• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بريلوى عورت سے شادى كرنے كا حكم

سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
شمولیت
فروری 07، 2013
پیغامات
453
ری ایکشن اسکور
924
پوائنٹ
26
بريلوى عورت سے شادى كرنے كا حكم

سوال:
كسى بريلوى عورت سے شادى كرنے كے متعلق آپ كى رائے كيا ہے ؟
جواب
الحمد للہ:

سوال نمبر ( 150265 ) كے جواب ميں بريلوى فرقہ كے كچھ عقائد بيان كيے گئے ہيں، ان كے عقائد ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور صالحين كے بارہ ميں غلو شامل ہے.

وہ كہتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اس جہان ميں تصرف كرنے والے ہيں، اور انہيں علم غيب ہے، ان سے كوئى چيز بھى پوشيدہ نہيں.

اسى طرح وہ قبروں كا طواف كرتے اور فوت شدگان سے مدد بھى مانگتے ہيں....

يہ سب اعتقادات اور اعمال كفر اور ملت اسلاميہ سے خارج كرنے والے ہيں.

اس ليے اگر تو يہ عورت ان فاسد عقائد كى حاملہ ہے تو وہ مسلمان نہيں، اور اس سے نكاح جائز نہيں ہوگا.

كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور شرك كرنے والى عورتوں سے اس وقت تك نكاح نہ كرو جب تك وہ ايمان نہ لے آئيں، اور ايمان والى لونڈى بھى شرك كرنے والى آزاد عورت سے بہتر ہے، اگرچہ تمہيں مشركہ ہى اچھى لگتى ہو، اور نہ ہى شرك كرنے والے مردوں كے نكاح ميں اپنى عورتوں كو دو جب تك وہ ايمان نہ لے آئيں، اور ايمان والا غلام آزاد مشرك سے بہتر ہے، اگرچہ تمہيں مشرك اچھا لگے، يہ لوگ جہنم كى طرف بلاتے ہيں، اور اللہ تعالى اپنے حكم سے اپنى جنت اور بخشش كى طرف بلاتا ہے، اور اپنى آيات لوگوں كے ليے بيان كر رہا ہے تا كہ وہ نصيحت حاصل كريں }البقرۃ ( 221 ).

شيخ عبد الرحمن سعدى رحمہ اللہ اس كى تفسير ميں كہتے ہيں:

" يعنى: تم ان مشرك عورتوں سے نكاح مت كرو جب تك وہ اپنے شرك پر قائم رہتى ہيں، حتى كہ وہ ايمان لے آئيں تو پھر نكاح كر لو، كيونكہ مومنہ عورت ميں چاہے جتى بھى غلطياں ہوں وہ ايك مشركہ عورت سے پھر بھى بہتر ہے، چاہے مشركہ عورت كتنى بھى خوبصورت ہو.

يہ حكم سب مشرك عورتوں كے بارہ ميں عام ہے، ليكن اسے سورۃ المآئدۃ كى اس آيت ميں خاص كر ديا گيا ہے جس ميں اللہ سبحانہ و تعالى نے اہل كتاب كى عورتوں سے نكاح كرنا مباح كيا ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور جن لوگوں كى كتاب دى گئى ہے ان كى پاكباز عورتيں بھى حلال ہيں جب كہ تم ان كے مہر ادا كرو، اس طرح كہ تم ان سے باقاعدہ نكاح كرو يہ نہيں كہ علانيہ زنا كرو يا پوشيدہ بدكارى كرو، منكرين ايمان كے اعمال ضائع اور اكارت ہيں، اور آخرت ميں وہ نقصان اٹھانے والوں ميں سے ہيں }المآئدۃ ( 5 ). انتہى

ديكھيں: تفسير السعدى ( 99 ).

مزيد فائدہ اور تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 85370 ) اور ( 91983 ) كے جوابات كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم .


