کی گہرائی میں جا کر غیر جانبدارانہ تحقیق کی، تو ایک انتہائی حیران کن اور بھیانک حقیقت سامنے آئی۔ یہ انکشاف ہوا کہ رشاد خلیفہ نے 19 کا ہندسہ پورا کرنے کے لیے بدترین علمی خیانت اور ہندسوں کی ہیرا پھیری سے کام لیا تھا۔ جہاں اس کا حسابی فارمولا ٹوٹتا تھا، وہاں وہ اپنی مرضی سے کبھی ہمزہ اور کھڑی زبر کو گن لیتا اور کبھی انہیں نظر انداز کر دیتا۔ اس نے عربی رسم الخط کے متفقہ اصولوں کو محض اپنا مطلوبہ جواب حاصل کرنے کے لیے توڑا مروڑا، جس سے یہ ثابت ہو گیا کہ یہ کوئی الہامی راز نہیں بلکہ ایک انسان کا گھڑا ہوا حسابی دھوکہ تھا۔
اس فتنے کا سب سے خطرناک موڑ اس وقت آیا جب رشاد خلیفہ کا یہ من گھڑت فارمولا سورہ التوبہ کے اختتام پر آ کر بری طرح ناکام ہو گیا۔ اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے، اس شخص نے ایک ایسی جسارت کی جس نے پوری امتِ مسلمہ کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس نے کھلم کھلا یہ دعویٰ کر دیا کہ سورہ التوبہ کی آخری دو آیات (آیت 128 اور 129) نعوذ باللہ قرآن کا حصہ ہی نہیں ہیں اور انہیں بعد میں شامل کیا گیا ہے۔ اپنے ایک جھوٹے حسابی کوڈ کو سچا ثابت کرنے کے لیے اس نے اللہ کی اس کتاب کی حفاظت کا انکار کر دیا جس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لیا ہے۔
اس تمام حسابی اور سائنسی ڈھونگ کے پیچھے چھپا اصل اور گھناؤنا مقصد اس وقت طشت از بام ہوا جب رشاد خلیفہ نے اسی 19 کے کوڈ کی آڑ میں خود کے "رسول" ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ اس کا باطل نظریہ یہ تھا کہ محمد ﷺ آخری نبی تو ہیں لیکن آخری رسول نہیں، اور خدا نے اسے اس 19 کے معجزے کے ساتھ 'رسولِ میثاق' بنا کر بھیجا ہے۔ اس صریح کفر کے بعد سعودی عرب کی 'اللجنۃ الدائمۃ' (مستقل فتویٰ کمیٹی) اور دنیا بھر کے جید علمائے کرام نے متفقہ طور پر اس کے کفر اور ارتداد کا فتویٰ جاری کیا۔ یہ واقعہ آج بھی ہمارے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے سلف صالحین کا فہم اور احادیثِ مبارکہ ہی اصل کسوٹی ہیں، اور ہر چمکتی ہوئی نام نہاد سائنسی یا حسابی تحقیق کو بغیر تصدیق کے قبول کرنا کس قدر تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