• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بانجھ پن.

Hina Rafique

رکن
شمولیت
اکتوبر 21، 2017
پیغامات
282
ری ایکشن اسکور
18
پوائنٹ
75
بانجھ پن کیوں ہوتا ہے؟ اسباب اورعلامات

بانجھ پن کو ایک مصیبت خیال کرتے تھے ۔اس وقت کے مذہبی وملکی قوانین سے بانجھ عورتوں کو حقوق زوجیت سے محروم کیا جاتا تھا۔دنیا کے اکثر ممالک مثلاً مصر، ایران ،اور ہندوستان وغیرہ میں یہ مرض اب تک ویسا ہی مذموم اور منحوس خیال کیا جاتا ہے اس کے علاوہ زمانہ قدیم میں اس مرض کو صرف عورتوں کا ہی مرض خیال کیا جاتا تھا لیکن بعد کی تحقیقات نے یہ ثابت کر دیا کہ چالیس سے پچاس فیصد واقعات میں اس مرض کا سبب مرد ہی ہوا کرتے ہیں ۔دور جدید میں اس مرض میں جس تیزی سے اضافہ ہواہے اس نے اپنی پچھلی تمام حدیں توڑ دی ہیں زیادہ پیچھے کیوں جائیں دنیا کے سپر پاور ملک کو ہی لے لیجئے جسے خود کو بہت مہذب ہونے کا غرور ہے اور جس کی عوام کی رگ وپے میں مشینی زندگی سرایت کر گئی ہے جی ہاں ہماری مراد امریکہ سے ہے ۔امریکہ سے شائع ہونے والے میگزین”نیوزویک“نے ستمبر ۱۹۹۵ءمیں بانجھ پن پر ایک خصوصی نمبر شائع کیا تھا اور اسمیں بتایا تھا کہ امریکہ میں ۵۳ لاکھ جوڑے بانجھ ہیں ۔امریکی ماہرین بتاتے ہیں کہ بانجھ پن کی بیماری میں جو تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اس کی وجوہات میں تاخیر سے شادی کرنا ،جنسی عادات میں تبدیلی(غیر فطری طریقے) وغیرہ شامل ہیں ۔بانجھ پن کی مندرجہ ذیل قسمیں ہیں ۔<p> </p>(۱) مطلق بانجھ پن:<p> </p>یہ قسم چاہے مردوں میں ہو یا عورتوں میں اس کا کوئی علاج نہیں مردوں میں اس کا سبب منی کا سرے سے پیدا ہی نہ ہونا یا پھر منی میں اسپرم کا بالکل نہ پایا جانا یا ان کی تعداد میں حد سے زیادہ کمی ہونا اس کے علاوہ بعض امراض کے سبب خصیتین کو سرجری کے ذریعے نکال دینا بھی ہے۔<p> </p>(۲) نسبتی بانجھ پن:<p> </p>اس قسم کا علاج ممکن ہے لیکن بعض اوقات اس کے بھی اسباب تفتیش
کے ذریعے معلوم نہیں کئے جاسکتےبعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ حمل تو ٹھہر جاتا ہے لیکن پھر اسقاط ہو جاتا ہے یا پھر پہلا بچہ طبعی مدت میں طبعی طریقے پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے بعد پھر حمل نہیں ٹھہرتا اس صورت کو one child setrlityکہتے ہیں ایسی صورت میں عموما چالیس سے پچاس فیصد واقعات میں بانجھ پن کا سبب مرد ہوا کرتے ہیں اس لئے عورتوں کا Investigationکرانے سے پہلے مردوں کا مکمل investigationکرایا جانا چاہئے ۔اس قسم کی مزید تین قسمیں ہیں ۔<p> </p>(۱) عضوی بانجھ پن:عضو تناسل میں کسی قسم کا نقص بوجہ جلق(مشت زنی)یا بچپن کی شادی ہونا،یا عضو مخصوص پر چوٹ لگ جانا ،خصیوں کاکمزور ہونا یا ان میں ورم آجانا یا پانی بھر جانا ،عضو مخصوص کا بہت چھوٹا ہونا ،مرض سوزاک یا آتشک کے زخموں کی وجہ سے اسپرم کا قطعی طور پر ضائع ہوجانا وغیرہ،<p> </p>(۲) علامتی بانجھ پن :دل ودماغ معدہ جگر،پھیپھڑا ،مثانہ وغیرہ کے امراض کا اعصاب و اعضائے جماعیہ کو کمزور کر دینا ،نامردی کے علاوہ کسی مرض کا علاج کراتے ہوئے اس مرض کی ادویات اصل مرض کو تو رفع کر دیتی ہیں مگر ساتھ ہی جنسی قوت پر برا اثر چھوڑ جاتی ہیں اسی طرح کھٹی چیزوں کا کثرت سے استعمال کرنا بھی بانجھ پن کی علامت پیدا کر دیتا ہے ۔منشیات مثلاًتمباکو،کوکین،شراب، چرس وغیرہ بھی بانجھ پن پیدا کرنے میں معاون ہوتی ہیں ۔قوت جماع کے حق میں دماغ کا بھی بڑا حصہ ہے دماغ ہی سے شہوانی بجلی کا تار عضو مخصوصہ کو متحرک کرتا ہے لہذا دماغی پر یشانی کمزوری بھی اکثر بانجھ پن کا سبب بن جاتے ہیں۔<p> </p>(۳)اعصابی بانجھ پن : <p> </p>جلق یا مشت زنی کی زیادتی سے اعصاب اس قدر کمزور ہو جاتے ہیں کہ اول تو شہوت کا خیال آنے پر عضو خاص میں کسی قسم کی حرکت نہیں ہوتی اور اگر اس میں انتشار ہو بھی جائے تو اعصاب جلد ہی تھک کر قابو اور ضبط چھوڑ دیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جماع مکمل ہونے سے پہلے ہی عضو خاص نرم پڑ جاتا ہے اور انزال ہو جاتا ہے اس کے علاوہ اس قسم میں ایسے افراد کا شمار بھی ہوتا ہے جو اس وہم میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ان کی جنسی قوت یا قوت باہ کم ہے مگر ان کے اسی شک یا وہم کا ان پر ایسا برا اثر ہوتا ہے کہ وہ سچ ہی کمی محسوس کرنے لگ جاتے ہیں ۔ایک صورت بانجھ پن کی یہ بھی ہوتی ہے کہ عورت زیادہ امیر گھرانہ کی یا بے حد حسین اورجسم میں مضبوط اور بہت ہی بارعب ہے تو ایسے میں مرد بوقت وظیفہ زوجیت گھبرا جاتا ہے جس سے عضو خاص میں آئی سختی بھی چلی جاتی ہے ۔اس کے متضاد عورت بدصورت ہے یا کسی وجہ سے اس سے نفرت ہوگئی ہے تو اس صورت میں دل و دماغ اس کے ساتھ جماع کرنے کی طرف رجوع نہیں کرتے بلکہ طبیعت اور خراب ہو جاتی ہے۔بانجھ مردوں کی طرح بانجھ عورتوں کی بھی کئی قسمیں ہیں ۔آیوروید شاستر میں اس کی کل اکیس قسمیں بیان کی جاتی ہیں ۔اداورتا،بندھیا،وپُلتا، واتلا ان پانچ قسموں میں بانجھ پن کا سبب بادی کا نقص ہوتا ہے ۔لوہتا ،کشرا،پر سنسنی ،دامنی، پترگھنی،پثلا،ان پانچ قسموں میں بانجھ پن کا سبب گرمی کا نقص ہوتا ہے ۔اتیا ۔اتیا نندا،کرنیکا،اتی چرنا ،آنند چرنا میں بانجھ پن کا سبب بلغم کی زیادتی یا غلبہ ہوتا ہے ۔ مندرجہ بالا تمام قسمیں قابل علاج ہیں البتہ آخری قسم یہ لاعلاج ہے اس قسم میں شامل عورتیں اپنے شوہروں کے لئے بڑی تکلیف دہ ثابت ہوتی ہیں یہ مزاج کی انتہائی سرد ہوتی ہیں اگر انہیں خاوندکی خوشی کے لئے وظیفہءزوجیت ادا کرنا پڑے تو نہ ہی انہیں کسی قسم کا لطف آتا ہے اور نہ ہی ان کے چہرے پر کسی قسم کے جذبات ہوتے ہیں ،اسباب کے لحاظ سے عورتوں میں بانجھ پن کی دو قسمیں ہیں،<p> </p>(۱) پیدائشی بانجھ پن:<p> </p>پردہ¿ بکارت (ہائمین)کا بہت سخت یا موٹا یا بالکل تنگ ہونا اس مرض کا ایک
