• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

برصغیر: شرک، فتنوں اور گمراہیوں کی قدیم سرزمین

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
815
ری ایکشن اسکور
225
پوائنٹ
111
برصغیر: شرک، فتنوں اور گمراہیوں کی قدیم سرزمین

از قلم: مفتی اعظم حفظہ اللہ


افغانستان، پاکستان اور ہندوستان جس کو برصغیر کہا جاتا ہے، بنیادی طور پر شرک اور فتنوں کی سرزمین ہے۔

چونکہ یہاں پر آبادی اور جہالت دونوں زیادہ ہیں، اس لیے یہاں ہر فتنے، ہر باطل فرقے، ہر نظریے کو وافر مقدار میں عقیدت مند اور حمایتی مل جاتے ہیں اور یہ صدیوں سے ایسا ہی چلا آ رہا ہے۔

آپ پاکستان و ہندوستان میں دفن گمراہ صوفیوں جیسے علی ہجویری، نظام الدین چشتی، بابا فرید وغیرہ کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، پرانے زمانے میں ہر صوفی اور زندیق اپنا کاروبار چمکانے کے لیے اسی خطے کا رخ کرتا تھا۔

حنفی ساری دنیا میں ہیں، لیکن ان کے فرقے دیوبندیہ، بریلویہ صرف اسی خطے میں وجود میں آئے۔ روافض کے یہاں ایسے ایسے فرقے بن گئے کہ خود ایران کے روافض بھی ان کے غلو سے پناہ مانگتے ہیں۔ قادیانی فرقہ، مودودی فرقہ، پرویزی فرقہ، کیپٹن عثمانی فرقہ، گوہر شاہی فرقہ، ملتانی فرقہ، تبلیغی فرقہ، دعوتِ اسلامی فرقہ، ہر قسم کے فرقے یہیں سے پیدا ہوکر یہیں پر پل بڑھ کر پھیلے ہیں اور یہاں کے کروڑوں لوگ ان کے ماننے والے ہیں۔

موجودہ دور میں بھی دیکھ لو، ہر شاخ پر کوئی غامدی، کوئی مرزا جہلمی، کوئی ڈاکٹر اسرار، کوئی ساحل عدیم، کوئی منیر شاکر، کوئی طارق جمیل بیٹھا ہے اور ہر ایک کے لاکھوں فالورز اور عقیدت مند ہیں۔ یہ تو چلو پھر بھی مکار اور چالاک قسم کے مذہب فروش تھے، شف شف سرکار جیسے عقل سے فارغ کے بھی یہاں لاکھوں مرید ہیں، اور صرف ان پڑھ اور جاہل نہیں بلکہ پڑھے لکھے ڈاکٹر، انجینئر اور جرنیل تک اس کے شف شف پر ایمان رکھتے ہیں۔

انڈیا کا حال دیکھو: ہندو جیسے انتہائی گھٹیا اور جہالت پر مبنی مذہب کا ساری دنیا میں اگر کہیں وجود ہے تو وہ صرف ہندوستان میں ہے، جس جہالت کے مذہب کو دنیا کے کسی سمجھدار انسان اور قوم نے نہیں اپنایا، اس کو یہاں کے ایک ارب سے زیادہ انسان مانتے ہیں۔

افغانستان کی بھی یہی حالت ہے: ننگرہار، کنڑ اور شمالی علاقہ جات کے بعض سلفیوں کے علاوہ سارا ملک صوفیت، شرک اور قبر پرستی میں لت پت ہے اور ہر قدم پر کوئی جادوگر، تعویذ فروش یا کوئی صوفی بیٹھا ہوا ہے یا کوئی نہ کوئی شرک کا اڈا (مزار) موجود ہے۔ حتیٰ کہ خلیفہ دین محمد صوفی جیسا زندیق یہاں کے حکمرانوں کا پیر و مرشد ہے اور ہیبت اللہ اس کے پاؤں چومتا ہے۔
 

نور نیت

مبتدی
شمولیت
اپریل 16، 2025
پیغامات
30
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
10
برصغیر کی تاریخ صرف "شرک اور فتنہ" کی تاریخ نہیں ہے۔
یہ خطہ اسلامی علوم، تصوف، فقہ، حدیث، تفسیر، جہاد، اور دین کی عظیم خدمات کا مرکز بھی رہا ہے۔
ہر خطے میں مذہبی گروہ بنتے ہیں ، چاہے وہ یورپ ہو، مشرق وسطیٰ ہو یا افریقہ۔ یہ انسانی معاشرتی رویوں کا ایک قدرتی نتیجہ ہے۔
اسلامی تاریخ خود ابتدائی دور سے ہی مختلف فکری مکاتب فکر (اہل سنت، خوارج، معتزلہ، روافض وغیرہ) سے عبارت ہے، تو یہ برصغیر کی کوئی منفرد خرابی نہیں۔
فتنے وہاں زیادہ اٹھتے ہیں جہاں: آبادی زیادہ ہو، علم صحیح نہ پھیلا ہو، سیاسی افراتفری ہو، معیشت کمزور ہو، یا دین کی اصل تعلیمات سے دوری ہو۔ یعنی یہ ایک معاشرتی اور تعلیمی بحران کا نتیجہ ہے، نہ کہ کسی قوم یا نسل کی فطری خرابی۔
صوفیاء کرام کی جو خدمات ہیں، وہ صرف ظاہری اسلام ہی نہیں بلکہ دلوں کی تطہیر، اخلاقیات، اور محبتِ الٰہی کی تعلیم ہے۔ ان میں بے شک افراط و تفریط کے واقعات ہوئے، لیکن تمام صوفیاء کو "زندیق" کہہ دینا تاریخ سے ناانصافی ہے۔
قرآن ہمیں کہتا ہے:
ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ (النحل 125)
"اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت کے ساتھ، اور عمدہ نصیحت کے ساتھ، اور ان سے ایسے طریقے سے بحث کرو جو بہترین ہو۔ بیشک آپ کا رب خوب جاننے والا ہے اس کو جو اس کے راستے سے بھٹک گیا ہے، اور وہی خوب جاننے والا ہے ان کو جو ہدایت یافتہ ہیں۔"
اگر لوگ بدعات یا شرک میں مبتلا ہوں بھی، تو حکمت، دردمندی اور خیرخواہی ہونی چاہیےیا گالی، تذلیل یا طعن ؟
اس تحریر میں جو درد محسوس ہوتا ہے (کہ دین خالص رہے)، وہ اپنی جگہ درست خواہش ہے۔
ہر قوم میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں۔ برصغیر میں کمزوریاں بھی ہیں، خوبیاں بھی۔ لیکن زبان کو شعلہ ہوناچاہیے یا چراغ بننا چاہیے؟
اصلاح محبت سے ہوتی ہے، توہین سے نہیں۔ راہنمائی شفقت سے ہوتی ہے، نفرت سے نہیں۔
 

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
815
ری ایکشن اسکور
225
پوائنٹ
111
صوفیاء کرام کی جو خدمات ہیں، وہ صرف ظاہری اسلام ہی نہیں بلکہ دلوں کی تطہیر، اخلاقیات، اور محبتِ الٰہی کی تعلیم ہے۔
  • برصغیر کے چند ایسے صوفیاء کے نام بتائیے جنہوں نے دین اسلام کے لیے علمی و عملی خدمات انجام دی ہوں اور انہوں نے شرک، بدعت، قبوری رسوم کے خلاف کام کیا؟
  • جن صوفیاء کی آپ بات کرتے ہیں، کیا انہوں نے قرآن و سنت کی بنیاد پر عوام کو توحید کی دعوت دی یا انہوں نے خانقاہی نظام اور مرشد پرستی کو فروغ دیا؟
  • کیا صوفیاء کی "اخلاقی تعلیم" اس قدر موثر تھی کہ ان کی موجودگی میں بدعات، خرافات اور قبر پرستی عام نہ ہوئی؟
 

