• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بھینس کی قربانی کا شرعی جائزہ شیخ عبید اللہ رحمانی مبارکپوری کے کلام کی روشنی میں

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
817
ری ایکشن اسکور
225
پوائنٹ
111
بھینس کی قربانی کا شرعی جائزہ شیخ عبید اللہ رحمانی مبارکپوری کے کلام کی روشنی میں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده، أما بعد:

قربانی ایک عظیم عبادت ہے، اور عبادات کی اصل یہ ہے کہ وہ صرف کتاب و سنت کی دلیل سے ثابت ہوں۔ لہٰذا جس جانور کی قربانی شریعت نے مشروع قرار دی ہو، اسی پر اکتفا کیا جائے گا، اور جس کے بارے میں واضح دلیل نہ ہو اسے عبادت میں داخل کرنا درست نہیں۔

بعض لوگ بھینس کو بھی قربانی کے مشروع جانوروں میں داخل کرتے ہیں، حالانکہ اس مسئلہ میں اہل علم کے مابین کلام موجود ہے، اور بعض محققین اہل حدیث نے اس کے جواز کو محلِّ نظر قرار دیا ہے۔ انہی اہل علم میں سے شیخ عبید اللہ محدث مبارکپوری نے اپنی معروف کتاب مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں اس مسئلہ پر علمی گفتگو فرمائی ہے :

6982.jpg

6980.jpg

شیخ عبید اللہ رحمانی مبارکپوری نے بھینس کی قربانی کے مسئلہ پر گفتگو کرتے ہوئے اصل قاعدہ یہ بیان فرمایا: "لا يجزئ في الأضحية غير بهيمة الأنعام" یعنی قربانی میں بہیمۃ الانعام کے علاوہ کوئی چیز کافی نہیں۔

پھر انہوں نے قرآن مجید کی آیت سے استدلال کیا: {ليذكروا اسم الله على ما رزقهم من بهيمة الأنعام} اور وضاحت فرمائی: "وهي الإبل والبقر والغنم الأهلية" یعنی بہیمۃ الانعام سے مراد صرف اونٹ، گائے اور پالتو بکری و بھیڑ ہیں۔ یہی اصل ہے، اور عبادات میں اصل توقیف ہے؛ لہٰذا کسی نئے جانور کو قربانی میں داخل کرنے کے لیے صریح شرعی دلیل ضروری ہے۔

رہا "جاموس" یعنی بھینس کا مسئلہ، تو بعض فقہاء نے اسے گائے کی ایک قسم قرار دے کر اس کی قربانی کو جائز کہا ہے۔ جیسا کہ شیخ مبارکپوری نے ان کا موقف نقل کیا: "قالوا: لأن الجاموس نوع من البقر" یعنی وہ کہتے ہیں کہ بھینس بھی گائے ہی کی ایک قسم ہے۔

لیکن اس دعوے کو شیخ مبارکپوری نے محلِّ نظر قرار دیا اور فرمایا: "الأمر عندي ليس واضحاً كما زعموا" یعنی میرے نزدیک معاملہ اتنا واضح نہیں جیسا کہ انہوں نے گمان کیا ہے۔

شیخ مبارکپوری نے اس مسئلہ میں توقف اور احتیاط کو ترجیح دی ہے، بلکہ حقیقت میں یہی راجح معلوم ہوتا ہے؛ خصوصاً جبکہ قربانی عبادت ہے اور عبادات میں احتیاط مطلوب ہے۔ کیونکہ شریعت نے جن جانوروں کا نام لیا ہے ان میں معروف گائے ہیں، نہ کہ بھینس۔

پھر شیخ مبارکپوری نے ایک نہایت اہم نکتہ ذکر فرمایا: "اعترفوا بأن الجاموس في ما يتعارف الناس نوع آخر غير البقر" یعنی خود انہوں نے بھی اعتراف کیا ہے کہ عرف عام میں بھینس، گائے سے الگ ایک دوسری قسم شمار ہوتی ہے۔

یہی اصل دلیل ہے؛ کیونکہ جب عرف، لغت اور ظاہر حال میں بھینس گائے سے الگ جنس سمجھی جاتی ہے تو محض قیاس کی بنیاد پر اسے قربانی میں داخل کرنا درست نہیں۔

اسی لیے شیخ مبارکپوری نے مزید فرمایا: "لما بينهما من الاختلاف العظيم في الظاهر والمخبر" یعنی دونوں کے ظاہر اور حقیقت میں بہت بڑا فرق پایا جاتا ہے۔

پھر اس فرق کی فقہی مثال بھی ذکر کی کہ "من حلف أن لا يأكل لحم البقر فأكل لحم الجاموس لا يكون حانثاً" اگر کوئی قسم کھائے کہ گائے کا گوشت نہیں کھائے گا، پھر بھینس کا گوشت کھا لے، تو قسم نہیں ٹوٹے گی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ فقہاء خود بھی دونوں کو حقیقتاً الگ سمجھتے ہیں۔

رہی وہ حدیث: "الجاموس في الأضحية عن سبعة" تو یہ حدیث قابل اعتماد نہیں شیخ مبارکپوری اس کے متعلق فرماتےہیں :"وأما الحديث المذكور فليس مما يعرج عليه لما لا يعرف حاله" مذکورہ حدیث ایسی نہیں کہ اس پر اعتماد کیا جائے، کیونکہ اس کی حقیقت اور حال معلوم نہیں۔ لہٰذا ایسی ضعیف روایت سے ایک عبادت کو ثابت نہیں کیا جا سکتا۔

خلاص کلام یہ ہے کہ قربانی ایک عظیم عبادت ہے اور عبادات میں احتیاط، اتباع نصوص اور طریقہ سلف کو اختیار کرنا واجب ہے۔ شیخ عبید اللہ رحمانی مبارکپوری کے کلام سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ بھینس کو گائے کی جنس قرار دے کر اس کی قربانی کو قطعی طور پر مشروع کہنا محلّ نظر ہے، خصوصاً جبکہ خود فقہاء نے عرف و حقیقت کے اعتبار سے دونوں میں فرق کا اعتراف کیا ہے۔

لہٰذا ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ دین کے معاملات میں احتیاط اختیار کرے، اور قربانی جیسے عظیم شعار میں انہی جانوروں پر اکتفا کرے جن کی مشروعیت کتاب و سنت سے واضح طور پر ثابت ہے۔ یہی طریقہ سلامتی کے زیادہ قریب، شبہات سے دور اور اتباع شریعت کے زیادہ موافق ہے۔

والله تعالى أعلم بالصواب۔
 
Top