سبب ہے پردہ¿ بکارت در اصل اندام نہانی کی لعاب دار جھلی کا ایک ہلالی شکل کا باریک پردہ ہے جو اندام نہانی کے سوراخ کے نچلے حصے پر واقع ہوتا ہے اور اسے مکمل طور پر بند رکھتا ہے اس کے درمیان کئی باریک سوراخ ہوتے ہیں جن سے خون حیض جاری ہوتا ہے یہ پردہ¿ عموماً پہلے جماع سے پھٹ جاتا ہے مگر بعض اوقات یہ نہیں بھی ہوتا اس لئے اس کو ہونا یا نہ ہونا دوشیزگی کی قطعی دلیل ہرگز نہیں ہو سکتی۔بعض اوقات اندام نہانی کی آخری حصے کی تنگی کی بھی اس مرض کا سبب ہوتی ہے یہ غشائی نالی ہوتی ہے اور بچہ کی پیدائش کے وقت یہ نالی اس قدر پھیل جاتی ہے کہ بچہ کا سراوردھڑ اس نالی سے باہر باآسانی گذر جاتا ہے ۔رحم کا پیدائشی طور پر نہ ہونا یا پھر سامنے یا پیچھے کی طرف گر جانا یا جھک جانا بھی بانجھ پن کا ایک اہم سبب ہے کیونکہ اس صورت میں اسے سرجری کے ذریعے الگ کیا جا سکتا ہے رحم میں ہی بچہ نو ماہ تک پرورش پاتا ہے رحم خالی ہونے کی صورت میں اسکی اگلی اور پچھلی دیواریں باہم ملی ہوتی ہیں ۔خصیتہ الرحم (اوو¿ریز)کا پیدائشی طور پر نہ ہونا بھی بانجھ پن کا ایک سبب ہے کیونکہ اس کے نہ ہونے یااس کی ساخت کی خرابی کی صورت میں عورت جماع کی طرف بالکل رغبت نہیں ہوتی اور نہ ہی انزالی تسکین ہوتی ہے ۔خصیتہ الرحم میں ہی عورت کا مادہ تولید تیار ہوتا ہے پھر جب اس مادہ کے ساتھ مرد کا نطفہ قدرتی طور پر ملتا ہے اور دیگر حالات موافق ہوتے ہیں تو بچہ بننے لگتا ہے یہ مادہ فلوپئین ٹیوب کی راہ رحم کے جوف کی طرف آتا ہے اس کے علاوہ خصیتہ الرحم کا دوسرا کام عورت کے جسم میں تندرستی ،خوبصورتی اور حیض کی باقاعدگی کو قائم رکھنا ہے پہلے دونوں کام جوانی کے آغاز سے ہی شروع ہوجاتے ہیں۔رحم کے منہ کا بالکل بند ہونا یا پیدائشی طور پر اس کا نہ ہونا یا اس کے منہ پر ایسی سخت چیزوں کا پیدا ہوجانا جو ازالہ¿ بکارت کے وقت بھی نہیں پھٹتی چنانچہ ایسی عورتوں کو حیض کے ابتداءمیں حیض کے اخراج کا راستہ نہ ہونے کی وجہ سے سخت قسم کادرد پیدا ہو جاہو جاتاہے اور عورت سخت مصیبت میں مبتلا ہو جاتی ہے نتیجہ میں بانجھ پنکی نمود ہوتی ہے ۔قاذفین(فلوپئین ٹیوب) کا نہ ہونا یا بہت زیادہ تنگ ہونا بھی اس مرض کا ایک سبب ہے در اصل یہ باریک نالیاں ہوتی ہیں جو مرد کی منی کو خصیتہ الرحم تک پہنچاتی ہے اس کی ساخت رحم کی ساخت کی مانند ہوتی ہے ۔<p> </p>(۲)غیر پیدئشی بانجھ پن :<p> </p>بعض عورتوں کا مزاج سرد ہوتا ہے جو کہ اس مرض کا سبب بنا کرتا ہے کیونکہ سردی (برودت) کی زیادتی سے رحم کثیف اور اس کی عرقیں تنگ ہو جاتی ہیں پھر عورت اور مرد کا نطفہ رحم میں داخل ہوتا ہے تو یہی برودت اس کے مزاج کو بگاڑ دیتی ہے ۔اسی طرح بعض عورتوں کے مزاج میں گرمی کا غلبہ ہوتا ہے یہ بھی نطفہ میں احتراقی (جلی)کیفیت پیدا کر دیتا ہے یہی حال خشک مزاج عورتوں کا ہے جس کے سبب نطفہ خشک ہو کر اس میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے ۔رحم کے اندر خراب رطوبت کا اجتماع بھی اس مرض کا ایک اہم اور وقتی سبب ہے کیونکہ یہی خراب رطوبت رحم کی رطوبات میں کھاراپن اور مزاج میں بگاڑ کا نتیجہ بنتی ہیں جسکی وجہ سے حمل نہیں ٹھہرتا۔کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بلغم ،سودا،صفرا اپنے اصلی مقام سے بہہ کر رحم میں آنے لگتے ہیں جس سے رحم کا مزاج تو خراب ہوتا ہی ہے منی بھی خراب ہو جاتی ہے ،موٹاپا بھی اس مرض کا ایک اہم سبب ہے کیونکہ چربی کی زیادتی رحم اور رحم کے منہ کو دبا دیتی ہے ساتھ ہی خون کی عروق مجاری پر بھی دباﺅ پڑتا ہے جس کے نتیجے میں ان کے طبعی افعال بگڑ جاتے ہیں ۔بہت زیادہ کمزوری اور لاغری بھی بانجھ پن کا سبب بن جایا کرتی ہے کیونکہ عورت کا اپنا جسم اپنی اصلاح اور جسمانی قوتوں کی بحالی کے لئے غذا میں اس قدر حصہ لے لیتا ہے کہ بچہ کی پرورش کے لئے فاضل بچتا ہی نہیں ۔بعض اوقات عمر کی زیادتی یا زیادہ عرصہ بعد مباشرت کرنے کی وجہ سے بھی یہ مرض لاحق ہو جاتا ہے ۔اس مرض کا ایک اہم سبب رحم یا رحم کے منہ پر کسی مرض کا پیدا ہونا یا ان میں سخت ورم یا مسہ کی مانند زائد گوشت کا پیدا ہو جانا ہے جس کی وجہ رحم کا منہ بند ہو جاتا ہے اور منی رحم تک نہیں پہنچ پاتی۔کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ نہایت خراب ریاح اور نفخ جنین کے غلاف اور رحم کے مقام اتصال کے درمیان حائل ہو جاتی ہیں جو کہ بانجھ پن کا سبب بنتی ہیں اسی طرح حیض کے خون کا یکا یک یا کسی مرض کی وجہ سے بند ہو جانا بھی بانجھ پن کا ایک سبب ہوتا ہے ۔بعض رحمی امراض جیسے میٹرائٹس ،سروسائٹیس،رحم کا کینسر ،ناسور،رحم کا چھوٹا ہونا یا اس میں پانی کا جمع ہوجانا ،تشنج وغیرہ بھی بانجھ پن کا سبب ہیں کیونکہ حمل اس وقت تک نہیں ٹھہرپاتا جب تک رحم صحیح نہ ہو اور اس کے افعال درست نہ ہوں۔وظیفہ¿ زوجیت کے بعد بیوی کا فورا کھڑے ہوجانا یا زور سے چھینکنا ،زور سے کودنا یا کسی سخت صدمے یا نفسیاتی تکلیف جیسے شدید رنج رنج وغم یا خوف وہراس یا جسمانی تکالیف جیسے رحم کی قوت ماسکہ کا کمزور ہونا یا بہت زیادہ بھوک لگنا جس سے ماں کی قوت جنین اس کی حفاظت پر قادر نہ رہے یا حمل ٹھہر جانے کے بعد کثرت سے وظیفہ ¿زوجیت انجام دینا جس سے سیال منویہ کو نقصان پہنچتا ہے وغیرہ بانجھ پن کے اسباب ہیں۔اس مرض میں خصوصا اونچے طبقے کی اور نازک مزاج عورتیں زیادہ متاثر ہوتی ہیں کیونکہ یہ خوف کی وجہ سے مباشرت کے دوران تعاون نہیں کرتیں اور ایک ساتھ رہنے کے باوجود بھی ان میں یہ صورت ایک لمبے عرصے تک قائم رہتی ہے ۔اس مرض کی سب سے ترقی یافتہ وجہ شادی کے فورا بعد مانع حمل کی گولیوں کا ط سے استعمال یا دیگر مانع حمل طریقے ہیں جن پر آج کل بڑی خوشی سے عمل کیا جاتا ہے مگر جب یہی مانع حمل طریقے اور دوائیں بے شمار نفسیاتی اور جسمانی بیماریوں کو جنم دیتی ہیں تو آنکھیں کھلتی ہیں کہ یہ کیا ہوگیا ؟اس تعلق سے مغرب کے طبی اور نفسیاتی ماہرین نے بہت کچھ کہا اور لکھا ہے۔چنانچہ ڈاکٹر ارسولڑسکوارس کہتے ہیں کہ”یہ ایک ثابت شدہ حیاتیاتی قانون ہے کہ جسم کا ہر عضو اپنا خاص وظیفہ انجام دینا چاہتا ہے اور اس کا کام پورا نہ کرنا چاہتا ہے جو فطرت نے اس کے سپرد کیا ہے اگر اسے اپنا کام کرنے سے روک دیا جائے تو لازماً الجھنیں اور مشکلات پیدا ہو کر رہتی ہیں ۔عورت کے جسم کا بڑا حصہ بنایا ہی گیا ہے استقرار حمل اورتولید کے لئے اگر ایک عورت کو اپنے جسمانی اور ذہنی نظام کا یہ تقاضہ پورا کرنے سے روک دیا جائے یا وہ خود اسے روکنا چاہے تو وہ اضمحلال اور اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگی۔“ڈاکٹر الیکز کارل لکھتے ہیں کہ”وظائف تولیدی کی انجام دہی عورت کی تکمیل کے لئے ناگزیر ہے یہ ایک احمقانہ فعل ہے کہ عورتوں کو تولید اورزچگی سے بر گشتہ کیا جائے ۔“آج کل عورتوں کی یہ سوچ ہو چکی ہے کہ اگر وہ زیادہ بچے پیدا کرتی ہیں تو ان کی خوبصورتی اور نازوادا مدھم پڑ جائیگی انہیں قائم رکھنے کے لئے وہ شروع سے ہی مانع حمل ادویات کا استعمال کرتی ہیں اور تاحیات خوبصورتی قائم رکھنے کے چکر میں بے شمار امراض کاشکار ہو جاتی ہیں یہ امرایہ امراض درج ذیل ہیں۔<p> </p>(۱)انجماد خون کی خطرناک بیماریاں جیسے Thtrombosis &Embolism(۲)رحم مادر کی جھلیوں کا ورم اور کینسر(۳)ایسی دوائیں جگر کے بعض ٹیومرز کے پھٹنے کاسبب بنتی ہیں۔(۴)ماہواری میں بے قاعدگی ۔(۵)پیٹ میں درد،الٹیاں،معدہ کا السرو غیرہ۔(۶)خون کی کمی ،سردرد اور پژمردگی۔(۷)عصبی ناہمواری،بے خوابی،پریشان خیالی اور مزاج میں چڑ چڑاپن۔(۸)دل و دماغ کی کمزوری (۹)ہاتھ اور پاﺅں کا سن ہو جانا۔(۱۰)کینیڈا میں کی گئی ریسرچ کے مطابق مانع حمل ادویات استعمال کرنے والی خواتین میں فالج کا تناسب ۵۷ فیصد ہے ۔(۱۱) سب سے بڑی بیماری جس نے معاشرے کو درہم برہم کر دیا ہے محفوظ بدکاری ہے۔