نور نیت

مبتدی
شمولیت
اپریل 16، 2025
پیغامات
30
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
10
  • برصغیر کے چند ایسے صوفیاء کے نام بتائیے جنہوں نے دین اسلام کے لیے علمی و عملی خدمات انجام دی ہوں اور انہوں نے شرک، بدعت، قبوری رسوم کے خلاف کام کیا؟
شیخ احمد سرہندی (مجدد الف ثانی )
شرک و بدعت کے خلاف مضبوط موقف۔ اکبر کے "دینِ الٰہی" کے خلاف شدید مزاحمت کی۔ توحید و سنت کی دعوت پر قائم رہے۔
شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ
حدیث، فقہ، تفسیر، فلسفہ سب میں بلند پایہ عالم۔ تصوف کو سنت اور قرآن کے تابع رکھا۔ قبر پرستی، پیر پرستی، عوامی خرافات پر تنقید کی۔تصوف کو صرف تزکیۂ نفس اور اخلاق کی تربیت تک محدود رکھا۔
شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ
کتاب تقویۃ الایمان میں بدعات، شرک، اور خرافات کی سخت مخالفت۔ بریلوی اور دیوبندی دونوں ان کے علم کے معترف ہیں۔ صرف قرآن و سنت کی دعوت دی۔
شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ
حدیث کے عظیم عالم، جنہوں نے برصغیر میں علم حدیث کو زندہ کیا۔ شریعت و طریقت کو جوڑنے کی کوشش کی، خرافات کے خلاف تھے۔
  • جن صوفیاء کی آپ بات کرتے ہیں، کیا انہوں نے قرآن و سنت کی بنیاد پر عوام کو توحید کی دعوت دی یا انہوں نے خانقاہی نظام اور مرشد پرستی کو فروغ دیا؟
یہ دونوں باتیں تمام صوفیاء پر لاگو نہیں ہوتیں۔
بعض صوفیاء نے واقعی خانقاہی نظام کو سماجی اصلاح اور تزکیہ نفس کے لیے استعمال کیا اور کئی نے اس میں غلو بھی کیا۔
جن صوفیاء کی ہم بات کر رہے ہیں (جیسے مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ، شاہ اسماعیل شہید) انہوں نے مرشد پرستی یا باطل کرامات کو کبھی فروغ نہیں دیا۔ ان کا زور اتباعِ سنت، خشیتِ الٰہی، اور نفس کے مجاہدے پر تھا۔
  • کیا صوفیاء کی "اخلاقی تعلیم" اس قدر موثر تھی کہ ان کی موجودگی میں بدعات، خرافات اور قبر پرستی عام نہ ہوئی؟
یہ سوال دراصل "اگر وہ اتنے مؤثر تھے تو بدعات کیوں ختم نہ ہوئیں؟" جیسی شکل رکھتا ہے۔
کیا حضرت نوحؑ کی قوم نے شرک چھوڑ دیا؟
کیا حضرت محمد ﷺ کی موجودگی میں سب عرب مسلمان ہو گئے؟
ہدایت دینا اللہ کا کام ہے۔
اگر کسی صوفی یا عالم کی موجودگی میں بدعت ختم نہیں ہوئی، تو اس سے ان کی نیت یا دعوت کی نفی نہیں ہوتی۔ نبیوں کی موجودگی میں بھی لوگ گمراہ رہے۔ مسئلہ صرف فرد کا نہیں، پورے معاشرتی، سیاسی اور تعلیمی زوال کا ہوتا ہے۔
 

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
815
ری ایکشن اسکور
225
پوائنٹ
111
شیخ احمد سرہندی (مجدد الف ثانی )
شرک و بدعت کے خلاف مضبوط موقف۔ اکبر کے "دینِ الٰہی" کے خلاف شدید مزاحمت کی۔ توحید و سنت کی دعوت پر قائم رہے۔
آپ کے مجدد الفِ ثانی توحید و سنت کی نہیں بلکہ صوفیانہ بدعات، فلسفیانہ عقائد اور جمودِ تقلید کے احیا کے داعی تھے۔ ان کی نسبت توحید و سنت کی طرف کرنا سادہ لوحی یا تاریخی چشم پوشی کے سوا کچھ نہیں۔

"مجدد الف ثانی" کا لقب خود ایک بدعی لقب ہے اس کے علاوہ احمد سرہندی وحدت الشہود کا قائل تھا حالانکہ یہ عقیدہ وحدت الوجود کی ہی دوسری شکل ہے۔ اور یہ شخص تقلیدِ جامد کا اس قدر قائل تھا کہ صحیح حدیث کے مقابلے میں بھی اپنے امام کو فوقیت دیتا تھا اور ایسا شخص سنت کا داعی نہیں بلکہ بدعت کا مؤید ہے۔ احمد سرہندی کا قول نماز میں شہادت کی انگلی کے بارے میں مشہور ہے کہ:
’’ہم مقلدین کو مناسب نہیں کہ احادیث کے موافق عمل کر کے اشارہ کرنے میں جرأت کریں۔‘‘ [مکتوبات : 718/1، مکتوب نمبر312]


شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ
حدیث، فقہ، تفسیر، فلسفہ سب میں بلند پایہ عالم۔ تصوف کو سنت اور قرآن کے تابع رکھا۔ قبر پرستی، پیر پرستی، عوامی خرافات پر تنقید کی۔تصوف کو صرف تزکیۂ نفس اور اخلاق کی تربیت تک محدود رکھا۔
دیوبندیوں کی جانب سے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کو صوفی و حنفی باور کرانے کی سر توڑ کوشش کی جاتی ہے، حالانکہ ان کے بیٹے شاہ عبدالعزیز دہلوی کا صریح بیان اس دعوے کی تردید کرتا ہے۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ اپنے والد گرامی شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے متعلق فرماتے ہیں:

"علم حدیث میرے والد ماجد صاحب مدینہ منورہ سے لائے۔ یہاں آ کر فرمایا تھا کہ جو کچھ میں نے پڑھا تھا، سب بھول گیا، صرف علم دین باقی رہ گیا ہے، اور ان شاء اللہ قبر تک بلکہ جنت میں بھی یہی ساتھ رہے گا اور نفع دیویگا۔" [ملفوظات شاہ عبدالعزیز دہلوی، صفحہ : 129]

یہ واضح اعلان ہے کہ شاہ ولی اللہ نے تقلید، تصوف اور فقہی جمود سے رجوع کر کے حدیثِ نبوی کو دین کا واحد سرمایہ قرار دیا۔ ان کی وصیت، جسے دیوبندی محقق ایوب قادری نے مرتب کیا، بھی اسی رجحان کی گواہ ہے۔ پس یہ کہنا کہ شاہ ولی اللہ صوفی تھے، تاریخی تحریف ہے۔ وہ حدیث کے علمبردار اور اہلِ حدیث منہج کے قریب تر تھے، نہ کہ دیوبندی تقلید و تصوف کے نمائندہ۔

شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ
کتاب تقویۃ الایمان میں بدعات، شرک، اور خرافات کی سخت مخالفت۔ بریلوی اور دیوبندی دونوں ان کے علم کے معترف ہیں۔ صرف قرآن و سنت کی دعوت دی۔
شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ
حدیث کے عظیم عالم، جنہوں نے برصغیر میں علم حدیث کو زندہ کیا۔ شریعت و طریقت کو جوڑنے کی کوشش کی، خرافات کے خلاف تھے۔
شاہ اسماعیل دہلوی کو صوفیاء کی فہرست میں شامل کرنا دیوبندیوں کا شدید مغالطہ ہے۔ وہ درحقیقت صوفیانہ بدعات، خرافات، اور تقلید کے سخت ناقد تھے۔ تقویت الایمان میں انہوں نے صراحت سے قبوری تصوف، پیر پرستی، اور شرک آمیز رسوم کی تردید کی۔ انہوں نے صوفیت کے ان تمام مظاہر کو بدعت و ضلالت قرار دیا جنہیں دیوبندی مکتب نے "روحانیت" کا نام دے کر اپنایا۔

