محمد عامر یونس
خاص رکن
- شمولیت
- اگست 11، 2013
- پیغامات
- 17,117
- ری ایکشن اسکور
- 6,823
- پوائنٹ
- 1,069
فقہ الحدیث:
1: یہ حدیث دلیل ہے کہ بغیر وضو کے قرآن مجید کی تلاوت جائز ہے۔ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (متوفی 311ھ) نے اس حدیث پر بایں الفاظ باب قائم کیا ہے: "باب الرخصۃ فی قراءۃ القرآن و ھو أفضل الذکر علی غیر وضو" بغیر وضو کے قرآن مجید کی تلاوت کرنے کی اجازت ہے، حالانکہ تلاوتِ قرآن افضل ترین ذکر ہے۔
2: امام طحاوی رحمہ اللہ (متوفی 321ھ) نے فرمایا: "اسی طرح رسول اللہ ﷺ سے جو بیان کیا گیا ہے وہ بغیر وضو کے تلاوت قرآن اور ذکر الہٰی کرنے کی اباحت پر دلیل ہے۔" (شرح معانی الآثآر:87/1ح 541)
3: حالتِ جنابت میں قرآن مجید کی تلاوت جائز نہیں ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "جب تک جنبی نہ ہوجاؤ اس وقت تک قرآن پڑھو۔ اگر جنابت لاحق ہوجائے تو پھر ایک حرف (بھی) نہ پڑھو۔" (سنن الدارقطنی:118/1ح 419 و سندہ حسن)
4: ابو وائل شقیق بن سلمہ (تابعی) رحمہ اللہ نے فرمایا: "جنبی اور حائضہ قرآن مجید نہ پڑھیں۔" (مصنف ابن ابی شیبہ:102/1 ح 1085 و سندہ صحیح)
5: بعض کے نزدیک ایک دو آیتیں پڑھنا جائز ہے۔ مثلاً سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ (مصنف ابن ابی شیبہ:102/1ح1089 و سندہ صحیح) اور امام محمد بن علی الباقر رحمہ اللہ(مصنف ابن ابی شیبہ:102/1ح 1088 ، وسندہ صحیح)
6: امام بغوی رحمہ اللہ (متوفی 516ھ) نے فرمایا: "صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد جمہور اہل علم کے نزدیک جنبی اور حائضہ کے لئےقرآن مجید کی تلاوت کرنا جائز نہیں ہے۔" (شرح السنۃ:360/1)
٭اور یہی ہمارے نزدیک راجح ہے۔