<p> </p>علامات: حیض کا خون پتلا اور اسکی رنگت ہلکی ہوتی ہے نیز مقدار بھی کم ہوتی ہے حیض کا زمانہ دیر سے آتا ہے کمزوری زیادہ ہوتی ہے آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے سے پڑ جاتے ہیں ۔ایسی عورتیں جن کے مزاج میں گرمی ہوتی ہے ان کے پیڑو کے مقام پر بالوں کی کثرت ہوتی ہے اور حیض کے خون کی رنگت سیاہ ہوتی ہے نیز مقدار بھی کم ہوتی ہے ۔بعض عورتوں کے مزاج میں خشکی کا غلبہ ہوتا ہے ان میں اندام نہانی خشک چمڑہ کے مانند ہو جاتی ہے اسی طرح رطوبت کے غلبہ کی صورت میں رحم کے اندر سے ہمیشہ رطوبتیں بہتی رہتی ہیں پھر اس صورت میں اگر حمل ٹھہر بھی جائے تو اسقاط ہو جاتا ہے ۔موٹاپے کی صورت میں پیٹ بلند اور طبعی حالت سے برا ہوتا ہے چلنے پھرنے کے وقت سانس پھولنے لگتی ہے معمولی ریاح اور پاخانہ کے جمع ہو جانے سے پیٹ میں سخت تکلیف محسوس ہوتی ہے ۔رحم کے کسی ایک سمت میں جھکاﺅ کے نتیجے میں سخت درد ہتا ہے کیونکہ رحم کا جھکاﺅ کسی دوسرے سبب سے ہوتا ہے جس س رحم میں شدید درد ہو جاتا ہے۔<p> </p>مردوں میں بانجھ پن کے اسباب: مردوں میں اسباب کے لحاظ سے اس کی دو قسمیں ہیں<p> </p>(۱) پیدائشی بانجھ پن :خصیتین کا پیدائشی طور پر نہ ہونا مردوں میں اس مرض کی ایک اہم وجہ ہے کیونکہ خصیتین ہی میں منی پیدا ہوتی ہے اور یہی خزانہ منی بھی ہے بایاؓ خصیہ کس قدر دائیں خصیہ سے بڑا ہوتا ہے اور ہر خصیہ میں مسلسل حوینات منویہ بنتے رہتے ہیں بعض اوقات ایک خصیہ یا پھر دونوں خصیے پیٹ کے اندر گردوں کے نیچے ہوتے ہیں مگر اس صورت میں بھی اولاد پیدا ہو سکتی ہے ۔خصیوں کا دوسرا اہم کام مردانہ ہارمون پیدا کرنا ہے اگر یہ ہارمون کم ہوں تو لڑکا لڑکی کی طرح زنانی شکل کا نظر آتا ہے ۔منی کی نالی (واساڈ فریشیا) کا پیدائشی طور پر نہ ہونا بھی بانجھ پن کا سبب ہے ۔یہ دو نالیاں پیچ دار راستہ طے کرنے کے بعد سیمنل ویسیکل سے مل کر اجاکیولیٹری ڈکٹ میں تبدیل ہو جاتی ہیں ۔غیر پیدائشی بانجھ پن:مردوں میں اس مرض کا ایک اہم سبب منی کے مزاج کا خراب ہونا ہےخراب ہونا ہے جس سے اس میں تولید کی صلاحیت باقی نہیں رہتی یہ خرابی اس میں غیر معمولی گرمی ،تیزی ،ٹھنڈک،رطوبت و پتلا پن اور خشکی کی وجہ سے ہوتی ہے قضیب میں کسی قسم کی عارضی خرابی بھی اس مرض کا ایک اہم سبب ہے۔مختلف امراض جیسے آتشک سوزاک ،جوانی کے بعد ممپس میں مبتلا ہونا جس کے ساتھ خصیے بھی متورم ہو جائیں وائدر کا تعدیہ فوطوں کی چوٹ اور ٹی ۔بی بھی اس مرض کے اسباب میں سے ہیں ۔ہائیڈرو سل ،ویریکوسل،اور ذیابطیس کے مریضوں میں بھی اس مرض کی نمود ہو جاتی ہے اس کے علاوہ مباشرت کی زیادتی یا لمبے عرصے تک مباشرت سے پرہیز کرنے سے حوینات منویہ کی حرکت پر اثر پڑتا ہے جو کہ بانجھ پن کا موجب ہے ۔اس کا اہم سبب مشت زنی ہے ۔مشت زنی کی ابتدا افریقہ سے ہوئی اور اس کے بعد عرب ،مصر اور ہندوستان بلکہ دنیا ک مہذب اور غیر مہذب تمام ممالک میں یہ بدعادت کم و بیش موجود ہے اس فعل کی بدولت بہت سے خاندان تباہ ہوئے اور ہو رہے ہیں ۔اٹھتی ہوئی جوانی اپنے پورے جوش و خروش سے خون میں گردش کرتی ہے اور جنسی معلومات کی کمی اور نتائج کی ہولناکی سے نا جانکاری کی بنا پر جذبات کا یہ طوفان نوجوانوں کو ہاتھ سے مادہ خارج کرنے کی لعنت کی طرف لے جاتا ہے یہ ایسی ہی لعنت ہے کہ اگر عادت پڑ جائے تو کسی طرح نہیں چھوٹتی چونکہ ہاتھ میںایک خاص قسم کی سمیت ہوتی ہے چنانچہ اس فعل کی وجہ سے عضو خاص میں کجی پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے عورت ومرد کے بہترین تعلقات کو ایک ناگوار صدمہ پہنچتا ہے یہ ایسی ہی بری عادت ہے کہ اس کا اثر جسم کے اعضاءرئیسہ کے علاوہ ہر حصہ پر پڑتا ہے ایسے نوجوان جب ہمارے مطب میںآتے ہیں تو ان کے چہرے پر پژ مردگی کی علامت نمایاں ہوتی ہے آنکھوں میں جوش و جذبہ اور جستجو کی بجائے ویرانیت کا غلبہ ہوتا ہے رخساروں کی سرخی پر زردی کا غلبہ ہوتا ہے غرضیکہ یہ سر تا پا ندامت کا مجسمہ ہوتے ہیں۔ایسے اشخاص جو ایکس ر ے میں کھلے رہ کر کام کرتے ہیں یا کسی دوسرے طریقے سے شعاعوں سے ان کا واسطہ پڑتا ہے یا بہت زیادہ درجہ حرارت کی جگہ کام کرتے ہیں تو اس صورت میں منی بنانے والی Testicularساخت پر براہ راست اثر پڑتا ہے جو اس مرض کا سبب ہو سکتاہے اس لئے حتیٰ الامکان ریڈئشن سے بچنا چاہئے ۔دور جدید میں تکنالوجی نے انسان کی جنسی طاقت پر بہت منفی اثر ڈالا ہے چنانچہ لیپ ٹاپ،اور موبائل کے کثرت استعمال سے دوسرا نقصان یہ ہوتا ہے کہ جنسی لذت کی محرومی میاں بیوی میں کئی نفسیاتی الجھنیں پیدا کردیتی ہیں۔جذباتی صدمہ ،رنج و گم و غصہ کی زیادتی ،موٹاپا ،ہر نیا ،اور پیشاب کے سوزاک کا پیدائشی طور پر عضو مخصوص کی نچلی طرف ہونا اس مرض کے اسباب میں سے ہے ۔<p> </p>مردوں میں بانجھ پن علامت : <p> </p>مردوں میں منی میں گرمی و تیزی کے نتیجے میں منی کی رنگت زرد مقدار کم اور بہت تیز بو ہوتی ہے اسیطرح اگر منی میں برودت کی زیادتی ہے تو منی پتلی اور اس کی بہت زیادہ ہوگی بدن کی رنگت سفید مائل بہ زردی ہوگی ۔<p> </p>اصول علاج : ا گر عورت یا مرد کے اعضاءتناسل میں کوئی پیدائشی نقص ہے تو اس کا علاج نہیں ہے بقیہ دوسری صورتوں میں طب یونانی میں اس کا شافی علاج موجود ہے ۔واضح رہے کہ ایسے امراض کا علاج دنوں ہفتوں میں نہیں ہوا کرتا بلکہ مرض پرانا ہونے کی صورت میں 4to 6 ماہ بھی لگ سکتے ہیں علاج کے سلسلے میں مستقل مزاجی بہت ضروری ہے
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,401
پوائنٹ
562
یہ مضمون خالصتا" علم طب سے وابستہ افراد کے لئے لکھا گیا ہے۔ یہ کسی عوامی اوپن فورم کے قارئین یعنی عوام الناس کے لئے قطعی مفید نہیں ہے اور اس فورم کے مزاج سے تو قطعی غیر ہم آہنگ ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کسی میڈیکل کی کتاب یا فورم سے کاپی پیسٹ کرلیا گیا ہے۔ عوام الناس کے مفاد میں اس قسم کے علمی مضامین کو عام فہم زبان میں نئے سرے سے لکھ کر پیش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جس میں غیر ضروری اصطلاحات سے گریز کیا جائے اور مسئلہ کے بیان کے ساتھ ساتھ ایسے حل بھی بیان کئے جائیں، جس پر عوام از خود بھی عمل کرسکیں۔ اس احقر نے زولوجی کی تعلیم ماسٹر تک حاصل کی ہوئی ہے اور اس قسم کے ٹیکنیکل مضامین کو عوامی انداز میں تحریر کرتا رہا ہے۔ مثلا جب لندن میں 1979 میں پہلی ٹیسٹ ٹیوب بے بی پیدا ہوئی تو اردو اخبارات میں عجیب و غریب قسم کی خبریں شائع ہونے لگیں جو تیکنیکی طورپر غلط ہونے کے ساتھ ساتھ عام پڑھے لکھے عوام کے سر کے اوپر سے گذرنے لگیں تو احقر کا اس موضوع پر پاکستان میں پہلا باقاعدہ مضمون نوائے وقت میں شائع ہوا تھا، جو تیکنیکی طور پر بھی درست تھا اور عام فہم بھی۔
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,420
پوائنٹ
521
اسی پر ایک مضمون کچھ دن پہلے ڈاکٹر رابعہ خرم درانی نے لکھا اس پر بھی ایک نظر!