شاہ اسماعیل دہلوی، اہلِ حدیث فکر کے علَم بردار اور توحیدِ کے داعی تھے، نہ کہ صوفیت کے نمائندے انہیں صوفی ظاہر کرنا آپ کی علمی خیانت ہے۔

آپ کا توحیدِ خالص کے علَم بردار اور بدعات و شرکیات کے سخت ناقد علماء کو "صوفی" باور کرانا محض ایک چالاک فکری مغالطہ ہے، تاکہ امداد اللہ مہاجر مکی، اشرف علی تھانوی، اور جامن علی جلال آبادی جیسے قبوری، مجذوب اور مشرکانہ افکار رکھنے والے صوفیاء کی گمراہیوں پر پردہ ڈالا جا سکے۔

یہ سوال دراصل "اگر وہ اتنے مؤثر تھے تو بدعات کیوں ختم نہ ہوئیں؟" جیسی شکل رکھتا ہے۔
کیا حضرت نوحؑ کی قوم نے شرک چھوڑ دیا؟
کیا حضرت محمد ﷺ کی موجودگی میں سب عرب مسلمان ہو گئے؟
ہدایت دینا اللہ کا کام ہے۔
اگر کسی صوفی یا عالم کی موجودگی میں بدعت ختم نہیں ہوئی، تو اس سے ان کی نیت یا دعوت کی نفی نہیں ہوتی۔ نبیوں کی موجودگی میں بھی لوگ گمراہ رہے۔ مسئلہ صرف فرد کا نہیں، پورے معاشرتی، سیاسی اور تعلیمی زوال کا ہوتا ہے۔
آپ نے تو سوال بدل کر ،نہایت چالاکی سے نبیوں کے منصب کو صوفیاء کے ساتھ خلط ملط کر کے صوفیانہ گمراہیوں کو تقدیس کا لبادہ پہنانے کی کوشش ہے، جو کہ سراسر مغالطہ اور حقائق سے فرار ہے کیونکہ نبیوں نے شرک مٹایا، جبکہ صوفیاء نے قبریں سجائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کو مساجد بنانے سے روکا، جبکہ صوفیاء نے قبروں پر مزارات بنائے، میلاد، عرس، چادریں، اور نذر و نیاز کی گمراہیاں پھیلائی۔

اگر صوفیاء کی تعلیمات واقعی "دلوں کی اصلاح" کرتی رہیں، تو پھر انہی کے مزارات پر سب سے زیادہ بدعات، عورتوں کی بے پردگی، دھمال، قوالی، اور شرک کیوں عام ہے؟ جس کے اردگرد گندگی ہو، وہ تطہیرِ قلوب کا علمبردار کیسے؟

نبیوں نے عوام کو شرک سے نکالا، صوفیاء نے داخل کیا! حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے شرک کیا، مگر نوح علیہ السلام نے کبھی شرک کو جواز نہیں دیا، نہ اسے "محبت" کا نام دیا۔ جبکہ صوفیاء نے مشرکانہ افعال کو "وصال"، "توسل"، "عشقِ الٰہی" کے پردوں میں چھپایا۔

انبیاءِ کرام علیہم السلام کی دعوت کا نتیجہ یہ تھا کہ جو ان پر ایمان لائے، وہ شرک سے توبہ کرکے توحید خالص پر قائم ہو گئے۔ ان کے پیروکار قبروں کو گرا کر دین کو زندہ کرتے تھے، نہ کہ قبروں پر چادریں چڑھا کر دین کو دفن کرتے۔

جبکہ صوفیاء کی تعلیمات کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے مریدین، ان ہی کی قبروں کو سجدے کرنے لگے، ان سے فریادیں کرنے لگے، اور ان کی چادریں، دھاگے، نیازیں، اور عرس شرک و بدعت کا مستقل مظہر بن گئیں۔
 
Last edited:

نور نیت

مبتدی
شمولیت
اپریل 16، 2025
پیغامات
30
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
10
آپ کے مجدد الفِ ثانی توحید و سنت کی نہیں بلکہ صوفیانہ بدعات، فلسفیانہ عقائد اور جمودِ تقلید کے احیا کے داعی تھے۔ ان کی نسبت توحید و سنت کی طرف کرنا سادہ لوحی یا تاریخی چشم پوشی کے سوا کچھ نہیں۔

"مجدد الف ثانی" کا لقب خود ایک بدعی لقب ہے اس کے علاوہ احمد سرہندی وحدت الشہود کا قائل تھا حالانکہ یہ عقیدہ وحدت الوجود کی ہی دوسری شکل ہے۔ اور یہ شخص تقلیدِ جامد کا اس قدر قائل تھا کہ صحیح حدیث کے مقابلے میں بھی اپنے امام کو فوقیت دیتا تھا اور ایسا شخص سنت کا داعی نہیں بلکہ بدعت کا مؤید ہے۔ احمد سرہندی کا قول نماز میں شہادت کی انگلی کے بارے میں مشہور ہے کہ:
’’ہم مقلدین کو مناسب نہیں کہ احادیث کے موافق عمل کر کے اشارہ کرنے میں جرأت کریں۔‘‘ [مکتوبات : 718/1، مکتوب نمبر312]
لقب "مجدد الف ثانی" پر اعتراض :
یہ لقب خود شیخ احمد سرہندی رحمہ اللہ نے اختیار نہیں کیا بلکہ بعد کے علما نے اُن کی دینی خدمات کے اعتراف میں دیا۔ اگر کسی شخصیت کو بعد میں ملنے والا لقب بدعت ہو، تو پھر "شیخ الاسلام"، "حجۃ الاسلام"، "امام اہل سنت"، وغیرہ تمام القابات بھی اسی زمرے میں آئیں گے۔ اصل بنیاد کسی شخص کے کام اور علمی خدمات پر ہوتی ہے، نہ کہ بعد میں دیے گئے القاب پر۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"بے شک اللہ تعالیٰ اس امت کے لیے ہر صدی کے سرے پر ایک ایسا شخص بھیجے گا جو ان کے دین کی تجدید کرے گا۔" (سنن ابی داود، حدیث: 4291)
یہ لقب امت نے اُس شخصیت کو دیا جس کے افکار، اصلاحات، اور دینی خدمات نے دین کے احیاء میں تاریخی کردار ادا کیا۔
اگر وہ حدیث کے مخالف ہوتے تو یہ کیسے لکھتے:
"تمام علوم میں سب سے اعلیٰ علم حدیث ہے، اور اس کا حامل دین کا حقیقی وارث ہے۔"(مکتوبات، جلد 1، مکتوب 266)
ان کا پیغام ہی توحید، سنت اور تجدید دین تھا
امام ربانیؒ نے فرمایا:
"میری تمام تر کوشش یہ ہے کہ شریعت محمدی کا غلبہ قائم ہو اور بدعتیں مٹ جائیں۔" (مکتوبات، جلد 1، مکتوب 193)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
"ہر وہ حال جو سنت کے خلاف ہو، باطل ہے خواہ کشف ہو یا جذب۔" (مکتوبات، جلد 2)
امام ربانیؒ نے اکبر کے دینِ الٰہی کے خلاف زبردست علمی و روحانی جدوجہد کی۔ انہوں نے شہنشاہ جہانگیر کو خطوط میں سنت کے احیاء، قبروں پر سجدوں، غیر اللہ سے مدد مانگنے، اور تصوف کے غلط رویوں پر تنقید کی۔ اگر وہ بدعات کے داعی ہوتے تو مغل دربار سے جیل اور پابندیوں کے تحفے نہ پاتے!
دیوبندیوں کی جانب سے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کو صوفی و حنفی باور کرانے کی سر توڑ کوشش کی جاتی ہے، حالانکہ ان کے بیٹے شاہ عبدالعزیز دہلوی کا صریح بیان اس دعوے کی تردید کرتا ہے۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ اپنے والد گرامی شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے متعلق فرماتے ہیں:

