• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بیٹھک

محمد زاہد بن فیض

سینئر رکن
شمولیت
جون 01، 2011
پیغامات
1,960
ری ایکشن اسکور
5,797
پوائنٹ
354
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ؛
عمر اثری بھائی شادی کی بہت بہت مبارک ہو۔
بَارَكَ اللهُ لَكَ وَبَارَكَ عَلَيْكَ وَ جَمَعَ بَيْنَكُمَا فِيْ خَيْرٍ
 

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,404
ری ایکشن اسکور
1,111
پوائنٹ
412
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ؛
عمر اثری بھائی شادی کی بہت بہت مبارک ہو۔
بَارَكَ اللهُ لَكَ وَبَارَكَ عَلَيْكَ وَ جَمَعَ بَيْنَكُمَا فِيْ خَيْرٍ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جزاک اللہ خیرا.
اللہ آپکی دعاؤں کو شرف قبولیت بخشے آمین
بارک اللہ فیک
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,393
ری ایکشن اسکور
2,721
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
ابو جعفر الطحاوی (متوفی ۳۲۱ھ) کی طرف منسوب کتاب عقیدۂ طحاویہ
یہ بات سمجھ نہیں آئی! کہ اسے منسوب سے کیوں تعبیر کیا گیا ہے!
 
Last edited:

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,393
ری ایکشن اسکور
2,721
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
@خضر حیات بھائی! ''پرائمری ماسٹر'' کے شاگردوں کو ''ڈنڈے'' کی عادت ہوتی ہے! ڈنڈے کے بغیر وہ قابو میں نہیں رہتے!
 
شمولیت
مارچ 01، 2016
پیغامات
47
ری ایکشن اسکور
4
پوائنٹ
52
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

یہ بات سمجھ نہیں آئی! کہ اسے منسوب سے کیوں تعبیر کیا گیا ہے!
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
پیارے بھائی اس حوالے سے آپکو فورم پر موجود علماء اکرام ہی جواب دے سکتے ہیں۔ البتہ کتاب کے اندر یہی الفاظ موجود ہے منسوب کے ہی۔
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,393
ری ایکشن اسکور
2,721
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اس تھریڈ میں اس لئے لکھ رہا ہوں، کہ وہاں تھریڈ کا موضوع ہی نہ بدل جائے!
باپ کا بیٹوں کے مال سے لینا درست ہے!
ہمارے معاشرے میں عام طور پر یہ روایت ہے کہ لڑکی کی شادی کا انتظام تو والدین کرتے ہیں جس میں بھائی بھی حصہ ڈالتے ہیں لیکن لڑکے کی شادی میں اکثر لڑکے کو ہی سارا بار اٹھانا پڑتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي مَالًا وَوَلَدًا وَإِنَّ وَالِدِي يَحْتَاجُ مَالِي قَالَ أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدِكَ إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ فَكُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلَادِكُمْ
ناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے ، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم کی خدمت میں آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! میرے پاس مال ہے اور اولاد بھی ، اور میرا والد میرے مال کا ضرورت مند رہتا ( یعنی لیتا رہتا ) ہے ۔ آپ نے فرمایا ” تم اور تمہارا مال تمہارے والد کا ہے ۔ بیشک تمہاری اولادیں تمہاری بہترین کمائی ہیں ، چنانچہ تم اپنی اولادوں کی کمائی سے کھا سکتے ہو ۔ “
سنن أبي داؤد: کِتَابُ الْإِجَارَةِ (بَابُ فِي الرَّجُلِ يَأْكُلُ مِنْ مَالِ وَلَدِهِ)


حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي مَالًا وَوَلَدًا وَإِنَّ أَبِي يُرِيدُ أَنْ يَجْتَاحَ مَالِي فَقَالَ أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس کچھ مال ہے اور میری اولاد بھی ہے۔ اور میرا باپ میرا سارا مال لے لینا چاہتا ہے تو آپ نے فرمایا: تو بھی اور تیرا مال بھی تیرے باپ ہی کا ہے۔
سنن ابن ماجه: كِتَابُ التِّجَارَاتِ (بَابُ مَا لِلرَّجُلِ مِنْ مَالِ وَلَدِهِ)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَنَا حَجَّاجٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَبِي اجْتَاحَ مَالِي فَقَالَ أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ فَكُلُوا مِنْ أَمْوَالِکمْ
ضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میرے والس نے میرا سالا مال لے لیا ہے۔ تو آپ نے فرمایا: تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔ اور رسول اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے: تمہاری اولاد تمہاری بہترین کمائی میں سے ہے، اس لیے ان کے مال سے کھا لیا کرو۔
سنن ابن ماجه: كِتَابُ التِّجَارَاتِ (بَابُ مَا لِلرَّجُلِ مِنْ مَالِ وَلَدِهِ)
 
شمولیت
اکتوبر 27، 2016
پیغامات
743
ری ایکشن اسکور
126
پوائنٹ
90
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اس تھریڈ میں اس لئے لکھ رہا ہوں، کہ وہاں تھریڈ کا موضوع ہی نہ بدل جائے!
باپ کا بیٹوں کے مال سے لینا درست ہے!