بانجھ پن، 15 باتیں جاننا بہت ضروری ہیں

بانجھ پن، 15 باتیں جاننا بہت ضروری ہیں
  • اس پر ہمیشہ میرا دل کڑھتا ہے کہ بچہ پیدا کرے عورت، زچگی کا درد سہے عورت!
  • بچے پیدا کرنے سے بچنا ہے تو فیملی پلاننگ کے لیے گنی پگ بنے عورت!
  • حمل ٹھہر گیا ، ضائع کروانے کے لیے بھی تکلیف اٹھائے عورت !
  • ابارشن کروا کر خدا کی بھی مجرم، قانون کی بھی مجرم اور ذہنی عذاب سہے عورت
  • بچہ نہیں ہو رہا تو قصور وار کون؟ پھر وہی عورت!
ہند و پاک معاشرے میں بانجھ کا لقب عورت کے لیے مخصوص کردیا گیا ہے جوقطعی غلط ہے۔ اگر مرد بانجھ ہو تب بھی معاشرے کو یہی بتایا جائے گا کہ عورت بانجھ ہے اور مرد اس کی محبت میں دوسری شادی نہیں کر رہا۔ اس کیس میں بھی عظمت کا تاج مرد کے سر پر سجا دیا جاتا ہے۔ اگر بانجھ مرد مزید شادی بھی کر لے تب بھی تشخیص اور علاج کے نام پر عموماً قربانی کا جانور عورت ہی کو بنایا جاتا ہے۔

ایک مزیدار لطیفہ ’دبئی انفرٹیلیٹی سنڈروم‘ بھی پڑھ لیجئے۔ شوہر شادی کے دس پندرہ روز بعد ملازمت کے لیے بیرون ملک چلا جاتا ہے۔ بہو سسرال میں اجنبی رشتوں میں دن گزار رہی ہوتی ہے۔ شوہر کو کبھی ویزہ نہیں ملتا تو کبھی ملک کا چکر لگانے کے لیے رقم کا انتظام نہیں اور کبھی نوکری سے رخصت نہیں۔ اس دوران شوہر مرد ہونے کی وجہ سے کم از کم ایک امتحان سے بچا رہتا ہے یعنی ’’اتنے سال گزر گئے بچہ نہیں ہوا؟‘‘ کا جملہ سننے سے۔ بہو، سسرال اور معاشرہ شادی کے سال گنتے ہیں جبکہ شادی وہی شروع کے دس پندرہ دن رہی جو دعوتوں میں گزر گئے۔ حمل ٹھہرگیا تو عورت بخشی گئی، نہیں ٹھہرا تو ایک ایسے کولہو میں پلوا دی جائے گی جس سے اس کی امنگوں کا تیل نکلے تو نکلے، ایسے میں بچہ کہاں سے آئے!

٭ جب بھی ایسی خاتون اپنی ساس کے ساتھ حمل کے لیے دوا لینے آتی ہے تو سب سے پہلے میں ساس کو باکردار، صابرہ بہو ملنے کی مبارک دیتی ہوں۔ پھر شوہر اور بیوی کے ساتھ رہنے کا وقت گنتی ہوں جو عموماً ایک سال کے وقفے سے پندرہ دن یا دو سال کے وقفے کے بعد دو یا تین ماہ کا ہوتا ہے۔ شادی کا عرصہ برسوں پر محیط ہو تب بھی حمل ٹھہرنے کا ممکنہ وقفہ ان گنے چنے دنوں پر محیط ہوتا ہے جو معاشرے اور سماج سے چرا کر میاں بیوی ساتھ گزار لیتے ہیں۔

حمل کب ٹھہرتا ہے؟

٭ عورت کے تولیدی نظام کا سیٹ اپ ایسا ہے کہ ایک تاریخ سے دوسری تاریخ تک کے درمیانی 28 سے 30 روز میں سے کسی ایک دن انڈہ خارج ہوتا ہے۔ یہ دن عموماً اگلی ممکنہ تاریخ سے ٹھیک چودہ دن پہلے ہوتا ہے۔ یہ انڈہ بارہ سے چوبیس گھنٹے کے لیے نظام تولید میں زندہ رہتا ہے جس کے بعد گر جاتا/ ضائع ہو جاتا ہے۔ اگر کسی بھی وجہ سے ان چوبیس گھنٹے میں زوجین کے مابین دوری قائم رہے تو باقی تمام ماہ میں حمل ہونے کا امکان تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ ہر ماہ میں ایک خاص دن کے چوبیس گھنٹے یعنی ’صرف ایک مکمل دن‘ جو حمل کے لیے موزوں ہے، اسے ذہن میں رکھیں تو عورت کے حساب سے ایک سال میں صرف بارہ دن حمل کے لیے موزوں ہوتے ہیں۔

