• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بری موت سے : اللہ سبحان و تعالیٰ کی پناہ !

محمد زاہد بن فیض

سینئر رکن
شمولیت
جون 01، 2011
پیغامات
1,960
ری ایکشن اسکور
5,797
پوائنٹ
354
جزاک اللہ خیرا
اللہ ہمیں ہرقسم کی ناگہانی مصیبتوں آفتوں اور بُری موت سے بچائے۔آمین
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
جزاک الله -

کیا اس دعا کا عربی متن مل سکتا ہے ؟؟
اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ من مَوْتِ الْفُجَاءَةِ ، وَمِنْ لَدْغِ الْحَيَّةِ، وَمِنَ السَّبُعِ، وَمِنَ الْحَرَقِ، وَمِنَ الْغَرَقِ، وَمِنْ أَنْ يَخِرَّ عَلَى شَيْءٍ، وَمِنَ الْقَتْلِ عِنْدَ فِرَارِ الزَّحْفِ ""
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
اچانک اور ناگہانی موت کے متعلق سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سےمروی ہے ،کہ وہ فرماتے ہیں :
اچانک کی موت مومن کےلئے آسانی و تخفیف ہے اور کافر کےلئے حسرت و افسوس ہے ؛
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَوْتُ الْفُجَاءَةِ تَخْفِيفٌ عَلَى الْمُؤْمِنِ، وَأَسَفٌ عَلَى الْكُفَّارِ.

رواه عبد الرزاق في المصنف (6776) وذكر الحديث البيهقي (3/534) وقال: " وَرَوَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ مِنْ قَوْلِهِ، وَرَوَاهُ الْحَجَّاجُ عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ مَرْفُوعًا"

رواه ابن أبي شيبة (12007) موقوفا على ابن مسعود وعائشة وقال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَائِشَةَ، قَالَا: «مَوْتُ الْفُجَاءَةِ رَأْفَةٌ بِالْمُؤْمِنِ، وَأَسَفٌ عَلَى الْفَاجِرِ».

وهذا إسناد صحيح إن شاء الله.

الثاني: عن أَبُي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عَلْقَمَةَ أَقَامَ بِخُرَاسَانَ سَنَتَيْنِ وَنِصْفَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، وَلَا يَجْمَعُ، وَعَادَ ابْنَ عَمٍّ لَهُ فَلَمَسَ جَبْهَتَهُ فَوَجَدَهَا تَرشَحُ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ نَفْسَ الْمُؤْمِنِ تَخْرُجُ رَشْحًا، وَلَا أُحِبُّ مَوْتًا كَمَوْتِ الْحِمَارِ» قَالَ مُسْلِمٌ: يَعْنِي مَوْتَ الْفُجَاءَةِ.

وهذا إسناد صحيح أبو معشر اسمه زيد بن كليب وثقه النسائي وغيره روى لَهُ مسلم، وأَبُو داود، والتِّرْمِذِيّ، والنَّسَائي، وبقية رجاله رجال الشيخان والحديث أخرجه الشاشي في المسند (343-345) وقال الدارقطني في "العلل" (873) وَسُئِلَ عَنْ حَدِيثِ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مَوْقُوفٍ قَالَ مَوْتُ الْفُجَاءَةِ أَسَفٌ عَلَى الْكَافِرِ تَخْفِيفٌ عَلَى الْمُؤْمِنِ.
 

محمد بن محمد

مشہور رکن
شمولیت
مئی 20، 2011
پیغامات
110
ری ایکشن اسکور
223
پوائنٹ
114
اللهُمَّ إِنِّي ۔۔۔۔۔ مَوْتِ الْفُجَاءَةِ ۔۔۔۔
أَنْ يَخِرَّ عَلَى۔۔۔۔۔۔۔يَخِرَّ عَلَيْهِ شَيْءٌ