الاسلام سوال وجواب
 
شمولیت
مارچ 03، 2013
پیغامات
255
ری ایکشن اسکور
470
پوائنٹ
77
پاکستان میں اکثریت بریلویوں یا شیعہ کی نظر آتی ہے اور اس اصول کے تحت اگر بریلوی عورت سے نکاح جائز نہیں ہے تو امید کامل ہے کہ اس ہی فتوے کا اطلاق شیعہ پر بھی ہوگا اور پھر بریلویوں کا آپس میں یا شیعوں کا آپس میں نکاح بھی جائز نہ ہوا؟ اگر انکا نکاح جائز نہیں ہے تو وہ زنا کے مرتکب ہیں؟ ان کی اولاد کو ولد الزنا کے زمرے میں رکھا جائے گا؟ اس تحریر کو پڑھ کر اندازہ ہوا کہ ہمارے ارد گرد اتنے "اعلانیہ زانی" گھوم پھر رہے ہیں۔ کاروبار کر رہے ہیں۔ ہمارے افسر ہیں یا ماتحت ہیں ہمارے محلے دار ہیں بلکہ اکثر سے تو خونی کے علاوہ خوشی غمی کا رشتہ بھی ہے اورہم ان "اعلانیہ زانیوں" کی نگری کے خاموش باشندے ہیں۔ کہاں گیا "امر بالمعروف نہی عن المنکر"۔ ان "اعلانیہ زانیوں" کی سنگساری کا فتویٰ بھی ساتھ ہی منسلک کر دیتے تو اس "علمی" تحریر کو پڑھنے کا لطف دوبالا ہو جاتا۔ ویسے سو بار جزاک اللہ کہ مجھ جیسے علم کے متلاشی کو کتنی "علمی معلومات" میسر آ گئی اس تحریر کو دیکھ کر۔ میں تو باطل نکاح کے ٹیگ کو دیکھ کر اس پوسٹ پر آیا تھا کیا معلوم تھا کہ یہاں بھی "مسلکی فتویٰ" میرے علم میں خاطر خواہ اضافے کا باعث بنے گا۔
 

گڈمسلم

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 10، 2011
پیغامات
1,407
ری ایکشن اسکور
4,912
پوائنٹ
292
آج ایک دوست بتارہے تھے کہ شیعہ ختنہ نہیں کرواتے۔۔۔
کسی بھائی کو اس کا علم ہے؟؟؟۔۔۔
نہیں بھائی ایسی کوئی بات نہیں۔۔ جہاں ہم رہتے ہیں۔ چند گھروں کے علاوہ پورے کا پورا علاقہ شیعوں کا ہے۔۔ سر عام بچوں کے ختنہ کی رسم مثل شادی ان کےہاں دیکھنے کو ملتی ہے۔۔۔
 

باذوق

رکن
شمولیت
فروری 16، 2011
پیغامات
888
ری ایکشن اسکور
4,011
پوائنٹ
289
پاکستان میں اکثریت بریلویوں یا شیعہ کی نظر آتی ہے اور اس اصول کے تحت اگر بریلوی عورت سے نکاح جائز نہیں ہے تو امید کامل ہے کہ اس ہی فتوے کا اطلاق شیعہ پر بھی ہوگا اور پھر بریلویوں کا آپس میں یا شیعوں کا آپس میں نکاح بھی جائز نہ ہوا؟ اگر انکا نکاح جائز نہیں ہے تو وہ زنا کے مرتکب ہیں؟ ان کی اولاد کو ولد الزنا کے زمرے میں رکھا جائے گا؟ اس تحریر کو پڑھ کر اندازہ ہوا کہ ہمارے ارد گرد اتنے "اعلانیہ زانی" گھوم پھر رہے ہیں۔ کاروبار کر رہے ہیں۔ ہمارے افسر ہیں یا ماتحت ہیں ہمارے محلے دار ہیں بلکہ اکثر سے تو خونی کے علاوہ خوشی غمی کا رشتہ بھی ہے اورہم ان "اعلانیہ زانیوں" کی نگری کے خاموش باشندے ہیں۔ کہاں گیا "امر بالمعروف نہی عن المنکر"۔ ان "اعلانیہ زانیوں" کی سنگساری کا فتویٰ بھی ساتھ ہی منسلک کر دیتے تو اس "علمی" تحریر کو پڑھنے کا لطف دوبالا ہو جاتا۔ ویسے سو بار جزاک اللہ کہ مجھ جیسے علم کے متلاشی کو کتنی "علمی معلومات" میسر آ گئی اس تحریر کو دیکھ کر۔ میں تو باطل نکاح کے ٹیگ کو دیکھ کر اس پوسٹ پر آیا تھا کیا معلوم تھا کہ یہاں بھی "مسلکی فتویٰ" میرے علم میں خاطر خواہ اضافے کا باعث بنے گا۔
محترم بھائی ! ہر وہ چیز جو انٹرنیٹ پر شائع ہوتی ہو اسے "دین" سمجھ لینا درست نہیں ہے۔ اس قسم کے فتاویٰ آپ کو ہر مسلک و طبقہ کی سائیٹ پر مل جائیں گے۔ گوکہ مفتیان کرام کا دانستہ ارادہ نہیں ہوتا کہ ایسے فتویٰ جات کے ذریعے امت میں انتشار و افتراق کی فضا قائم کی جائے مگر نادانستگی میں ایسا اکثر ہوا جاتا ہے ، شاید یہی سبب ہو کہ یہ سعودی فتویٰ سائیٹ ہونے کے باوجود سعودی حکومت کے زیراثر یہاں سعودی عرب میں بلاک ہے۔
میرا ناقص مشورہ یہ ہے کہ آپ انٹرنیٹ کی ایسی چیزوں بطور خاص سوشل نیٹ ورکنگ کے پیچھے وقت ضائع کرنے کے بجائے اصلاح معاشرہ کے موضوعات پر مبنی کتب کا مطالعہ جاری رکھیں اور مسلکی اختلافی مسائل میں الجھنے کے بجائے انفرادی و اجتماعی عملی اصلاح پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔
 