٭ مرد کے تولیدی جراثیم زنانہ نظام تولید میں چند منٹ سے لے کر پانچ دن تک زندہ رہ سکتے ہیں، یعنی رحم میں جرثومے کی زیادہ سے زیادہ عمر پانچ روز ہے۔ مختلف تحقیقات سے ثابت ہوا کہ زیادہ تر حمل انڈے کے اخراج سے ایک سے دو روز پہلے کیے گئے ملاپ کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اس تحقیق میں شامل چند حمل ایسے بھی تھے جو انڈے کے اخراج سے پانچ روز پہلے کے ملاپ کے نتیجے میں وقع پذیر ہوئے۔ جرثومے کی پانچ روزہ زندگی میں ان جراثیم نے اندام نہانی، رحم کی لمبی گردن، رحم اور فیلوپئین ٹیوبز سے انڈے دانی اور انڈے سے ملاپ کے بعد ٹیوبز کے رستے واپس رحم تک کا سفر بھی طے کرنا ہوتا ہے۔

٭ اسی طرح خاتون کے انڈے خارج ہونے کا دن ہمیشہ سوفیصد درستگی سے بتانا ممکن نہیں ہوتا، اس لئے اسے بھی احتیاطاً ممکنہ دن سے ایک دن پہلے اور ایک دن بعد تک سمجھ لیجیے یعنی ان مخصوص 24 گھنٹوں کو مزید 48 گھنٹے کے حفاظتی حصار میں لے آئیے تاکہ حمل کا چانس مس نہ ہو۔ سائنس اس وقفے کو زرخیزی کی کھڑکی یا ’فرٹیلیٹی ونڈو‘ کہتی ہے اور اس کا قطعی وقت بیضے کے اخراج سے پہلے کے 12 سے 36 گھنٹے مانتی ہے۔ اب اس مخصوص وقفے میں حمل کا خواہشمند جوڑا کوئی پکنک یا دعوت قبول نہ کرے یعنی گھر پر رہے اور حمل کی خواہش نہ رکھنے والے زوجین ان مخصوص دنوں میں خاص پرہیز رکھیں۔ مردانہ جراثیم کی زنانہ نظام تولید میں 5 روز کی ممکنہ زندگی کے پیش نظر حمل کے لیے مفید تین روز سے بھی 5 دن کا فاصلہ رکھیں۔ اس طرح کے بچاؤ سے زوجین میں سے ہر دو کا کسی بھی تکلیف دہ اور مضر صحت مانع حمل ادویات اور سرجریز سے بچاؤ ممکن ہے۔

٭ میں اپنی مریضہ کو ہمیشہ علاج کے آغاز میں ایک تین لفظی موٹو لکھ کر دیتی ہوں’ صبر، حوصلہ، تعاون‘۔ ہر ماہ جب امید بندھ کر ٹوٹ جائے تو صبر کیجیے، حوصلے سے کام لیتے ہوئے علاج جاری رکھیے اور ڈاکٹر سے دوران علاج مکمل تعاون کیجیے۔ وہ ساس جو پوتے کھلانے کی خواہشمند ہے وہ دل بڑا کرے، بیٹا آپ ہی کا ہے، بیوی پا کر ان شاء اللہ بدلے گا نہیں۔ پوتا چاہیے تو بہو کو شوہر کے پاس بھجوانے کا انتظام کریں ، غیرضروری ٹیسٹوں اور علاج سے اس نئے نویلے جوڑے کو بچائیں اور دعائیں سمیٹیں۔ ہاں! اگر ایک نیا شادی شدہ جوڑا ایک سال کا عرصہ بنا کسی دوری کے، ایک ساتھ گزارتا ہے لیکن حمل قرار نہیں پاتا، ایسی صورت میں اس جوڑے کے فریقین کو گائناکالوجسٹ سے مشورہ کرنا چاہیے اور ابتدائی ضروری ٹیسٹ کروا لینے چاہیں۔ اگر دونوں کے ٹیسٹس درست آئیں تو کسی علاج اور ٹینشن کے بنا مزید ایک سال کا ہنی مون پریڈ مزید گزاریں۔

اس دوران اگر حمل نہیں ٹھہرتا تو اب وقت ہے کہ ’اسپیشلائزڈ‘ ٹیسٹس کرائے جائیں اور باقاعدہ تشخیص کے بعد متعلقہ کمی/ کمزوری/ بیماری کا علاج کیا جائے۔ یاد رہے کہ میں یہ تمام ٹائم پریڈ ایک نوجوان جوڑے کو ذہن میں رکھتے ہوئے بتا رہی ہوں۔ اگر فریقین میں سے ایک کی یا دونوں کی شادی لیٹ عمر میں ہوئی ہے یا دونوں میں سے کسی ایک یا دونوں کا اس شادی سے پہلے پچھلی شادی میں حمل ہونے یا نہ ہونے کا تجربہ موجود ہے یا آپ کے خاندان خصوصاً بہن بھائیوں میں بانجھ پن موجود ہے تو ایسی صورت میں جوڑے کا وقت قیمتی ہے، اسے ضائع ہونے سے بچایے۔ جلد از جلد اسپیشلسٹ گائناکالوجسٹ سے رابطہ کیجیے۔


٭ یاد رکھیے! بانجھ پن کے علاج کے آغاز میں ڈاکٹر زوجین کا ایک انٹرویو کرتا ہے جس میں جوڑے کی ازدواجی روٹین اور طریق کار کا جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر طریقہ علاج طے کیا جاتا ہے۔ بہت سے جوڑوں میں بانجھ پن کی کوئی وجہ تشخیص نہیں کی جا سکتی۔ ایسے جوڑے کے مسئلے کو غیر واضح بانجھ پن ( unexplained infertility ) کہا جاتا ہے۔ بانجھ پن کا علاج مہنگا، طویل اور بسا اوقات تکلیف دہ ہوتا ہے اور آخر میں اس علاج کی کامیابی کی کوئی گارنٹی بھی نہیں دی جا سکتی۔

مرد کے ٹیسٹ

٭ مرد کی زرخیزی کے لیے ضروری ہے کہ اس کے خصیے مناسب مقدار میں صحت مند تولیدی خلیے پیدا کر رہے ہوں اور یہ خلیے کارگر طور پر اندام نہانی میں داخل کیے جائیں جہاں سے یہ بیضے تک کا سفر اچھے طریقے سے مکمل کر سکیں۔ مرد کے تمام تر ٹیسٹ اس سارے عمل کے دوران درپیش کسی بھی رکاوٹ اور مشکل کی جانچ کے لیے کیے جاتے ہیں۔ عمومی طبی معائنے اور تولیدی اعضاء کی جانچ کے بعد مندرجہ ذیل ٹیسٹ کیے جاتے ہیں:

  1. مادہ منویہ کی جانچ: ایک مرد سے 1 سے 2 مختلف اوقات میں حاصل شدہ نمونوں کی جانچ کی جاتی ہے۔ نمونے کے حصول کا طریقہ متعلقہ ڈاکٹر یا لیب اسسٹنٹ سمجھاتا ہے۔ مخصوص حالات میں پیشاب میں منی کی موجودگی کی پڑتال بھی کی جا سکتی ہے۔
  2. ہارمون ٹیسٹ: خون کے معائنے سے مختلف مردانہ ہارمونز مثلاً ٹیسٹوسٹیرون اور دیگر مثلاً تھائیرائڈ ، پرولیکٹن یا ایل ایچ وغیرہ کی مقدار معلوم کی جاتی ہے تاکہ کسی کمی بیشی کو دور کیا جا سکے۔
  3. جینیاتی ٹیسٹ: یہ دیکھا جاتا ہے کہ کہیں بانجھ پن کسی موروثی مرض کا شاخسانہ تو نہیں۔
  4. خصیے کی بائیوپسی: چنیدہ کیسز میں خصیے کی کچھ حصے کا نمونہ بذریعہ سرجری حاصل کیا جاتا ہے تاکہ نہ صرف بانجھ پن کی تشخیص کی جا سکے بلکہ خصیے میں موجود زندہ تولیدی خلیے حاصل اور محفوظ / فریز کیے جا سکیں جنہیں بعد میں اسسٹڈ ری پروڈکشن مثلا ٹیسٹ ٹیوب میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
  5. امیجنگ اسٹڈیز: کچھ خاص کیسوں میں دماغ کی ایم آر آئی، کھوپڑی کا ایکسرے (پرانا طریقہ) ، بون منرل ڈینسٹی ، سکروٹل (خصیہ دانی کا) الٹرا ساؤنڈ یا واس ڈیفرنس (خصیے کی رگوں) میں رکاوٹ جانچنے کا ٹیسٹ کروایا جاتا ہے۔
  6. مزید خصوصی ٹیسٹ: انتہائی خاص کیسز میں چند مخصوص ٹیسٹ بھی کرائے جا سکتے ہیں مثلاً تولیدی خلیے کی صحت اور کوالٹی چیک کرنے کے لیے یا ڈی این اے میں کوئی ایبنارمیلٹی کنفرم کرنے کے لیے۔