"علم حدیث میرے والد ماجد صاحب مدینہ منورہ سے لائے۔ یہاں آ کر فرمایا تھا کہ جو کچھ میں نے پڑھا تھا، سب بھول گیا، صرف علم دین باقی رہ گیا ہے، اور ان شاء اللہ قبر تک بلکہ جنت میں بھی یہی ساتھ رہے گا اور نفع دیویگا۔" [ملفوظات شاہ عبدالعزیز دہلوی، صفحہ : 129]

یہ واضح اعلان ہے کہ شاہ ولی اللہ نے تقلید، تصوف اور فقہی جمود سے رجوع کر کے حدیثِ نبوی کو دین کا واحد سرمایہ قرار دیا۔ ان کی وصیت، جسے دیوبندی محقق ایوب قادری نے مرتب کیا، بھی اسی رجحان کی گواہ ہے۔ پس یہ کہنا کہ شاہ ولی اللہ صوفی تھے، تاریخی تحریف ہے۔ وہ حدیث کے علمبردار اور اہلِ حدیث منہج کے قریب تر تھے، نہ کہ دیوبندی تقلید و تصوف کے نمائندہ۔
آپ نے جو حوالہ پیش کیا ہے، وہ دراصل شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ کے علم حدیث کی عظمت اور ان کے انکسار کو ظاہر کرتا ہے، نہ کہ تقلید یا تصوف سے رجوع کو۔ انہوں نے مدینہ طیبہ سے واپس آ کر یہ فرمایا کہ جو کچھ پڑھا تھا، وہ فروعات تھیں، اور اصل سرمایہ علمِ دین ہے ، جس سے ان کی ترجیحات کا اندازہ ہوتا ہے، لیکن یہ تقلید یا تصوف سے "برأت" کا اعلان نہیں۔
شاہ ولی اللہ دہلوی نہ صرف صوفی تھے بلکہ قادر ی سلسلہ میں بیعت بھی تھے۔ انہوں نے اپنی مشہور کتاب القول الجمیل فی بیان السبیل میں صوفیانہ مصطلحات کی شرح کی اور ان کے حقائق کو قرآن و سنت کی روشنی میں بیان کیا۔ تاہم، انہوں نے تصوف کے ان پہلوؤں پر تنقید کی جو شریعت سے ٹکراتے تھے ، جیسے کہ غیر شرعی کرامات، پیر پرستی، اور وحدت الوجود کا غلو۔
شاہ اسماعیل دہلوی کو صوفیاء کی فہرست میں شامل کرنا دیوبندیوں کا شدید مغالطہ ہے۔ وہ درحقیقت صوفیانہ بدعات، خرافات، اور تقلید کے سخت ناقد تھے۔ تقویت الایمان میں انہوں نے صراحت سے قبوری تصوف، پیر پرستی، اور شرک آمیز رسوم کی تردید کی۔ انہوں نے صوفیت کے ان تمام مظاہر کو بدعت و ضلالت قرار دیا جنہیں دیوبندی مکتب نے "روحانیت" کا نام دے کر اپنایا۔

شاہ اسماعیل دہلوی، اہلِ حدیث فکر کے علَم بردار اور توحیدِ کے داعی تھے، نہ کہ صوفیت کے نمائندے انہیں صوفی ظاہر کرنا آپ کی علمی خیانت ہے۔

آپ کا توحیدِ خالص کے علَم بردار اور بدعات و شرکیات کے سخت ناقد علماء کو "صوفی" باور کرانا محض ایک چالاک فکری مغالطہ ہے، تاکہ امداد اللہ مہاجر مکی، اشرف علی تھانوی، اور جامن علی جلال آبادی جیسے قبوری، مجذوب اور مشرکانہ افکار رکھنے والے صوفیاء کی گمراہیوں پر پردہ ڈالا جا سکے۔
"صوفی" کا مطلب اگر وہی لیا جائے جو شاہ اسماعیل نے خود مسترد کیا ، یعنی قبروں پر چادریں، دھمال، اور باطل کرامات ، تو یقیناً وہ صوفی نہیں تھے۔ لیکن اگر "صوفی" سے مراد تزکیۂ نفس، خشیتِ الٰہی، اخلاص، عبادت میں گہرائی، اور توکل و صبر ہے، تو شاہ صاحب کی ساری زندگی اسی پر گواہ ہے۔
لہٰذا یہ دعویٰ کہ انہیں صوفی کہنا "علمی خیانت" ہے، دراصل تصوف کی غلط تعبیر پر مبنی ہے، نہ کہ شاہ اسماعیل کی اصل شخصیت پر۔
شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ کی شخصیت کو صرف "اہل حدیث فکر" یا "صوفی مکتب" جیسے محدود خانے میں بند کرنا خود ان کی فکری وسعت کے ساتھ زیادتی ہے۔ ان کی اصل پہچان ایک مصلح، مجاہد، اور مخلص داعیِ توحید کی ہے، جو بدعات و خرافات کے سخت مخالف تھے ، لیکن ساتھ ہی تزکیۂ نفس اور باطن کی اصلاح کو دین کا اہم حصہ سمجھتے تھے، جس کا نام "تصوف" بھی ہے، بشرطیکہ وہ قرآن و سنت کے تابع ہو۔
انھوں نے "تصوفِ غیر شرعی" یعنی قبروں کا تقدس، جھوٹی کرامات، پیر پرستی، اور خرقہ بازی پر شدید تنقید کی۔ لیکن "تزکیۂ نفس"، "اخلاص"، "توبہ"، اور "مجاہدۂ نفس" جیسے تصوف کے اصل مقاصد کو اپنایا۔ ان کی کتاب "عبقات" میں انہوں نے صوفیائے سلف کے اقوال اور احوال سے استشہاد کیا ہے۔
اگر وہ مکمل طور پر "تصوف مخالف" ہوتے تو نہ یہ کتاب لکھتے اور نہ ہی سید احمد شہید جیسے روحانی تربیت یافتہ مجاہد کے دست راست بنتے۔
آپ نے تو سوال بدل کر ،نہایت چالاکی سے نبیوں کے منصب کو صوفیاء کے ساتھ خلط ملط کر کے صوفیانہ گمراہیوں کو تقدیس کا لبادہ پہنانے کی کوشش ہے، جو کہ سراسر مغالطہ اور حقائق سے فرار ہے کیونکہ نبیوں نے شرک مٹایا، جبکہ صوفیاء نے قبریں سجائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کو مساجد بنانے سے روکا، جبکہ صوفیاء نے قبروں پر مزارات بنائے، میلاد، عرس، چادریں، اور نذر و نیاز کی گمراہیاں پھیلائی۔

اگر صوفیاء کی تعلیمات واقعی "دلوں کی اصلاح" کرتی رہیں، تو پھر انہی کے مزارات پر سب سے زیادہ بدعات، عورتوں کی بے پردگی، دھمال، قوالی، اور شرک کیوں عام ہے؟ جس کے اردگرد گندگی ہو، وہ تطہیرِ قلوب کا علمبردار کیسے؟

نبیوں نے عوام کو شرک سے نکالا، صوفیاء نے داخل کیا! حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے شرک کیا، مگر نوح علیہ السلام نے کبھی شرک کو جواز نہیں دیا، نہ اسے "محبت" کا نام دیا۔ جبکہ صوفیاء نے مشرکانہ افعال کو "وصال"، "توسل"، "عشقِ الٰہی" کے پردوں میں چھپایا۔

