• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بیوہ کے گھر میں اجنبی مرد کے داخل ہونے کا حکم

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
925
ری ایکشن اسکور
232
پوائنٹ
111
بیوہ کے گھر میں اجنبی مرد کے داخل ہونے کا حکم


فتاوى عبر الأثير (( 25 ))​

السؤال: أرملة لديها ولد عمره عشر سنين وهي تتعرض أحيانا أن يدخل في بيتها رجل أجنبي كأن يكون مصلح كهرباء أو غير ذلك, فهل عليها حرج بدخول الرجل؟

ایک بیوہ عورت ہے جس کا دس سال کا ایک بیٹا ہے۔ اسے کبھی کبھار ایسی ضرورت پیش آتی ہے کہ کوئی غیر محرم مرد اس کے گھر میں داخل ہو، مثلا بجلی ٹھیک کرنے والا یا کوئی دوسرا کاریگر۔ تو کیا ایسے مرد کے گھر میں داخل ہونے میں اس عورت پر کوئی گناہ ہے؟

الجواب: ننصح هذه الأخت السائلة إن اضطرت لمثل هذا الأمر أن تحضر أحد محارمها إن وجد أثناء دخول هذا الصانع وإلا فالتسعى أن تحضر إحدى جاراتها أو إحدى صديقاتها أثناء مجيء هذا الصانع حتى لا يدخل إلى البيت وليس في البيت سوى هذه المرأة وطفلها… والله أعلم.

جواب: ہم اس سوال کرنے والی بہن کو نصیحت کرتے ہیں کہ اگر اسے ایسی ضرورت پیش آ جائے تو جب یہ کاریگر گھر میں داخل ہو، اس وقت اپنے محارم میں سے کسی ایک کو موجود رکھنے کی کوشش کرے، اگر کوئی محرم دستیاب ہو۔ اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو اسے چاہیے کہ اس کاریگر کے آنے کے وقت اپنی کسی پڑوسن یا سہیلی کو اپنے پاس بلا لے، تاکہ کاریگر ایسے گھر میں داخل نہ ہو جہاں اس عورت اور اس کے بچے کے سوا کوئی موجود نہ ہو۔

اور اللہ تعالیٰ ہی سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہے۔
 
Top