٭ عورت کی زرخیزی و بارآوری کا دارومدار اس حقیقت پر ہے کہ اس کی بیضہ دانیاں صحت مند بیضے پیدا کریں۔ اس کا تولیدی نظام اس انڈے کو بیضہ نالیوں سے گزرنے اور مردانہ خلیے سے ملنے کی سہولت مہیا کرے، بارآور انڈہ ٹیوب سے رحم تک جانے اور رحم کی اندرونی جھلی سے چپکنے کے لیے آزاد ہو، عورت کے ٹیسٹ اسی عمل میں موجود کسی بھی رکاوٹ یا مشکل کو جانچنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ عمومی طبی معائنے اور گائناکالوجیکل معائنے کے بعد کیے جانے والے ٹیسٹ یہ ہیں:
  1. انڈے کے اخراج کی جانچ: خون کے معائنے سے ہارمونز کی مقدار معلوم کی جاتی ہے تاکہ پتا چلایا جا سکے کہ مناسب مقدار میں انڈے بن اور خارج ہو رہے ہیں یا نہیں۔
  2. ٹیوبز کا ٹیسٹ: یہ ٹیسٹ جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے رحم اور اس سے ملحقہ ٹیوبز کی شکل صورت اور ان میں موجود کسی رکاوٹ یا خرابی کا پتا چلانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس ٹیسٹ میں ایک دوا/کنٹراسٹ (جو سیاہ ایکسرے پر سفید رنگ کی تصویر بناتی ہے) استعمال کی جاتی ہے۔ یہ دوا ایک نرم لچکدار نالی کے زریعے رحم میں داخل کی جاتی ہے، اس دوران ایکسرے یا فلوروسکوپی کی جاتی ہے۔ فلوروسکوپی یا سیلائن انفیوژن سونوگرافی کا آج کل زیادہ شہرہ ہے جس میں کنٹراسٹ کی بجائے نارمل سیلائن اور ایکسرے کی بجائے فلوروسکوپی یا الٹراساونڈ کیا جاتا ہے۔ ان تمام صورتوں میں دوا رحم سے گزر کر ٹیوب کے زریعے پیٹ میں جا گرتی ہے جہاں یہ قدرتی طور پر جذب ہو جاتی ہے اور نقصان دہ نہیں۔ اس سارے عمل کے دوران رحم میں موجود رسولی یا ٹیوب میں رکاوٹ واضح طور پر ظاہر ہو جاتی ہے۔ ٹیوب بلاک ہونے کی صورت میں دوا آگے نہیں جاتی بلکہ واپس آنا شروع کر دیتی ہے۔
  3. اوویرین ریورس ٹیسٹنگ: اس ٹیسٹ کے ذریعے بیضہ دانی میں موجود قابل اخراج بیضوں کا معیار اور مقدار جانچی جاتی ہے۔ یہ ٹیسٹ ہارمون ٹیسٹ کے ساتھ مہینے کے آغاز میں ہی کر لیا جاتا ہے۔
  4. ہارمون ٹیسٹ: انڈوں کی پرورش اور پیدائش کو کنٹرول کرنے والے ہارمونز کے ساتھ ساتھ نظام تولید کو کنٹرول کرنے والے پیچوٹری ہارمونز کو پرکھا جاتا ہے۔
  5. امیجنگ ٹیسٹ: اندرونی الٹرا ساؤنڈ کے زریعے رحم بیضہ دانی اور ٹیوبز کی صورتحال دیکھی جاتی ہے۔ ہیسٹیرو سونوگرافی میں ایک کیمرے کے ذریعے رحم اور ٹیوب کے اندرونی خلا کا باریکی سے معائنہ کیا جاتا ہے جو عام الٹراساؤنڈ سے ممکن نہیں۔ خصوصی حالات میں ہسٹیرو سکوپی، لیپروسکوپی اور جینیاتی جانچ بھی کی جا سکتی ہے۔
ہر مریض کو ہر ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آپ اور آپ کا معالج باہم مشورے سے فیصلہ کرتے ہیں کہ کون سا ٹیسٹ کب کروایا جانا چاہیے۔


علاج
٭ بانجھ پن کے علاج کا دارومدار مندرجہ ذیل چار نکات پر ہے:
  1. بانجھ پن کی وجہ کیا ہے؟
  2. بانجھ پن کا دورانیہ کتنا ہے؟
  3. زوجین کی عمر کتنی ہے؟
  4. زوجین کی ذاتی خواہش کیا ہے؟

یاد رکھیے! بانجھ پن کی کچھ وجوہات ناقابل علاج ہیں جب بھی بنا علاج کے خودبخود حمل نہیں ٹھہرتا تب مدد لی جانا چاہیے۔ بانجھ پن کا علاج معاشی، جسمانی اور نفسیاتی طور پر مشکل اور مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔ نیز دوران علاج زوجین کے وقت ، عزم اور بلند حوصلہ کی بے حد اہمیت ہے۔

مرد کا علاج

٭ مرد کے علاج میں ازدواجی تعلق سے متعلق مشکلات کا حل اور مردانہ تولیدی خلیوں کی کمزوری کا علاج کیا جاتا ہے۔


  1. لائف اسٹائل تبدیل کریں: زندگی کے معمول کا جائزہ لیجیے۔ اسے بہتر بنانے سے بانجھ پن پر قابو پانا آسان ہو جاتا ہے مثلاً غیر ضروری ادویات و منشیات کا استعمال ترک کر دیں، مضر صحت اشیا مثلاً اسگریٹ اور انرجی ڈرنک سے پرہیز کیجیے، پابندی سے کھلی فضا میں ورزش اور چہل قدمی معمول بنایے، زوجین کی قربت میں اضافہ اور وقت کی بہتری (ہفتے میں 2 سے 3 بار ) ، ایسی عادات سے پرہیز جو زرخیزی میں کمی کا باعث ہوں۔ مثلا ًبسیار خوری، موٹاپا، رات دیر تک جاگنا، سموکنگ ڈرنکنگ وغیرہ۔
  2. ادویات: ایسی ادویات موجود ہیں جو تولیدی جرثومہ کی مقدار اور معیار میں بہتری لاتی ہیں اور خصیے کی کارکردگی بڑھاتی ہیں۔ آپ کا معالج آپ کی تشخیص کے مطابق ایک یا زیادہ ادویات تجویز کرتا ہے۔
  3. سرجری: چند کیسز میں سرجری کے زریعے سپرم کے بہاؤ میں رکاوٹ دور کر دی جاتی ہے یا پیشاب میں سپرم کا اخراج کنٹرول کر لیا جاتا ہے۔
  4. سپرم ری ٹریول (تولیدی خلیوں کا حصول): سپرم کے اخراج میں رکاوٹ یا مادہ منویہ میں سپرم بے حد کم تعداد میں ہوں تو مرد کے خصیہ سے سپرم حاصل کیے جاتے ہیں۔ عموماً یہ سپرم اسسٹڈ ری پروڈکشن میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ اسسٹڈ ری پروڈکشن کے لیے ایسے مرد مریض جن میں سپرم کی مقدار بہت کم ہو ان کے دو سے تین نمونے مناسب وقفے سے حاصل کر کے فریز کر لیے جائیں۔ جس روز پروسیجر کرنا ہو ان تمام نمونوں کو ملا کر ان نمونوں سے بہتر مقدار میں سپرم حاصل کیے جا سکتے ہیں ، اس طرح اس کمی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

خاتون کا علاج
٭ عموماً ایک مریضہ کو ایک سے دو طریقہ علاج کی ضرورت پڑتی ہے لیکن کبھی کبھار کسی خاتون مریض میں مثبت نتیجے کے لیے مختلف تکانیک استعمال کی جاتی ہیں۔


