ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 925
- ری ایکشن اسکور
- 232
- پوائنٹ
- 111
بیوہ کے دوسری شادی کرنے پر بچوں کی حضانت کا حکم
فتاوى عبر الأثير (( 26 ))
السؤال: أرملة مجاهد لديها بنت عمرها خمس سنوات وولد عمره سنة، والجد والجدة أحياء، متى تنتهي الحضانة إذا هي تزوجت؟
ایک مجاہد کی بیوہ ہے، جس کی ایک پانچ سالہ بیٹی اور ایک سال کا بیٹا ہے، جبکہ بچوں کے دادا اور دادی زندہ ہیں۔ اگر یہ عورت دوسری شادی کر لے تو بچوں کی حضانت (پرورش اور نگہداشت کا حق) کب ختم ہوگا؟
الجواب: اتفق أهل العلم على أن الأم أحق بحضانة أولادها ما لم تتزوج أو يمنعها مانع آخر، لقول النبي صلى الله عليه وسلم فيما أخرجه أبو داود في سننه: «أنتِ أحق به ما لم تنكحي»، وإسناده حسن.
جواب: اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ماں اپنے بچوں کی حضانت اور نگہداشت کی سب سے زیادہ حق دار ہے، جب تک وہ دوسری شادی نہ کر لے یا کوئی دوسری رکاوٹ پیدا نہ ہو جائے۔ اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے، جسے امام ابو داود نے اپنی سنن میں روایت کیا ہے: «أنتِ أحق به ما لم تنكحي» ’’تم اس بچے کی زیادہ حق دار ہو، جب تک تم نکاح نہ کر لو۔‘‘ اس حدیث کی سند حسن ہے۔
قال الصنعاني في «سبل السلام»: «الحديث دليل على أن الأم أحق بحضانة ولدها إذا أراد الأب انتزاعه منها». انتهى كلامه رحمه الله.
امام صنعانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب سبل السلام میں فرمایا ہے: ’’یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ جب باپ بچے کو ماں سے لے لینا چاہے تو ماں اپنے بچے کی حضانت کی زیادہ حق دار ہے۔‘‘
فإذا تزوجت المرأة رجلاً أجنبياً عن الولد، سقط حقها في الحضانة حتى وإن لم يبلغ الولد سن التخيير.
پس جب عورت کسی ایسے مرد سے نکاح کر لے جو بچے کا محرم نہ ہو، تو حضانت کا اس کا حق ساقط ہو جاتا ہے، اگرچہ بچہ ابھی اس عمر کو نہ پہنچا ہو جس میں اسے اپنے والدین میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا جاتا ہے۔
أما إن رضي من له الحق في حضانة الأطفال بعد الأم عند زواجها، كالجدة ونحوها، وتنازلت أو تنازل أبو الأولاد للأم عن حضانة الأولاد، ورضي زوجها الجديد، فلا تسقط عند ذلك على الصحيح من أقوال أهل العلم… والله أعلم.
البتہ اگر عورت کی دوسری شادی کے بعد بچوں کی حضانت کا حق رکھنے والا شخص، مثلا بچوں کی دادی یا کوئی دوسرا حق دار، اس بات پر راضی ہو جائے، اور وہ اپنا حق چھوڑ دے، یا بچوں کا باپ بچوں کی حضانت کا حق ان کی ماں کے لیے چھوڑ دے، اور عورت کا نیا شوہر بھی اس پر رضامند ہو، تو ایسی صورت میں صحیح قول کے مطابق ماں کا حق حضانت ساقط نہیں ہوگا۔
اور اللہ تعالیٰ ہی سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہے۔