• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کا فیصلہ موخر:جماعۃ الدعوۃ کا خیرمقدم

شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
122
ری ایکشن اسکور
422
پوائنٹ
76
جماعة الدعوة نے حکومت کی جانب سے بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کا فیصلہ موخر کرنے پر خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران اپنے ملک کے تاجروں کو بہتر سہولتیں فراہم کرے تاکہ ملکی صنعت ترقی کرے جماعة الدعوة اسلام آباد کے امیر شفیق الرحمن نے وزیر تجارت امین فہیم کے اس بیان پر کہ فیصلہ وقتی طور پر معطل کیا گیا ہے نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گیس ،بجلی کی سہولتیں فراہم کر کے پاکستانی برآمدات کو بڑھایا جا سکتا ہے جبکہ بھارت کی پسندیدہ ملک قرار دے کر ہم اپنے ہاتھوں سے اپنی ہی معیشت کو تباہ کر لیں گے دوسری طرف بھارت تجارت کی آڑ میں پاکستان میں اپنی تخریبی کارروائیاں بھی بڑھا دے گا ،انہوں نے کہا کہ تصفیہ طلب مسائل کے حل تک بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانا سمجھ سے بالا تر ہے ،پاکستان کے پاس وسط ایشیا کی وسیع مارکیٹ موجود ہے شفیق الرحمن نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی میدان بھارت کے حوالے کرنے کی سازشوں کی تاجروں کی مدد سے ناکام بنائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ چند مفاد پرستوں کے سواپوری قوم بھارت سے یکطرفہ دوستی اور تجارت کے خلاف ہے۔

پاکستان میں بجلی وپانی کی کمی جیسے بحران مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی دریاﺅں پر بھارت کی طرف سے غیر قانونی ڈیموں کی تعمیر کا شاخسانہ ہیں۔
 
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
122
ری ایکشن اسکور
422
پوائنٹ
76
پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہاکہ بھارت کو پسندیدہ تجارتی ملک قرار دینا دراصل پاکستان پر حملے سے کم نہیں۔ اس عمل سے بھارت کو فائدہ ملے گا اور پاکستان سراسرخسارے اورنقصان میں رہے گا۔ اعداد وشمارکے مطابق بھارت سے تجارت کے باعث پاکستان کو اب تک اربوں ڈالر کا تجارتی خسارہ اٹھا نا پڑاہے ۔ ہم بھی چاہتے ہیں کہ معاملات حل ہوں، بات چیت بھی ہو لیکن اس طرح کے کسی بھی عمل سے پہلے مسئلہ کشمیر، پانی کے مسائل اور دیگر تنازعات کو حل ہونا ضروری ہے۔ جب تک بھارت مقبوضہ کشمیر سے اپنی آٹھ لاکھ فوج نہیں نکالتا، کشمیریوں کا ان کا حق خود ارادیت نہیں دیا جاتا اورپاکستانی دریاﺅں پر سے وہ اپنا غاصبانہ قبضہ ختم نہیں کرتا اس سے کسی قسم کے مذاکرات اور معاہدات کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا اور نہ ہی کشمیری و پاکستانی قوم ملکی مفادات کو پس پشت ڈالتے ہوئے اس قسم کے کوئی معاہدات قبول کرنے کیلئے تیار ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان کی بھارت کے لئے خارجہ پالیسی ایک آزاد ملک کی پالیسی نظر نہیں آتی،بھارت نے پہلے پاکستان کو دولخت کیا اور اب بھی وہ ایسے ہی منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔ افغانستان میںتربیت لیکر پاکستان داخل ہونے والے بھارتی ایجنٹوں نے بلوچستان و دیگر علاقوں میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کر رکھا ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے حکمران لاکھوں شہداءکی قربانیاں پس پشت ڈالتے ہوئے اسی بھارت کے ساتھ دوستی، تجارت اور ویزہ پالیسی میں نرمی جیسے فیصلے کررہے ہیں، اگر پاکستانی حکمران کشمیریوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار نہیں کرسکتے تو کم سے کم انکے زخموں پر نمک پاشی بھی نہ کریں‘ جموں کشمیر میں بھارتی افواج کی بدترین انسانی حقوق کی پامالیوں اور پاکستانی دریاﺅں پر متنازعہ ڈیموں کی تعمیر کو نظر انداز کرکے بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینا دراصل خودکشی کے مترادف ہو گا.
 
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
122
ری ایکشن اسکور
422
پوائنٹ
76
پروفیسر حافظ محمد سعید نے مزیدکہا ہے کہ وفاقی کابینہ کی طر ف سے بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کادرجہ دینے کے فیصلہ پر عمل درآمد کی ہدایت نظریہ پاکستان کی بنیادوں پر حملہ اورملکی سلامتی و خودمختاری کی دھجیاں بکھیرنے کے مترادف ہے۔بھارت افغانستان میں دہشت گردوں کو تربیت دیکر پاکستان میں دہشت گردی و تخریب کاری کروا رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے جارہے ہیں اور پاکستانی حکمران قاتل بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے دوہرامعیار اپنا رکھا ہے۔مظلوم کشمیریوں کوحق خودارادیت ملنے تک جنوبی ایشیا میں کسی صورت امن قائم نہیں ہو سکتا۔کشمیر کو چھوڑ کر بھارت سے تجارت اور پاکستان کو انڈیا کی منڈی بنانے کی کوششیں قوم کامیاب نہیں ہونے دے گی.
 
Top