شمولیت
اگست 05، 2012
پیغامات
115
ری ایکشن اسکور
453
پوائنٹ
57
پاکستان میں اکثریت بریلویوں یا شیعہ کی نظر آتی ہے اور اس اصول کے تحت اگر بریلوی عورت سے نکاح جائز نہیں ہے تو امید کامل ہے کہ اس ہی فتوے کا اطلاق شیعہ پر بھی ہوگا اور پھر بریلویوں کا آپس میں یا شیعوں کا آپس میں نکاح بھی جائز نہ ہوا؟ اگر انکا نکاح جائز نہیں ہے تو وہ زنا کے مرتکب ہیں؟ ان کی اولاد کو ولد الزنا کے زمرے میں رکھا جائے گا؟ اس تحریر کو پڑھ کر اندازہ ہوا کہ ہمارے ارد گرد اتنے "اعلانیہ زانی" گھوم پھر رہے ہیں۔ کاروبار کر رہے ہیں۔ ہمارے افسر ہیں یا ماتحت ہیں ہمارے محلے دار ہیں بلکہ اکثر سے تو خونی کے علاوہ خوشی غمی کا رشتہ بھی ہے اورہم ان "اعلانیہ زانیوں" کی نگری کے خاموش باشندے ہیں۔ کہاں گیا "امر بالمعروف نہی عن المنکر"۔ ان "اعلانیہ زانیوں" کی سنگساری کا فتویٰ بھی ساتھ ہی منسلک کر دیتے تو اس "علمی" تحریر کو پڑھنے کا لطف دوبالا ہو جاتا۔ ویسے سو بار جزاک اللہ کہ مجھ جیسے علم کے متلاشی کو کتنی "علمی معلومات" میسر آ گئی اس تحریر کو دیکھ کر۔ میں تو باطل نکاح کے ٹیگ کو دیکھ کر اس پوسٹ پر آیا تھا کیا معلوم تھا کہ یہاں بھی "مسلکی فتویٰ" میرے علم میں خاطر خواہ اضافے کا باعث بنے گا۔
یہ ساری عبارت تو آن جناب کا ذاتی فتویٰ ہے، جس کا اوپر کے فتویٰ سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں۔ محترم کو اندازہ ہی نہیں ہوا کہ اوپر کے فتویٰ پر تنقید کرتے کرتے وہ خود کتنے بڑے بڑے فتاویٰ بغیر دلیل کے ارشاد فرما چکے ہیں!