انبیاءِ کرام علیہم السلام کی دعوت کا نتیجہ یہ تھا کہ جو ان پر ایمان لائے، وہ شرک سے توبہ کرکے توحید خالص پر قائم ہو گئے۔ ان کے پیروکار قبروں کو گرا کر دین کو زندہ کرتے تھے، نہ کہ قبروں پر چادریں چڑھا کر دین کو دفن کرتے۔

جبکہ صوفیاء کی تعلیمات کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے مریدین، ان ہی کی قبروں کو سجدے کرنے لگے، ان سے فریادیں کرنے لگے، اور ان کی چادریں، دھاگے، نیازیں، اور عرس شرک و بدعت کا مستقل مظہر بن گئیں۔
آپ نے صوفیاء کو شرک و بدعت کا منبع قرار دے کر تمام اہل تصوف کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کی جسارت کی ہے، حالانکہ اہل علم جانتے ہیں کہ صوفیاء کی تاریخ، اقسام، اور طریقِ کار میں شدید تنوع پایا جاتا ہے۔
کسی نے بھی نبی اور صوفی کو برابر نہیں ٹھہرایا۔ لیکن نبیوں کے مشن کو وارثینِ انبیاء یعنی علما و مصلحین کے ذریعے جاری رکھا جاتا ہے۔ اگر کوئی مصلح یا صوفی اتباعِ سنت اور توحید پر قائم ہو، تو اس کی دعوت کو نبیوں کی دعوت کا انعکاس تو کہا جا سکتا ہے، مماثلت نہیں۔
یہ الزام کہ" صوفیاء نے عوام کو شرک میں داخل کیا!" سراسر تاریخی بے انصافی ہے۔
عبد القادر جیلانیؒ، علی ہجویریؒ، معین الدین چشتیؒ، فرید الدین گنج شکرؒ، مجدد الف ثانیؒ کسی نے بھی نہ قبروں کو سجدے کی دعوت دی، نہ مزارات پر عورتوں کی بے پردگی کا درس دیا۔
بعد میں ان کی قبروں پر جو کچھ ہوا، وہ ان کی تعلیمات نہیں بلکہ ان کے نام پر عوامی جہالت کا اظہار ہے، جیسا کہ صحابہ کی قبروں پر بھی بدعات شروع ہو گئیں، تو کیا ہم صحابہ کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا دیں گے؟
یہ "صوفیت" کی خرابی نہیں، بلکہ علم و قیادت کے زوال، اور ریاستی غفلت کا نتیجہ ہے۔
اگر مزارات پر بدعات کی موجودگی سے ہم صوفیاء کی دعوت کو باطل قرار دیں، تو پھر دنیا کی بیشتر مساجد میں ہونے والے غلط کاموں کی وجہ سے نماز کو بھی باطل کہنا پڑے گا؟
سچ یہ ہے کہ صوفیاء کی تعلیمات کا خلاصہ: "تزکیہ، خشیت، اخلاص، اور سنت کی پیروی" تھا ۔ نہ کہ دھمال، قوالی، اور چادریں۔
 

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
815
ری ایکشن اسکور
225
پوائنٹ
111
لقب "مجدد الف ثانی" پر اعتراض :
یہ لقب خود شیخ احمد سرہندی رحمہ اللہ نے اختیار نہیں کیا بلکہ بعد کے علما نے اُن کی دینی خدمات کے اعتراف میں دیا۔ اگر کسی شخصیت کو بعد میں ملنے والا لقب بدعت ہو، تو پھر "شیخ الاسلام"، "حجۃ الاسلام"، "امام اہل سنت"، وغیرہ تمام القابات بھی اسی زمرے میں آئیں گے۔ اصل بنیاد کسی شخص کے کام اور علمی خدمات پر ہوتی ہے، نہ کہ بعد میں دیے گئے القاب پر۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"بے شک اللہ تعالیٰ اس امت کے لیے ہر صدی کے سرے پر ایک ایسا شخص بھیجے گا جو ان کے دین کی تجدید کرے گا۔" (سنن ابی داود، حدیث: 4291)
یہ لقب امت نے اُس شخصیت کو دیا جس کے افکار، اصلاحات، اور دینی خدمات نے دین کے احیاء میں تاریخی کردار ادا کیا۔
"مجدد الف ثانی" ہونے کا دعویٰ خود احمد سرہندی نے ہی کیا ہے اور یہ لقب بھی اسی نے اختیار کیا ہے، جیسا کہ اس کے مکتوبات میں صریح الفاظ ہیں:

یہ فقیر عین الیقین اور حق الیقین کی نسبت کیا بیان کرے اور اگر کچھ بیان کرے تو کوئی کیا سمجھے گا اور کیا معلوم کرے گا۔ یہ معارف احاطہ ولایت سے خارج ہیں۔ ارباب ولایت علماء ظاہر کی طرح ان کے اوراک سے عاجز اور ان کے سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہ علوم انوار نبوت علی صاحبہا الصلوة والسلام والتحیہ کی مشکوۃ سے مقتبس ہیں۔ جو الف ثانی کی تجدید کے بعد تبعیت و وراثت کے طور پر تازہ ہوئے ہیں اور ترو تازہ ہو کر ظاہر ہوئے ہیں ان علوم و معارف کا صاحب اس الف کا مجدد ہے۔ چنانچہ اس کے ان علوم و معارف میں جوزات وصفات اور افعال اور احوال و مواجید اور تجلیات و ظہورات کے متعلق ہیں نظر و غور کرنے والوں پر پوشیدہ نہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ تمام علوم و معارف علماء کے علوم ہیں اور اولیاء کے معارف وراء الوراء ہیں۔ بلکہ یہ علوم ان علوم کے مقابلہ میں پوست کی طرح ہیں اور یہ معارف اس پوست کے مغز کی مانند وَ اللهُ سُبْحَانَهُ الْهَادِی (اللہ ہی ہدایت دینے والا ہے)
جاننا چاہئے کہ ہر سو سال کے بعد ایک مجدد گزرا ہے لیکن سو سال کا مجدد اور ہے اور ہزار کا مجدد اور جس قدر سو اور ہزار کے درمیان فرق ہے۔ اس قدر بلکہ اس سے زیادہ دونوں مجددوں کے درمیان فرق ہے اور مجدد وہ ہوتا ہے کہ جو فیض اس مدت میں امتوں کو پہنچنا ہوتا ہے اس کے ذریعے پہنچتا ہے خواہ اس وقت کے اقطاب و اوتاد ہوں اور خواہ ابدال و نجباء۔

[مکتوبات جلد ۲، صفحہ : ۳۶، مکتوب ۴]

اس عبارت میں واضح ہے کہ احمد سرہندی اپنے آپ کو "سو سالہ مجدد" نہیں بلکہ "ہزار سالہ مجدد" یعنی الفِ ثانی کا مجدد کہتا ہے! صحابہ، تابعین اور سلف صالحین میں سے کسی نے ایسا دعویٰ نہیں کیا، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث میں "ہزار سالہ مجدد" ہونا ثابت ہے۔ یہ تصوف کے غالیانہ مزاج کا نتیجہ ہے۔

جبکہ "شیخ الاسلام"، "امام اہل سنت"، جیسے القابات صرف علمی شرف کے لیے کہے جاتے ہیں۔
ان میں نہ کوئی روحانی ولایت کا دعویٰ ہوتا ہے، نہ تجدید دین کی وراثت یا امت کے لیے الہامی فیض رسانی کا۔ یہ القابات امت کے تعامل اور علمی خدمات پر مبنی ہوتے ہیں، جن کی سلف میں مثال ملتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں صرف "ہر صدی پر ایک مجدد" کا ذکر ہے۔ ہزار سال یا "الف" کا کوئی ذکر تک نہیں۔ الفِ ثانی کا مجدد" بننا، نہ قرآن سے ثابت ہے، نہ حدیث سے، نہ صحابہ سے، نہ تابعین سے۔ اس تعلق سے آپ حافظ زبیر علی زئی کی مختصراً وضاحت سماعت فرمائیں :


