• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بغیر وضو کے قرآن مجید کی تلاوت !!!

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,823
پوائنٹ
1,069
1900155_672383609466692_2020315525_n.jpg

فقہ الحدیث:

1: یہ حدیث دلیل ہے کہ بغیر وضو کے قرآن مجید کی تلاوت جائز ہے۔ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (متوفی 311ھ) نے اس حدیث پر بایں الفاظ باب قائم کیا ہے: "باب الرخصۃ فی قراءۃ القرآن و ھو أفضل الذکر علی غیر وضو" بغیر وضو کے قرآن مجید کی تلاوت کرنے کی اجازت ہے، حالانکہ تلاوتِ قرآن افضل ترین ذکر ہے۔

2: امام طحاوی رحمہ اللہ (متوفی 321ھ) نے فرمایا: "اسی طرح رسول اللہ ﷺ سے جو بیان کیا گیا ہے وہ بغیر وضو کے تلاوت قرآن اور ذکر الہٰی کرنے کی اباحت پر دلیل ہے۔" (شرح معانی الآثآر:87/1ح 541)

3: حالتِ جنابت میں قرآن مجید کی تلاوت جائز نہیں ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "جب تک جنبی نہ ہوجاؤ اس وقت تک قرآن پڑھو۔ اگر جنابت لاحق ہوجائے تو پھر ایک حرف (بھی) نہ پڑھو۔" (سنن الدارقطنی:118/1ح 419 و سندہ حسن)

4: ابو وائل شقیق بن سلمہ (تابعی) رحمہ اللہ نے فرمایا: "جنبی اور حائضہ قرآن مجید نہ پڑھیں۔" (مصنف ابن ابی شیبہ:102/1 ح 1085 و سندہ صحیح)

5: بعض کے نزدیک ایک دو آیتیں پڑھنا جائز ہے۔ مثلاً سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ (مصنف ابن ابی شیبہ:102/1ح1089 و سندہ صحیح) اور امام محمد بن علی الباقر رحمہ اللہ(مصنف ابن ابی شیبہ:102/1ح 1088 ، وسندہ صحیح)

6: امام بغوی رحمہ اللہ (متوفی 516ھ) نے فرمایا: "صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد جمہور اہل علم کے نزدیک جنبی اور حائضہ کے لئےقرآن مجید کی تلاوت کرنا جائز نہیں ہے۔" (شرح السنۃ:360/1)

٭اور یہی ہمارے نزدیک راجح ہے۔
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,767
ری ایکشن اسکور
5,412
پوائنٹ
562
  1. (غالباً) نسائی اور ابوداؤد میں یہ حدیث موجود ہے کہ مجھے صرف نماز کے لئے وضو کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک اور حدیث کا مفہوم ہے کہ طوافِ کعبہ بھی نماز ہی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ نماز میں گفتگو نہیں کرسکتے جبکہ طواف میں بوقت ضرورت گفتگو کی جاسکتی ہے۔ ان دو احادیث کی رو سے صرف نماز اور طواف کے لئے وضو لازم ہے، کسی اور عبادت کے لئے نہیں۔
  2. جنبی کو تو بالعموم فوری تلاوت قرآن کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ غسل کے بعد بھی تلاوت کرسکتا ہے۔ البتہ ایک جنبی عام بول چال میں ٖقرآنی آیت یا دعا وغیرہ پڑھ سکتا ہے۔
  3. حائضہ قرآن کی تلاوت نہ کرے، کیا کوئی ایسی واضح آیت یا حدیث اس امر کی ممانعت میں موجود ہے؟ حائضہ کو صرف نماز اور روزہ سے منع کیا گیا ہے جبکہ وہ حج میں (طواف کے علاوہ) تمام ارکان ادا کرتی ہے۔ اسی طرح دینی مدارس اور اسکولوں میں مخصوص ایام کے دوران بھی خواتین اساتذہ قرآن پڑھاتیں اور طالبات قرآن کا سبق پڑھتیں ہیں۔ اہل علم سے رہنمائی کی درخواست ہے
 
Top