اعوذ بك من موت ۔۔۔۔۔ اخرَّعلي شيئ۔۔۔۔۔۔ يخرَّعليَّ شيئ
اگر اپنے الفاظ میں دعا مانگنا چاہیں جیسا کہ "
اللهُمَّ إِنِّي" کے الفاظ سے ظاہر ہو رہا ہے تو پھرناقص رائے کے مطابق درج بالا صیغوں میں بھی تبدیلی کرنا پڑے گی۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
امام بخاری رحمہ اللہ تعالی نے صحیح بخاری میں اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ مومن مخلص کو اچانک موت آنا مکروہ ۔ناپسندیدہ۔ نہیں
صحیح البخاری
کتاب جنازے کے احکام و مسائل
باب موت الفجأة البغتة:
باب: ناگہانی موت کا بیان
.
حدیث نمبر: 1388
حدثنا سعيد بن ابي مريم حدثنا محمد بن جعفر ، قال:‏‏‏‏ اخبرني هشام عن ابيه عن عائشة رضي الله عنها"ان رجلا قال للنبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ إن امي افتلتت نفسها واظنها لو تكلمت تصدقت فهل لها اجر إن تصدقت عنها؟ ، قال:‏‏‏‏ نعم".
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،"أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا، وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، فَهَلْ لَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ ، قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ".
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ‘ کہا مجھے ہشام بن عروہ نے خبر دی ‘ انہیں ان کے باپ نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میری ماں کا اچانک انتقال ہو گیا اور میرا خیال ہے کہ اگر انہیں بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ کچھ نہ کچھ خیرات کرتیں۔ اگر میں ان کی طرف سے کچھ خیرات کر دوں تو کیا انہیں اس کا ثواب ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ملے گا۔

وقوله : افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا أي ماتت فجاة .
وقال الإمام القسطلاني رحمه الله في إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري :
وأشار المؤلّف بهذا إلى أن موت الفجأة ليس بمكروه ، لأنه عليه الصلاة والسلام لم يظهر منه كراهة لما أخبره الرجل بأن أمه افتلتت نفسها .
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
آپ سب احباب کےلئے ایک جامع دعاء جو دنیا و آخرت کی کامیابی کےلئے مفید ہوگی ،ان شاء اللہ العزیز

سنن ابن ماجہ
باب : الجوامع من الدعاء
باب: جامع دعاؤں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3846
عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهَا هَذَا الدُّعَاءَ:‏‏‏‏"اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ ، عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ ، عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَاذَ بِهِ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ ، وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ ، وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ ، وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَاءٍ قَضَيْتَهُ لِي خَيْرًا".
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ دعا سکھائی: «اللهم إني أسألك من الخير كله عاجله وآجله ما علمت منه وما لم أعلم وأعوذ بك من الشر كله عاجله وآجله ما علمت منه وما لم أعلم اللهم إني أسألك من خير ما سألك عبدك ونبيك وأعوذ بك من شر ما عاذ به عبدك ونبيك اللهم إني أسألك الجنة وما قرب إليها من قول أو عمل وأعوذ بك من النار وما قرب إليها من قول أو عمل وأسألك أن تجعل كل قضاء قضيته لي خيرا» ”اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت کی ساری بھلائی کی دعا مانگتا ہوں جو مجھ کو معلوم ہے اور جو نہیں معلوم، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں دنیا اور آخرت کی تمام برائیوں سے جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو معلوم نہیں، اے اللہ! میں تجھ سے اس بھلائی کا طالب ہوں جو تیرے بندے اور تیرے نبی نے طلب کی ہے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس برائی سے جس سے تیرے بندے اور تیرے نبی نے پناہ چاہی ہے، اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا طالب ہوں اور اس قول و عمل کا بھی جو جنت سے قریب کر دے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم سے اور اس قول و عمل سے جو جہنم سے قریب کر دے، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ ہر وہ حکم جس کا تو نے میرے لیے فیصلہ کیا ہے بہتر کر دے“۔
تخریج دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ۱۷۹۸۶، ومصباح الزجاجة : ۱۳۴۶)، وقد أخرجہ : مسند احمد (۶/۱۳۴، ۱۴۷) (صحیح) جب کہ مسلم نے ان سے روایت کی ہے، اور حدیث کی تصحیح ابن حبان، حاکم، ذہبی اور البانی نے کی ہے، نیز شواہد بھی ہیں، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی : ۱۵۴۲)قال الشيخ الألباني: صحيح
 
Top