اگر وہ حدیث کے مخالف ہوتے تو یہ کیسے لکھتے:
"تمام علوم میں سب سے اعلیٰ علم حدیث ہے، اور اس کا حامل دین کا حقیقی وارث ہے۔"(مکتوبات، جلد 1، مکتوب 266)
ان کا پیغام ہی توحید، سنت اور تجدید دین تھا
امام ربانیؒ نے فرمایا:
"میری تمام تر کوشش یہ ہے کہ شریعت محمدی کا غلبہ قائم ہو اور بدعتیں مٹ جائیں۔" (مکتوبات، جلد 1، مکتوب 193)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
"ہر وہ حال جو سنت کے خلاف ہو، باطل ہے خواہ کشف ہو یا جذب۔" (مکتوبات، جلد 2)
آپ نے احمد سرہندی کے کچھ "ظاہری جملے" نقل کر کے اسے حدیث، سنت اور شریعت کا خادم ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن حقیقت میں وہ قول و فعل کے تضاد، حدیث کی مخالفت، اور تقلیدِ جامد کا متعصب داعی تھا، جس کا ثبوت خود اس کے مکتوبات سے ملتا ہے۔

اگر وہ واقعی حدیثِ نبوی کا متبع اور سنت کا داعی ہوتا، تو نماز میں شہادت کی انگلی کے بارے میں واضح حدیث موجود ہونے کے باوجود تقلید کو ترجیح دیکر یہ ہرگز نہ کہتا:

"ہم مقلدین کو مناسب نہیں کہ احادیث کے موافق عمل کر کے اشارہ کرنے میں جرأت کریں۔"
[مکتوبات، جلد ۱، مکتوب ۲۶۶]

اسی طرح احمد سرہندی کہتا ہے :

"حدیث نبوی میں آیا ہے کہ سورہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی ۔ چنانچہ میں اپنے مذہب کی رعایت کے باعث قرات کو ترک کر دیتا اور اس تک کرنے کو ریاضت اور مجاہدے کی ایک قسم شمار کرتا۔"

[مجددی عقائد و نظریات، صفحہ: ۲۰۵]

احمد سرہندی کا یہ قول نہ صرف حدیثِ نبوی کی توہین ہے بلکہ تقلیدِ جامد کا فکری زہر بھی عیاں کرتا ہے۔ خود اعتراف کر رہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے: "سورہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی", مگر پھر بھی حدیث کو پسِ پشت ڈال کر فاتحہ کی قراءت ترک کرتا ہے، اور اسے "ریاضت" اور "مجاہدہ" کہتا ہے۔

یہ کیسی ریاضت ہے جو سنتِ رسول کے خلاف ہے؟
یہ کیسا مجاہدہ ہے جو صریح حدیث کے انکار پر قائم ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ یہ شخص نہ تو اہلِ سنت تھا، نہ ہی مجدد۔ یہ تو تقلیدِ باطل کا اسیر، اور سنت کا دشمن تھا۔ سنتِ نبوی کو چھوڑ کر بدعت کو "مجاہدہ" کہنا دین میں تحریف ہے، نہ کہ تجدید۔ ایسے شخص کو "مجدد" کہنا درحقیقت شریعت کی توہین اور حدیث کا مذاق ہے۔

اس کے علاوہ احمد سرہندی کہتا ہے :

"حضرت عیسی على بنينا وعليه الصلوة والسلام نزول کے بعد امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مذہب کے مطابق عمل کریں گے۔ ان کے حلال قرار دئے کو حلال ٹھہریں گے اور ان کی حرام قرار دی ہوئی چیزوں کو حرام ٹھہرائیں گے۔"

[مکتوبات، دفتر اول ، مکتوب ۲۸۲]

یہ قول احمد سرہندی کی غلو آمیز تقلید پرستی اور شدید گمراہی کی انتہا ہے۔ وہ دعویٰ کرتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، نزول کے بعد نبی نہیں بلکہ امام ابو حنیفہ کی پیروی کریں گے! یعنی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے اقوال کو وہ وحی الٰہی اور شریعتِ محمدی پر مقدم ٹھہرا رہا ہے۔

احمد سرہندی کا یہ قول تقلید کو وحی پر فوقیت دینے والا اور مقامِ نبوت کو ابو حنیفہ کا تابع بنانے والا ہے۔ یہ صریح بدعت، ضلالت اور تحریفِ دین ہے۔ ایسے شخص کو "مجدد" کہنا امت کے شعور پر دھبہ ہے، اور شریعتِ محمدی کی تضحیک۔

آپ نے جو حوالہ پیش کیا ہے، وہ دراصل شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ کے علم حدیث کی عظمت اور ان کے انکسار کو ظاہر کرتا ہے، نہ کہ تقلید یا تصوف سے رجوع کو۔ انہوں نے مدینہ طیبہ سے واپس آ کر یہ فرمایا کہ جو کچھ پڑھا تھا، وہ فروعات تھیں، اور اصل سرمایہ علمِ دین ہے ، جس سے ان کی ترجیحات کا اندازہ ہوتا ہے، لیکن یہ تقلید یا تصوف سے "برأت" کا اعلان نہیں۔
شاہ ولی اللہ دہلوی نہ صرف صوفی تھے بلکہ قادر ی سلسلہ میں بیعت بھی تھے۔ انہوں نے اپنی مشہور کتاب القول الجمیل فی بیان السبیل میں صوفیانہ مصطلحات کی شرح کی اور ان کے حقائق کو قرآن و سنت کی روشنی میں بیان کیا۔ تاہم، انہوں نے تصوف کے ان پہلوؤں پر تنقید کی جو شریعت سے ٹکراتے تھے ، جیسے کہ غیر شرعی کرامات، پیر پرستی، اور وحدت الوجود کا غلو۔
ان کی اپنی وصیت ان تمام دعووں کا دوٹوک رد ہے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اپنی اولاد کو وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

"عقائد میں متقدمین اہل سنت (سلف صالحین) کا مذہب اختیار کرے، اور جن باتوں کی تفصیل اور تفتیش متقدمین نے نہیں کی ہے اس سے احتراز کرے اور شک و شبہات کی طرف توجہ نہ کرے، فروعی مسائل میں ان علماء محدثین کی پیروی کرے جو فقہ و حدیث دونوں کے جامع ہوں، اور ہمیشہ فقہی مسائل کو کتاب و سنت سے ملاتا رہے جو موافق ہوں قبول کر لے اور جو مخالف ہوں انہیں ترک کر دے، اور امت کو کسی وقت بھی قیاسیہ مسائل میں کتاب و سنت سے استغناء حاصل نہیں ہے، اور ایسے رجعت پسند فقہاء کی بات کو نہیں سننا چاہیے اور ان کی طرف توجہ نہ کرنی چاہیے جنہوں نے کسی ایک عالم کی تقلید کو اختیار کر لیا ہو اور سنت کو ترک کر دیا ہو، ان سے دور رہنے میں خدا کا قرب سمجھنا چاہیے۔"

[مجموعہ وصایا اربعۃ، صفحہ : ۷۲- ۷۳]

آپ نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ شاہ ولی اللہ دہلوی صوفی اور حنفی مقلد تھے، لیکن ان کی وصیت خود اس پروپیگنڈے کو باطل قرار دیتی ہے اس وصیت سے واضح ہوتا ہے کہ :

ان کا آخری موقف تھا عقائد میں سلف صالحین کی پیروی یعنی اشعریت، ماتریدیت یا وحدت الوجود جیسے عقائد سے اجتناب۔ تقلید شخصی کی مذمت، علماء کی پیروی صرف اس وقت تک جب تک ان کے اقوال کتاب و سنت کے مطابق ہوں۔

