• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم بدر کے بعد کی جنگی سر گرمیاں

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
صفوان کے اس سوال کے بعد اس موضوع پر غور و خوض شروع ہو گیا۔ آخر اسود بن عبد المطلب نے صفوان سے کہا: ''تم ساحل کا راستہ چھوڑ کر عراق کے راستے سفر کرو۔'' واضح رہے کہ یہ راستہ بہت لمبا ہے۔ نجد سے ہو کر شام جاتا ہے اور مدینہ کے مشرق میں خاصے فاصلے سے گزرتا ہے۔ قریش اس راستے سے بالکل نا واقف تھے اس لیے اسود بن عبد المطلب نے صفوان کو مشورہ دیا کہ وہ فرات بن حیان کو...جو قبیلہ بکر بن وائل سے تعلق رکھتا تھا ... راستہ بتانے کے لیے راہنما رکھ لے۔ وہ اس سفر میں اس کی رہنمائی کر دے گا۔
اس انتظام کے بعد قریش کا کارواں صفوان بن امیہ کی قیادت میں نئے راستے سے روانہ ہوا، مگر اس کارواں اور اس کے سفر کے پورے منصوبے کی خبر مدینہ پہنچ گئی۔ ہوا یہ کہ سلیطؓ بن نعمان جو مسلمان ہو چکے تھے نعیم بن مسعود کے ساتھ جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے، بادہ نوشی کی ایک مجلس میں جمع ہوئے ...یہ شراب کی حرمت سے پہلے کا واقعہ ہے ...جب نعیم پر نشے کا غلبہ ہوا تو انہوں نے قافلے اوراس کے سفر کے پورے منصوبے کی تفصیل بیان کر ڈالی۔ سلیطؓ پوری برق رفتاری کے ساتھ خدمتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور ساری تفصیل کہہ سنائی۔
رسول اللہ ﷺ نے فوراً حملہ کی تیاری کی اور سو سواروں کا ایک رسالہ حضرت زید بن حارثہ کلبیؓ کی کمان میں دے کر روانہ کیا۔ حضرت زیدؓ نے نہایت تیزی سے راستہ طے کیا اور ابھی قریش کا قافلہ بالکل بے خبری کے عالم میں قردہ نامی ایک چشمہ پر پڑاؤ ڈالنے کے لیے اُتر رہا تھا کہ اسے جالیا اور اچانک یلغار کر کے پورے قافلے پر قبضہ کر لیا۔ صفوان بن امیہ اور دیگر محافظین کارواں کو بھاگنے کے سوا کوئی چارۂ کار نظر نہ آیا۔
مسلمانوں نے قافلے کے راہنما فرات بن حیان کو اور کہا جاتا ہے کہ مزید دو آدمیوں کو گرفتار کر لیا۔ ظروف اور چاندی کی بہت بڑی مقدار، جو قافلے کے پاس تھی، اور جس کا اندازہ ایک لاکھ درہم تھا، بطور غنیمت ہاتھ آئی رسول اللہ ﷺ نے خُمس نکال کر مالِ غنیمت رسالے کے افراد پر تقسیم کر دیا اور فرات بن حیان نے نبی ﷺ کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کر لیا۔(ابن ہشام ۲/۵۰، ۵۱۔ رحمۃ للعالمین ۲/۲۱۹)
بدر کے بعد قریش کے لیے یہ سب سے الم انگیز واقعہ تھا جس سے ان کے قلق و اضطراب اور غم و الم میں مزید اضافہ ہو گیا۔ اب ان کے سامنے دوہی راستے تھے یا تو اپنا کبر و غرور چھوڑ کر مسلمانوں سے صلح کر لیں یا بھر پور جنگ کر کے اپنی عزتِ رفتہ اور مجدِ گزشتہ کو واپس لائیں اور مسلمانوں کی قوت کو اس طرح توڑ دیں کہ وہ دوبارہ سر نہ اٹھا سکیں۔ قریش مکہ نے اسی دوسرے راستے کا انتخاب کیا، چنانچہ اس واقعہ کے بعد قریش کا جو شِ انتقام کچھ اور بڑھ گیا اور اس نے مسلمانوں سے ٹکر لینے اور ان کے دیار میں گھس کر ان پر حملہ کرنے کے لیے بھر پور تیاری شروع کر دی۔ اس طرح پچھلے واقعات کے علاوہ یہ واقعہ بھی معرکۂ احد کا خاص عامل ہے۔

****​
 
Top