  1. بیض ریزی کی ادویات: بانجھ پن کی ادویات ان خواتین کے لیے تیار کی جاتی ہیں جن میں انڈے کی تیاری یا اخراج میں مسائل درپیش ہوں۔ یہ ادویات انڈہ بننے (بیض ریزی) کے عمل کو مہمیز دیتی اور ریگولیٹ کرتی ہیں اور اس کے اخراج کو یقینی بناتی ہیں۔ علاج کے آغاز سے پہلے اپنے معالج سے ان ادویات کے استعمال اور فوائد و نقصانات پر گفتگو کرلی جائے تو بہتر ہے۔
  2. دوسرے نمبر پر آتا ہے IUI / IUTPI. ، رحم کے اندر سیمن پہنچانا یا رحم کے اندر پیٹ کی جھلی تک سیمن پہنچانا۔ اس طریق علاج میں صحت مند جرثومے سیدھے سبھاؤ مریض کے رحم میں داخل کر دیے جاتے ہیں۔ اس طریقہ علاج کا فائدہ ایسی خواتین کو ہے جن کے اندام نہانی میں موجود مائعات سپرم کش ثابت ہوتے ہیں یا جن کے شوہر کا سپرم کاؤنٹ (جراثیم کی مقدار) بہت کم ہے۔ اس پروسیجر کے لیے ایسے وقت کا انتخاب کیا جاتا ہے جب انڈے خارج ہونے کا وقت قریب ہو یعنی زرخیزی کی کھڑکی کے دوران ( 12 سے 36 گھنٹے انڈہ خارج ہونے یا ایل ایچ سرج سے پہلے )۔ مریضہ کی بانجھ پن کی وجوہات ذہن میں رکھتے ہوئے اس کی بیض ریزی کا وقت اور IUI /IUTPI کرنے کا وقت مریضہ کے روٹین ماہانہ نظام سے یا زرخیزی بڑھانے والی ادویات سے متعین کیا جا سکتا ہے۔
  3. سرجری: رحم میں موجود رسولی پردے یا کسی قسم کے زخم کا علاج بذریعہ کیمرہ (ہسٹیرو سکوپ یا لیپروسکوپ)۔
  4. اسسٹڈ ریپروڈکشن ٹیکنالوجی: اس میں ہر وہ طریقہ علاج شامل ہے جس میں سپرم اور بیضے کو جسم سے باہر ہینڈل کیا جاتا ہے۔ اے آر ٹی کی ٹیم میں فزیشن، ماہر نفسیات، ایمبریالوجسٹ، لیب ٹیکنیشن، نرسز اور متعلقہ شعبے کا ٹرینڈ اسٹاف شامل ہوتے ہیں جو ایک ساتھ کام کر کے ایک بانجھ جوڑے کو اولاد کے حصول میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ آئی وی ایف یا ٹیسٹ ٹیوب بے بی سب سے مشہور ہے۔ اس میں بیوی کی بیضہ دانی سے ادویات کے ذریعے زیادہ مقدار میں انڈے حاصل کیے جاتے ہیں، ان انڈوں کو شوہر کے جرثومے کے ساتھ ایک لیبارٹری ڈش میں ملایا جاتا ہے۔ بارآوری کے 3 سے 5 روز بعد اس بارآور انڈے کو رحم میں رکھ دیا جاتا ہے۔ یہ 3 سے 5 روز کا وقفہ بارآوری کی کامیابی کنفرم کرنے کے لیے ازبس ضروری ہے۔

آئی وی ایف کے دوران استعمال کی جانے والی دیگر تکانیک میں پہلی اکسی (icsi ) ہے۔ اس تکنیک میں ایک صحت مند جرثومے کو ایک میچور انڈے میں انجیکٹ کردیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ ایسے جوڑے کے لیے مفید ہے جہاں مادہ منویہ کی مقدار یا معیار کم ہے مثلا ًسست جرثومے کا کیس یا جس جوڑے میں روٹین آئی وی ایف ناکام ہو چکی ہو۔

دوسرے نمبر پر اسسٹڈ ہیچنگ ہے اس تکنیک میں بارآور انڈے کی بیرونی جھلی کھول کر (ہیچنگ ،انڈے نکالنا) اسے رحم کی جھلی کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔

تیسرے نمبر پر ڈونر بیضہ یا سپرم کا استعمال کیا جاتا ہے لیکن یہ تکنیک پاکستان میں صرف ایک خاوند کی دو بیویوں کی صورت میں استعمال کی جا سکتی ہے جس میں بانجھ بیوی کو صحت مند بیوی اپنا انڈہ دینے پر رضامند ہو جائے۔ یہ طریقہ مغرب میں عام مستعمل ہے اور اس کے ذریعے مکمل بانجھ مرد و زن جن کے سپرم یا بیضے میں شدید خرابی موجود ہو وہ اپنی کمی دور کر رہے ہیں۔ اس طریقے میں ڈونر سے انڈہ سپرم یا ایمبریو (بارآور انڈہ)حاصل کیا جاتا ہے اور ریسیپئینٹ کے رحم میں رکھ دیا جاتا ہے۔

چوتھے نمبر پر حمل کیرئیر کا نمبر آتا ہے۔ فرض کریں ایسی خاتون جس کا انڈہ مکمل طور پر صحت مند ہے لیکن اس کے رحم میں ایسا مسئلہ ہے کہ رحم، حمل ٹھہرانے کے لیے مناسب نہ ہو یا حمل کا ٹھہرنا اس خاتون کی زندگی کے لیے خطرناک ہو۔ ایسی خاتون ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے اپنے شوہر سے بارآور اپنے انڈے / حمل کو ایک کیرئیر خاتون میں رکھوا سکتی ہے۔ یہ طریقہ بھی پاکستان میں مستعمل نہیں۔ مغرب میں بانجھ جوڑے، معمر بے اولاد جوڑے اور ہم جنس پرست اس طریقے سے اولاد حاصل کر رہے ہیں۔

علاج کی پیچیدگیاں

٭ بانجھ پن کے علاج میں درج ذیل پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے:

ایک سے زیادہ حمل ٹھہرنا: یہ سب سے عام اور خوبصورت پیچیدگی ہے۔ خوبصورت اس لیے کہ ایک کی کوشش کرتے کرتے دو یا تین یا زیادہ بچے یک مشت جھولی میں آ جائیں۔ عموماً ایک حمل میں جتنے زیادہ بچے ہوں گے وقت سے پہلے پیدائش کا خطرہ اتنا بڑھتا چلا جائے گا۔ اسی طرح دوران حمل ہونے والی بیماریوں مثلاً شوگر کا خطرہ بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچے کی صحت اور زندگی کو بھی مختلف اور شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ علاج سے پہلے ڈاکٹر سے بات کیجیے کہ کس طرح ایک سے زیادہ حمل ٹھہرنے سے بچا جا سکتا ہے۔


انڈہ دانی کی شدید بیض ریزی کی بیماری (OHSS ): بانجھ پن کے علاج میں دی جانے والی ادویات انڈہ بننے کا عمل تیز کرتی ہیں ان سے او ایچ ایس ایس ہو سکتی ہے۔ اس میں بیضہ دانیاں سوج جاتی ہیں اور دکھنے لگتی ہیں۔ پیٹ میں ہلکا درد، پیٹ کا پھولنا، متلی ہونا اس کی علامات ہوتی ہیں جو ایک ہفتے تک رہ سکتی ہیں۔ حمل قرار پانے کی صورت میں یہ مسائل زیادہ عرصے تک جاری رہتے ہیں۔ شدید پیچیدگی میں پیٹ تیزی سے پھولتا ہے، وزن بڑھتا ہے اور سانس اکھڑنے لگتا ہے۔انتہائی صورت میں موت تک واقع ہو سکتی ہے۔ یہ ایمرجنسی صورتحال ہے اور ایمرجنسی اقدامات کی متقاضی ہے۔

خون کا ضیاع یا انفیکشن: کسی بھی قسم کے سرجیکل پروسیجر کے بعد ہو سکنے والی عام پیچیدگی کا کچھ فی صد چانس یہاں بھی موجود ہے۔


٭ یاد رکھیں! دودھ پلانے کے دوران انڈہ بننے کا عمل سست ہو سکتا ہے اور مکمل طور پر رک بھی سکتا ہے۔ خصوصاً جتنا عرصہ شیر خوار اپنی مکمل خوراک والد سے حاصل کر رہا ہوتا ہے۔ اس دوران عموما خاتون کا ماہانہ نظام بھی جاری نہیں ہوتا۔ بڑی بوڑھی خواتین فیملی پلاننگ سے ناآشنا تھیں لیکن اولاد کو اپنا دودھ پلانا ایمان کی طرح عزیز جانتی تھیں۔ غور کریں تو ان میں سے اکثر کی اولاد میں دو دو سال کا وقفہ نظر آئے گا۔ ایسا دودھ پلانے کے دوران انڈہ بننے کے عمل میں رکاوٹ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس لئے دودھ پلانے والی خاتون اگر اگلا حمل چاہے اور اس میں کامیاب نہ ہو تو اسے دودھ چھڑانے سے متعلق مشورہ لینا چاہیے۔ اگر رضاعت کے دوران ماہانہ نظام جاری ہو جائے تو قدرتی طور پر حمل کا چانس بڑھ جاتا ہے۔

