ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 925
- ری ایکشن اسکور
- 232
- پوائنٹ
- 111
بیوی کی رضامندی کے بغیر مزید اولاد پیدا کرنے سے روکنے کا شرعی حکم
فتاوى عبر الأثير (( 24 ))
السؤال: أنا متزوجه منذ خمس سنوات ،وعندى طفل ،وزوجى لا يريد أن أنجب أطفالا غيره ،هل يجوز ذلك ؟
سوال: میری شادی کو پانچ سال ہو چکے ہیں اور میرا ایک بچہ ہے۔ میرے شوہر نہیں چاہتے کہ میں اس کے علاوہ مزید بچے پیدا کروں۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
الجواب: لا يجوز له ذلك، إذ ليس للزوج حق الانفراد بقرار منع الحمل، بل لابد أن يكون ذلك بموافقة الزوجه وإذنها. وهو ما ذهب إليه جمهور العلماء
جواب: شوہر کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ حمل روکنے کا فیصلہ کرنے میں شوہر کو تنہا اختیار حاصل نہیں، بلکہ اس کے لیے بیوی کی رضامندی اور اجازت بھی ضروری ہے۔ جمہور علماء کا بھی یہی موقف ہے۔
بل قال بن عبد البر رحمه الله فى الاستذكار: «لا أعلم خلافا أن الحرة -أى الزوجة الحرة- لا يعزل عنها زوجها إلا بإذنها» انتهى كلامه رحمه الله. وعللوا ذلك بأنه يفوت عليها حق الإنجاب، وحق الاستمتاع.
بلکہ ابن عبد البر رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الاستذکار میں فرمایا ہے: ’’میرے علم میں اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں کہ آزاد عورت، یعنی آزاد بیوی، سے اس کا شوہر اس کی اجازت کے بغیر عزل نہیں کر سکتا۔‘‘ علماء نے اس کی علت یہ بیان کی ہے کہ اس طرح بیوی کی اولاد پیدا کرنے کا حق اور ازدواجی تعلق سے لطف اندوز ہونے کا حق فوت ہو جاتا ہے۔
قال بن القدامة فى المغنى: «ولأن لها في الولد حقا، وعليها في العزل ضرر، فلم يجز إلا بإذنها» إنتهى كلامه رحمه الله ،هذا والله تعالى أعلم.
ابن قدامہ رحمہ اللہ نے المغنی میں فرمایا ہے: ’’کیونکہ اولاد میں عورت کا بھی حق ہے، اور عزل کرنے میں اس کے لیے نقصان ہے؛ لہٰذا اس کی اجازت کے بغیر ایسا کرنا جائز نہیں۔‘‘
اور اللہ تعالیٰ ہی سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہے۔