• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بنک سے قرض لینا

محدث میڈیا

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 02، 2023
پیغامات
1,058
ری ایکشن اسکور
34
پوائنٹ
111
مسلمانوں کو خیر اور بھلائی کے کام میں آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے، کسی مسلمان کوجائز کام کے لیے قرض دینا بہت بڑی نیکی ہے۔
ارشادباری تعالیٰ ہے:

إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ (التوبة: 120)

’’یقینا اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔‘‘

سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((لَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ قَبْلَ أَنْ يَحِلَّ الدَّيْنُ، فَإِذَا حَلَّ الدَّيْنُ فَأَنْظَرَهُ فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلَيْهِ صَدَقَةٌ)) (السلسلة الصحيحة: 86)

’’قرض دینے والے کو قرض کی واپسی کی طے شدہ تاریخ آنے تک ہر دن کے بدلے اس کے دیے گئے قرض کے برابر صدقہ کا ثواب ملتا ہے، اور اگر وہ قرض کی واپسی کی طے شدہ تاریخ آنے کے بعد مہلت دے دے تو اسے ہر دن کے بدلے قرض کی دگنی مقدار کے برابر صدقہ کا ثواب ملتا ہے۔‘‘

  • اگر بنک کسی کو قرض دے کر زیادہ وصول کرتا ہے تو یہ سود ہے اور کبیرہ گناہ ہے، اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعلان جنگ ہے۔​
اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُؤُوسُ أَمْوَالِكُمْ لا تَظْلِمُونَ وَلا تُظْلَمُونَ. (البقرة: 278-279).

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور سودمیں سے جو باقی ہے چھوڑ دو، اگر تم مؤمن ہو۔ پھر اگر تم نے یہ نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بڑی جنگ کے اعلان سے آگاہ ہو جاؤ، اور اگر توبہ کر لو تو تمہارےلیے تمہارے اصل مال ہیں، نہ تم ظلم کرو گے او رنہ تم پر ظلم کیا جائے گا‘‘۔

سیدنا جابر رضى اللہ عنہ بیان کرتےہیں:

((لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ»، وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ)). (صحيح مسلم، المساقاة: 1598).

’’رسول كريم صلى اللہ علیہ وسلم نے سود كھانے والے، سود كھلانے والے ، سود لكھنے والے، اور سود كے گواہ بننے والوں پر لعنت فرمائى ہے ، اور فرمایا: يہ سب (گناہ میں) برابر ہيں ‘‘۔

والله أعلم بالصواب.
 
Top