آپ نے صوفیاء کو شرک و بدعت کا منبع قرار دے کر تمام اہل تصوف کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کی جسارت کی ہے، حالانکہ اہل علم جانتے ہیں کہ صوفیاء کی تاریخ، اقسام، اور طریقِ کار میں شدید تنوع پایا جاتا ہے۔
کسی نے بھی نبی اور صوفی کو برابر نہیں ٹھہرایا۔ لیکن نبیوں کے مشن کو وارثینِ انبیاء یعنی علما و مصلحین کے ذریعے جاری رکھا جاتا ہے۔ اگر کوئی مصلح یا صوفی اتباعِ سنت اور توحید پر قائم ہو، تو اس کی دعوت کو نبیوں کی دعوت کا انعکاس تو کہا جا سکتا ہے، مماثلت نہیں۔
یہ بات بظاہر معتدل اور متوازن لگتی ہے، لیکن حقیقت میں باطل کی حفاظت کا حصار ہے۔ اگر کوئی شخص زہر کا ایک قطرہ پانی میں ڈال دے تو کیا وہ پانی قابلِ نوش ہوگا؟ ہرگز نہیں! بالکل اسی طرح صوفیت کا اصل سرچشمہ ہی شرک، بدعات اور کشف و خرقِ عادت کی بنیاد پر شریعت سے انحراف ہے۔ جس دریا کا منبع گندہ ہو، اس کے نیچے کے پانی سے پاکیزگی کی امید رکھنا سراسر نادانی ہے

امام ابو بكر الطرطوشی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

مَذْهَبُ الصُّوفِيَّةِ بَطَالَةٌ وَجَهَالَةٌ وَضَلَالَةٌ، وَمَا الْإِسْلَامُ إِلَّا كِتَابُ اللَّهِ وَسُنَّةُ رَسُولِهِ
صوفیوں کا مذہب ہی بیکار پن، جہالت اور گمراہی ہے، اور اسلام صرف اللہ کی کتاب اور اُس کے رسول کی سنت ہی کا نام ہے۔
[الجامع لأحكام القرآن، ج : ١١، ص : ٢٣٨]

امام الطرطوشی رحمہ اللہ نے صوفیت کو دین اسلام کے بالکل متضاد اور منحرف راستہ قرار دیا ہے۔ اُن کے نزدیک صوفیت نہ صرف بطالہ ہے، بلکہ جہالت اور کھلی گمراہی ہے۔ انہوں نے واضح کر دیا کہ اسلام صرف اور صرف قرآن و سنت کا نام ہے، نہ کہ صوفیاء کی جہالت و گمراہی کا۔

یہ الزام کہ" صوفیاء نے عوام کو شرک میں داخل کیا!" سراسر تاریخی بے انصافی ہے۔
عبد القادر جیلانیؒ، علی ہجویریؒ، معین الدین چشتیؒ، فرید الدین گنج شکرؒ، مجدد الف ثانیؒ کسی نے بھی نہ قبروں کو سجدے کی دعوت دی، نہ مزارات پر عورتوں کی بے پردگی کا درس دیا۔
بعد میں ان کی قبروں پر جو کچھ ہوا، وہ ان کی تعلیمات نہیں بلکہ ان کے نام پر عوامی جہالت کا اظہار ہے، جیسا کہ صحابہ کی قبروں پر بھی بدعات شروع ہو گئیں، تو کیا ہم صحابہ کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا دیں گے؟
یہ "صوفیت" کی خرابی نہیں، بلکہ علم و قیادت کے زوال، اور ریاستی غفلت کا نتیجہ ہے۔
اگر مزارات پر بدعات کی موجودگی سے ہم صوفیاء کی دعوت کو باطل قرار دیں، تو پھر دنیا کی بیشتر مساجد میں ہونے والے غلط کاموں کی وجہ سے نماز کو بھی باطل کہنا پڑے گا؟
سچ یہ ہے کہ صوفیاء کی تعلیمات کا خلاصہ: "تزکیہ، خشیت، اخلاص، اور سنت کی پیروی" تھا ۔ نہ کہ دھمال، قوالی، اور چادریں۔
آپ نے صوفیاء کو ان خرافات شرک و بدعات سے بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کی ہے جو کہ محض جذباتی فریب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ:

علی ہجویری نے کشف المحجوب میں اولیاء کو نظامِ عالم کے حاکم، تصرف کرنے والے اور حل و عقد کے مالک قرار دیا – جو کہ سراسر شرکیہ عقیدہ ہے۔

علی ہجویری کہتا ہے :

"اولیاء الہی مدیرانِ ملک اور احوال عالم کے خبردار اور تمام عالم کے والی ہوتے ہیں اور نظام عالم ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ ہر قسم کے حل و عقد ان سے وابستہ ہوتے ہیں اور احکام عالم میں ان کا تصرف ہوتا ہے۔ بنابریں یہ ضروری ہے کہ ان کی رائے تمام اہل رائے پر فائق اور تمام قلوب کے مقابلے میں مخلوق کے ساتھ ان کا دل شفیق تر ہو۔ کیوں کہ یہ لوگ خدا رسیدہ ہوتے ہیں اور ان کی ابتداء حال میں تلوین و سکر ہوتا ہے۔ اور جب ان کے حال کا بلوغ ہوتا ہے تو وہی تلوین حکمین کے ساتھ متبدل ہو جاتی ہے۔"

[كلام المرغوب ترجمه کشف المحجوب، ص : ۴۱۱]

معین الدین چشتی کے بارے میں خود خواجہ فریدالدین گنج شکر نے لکھا کہ وہ قبروں پر بیٹھ کر مردوں کی بخشش کرتا، اور ان کے مرید ہونے کی بنیاد پر عذابِ قبر سے نجات دلاتا۔

خواجہ فرید الدین اس کے دادا پیر خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے کشف قبور کا واقعہ بیان کرتا ہے :

"شیخ معین الدین حسن سنجری قدس سرہ العزیز کی یہ رسم تھی کہ جو کوئی ہمسایہ میں سے اس دنیا سے نقل کرتا اُس کے جنازہ کے ساتھ جاتے اور خلق کے لوٹ جانے کے بعد اُس کی قبر پر بیٹھتے اور جو ورد کہ ایسے وقت میں پڑھتے آئے ہیں پڑھتے پھر وہاں سے آتے ، چنانچہ اجمیر میں آپ کے ہمسایوں میں سے ایک نے انتقال کیا دستور کے موافق جنازہ کے ساتھ گئے جب اُسے دفن کر چکے خلق لوٹ آئی اور خواجہ وہاں ٹھہر گئے اور تھوڑی دیر کے بعد آپ اٹھے شیخ الاسلام قطب الدین فرماتے ہیں کہ میں آپ کے ساتھ تھا میں نے دیکھا کہ دم بدم آپ کا رنگ متغیر ہوا پھر اُسی وقت برقرار ہو گیا ۔ جب آپ وہاں سے کھڑے ہوئے تو فرمایا کہ الحمد للہ بیعت بڑی اچھی چیز ہے شیخ الاسلام اوشی اللہ نے اس کیفیت سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ جب اس کو لوگ دفن کر کے چلے گئے تو میں بیٹھا ہوا تھا میں نے دیکھا کہ عذاب کے فرشتے آئے اور چاہا کہ اُسے عذاب کریں اُسی وقت شیخ عثمان ہارونی قدس سرہ العزیز ظاہر ہوئے اور کہا کہ یہ شخص میرے مریدوں میں سے ہے۔ جب خواجہ عثمان الا اللہ نے یہ کہا تو فرشتوں کو فرمان ہوا کہ کہو یہ تمہارے برخلاف تھا۔ خواجہ نے فرمایا بے شک اگر چہ یہ بر خلاف تھا مگر چونکہ اس نے اپنے آپ کو اس فقیر کے پہلے سے باندھا تھا تو میں نہیں چاہتا کہ اس پر عذاب کیا جائے فرمان ہوا کہ اے فرشتو شیخ کے مرید سے ہاتھ اٹھاؤ میں نے اس کو بخش دیا۔"