٭ اگر ایک خاتون کے بچے اوپر تلے ضائع ہو رہے ہیں تب بھی وہ بانجھ نہیں۔ کھیتی میں ڈالا جانے والا بیج کمزور ہے یا کھیتی میں بیج کی پرورش کے لیے ضروری اجزا (خوراک و نمکیات ) کی کمی ہے یا اس کھیتی میں پتھر (رسولی) زیادہ ہیں جو بیج کو جڑ پکڑنے نہیں دیتے۔ براہ کرم ایسے جوڑے کا علاج کروایے، انہیں بانجھ ڈکلیئر مت کیجیے۔ عموماً دیکھتی ہوں کہ سسرال کا حمل کے لیے دباؤ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ زوجین ایک دوسرے سے ملاقات خوشی کے تحت نہیں امید و بیم اور خوف و اضطراب کی کیفیت میں کرتے ہیں۔ اسٹریس، جسمانی تکلیف کا ہو یا ذہنی، یہ خاتون کے انڈے کے بننے اور اخراج کے عمل میں منفی کردار ادا کرتے ہوئے رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ ذہنی دباؤ میں قریب ہونے والے جوڑے کے حمل کے امکانات بنا دباؤ کے خوش حال جوڑے کی نسبت کم ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں شوہر کا کردار اہم ہے۔ اس کا دیا دلاسہ بیوی کو ذہنی و جذباتی دباؤ سے نجات دلاتا ہے۔ اسی طرح جب معالج معائنے اور ٹیسٹ کے بعد زوجین کو مکمل صحت مند ہونے کا اعتماد دیتا ہے تب بنا کسی دوا کے کچھ ہی عرصے میں ان زوجین کو خوشخبری پاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ خاندانی اور معاشرتی دباؤ سے ایسے متاثرہ جوڑے کو بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

٭ دوا کے ساتھ ساتھ دعا کا اہتمام بھی رکھیے۔ رزق صرف رازق کے ہاتھ میں ہے اور اولاد بھی ایک طرح کا رزق ہی ہے۔

’’
جسے چاہے (صرف ) بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہے (صرف ) بیٹے عطا کرتا ہے یا انہیں بیٹیاں اور بیٹے ملا کر دیتا ہے اور جسے چاہے بے اولاد رکھتا ہے۔ بے شک وہ خوب جاننے والا ، بہت قدرت والا ہے‘‘۔(القرآن)


اللہ کریم سے رابطہ استوار رکھیے جو حضرت زکریا علیہ السلام کو بڑھاپے میں حضرت یحییٰ علیہ السلام سے نواز سکتا ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور بی بی ہاجرہ کو ناامید نہیں رکھتا بلکہ اسمعیل سا فرزند عطا فرماتا ہے وہ آپ کو بھی مایوس نہیں کرے گا۔ بس! اپنا رابطہ رب العزت سے کمزور نہ پڑنے دیں۔

بانجھ پن کا عالمی منظرنامہ

بانجھ پن کہتے کسے ہیں؟ اس کی شرح کیا ہے؟ زوجین میں سے کس کے سر پر بانجھ پن کا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟ بانجھ پن تولیدی نظام کی ایسی بیماری ہے جس کے نتیجے میں ایک جوڑا 12 ماہ کی ازدواجی زندگی میں، ایک دوسرے کی ہمراہی میں وقت گزارنے کے باوجود (خاندانی منصوبہ بندی کئے بغیر) حمل کی خوشی حاصل نہ کر سکے۔ آج کل کے معیار کے مطابق بانجھ پن (infertility ) سخت اصطلاح مانی جاتی ہے اور اسے زرخیزی میں کمی (subfertility ) سے تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح زوجین کو مکمل مایوسی سے بچانا اور ان کی ہمت قائم رکھنا بھی ممکن ہوا، ساتھ ہی ساتھ معاشرتی دباؤ سے بھی بہت حد تک آزادی نصیب ہوتی ہے۔

دنیا میں بانجھ پن کی شرح کیا ہے؟ اعدادوشمار کے مطابق پوری دنیا میں پانچ کروڑ جوڑے بانجھ پن سے متاثر ہیں۔ نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق دنیا میں 10.5 فیصد خواتین میں ثانوی بانجھ پن ( کم از کم ایک حمل کے بعد دوبارہ حمل میں ناکامی) ہوتا ہے۔ یہ مسئلہ دنیا میں سب سے زیادہ روس اور دیگر تمام وسطی ایشیائی ریاستوں کی خواتین میں پایا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ ملائشیا، انڈونیشیا، لائبیریا کی خواتین بھی اس مسئلے سے دوچار ہیں۔

دنیا میں محض دو فیصد میں بنیادی بانجھ پن (حمل سرے سے نہ ہونا) کی تشخیص ہوئی ہے۔ دنیا میں جن ممالک میں بنیادی بانجھ پن کی شرح سب سے زیادہ ہے، ان میں پاکستان، یمن، یوکرائن، جارجیا، مراکش اور کیمرون شامل ہیں۔ جن ممالک میں بانجھ پن کی یہ قسم سب سے کم ہے، ان میں بولیویا، پیرو، ایکواڈور،آسٹریلیا، بنگلہ دیش، چین، منگولیا، قزاقستان،ازبکستان، ترکمانستان، کرغیزستان، نیپال، برما، سوڈان، ایتھوپیا،صومالیہ،یوگینڈا، تنزانیہ، نیمبیا، بوٹوسوانا اور زمبابوے شامل ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق بانجھ پن کی شرح کا یقینی تعین ناممکن کی حد تک مشکل ہے کیونکہ بانجھ پن کی کوئی ایک واضح تعریف ممکن نہیں، اسی لیے بانجھ پن کی تشخیص اور رپورٹنگ عموماً ادھوری رہ جاتی ہے۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ بانجھ پن کی وجوہات میں مرد و زن دونوں شامل ہیں۔ عموماً زرخیزی میں کمی کے شکار جوڑوں میں 33 فیصد وجوہات صرف خاتون میں 33 فیصد صرف مرد میں اور 34 فیصد وجوہات زوجین میں پائی جاتی ہیں۔


تحریر: ڈاکٹر رابعہ خرم درانی
5 نومبر 2017

 

Hina Rafique

رکن
شمولیت
اکتوبر 21، 2017
پیغامات
282
ری ایکشن اسکور
18
پوائنٹ
75
لاہور (نیوز ڈیسک) دور جدید کی مصروف زندگی، کام کا دباﺅ اور ناقص خوراک جیسی چیزوں کی وجہ سے عمومی صحت کے ساتھ جنسی صحت بھی بری طرح متاثر ہورہی ہے اور بانجھ پن بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق حمل قرار نہ پانے 20 فیصد کیس صرف مردانہ بانجھ پن کی وجہ سے ہوتے ہیں جبکہ مزید 30 سے 40 فیصد میں مردانہ بانجھ پن کا حصہ ضرور ہوتا ہے۔ جدید انگریزی ادویات تاحال ان مسائل کا شفی علاج پیش نہیں کرسکی ہیں البتہ دیسی جڑی بوٹیاں اور نسخہ جات بڑی حد تک کارگر پائے گئے ہیں۔ صدیوں سے آزمودہ کچھ دیسی جڑی بوٹیاں اور اجزاءمندرجہ ذیل ہیں۔ جو نہ صرف قوت باہ میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ بانجھ پن میں بھی انتہائی مفید پائے گئے ہیں۔
٭.... کوئنچ کے بیج (Maucuna Pruriens)
اورے یا سفید رنگ کے پھلوں والے اس پودے کے بیج ہمیشہ سے جنسی صحت کیلئے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ اگرچہ اس کے تنے اور پتوں کا بھی استعمال کیا جاتا ہے لیکن بیج خصوصاً طاقتور ہوتے ہیں۔


٭.... سلاجیت
سلاجیت صحت، طاقت اور عمدہ کارکردگی کیلئے بہترین نسخہ ہے۔ یہ پٹھوں کو طاقت دیتی ہے۔ طاقت بڑھاتی ہے اور لکبے وقت تک تھکنے نہیں دیتی، اسے جنس ٹانک کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔


سفید مسلی یامارچوب (Asparagus)
اس کی جڑ کو خشک کرکے جنسی اشتہا کو بڑھانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، اس میں 30 فیصد الکلائڈا 10 سے 20 فیصد قدرتی سیٹرائڈ سیپونن، 40 سے 45 فیصد پولیس سیکارائڈ اور 5 سے 7 فیصد کاربوہائیڈریٹ اور پروٹین پائے جاتے ہیں۔ اس کا مستقبل استعمال نامردی، سپرم کی کمی، سرعت انزال اور بانجھ پن سے نجات دلاتا ہے۔


٭.... انڈین جنسنگ (Ashwagandha)
یہ مردانہ بانجھ پن کے علاج کا مجرب نسخہ ہے اور قوت باہ، سپرم کی تعداد اور صحت میں اضافے کے ساتھ نامردی کے خاتمہ کیلئے بھی بہت مفید ہے۔
اس کے علاوہ اس کا بہترین علاج ایک عدد دیسی انڈہ بوائل کر کے شہد کے ساتھ کھانا مفید ثابت ہو گا.
چائے بالکل نہیں پینی ورزش لازمی کرنی ہے ورنہ موٹاپا غالب آ جائے گا.
 

Hina Rafique

رکن
شمولیت
اکتوبر 21، 2017
پیغامات
282
ری ایکشن اسکور
18
پوائنٹ
75
بے شک اللہ نہیں شرماتا کہ وہ بیان کرے مثال ایک مچھر کی.
مجھے لگا کہ یہ ایک معلوماتی پوسٹ ہے اس لیپوسٹ کی.
اگر مناسب نہیں تو اسے ڈیلیٹ کر دیا جائے
 
Top