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي مَالًا وَوَلَدًا وَإِنَّ وَالِدِي يَحْتَاجُ مَالِي قَالَ أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدِكَ إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ فَكُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلَادِكُمْ
ناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے ، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم کی خدمت میں آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! میرے پاس مال ہے اور اولاد بھی ، اور میرا والد میرے مال کا ضرورت مند رہتا ( یعنی لیتا رہتا ) ہے ۔ آپ نے فرمایا ” تم اور تمہارا مال تمہارے والد کا ہے ۔ بیشک تمہاری اولادیں تمہاری بہترین کمائی ہیں ، چنانچہ تم اپنی اولادوں کی کمائی سے کھا سکتے ہو ۔ “
سنن أبي داؤد: کِتَابُ الْإِجَارَةِ (بَابُ فِي الرَّجُلِ يَأْكُلُ مِنْ مَالِ وَلَدِهِ)


حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي مَالًا وَوَلَدًا وَإِنَّ أَبِي يُرِيدُ أَنْ يَجْتَاحَ مَالِي فَقَالَ أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس کچھ مال ہے اور میری اولاد بھی ہے۔ اور میرا باپ میرا سارا مال لے لینا چاہتا ہے تو آپ نے فرمایا: تو بھی اور تیرا مال بھی تیرے باپ ہی کا ہے۔
سنن ابن ماجه: كِتَابُ التِّجَارَاتِ (بَابُ مَا لِلرَّجُلِ مِنْ مَالِ وَلَدِهِ)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَنَا حَجَّاجٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَبِي اجْتَاحَ مَالِي فَقَالَ أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ فَكُلُوا مِنْ أَمْوَالِکمْ
ضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میرے والس نے میرا سالا مال لے لیا ہے۔ تو آپ نے فرمایا: تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔ اور رسول اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے: تمہاری اولاد تمہاری بہترین کمائی میں سے ہے، اس لیے ان کے مال سے کھا لیا کرو۔
سنن ابن ماجه: كِتَابُ التِّجَارَاتِ (بَابُ مَا لِلرَّجُلِ مِنْ مَالِ وَلَدِهِ)
محترم داؤد بھائی
السلام علیکم

یہاں بھی ایک سوال بنتا ہے کہ آپ نے جوساری احادیث پیش کی ہیں ان میں لڑکے کے مال کا ذکر ہے ۔ تو اس حدیث کے تحت لڑکے اور لڑکی دونوں آئیں گی یا یہ حدیث صرف لڑکے کے مال پر باپ کے حق میں دلالت کرتی ہے
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,393
ری ایکشن اسکور
2,721
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
''اولاد'' کے لفظ میں یوں تو بیٹا اور بیٹی دونوں شامل ہوتے ہیں، لیکن شرع نے کہیں بھی عورت کو کسی کے نفقہ کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مالی ذمہ داری مرد کی ہے، اور عورتیں اس سے مستثنی ہیں!
خیر اس پر مزید تحقیق و بحث تلاش کرتے ہیں، اور شیوخ سے رہنمائی کی درخواست کرتے ہیں۔
 
شمولیت
اکتوبر 27، 2016
پیغامات
743
ری ایکشن اسکور
126
پوائنٹ
90
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
''اولاد'' کے لفظ میں یوں تو بیٹا اور بیٹی دونوں شامل ہوتے ہیں، لیکن شرع نے کہیں بھی عورت کو کسی کے نفقہ کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مالی ذمہ داری مرد کی ہے، اور عورتیں اس سے مستثنی ہیں!
خیر اس پر مزید تحقیق و بحث تلاش کرتے ہیں، اور شیوخ سے رہنمائی کی درخواست کرتے ہیں۔
وعلیکم السلام ورحمۃ و برکاۃ
محترم ،
اس کا جو پرانا موضوع تھا کہ تحفہ و ہبہ میں عدل کرنا وہ کیسے ہوگا ،کیوں کہ جب بیٹے کا مال بھی باپ کا ہے تو باپ لڑکے کو تحفہ دے نہ دے ۔
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,393
ری ایکشن اسکور
2,721
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
ایک بات سیاق وسباق سے اور کلام عرب سے سمجھنے والی ہے!
مال اس کی ملکیت ہوتا ہے، جس کے نصاب زکاة میں اس کا شمار ہوتا ہے!
لہٰذا بیٹا کا مال، ملکیت تو بیٹے کی ہے، اسی کے نصاب زکاة میں شمار ہوگا!
لیکن یہاں مسئلہ یہ بیان کیا گیا ہے، کہ باپ کو بیٹے کے مال میں تصرف کا حق ہے! اور مجازاً کہا گیا ہے کہ ''تم اور تمہارا مال تمہارے والد کا ہے''
 
Top