اللہ المستعان
 
شمولیت
اگست 05، 2012
پیغامات
115
ری ایکشن اسکور
453
پوائنٹ
57
محترم بھائی ! ہر وہ چیز جو انٹرنیٹ پر شائع ہوتی ہو اسے "دین" سمجھ لینا درست نہیں ہے۔ اس قسم کے فتاویٰ آپ کو ہر مسلک و طبقہ کی سائیٹ پر مل جائیں گے۔ گوکہ مفتیان کرام کا دانستہ ارادہ نہیں ہوتا کہ ایسے فتویٰ جات کے ذریعے امت میں انتشار و افتراق کی فضا قائم کی جائے مگر نادانستگی میں ایسا اکثر ہوا جاتا ہے ، شاید یہی سبب ہو کہ یہ سعودی فتویٰ سائیٹ ہونے کے باوجود سعودی حکومت کے زیراثر یہاں سعودی عرب میں بلاک ہے۔
میرا ناقص مشورہ یہ ہے کہ آپ انٹرنیٹ کی ایسی چیزوں بطور خاص سوشل نیٹ ورکنگ کے پیچھے وقت ضائع کرنے کے بجائے اصلاح معاشرہ کے موضوعات پر مبنی کتب کا مطالعہ جاری رکھیں اور مسلکی اختلافی مسائل میں الجھنے کے بجائے انفرادی و اجتماعی عملی اصلاح پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔
یہی فتویٰ لجنۃ دائمۃ للافتاء (ابن باز وابن عثیمین رحمہم اللہ) کا بھی ہے۔
وسئل علماء اللجنة الدائمة للإفتاء :
جماعة معينة في الباكستان تسمى البريلوية أو جماعة نواري نسبة إلى رئيسهم الحالي المعروف بنواري حيث طلبت من فضيلتكم الحكم الشرعي بهم وباعتقادهم وبالصلاة خلفهم ليكون ذلك بردا وسلاما على قلوب كثيرة لا تعرف الحقيقة ومرة ثانية ، أذكركم ببعض خرافاتهم واعتقاداتهم الشائعة :
1- الاعتقاد بأن الرسول عليه الصلاة والسلام حي .
2- الاعتقاد بأن الرسول عليه الصلاة والسلام حاضر وناظر خاصة بعد صلاة الجمعة مباشرة .
3- الاعتقاد بأن الرسول عليه أفضل الصلاة والسلام الشفيع مسبقا .
4- يعتقدون بالأولياء وأصحاب القبور ويصلون عندهم طالبين منهم قضاء الحاجة .
5- إشادة القباب وإضاءة القبور .
6- قولهم المشهور : يا رسول ، يا محمد صلى الله عليه وسلم .
7 - يسخطون بمن يجهر بالتأمين ويرفع يديه في الصلاة ويعتبرونه وهابي .
8- التعجب الشديد عند استعمال السواك عند الصلاة .
9- تقبيل الأصابع أثناء الوضوء والأذان وبعد الصلاة .
10- يردد إمامهم دائما بعد الصلاة الآية : ( إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ) وبالتالي فإن جميع المأمومين يصلون على النبي بشكل جماعي بصوت عال .
11- يتحلقون بعد صلاة الجمعة واقفين وينشدون ويمدحون بصوت مرتفع .
12- بعد ختم القرآن الكريم في تراويح شهر رمضان يطهون الطعام الكثير ويوزعونه في صحن المسجد بالإضافة إلى الحلويات .
13- يشيدون المساجد ويهتمون بزخرفتها كثيرا ، ويكتبون فوق المحراب : يا محمد .
14- يعتبرون أنفسهم هم أصحاب السنة والعقيدة الصحيحة وغيرهم على خطأ .
ما الحكم الشرعي بالصلاة خلفهم ؟
فأجابوا :
" من هذه صفاته لا تجوز الصلاة خلفه ، ولا تصح لو فُعلت مِنْ عالمٍ بحاله ؛ لأن معظمها صفات كفرية وبدعية تناقض التوحيد الذي أرسل الله به رسله وأنزل به كتبه ، وتعارض صريح القرآن ، مثل قوله سبحانه : (إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ) وقوله : (وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا) وينكر عليهم البدع التي يفعلونها بأسلوب حسن ، فإن قبلوا فالحمد لله ، وإن لم يقبلوا هجرهم وصلى في مساجد أهل السنة ، وله في خليل الرحمن أسوة حسنة في قوله : (وَأَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَأَدْعُو رَبِّي عَسَى أَلَّا أَكُونَ بِدُعَاءِ رَبِّي شَقِيًّا) " انتهى .
"فتاوى اللجنة الدائمة" (2 / 396-398) .
وسئل الشيخ ابن عثيمين رحمه الله : ما حكم الصلاة خلف إمام من طائفة البريلوية ، الذين يعتقدون أن النبي صلى الله عليه وسلم حي حاضر ناظر ؟
فأجاب : " إذا كانوا يعتقدون ذلك ، فقد خالفوا الإجماع ، أو كانوا يستغيثون به فهو شرك ، فلا تجوز الصلاة خلفهم " انتهى .
"ثمرات التدوين" (ص 8) .
والله أعلم .
موقع الإسلام سؤال وجواب
موقع الإسلام سؤال وجواب - عقائد \"البريلوية\"
 
شمولیت
مارچ 25، 2013
پیغامات
94
ری ایکشن اسکور
232
پوائنٹ
32
اصل میں بخاری سید کی غلط فہمی کی بنیاد کی وجہ یہ ہے کہ انکا خیال ہے کہ جس طرح مومن کا مشرک سے نکاح نہیں ہوتا اسی طرح مشرک کا مشرک یا کافر کا کافر سے نہیں ہوتا
جو کہ غلط ہے
اگر اس اصول کو لاگو کیا جائے تو بریلوی ہی کیا تمام شیعہ اور یہودی اور نصاری کا آپس میں بھی نکاح نہیں ہوتا اور یہ غلط ہے
اصل بات یہ ہے کہ مومن کا مشرک سے نکاح نہیں ہوتا
 
سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
Top