[راحة القلوب صفحہ: ١٦٣]

خواجہ فرید گنج شکر کا بیان کردہ ایک واقعہ خواجہ بدر اسحاق کی کتاب اسرار الاولیاء سے ملاحظہ فرمائیے اور پیر کامل کا زندگی اور موت پر اختیار دیکھیے :

"پھر آپ نے فرمایا کہ اے درویش خواجہ قطب الدین چشتی قدس اللہ سرہ العزیز سے پوچھا گیا کہ حضرت یہ کیوں کر معلوم ہوا کہ اب سلوک کا مرتبہ تمام ہو گیا اور یہ شخص کمال کو پہنچ گیا فرما یا اگر وہ کسی مردہ پر دم کر دے تو وہ مردہ خدا کے حکم سے زندہ ہو جائے تو اُس وقت سمجھ لو کہ وہ کمالیت کو پہنچ گیا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اے درویش حضرت خواجہ قطب الدین چشتی قدس اللہ سرہ العزیز اسی محل پر یہ فوائد فرما ہی رہے تھے کہ ایک عورت روتی ہوئی آئی اور قدموں میں سر دیا۔ اور کہا کہ میں ایک ہی بچہ رکھتی تھی کہ اُسے بادشاہ نے بے گناہ وار پر کھینچوا دیا خواجہ اُس کی عرضداشت بن کر کھڑے ہو گئے اور عصا ہاتھ میں لے کر اُس کے ساتھ ہو لیے آپ کے اصحاب بھی آپ کے ساتھ ہو لیے اور اس دار کشیدہ لڑکے کے پاس پہنچے ہندو مسلمان کی ایک بھیڑ لگ گئی ۔ خواجہ نے کہا الہی اگر اسے بے گناہ بادشاہ نے دار پر کھینچا ہے تو اسے زندہ کر دے آپ کہہ ہی رہے تھے کہ وہ لڑکا زندہ ہو گیا اور ساتھ چلنے لگا یہ کرامت دیکھ کر کئی ہزار ہندو مسلمان ہو گئے ۔ پھر آپ اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ مرد کی کمالیت اس سے زیادہ نہیں جو خواجگان میں ہے۔"

[اسرار الاولياء لملفوظات خواجہ فرید الدین گنج شکر مرتبہ خواجہ بدر اسحاق - ترجمہ : غلام احمد بریاں مطبوعہ مجتبائی دہلی، ص ۱۱۰- ۱۱۱]

آخر میں، آپ کے نام نہاد "مجددِ الفِ ثانی" کی بدعات و خرافات ملاحظہ فرمائیں، جو اصلاحِ امت کے بجائے خوابوں، طعام بخشنے، اور قبوری تصورات کا پرچار کرتا نظر آتا ہے۔

احمد سرہندی کہتا ہے :

"چند سال پہلے فقیر کا طریق تھا کہ اگر طعام پکاتا تھا تو اہل عبار کی ارواح پاک کو بخش دیا کرتا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت امیر رضی اللہ عنہ و حضرت فاطمہ الزہرہ رضی اللہ عنہا اور حضرات امامین رضی اللہ عنہما کو ملا لیتا تھا۔ ایک رات فقیر نے خواب میں دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما ہیں۔ فقیر نے سلام عرض کی۔ فقیر کی طرف متوجہ نہ ہوئے اور فقیر کی طرف سے منہ پھیر لیا پھر فقیر کو فرمایا کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کھانا کھاتا ہوں جس کسی نے مجھے طعام بھیجنا ہو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر بھیج دیا کرے اس وقت فقیر نے معلوم کیا کہ حضور علیہ السلام کی توجہ شریف نہ فرمانے کا باعث یہ ہے کہ فقیر اس طعام میں حضرت صدیقہ کو شریک نہ کرتا تھا۔ بعد ازاں صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بلکہ تمام ازواج مطہرات کو جو سب اہلبیت میں شریک کر لیا کرتا تھا اور تمام اہلبیت کو اپنا وسیلہ بناتا تھا۔"

[مکتوبات ، جلد ۲,صفحہ ۱۰۲]

یہاں کھانا پکا کر ارواحِ صحابہ اور اہل بیت کو "بخشنے" کا عمل ایک نئی بدعت کی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے جو نہ قرآن میں ہے نہ سنت میں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس نوع کی کوئی مثال موجود نہیں یہ عمل صوفیانہ فاتحہ خوانی کے افسانوی طریقوں پر مبنی ہے جو عوام میں رسوماتِ قبوریہ کو فروغ دیتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، اور سلفِ صالحین کی سیرت میں کہیں ایسا نہیں ملتا کہ وہ دعا میں کسی فوت شدہ کو وسیلہ بناتے ہوں یا غیراللہ کے نام پر طعام بخشا کرتے ہوں۔

یہ سب حوالہ جات وہ ہیں جو صوفیاء کی اپنی کتابوں سے ماخوذ ہیں، جنہیں عوام نے نہیں گھڑا۔ صوفیاء کی تعلیمات دراصل اسلامی عقائد کی بنیادوں پر حملہ تھیں۔ انہوں نے توحیدِ خالص کے مقابل غلو، قبروں کی پرستش، اور "اولیاء" کو عالمِ تصرف کا مالک بنا کر شرکِ اکبر کی راہیں کھولیں۔ قرآن نے تو اللہ کو واحد متصرف کہا، مگر صوفیاء نے "قطب"، "ابدال" اور "غوث" جیسے باطل عقائد گھڑ کر اللہ کے اختیارات بندوں میں بانٹ دیے۔ شریعتِ محمدی کو چھوڑ کر وجد، دھمال، قوالی، فاتحہ خوانی اور خوابوں پر مبنی خودساختہ مذہب پیش کیا۔ یہ دینِ اسلام نہیں، بلکہ نفس و شیطان کی پیروی تھی۔ صوفیت، حقیقت میں دین کی چادر میں لپٹا ہوا شرک و بدعت کا جال ہے، جسے رد کرنا ہر موحد کی شرعی ذمہ داری ہے۔
 

نور نیت

مبتدی
شمولیت
اپریل 16، 2025
پیغامات
30
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
10
آپ کے جواب میں میں مزید دلائل لاؤں گی اور پھر آپ اس کا جواب دیں گے اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ اشخاص پر بحث کرنا مفید نہیں ہوتا، کیونکہ ہر شخص کے اپنے دلائل اور وابستگیاں ہوتی ہیں، اور یوں بات حقیقت سے زیادہ انا کا مسئلہ بن جائے گی۔
ایسی گفتگو جس میں اشخاص یا فرقے زیرِ بحث آئیں، عموماً انا، تعصب اور جذبات کی نذر ہو جاتی ہے، جبکہ قرآن ہمیں تدبر، توازن اور نتائج پر نظر رکھنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ اگر ہم واقعی خیر کے طلبگار ہیں تو پھر ہماری توجہ حل، اصلاح اور خیر خواہی پر مرکوز ہونی چاہیے۔
شخصیات کے بجائے اصولوں اور افکار پر گفتگو کرتے ہیں، کیونکہ شخصیات پر بات الجھتی ہے اور نتیجہ اکثر لاحاصل نکلتا ہے۔ قرآن بھی ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ:
تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ (البقرہ: 134)
یعنی وہ لوگ گزر چکے، ان کے اعمال ان کے لیے اور ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں۔
"برصغیر: شرک اور گمراہیوں کی سرزمین "
تو آئیے اس بات پر بات کریں کہ ہم ان آلودگیوں سے پاک کرنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟
اس پہلو پر غور کرنا چاہیں گے کہ دعوت، تربیت اور اصلاح کے لیے ہم کیا عملی اقدامات کر سکتے ہیں، خاص طور پر اس دور میں جب فکری انتشار اور روحانی خلا بہت بڑھ چکا ہے؟
 
Top